توشہ خانے کے ڈاکے۔۔رؤف کلاسرا

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سربراہانِ مملکت‘ وزرائے اعظم‘ وزرا اور ٹاپ بیوروکریٹس کو بیرون ملک دوروں میں ملنے والے قیمتی تحائف کے حوالے سے اہم فیصلہ اور آبزرویشن دی۔ انہوں نے سرکاری تحائف کے حوالے سے توشہ خانے کی خفیہ نیلامی کی پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا ہے ۔ توشہ خانے کے سرکاری تحائف کی نیلامی کیلئے حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے قانون سازی کرے کیونکہ یہ سب تحائف اور چیزیں پبلک پراپرٹی ہیں۔وکیل درخواست گزار عدنان پراچہ نے انکشاف کیا ہے کہ لوٹ مار کی یہ حالت ہے کہ ایک سربراہِ مملکت صرف دس لاکھ روپے دے کر ساڑھے تین کروڑ روپے مالیت کے تحائف اپنے ساتھ لے گئے۔ چیف جسٹس صاحب نے درست فرمایا کہ یہ شخصیات کو نہیں بلکہ ریاست کا ریاست کوگفٹ ہوتا ہے۔ وہ ریاستِ پاکستان کو گفٹ دیتے ہیں اور اگر یہ عہدوں پر نہ ہوں تو کیا گفٹ لے سکتے ہیں؟

میں کئی برسوں سے توشہ خانے پر خبریں اور سکینڈل فائل کررہا ہوں۔ یہ لیگل کرپشن کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ دنیا بھر کے سیر سپاٹوں کے دوران ہمارے حکمرانوں ‘ بیوروکریٹس یا ان کے ساتھ دورے پر گئے لوگوں کو گفٹ ملتے ہیں۔ انہی حکمرانوں نے قانون بنایا ہے کہ وہ اس گفٹ کا دس فیصد دے کر گھرلے جاسکتے ہیں۔ مطلب آپ کو ایک کروڑ روپے کا تحفہ ملا تو دس لاکھ روپے دے کر باقی نوے لاکھ گھر لے جائیں۔ اس قانونی لوٹ مار سے پرویز مشرف‘ نواز شریف‘ زرداری اورشوکت عزیز نے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھایا۔ پرویزمشرف نے تو 2004ء کے بعد یہ رپورٹ کرنا ہی بند کر دیا تھا کہ انہیں کس ملک سے کیا تحائف ملے ہیں۔ شوکت عزیز گیارہ سو سے زائد تحائف جن کی مالیت کروڑوں روپے بنتی تھی اپنے ساتھ بکسوں میں بھر کر لندن لے گئے۔زرداری صاحب کوبطور صدر پاکستان 14کروڑ مالیت سے زائد کے تحائف ملے۔ انہوں نے صرف دوکروڑ10 لاکھ روپے ادائیگی کی اور تحفوں میں ملنے والی تین قیمتی گاڑیاں بھی لے گئے۔2009ء میں یو اے ای کے صدر کی جانب سے تحفے میں دو قیمتی گاڑیا ں ملی تھیں‘ بی ایم ڈبلیواور ٹویوٹاLexus جن کی مجموعی مالیت 10کروڑ78لاکھ روپے بنتی ہے۔سابق صدر دونوں گاڑیاں صرف ایک کروڑ 61لاکھ روپے میں لے گئے۔2009ء میں معمر قذافی کی طرف سے تحفے میں دو کروڑ 73 لاکھ روپے کی بی ایم ڈبلیو ملی۔ معمر قذافی سے تحفہ میں ملنے والی وہ گاڑی سابق صدر صرف 41لاکھ روپے میں جبکہ مختلف ممالک سے ملنے والے120تحائف مفت لے گئے۔

tripako tours pakistan

1997ء سے 1999ء تک کے دورِ حکومت میں نواز شریف توشہ خانے سے 67لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تحائف صرف نو لاکھ روپے میں اپنے ساتھ لے گئے۔قیمتی تحائف کے علاوہ جلا وطنی کے بعد انہیں سعودی عرب سے مرسڈیز گاڑی بھی ملی تھی۔ نواز شریف ساڑھے 42لاکھ روپے مالیت کی یہ مرسڈیز چھ لاکھ36ہزار روپے میں لے گئے۔ مرسڈیز 67لاکھ روپے کے تحائف میں شامل نہیں تھی۔ 1997ء میں ترکمانستانی وفد کی جانب سے کارپٹ کا تحفہ دیا گیا۔ نواز شریف تحفے میں ملنے والا یہ کارپٹ صرف 50روپے ادائیگی کر کے لے گئے ۔1997ء میں قطر کے ولی عہد کی جانب سے بریف کیس تحفہ میں ملا‘ نواز شریف یہ بریف کیس صرف 875روپے ادا کر کے لے گئے۔نواز شریف1999ء میں سعودی حکومت سے تحفے میں ملنے والی ایک لاکھ5 ہزار روپے کی ایم پی رائفل سوا14ہزار روپے کی ادائیگی کے بعد اپنے ساتھ لے گئے‘ جبکہ ابو ظہبی کے حکمران کی جانب سے نواز شریف اور کلثوم نواز کو گھڑیاں تحفے میں ملی تھیں‘نواز شریف تین لاکھ روپے مالیت کی گھڑی سوا 45ہزار روپے ادا کر کے لے گئے ۔

پرویز مشرف پونے چار کروڑ روپے مالیت کے تحائف صرف 55لاکھ روپے میں لے گئے۔سعودی عرب نے2007ء میں پرویز مشرف کی اہلیہ صہبا مشرف کوجیولری سیٹ‘ نیکلس اور بریسلٹ تحفے میں دیئے۔ اس جیولری کی مالیت ایک کروڑ 52لاکھ روپے تھی۔ پرویزمشرف مذکورہ جیولری صرف سوا 22 لاکھ روپے ادا کر کے لے گئے۔سعودی حکومت کی جانب سے 2007ء میں صہبا مشرف کوساڑھے 37لاکھ روپے مالیت کا جیولری سیٹ کا تحفہ دیا گیا‘ پرویز مشرف یہ تحفہ صرف پانچ لاکھ 60 ہزار روپے ادا کر کے لے گئے ۔ یواے ای کی جانب سے پونے 13لاکھ روپے مالیت کا جیولری سیٹ کا تحفہ دیا گیا‘ جو پرویز مشرف سوا دو لاکھ روپے میں لے گئے۔ ترکمانستان کے صدر کی طرف سے تحفے میں ملنے والی پاکٹ واچ اور کارپٹ ‘آرٹ میوزیم آف شکاگو کی جانب سے ملنے والا سکارف‘ امریکی صدر کی جانب سے ملنے والا لیدر بیگ ‘ بنگلہ دیشی وزیر اعظم کی جانب سے بیگم صہبا مشرف کو ملنے والا نیکلس اور ساڑھی پرویز مشرف مفت میں لے گئے‘ جبکہ امریکہ کے سیکرٹری دفاع رمز فیلڈ کی جانب سے پرویز مشرف کو جو پستول تحفے میں دیا گیا مشرف وہ صرف سوا نو ہزار روپے میں اپنے ساتھ لے گئے اور ایک پستول امیر مقام کو بھی تحفے میں دیا ۔

اسی طرح شوکت عزیز25 کروڑ مالیت کے 1100 تحائف توشہ خانے سے صرف ڈھائی کروڑ میں لے اُڑے اور اپنی آٹو بائیو گرافی میں فرشتہ بھی بن گئے ۔ شوکت عزیز کی لندن‘ دبئی اور امریکہ میں رہائش گاہیں پاکستانی توشہ خانے کے تحائف سے سجی ہوئی ہیں۔ شوکت عزیز نے تو بنیان‘ جرابیں اور انڈروئیر تک نہیں چھوڑے۔ گورنر نیپال سے ملنے والے سکارف کی قیمت شوکت عزیز کی خاطر صرف 25 روپے لگائی گئی۔ شہزادہ چارلس کی جانب سے ملنے والا جیولری باکس شوکت عزیز نے صرف دو ہزار روپے میں لے لیا ۔ ٹونی بلیئر کی اہلیہ کیجانب سے ملنے والا ہینڈ بیگ شوکت عزیز صرف 300 روپے میں لے گئے۔ چینی وزیر اعظم کی جانب سے ملنے والے پانڈے کو صرف 15سو روپے میں اپنا بنا لیا۔ شوکت عزیز توشہ خانے سے ایک درجن نیکلس‘ طلائی سکے‘ موتی اور تاج بھی ہمراہ لے گئے۔ شوکت عزیز توشہ خانے سے ہیرے‘ رولیکس گھڑیاں‘ بریسلٹس‘ قالین اور چینی پانڈے بھی ساتھ لے گئے۔چین سے ملنے والے جیولری باکس کو شوکت عزیز صرف ساڑھے چھ ہزار روپے میں ساتھ لے گئے۔شوکت عزیز نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم سے تحفے میں ملنے والا موتیوں کا ہار پانچ ہزار روپے میں رکھ لیا۔سری لنکن وزیر اعظم کی طرف سے ملنے والے نیکلس کی قیمت شوکت عزیز کیلئے صرف پانچ ہزار روپے اور بحرین کے ولی عہد کی طرف سے دی گئی تلوار کی قیمت شوکت عزیز کیلئے صرف نو ہزار روپے لگائی گئی۔

Advertisements
merkit.pk

2017 ء میں سینیٹر کلثوم پروین نے کابینہ ڈویژن سے نواز شریف کے بیرونی دوروں میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات مانگیں تو بیوروکریسی نے تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ۔ تب پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور اُس وقت کے کابینہ سیکرٹری نے تحائف کی تفصیلات چھپانے کیلئے تاریخ میں پہلی دفعہ پارلیمنٹ کو یہ تفصیلات دینے سے انکار کیا کہ یہ قومی راز ہے‘ یوں توشہ خانے کو نیشنل سکیورٹی کا معاملہ قرار دے کو قوم کو یہ نہیں پتہ چلنے دیا گیا کہ نواز شریف‘ ان کے وزرا اور دوروں پر ساتھ جانے والوں کو کیا کچھ ملتا رہا اور وہ کیا کچھ توشہ خانے میں جمع کرواتے یا گھر لے جاتے رہے۔ سینیٹ کو بتایا گیاکہ اگر نواز شریف کو ملنے والے ان تحائف کی تفصیلات قوم کے ساتھ شیئرکی گئیں توقومی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ پتہ نہیں توشہ خانے میں کیسے خوفناک قومی رازدفن ہیں جن کے افشا کرنے کی جرأت وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کو بھی نہیں ہورہی یا پھر عمران خان کو بھی پرویز مشرف‘ شوکت عزیز اور نواز شریف کی طرح درجنوں غیرملکی دوروں کے بعد اب سوٹ کرتا ہے کہ توشہ خانے پر پردہ ہی پڑا رہے؟

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply