رہنما۔۔اشفاق احمد

علاقے میں جب بھی کوئی  مشکل درپیش ہوتی ہے، لوگ اُس کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ علاقے کا بڑا اور چٹان صفت انسان مسئلے کا حل نکال لیتا ہے۔ کسی مشکل میں اُس کے چہرے پر طاری سنجیدگی اور عام حالات میں اُس کی حِس مزاح سبھی کو محفوظ رکھتی ہے۔

دبدبہ اور وقار ایسا کہ جب بات شروع کرنے سے پہلے ہلکا سا کھانس لے تو محفل کو سانپ سونگھ جاۓ۔

tripako tours pakistan

کچھ ہی دن پہلے اُن کے دو چھوٹے بھائی  پے در پے دنیا سے جا چکے تھے۔ تب بھی لوگوں کی اُن کی چہرے کے تاثرات پر نظر تھی۔ جہاں مشکل سے کچھ پڑھنے کو ملتا تھا۔

یہ پچھلے سال کی بات ہے۔۔۔دو غم ابھی تازہ تھے کہ اُن کے سب سے چھوٹے بیٹے کی ایکسیڈنٹ میں فوتگی کی خبر آگئی، اُن کو خبر ہونے سے پہلے علاقے کے سب مضبوط اعصاب والے اُن کے پاس پہنچ گئے۔

سب پریشان بیٹھے تھے کہ کس طرح اِس بوڑھے مگر اُن کے لیے پہاڑ کی مانند بڑے کو بتایا جاۓ؟ سب یہ سوچ رہے تھے کہ یہ خبر وہ سہہ پائیں گے یا نہیں؟ کیونکہ اُن کا دو بار دل کا آپریشن ہو چکا تھا۔ خیر دھیرے سے اُن کو بتا دیا گیا۔ اب کی بار بھی سب کی نظر اُن کے چہرے پر تھی جہاں چند لمحوں کے لیے کچھ آیا اور پھر غائب ہو گیا۔ وہ کھڑے ہوۓ، تب ہلکا سا لڑکھڑائے۔ کسی میں کچھ بولنے کی سکت نہ تھی۔ پھر وہ خود ہی رعب دار آواز میں بولے،
“مجھے اُس کے پاس لے چلو”۔

جسد خاکی اُن کے کمرے میں پڑا تھا۔ وہ کافی دیر تک کھڑے کھڑے اُس کے چہرے کی طرف دیکھتے رہے پھر بولے،
” اِس باؤلے نے مجھ سے بڑی ڈانٹ کھائی  ہے”
سب انتہائی  دلگیر تھے۔ رونے کی دبی دبی اور اونچی آوازیں آرہی تھیں مگر وہ خاموش تھے۔ پھر دوسری طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے اور کہا،
“اسے آج رات میرے کمرے میں میرے ساتھ گزارنے دو، بچپن میں میرے ساتھ سونے کی بہت ضد کرتا تھا یہ”۔
سب کمرے سے نکلنے لگے تو اُن کی گرج دار آواز پھر سنائی  دی،
” مہمانوں کی آمد شروع ہوگئی  ہوگی۔ اُن کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کرو”۔
——————
فاتحہ خوانی کا تیسرا دن تھا۔ میں وہاں اُن کے قریب ہی بیٹھا تھا۔ بے انتہا رش کے باوجود وہ اپنے سامنے بیٹھے دو فریقوں سے ان کے کسی مسئلے پر بات کر رہے تھے۔ کھانا ہم سب نے ساتھ کھایا تو کھانے کے دوران بھی اُن کی نظر بارہا کچھ دور بیٹھے لڑکوں کی طرف اُٹھ جاتی اور زور سے پکارتے ” دھیان رکھنا کوئی  مہمان کھانا کھاۓ بغیر نہ چلا جاۓ”۔

ہماری رخصتی پر وہ ڈیرے کے دروازے تک چھوڑنے آۓ۔ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ” آج موسم خراب ہے، بہت احتیاط سے جانا، بھلے دیر سے پہنچ جاؤ”۔ میں نے اُن کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ ہلکا سا مسکرا دئیے اور مجھے گلے سے لگا لیا۔

Advertisements
merkit.pk

سارا رستہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ جس دن یہ انسان رو پڑا تو سب کا حوصلہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاۓ گا اور یہ چٹان صفت انسان یہ بات اچھی طرح جانتا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply