ماحولیاتی ادبی تنقید کا نظریہ۔۔احمد سہیل

ادب میں ماحولیاتی تنقیدی نظریہ خاصا عمیق ہے۔ اور اس کا گھیراؤ  بہت پھیلا ہوا ہے۔ ماحولیاتی تنقاید کو “سبز انتقادات ” بھی کہا جاتا ہے جو فرد ، فکر اور ماحولیات کے انسلاکات اور رشتوں کے روابط کے ادبی مطالعوں کا نام بھی ہے۔ جو ایک ادیب یا شاعر کے تخلیقی اور ادیبانہ تفاعل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس تنقیدی رویے میں حقوق نسوان کے حوالے سے مخصوص جنسی نقطہ نظر بھی تشکیل دیا جاتا ہے تو دوسری طرف مارکسی تنقیدی نصوص اور مزاج سے معاشرے کی پیداواریت، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ، معاشرتی ، معاشی، طبقات اور انسانی استحصالی مزاج کی آگہی سے قاری کو بیدار کرتا ہے۔ ماحولیات تنقید میں فطرت کے متنون کو دریافت کرکے متن میں ثقافتی نوعیت کی نمائیندگی در آتی ہے۔ جس سے معاصر رویوں کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور تاریخ کو تاریخ کے زاریوں سے ھی پرکھا جاتا ہے۔ جس میں ادبی خدشات ، تشکیل، تشکیک ، ابہام، مسائل یا ردعمل زیر بحث آتے ہیں اور چرند پرند، نباتات، موسموں، زراعت، فضائی آلودگی کے مسائل پر ایک ادبی جمالیات اور تخلیقی یا تنقیدی پیرائے سے بیان  کیا جاتا ہے۔

ماحولیاتی مطالعے اور تنقید کی بنیاد لارنس بائل اور جونھتن بیٹ نے ڈالی اور ان دونوں نے اسے ENVIRORMANTAL CRITICISM کا نام دیا ۔ اور اسے ماحولیاتی شعریات بھی کہا۔ یہ ایک سائنسی مزاج کی ادبی تنقید ہے جو جلد ہی ثقافتی اور سیاسی مطالعوں اور احتجاجی مزاحمت میں نفوذ کرگئی۔ اوراسے قبول عامہ بھی حاصل ہوئی۔ اسے پانچ/۵ حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
۱۔ عمومی سائنس ۔۔۔۔۲۔تشکیل نو، سائنس شکنی۔۔۔۔۔۔۔۔ ۳۔ فطرت شکنی۔۔۔ نئے تصورات ۔۔۔۔۔۴۔ ماحولیاتی مادیت { مارکسزم یا سائنس} ۔۔۔۔۔۔ ۵۔ محیط ارض حرکیات ،کرّہ زمین کی آگہی۔

tripako tours pakistan

اس تنقیدی نطرئیے کو ایک سیاسی ہیت بھی دی گئی ہے۔ مگر اس کی اخلاقی، اطلاقیت اور فلسفیانہ پہلوؤں میں میں قدرے کم تنازع  ہوتا ہے۔ اس کا دائرہ کار ٹیلی وژن، فنوں لطیفہ اور سائنسی حکایات کی رسائیاں نظریاتی طور پر ادبی معاشرتی اور سائنسی مطالعوں سے ہوتا ہوا ادبی تنقیدی متن میں داخل ہوجاتا ہے۔ ماحولیاتی تنقید میں فطری دنیا کے موضوعات پر بات کی جاتی ہے اور اپنے عہد سے متعلق رہے کر ایک ثقافتی ماحولیات کو تاریخی، نظریاتی، مادی اور حقیقی ثقافت کے تناظر میں یہ ماحولیاتی احیائیت بن جاتی ہے۔ اس میں ماحولیاتی اقدار کو بھی شناخت کیا جاسکتا ہے۔ جس میں ” فطرت” کا لفظ کلیدی نوعیت کا ہوتا ہے اس میں جنس اور نسل کے حوالے سے تاریخی مزاج اور رویوّں کے ” بشری ماحولیاتی” کے سوالات سر اٹھاتے ہیں۔ اور تاریخ کے ادوار سے ثقافتی مراکز  کی حرکت پذیری اور نئے  ثقافتی مطالبات نے ماحولیات تنقید کو معاشیات، فلسفے، نفسیات اخلاقیات، عمرانیات، لسانیات اور بشریات میں بھی روشناس کرواتی ہے۔

اس سلسلے میں ولیم روکیرک نے ۱۹۷۸ میں تنقید کے ماحولیاتی سیاق پر لکھا۔ اس سے قبل ۱۹۶۲ میں راہیل کارسن نے ” ماحولیاتی پرسراریت” سے پردہ اٹھایا۔ ” ایکو تنقید ” پر اطالوی ادیب، نقاد اور نظریہ دان امبر ایکو نے بہت لکھا ہے۔ لیکن ۱۹۶۰ اور ۱۹۷۰ کے درمیانی عرصے میں دھماکہ خیز، گرما گرم ” ماحولیاتی تنقید” مباحث ہوئیں۔ جس میں نسلیات کی سائنس اور حیاتی بقا، اخلاقی جدوجہد کو ایک مزاحیہ انداز میں بھی یش کیا گیا مگر ساتھ ہی سائنسی موضوعات کو ادبی متنون میں شامل کیا گیا ہے۔ اور تاریخی نظریاتی طور پر ایک مخصوص اسلوب میں مارکسی نقاد رے منڈ ولیم نے اپنی فکری مباحث کا حصہ بنایا۔ یہ کہا جاتا ہے کی تحریک نسواں اور عورتوں کے حقوق، مارکسی تنقید اور ان سے متعلقہ مطالعوں میں ماحولیاتی تنقید زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی۔ دنیا کی تقریباً  ہر ثقافت میں ادبی تعلقات اور اشتراک کا تجزیہ کیا جاتا رہا ہے۔ جس میں فطرت کی تباہی، تشویش، اور ماحولیاتی تبدیلیاں، پریشان کن کرب زدہ اور تشکیکی ہوتی ہیں۔ جس میں جانوروں کے مطالعے۔ تنقیدی نظریہ، ماحولیاتی لسانیات، , Ecosoapy, اور نسلی حیاتیات شامل ہوتے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

اردو میں ماحولیاتی ادب تو ہر ادبی صنف میں ملتا ہے۔ مگر تنقیدی تجزیاتی حولے سے اس پر نہ ہونے کے برابر توجہ دی گئی۔ راقم الحروف نے اپنے ایک مضمون ۔۔” امداد امام اثر کا تنقیدی نظریہ” { کتاب،” تنقیدی تحریرں” ۔۔ قلم پبلی کیشنز، ممبئی ۲۰۰۴} میں امداد امام اثر کو اردو کا پہلا ” ماحولیاتی نقار” کہا تھا۔ کیونکہ انکی تنقیدی اور تحقیقی کتاب ” کاشف الحقائق” میں فن زراعت، باغبانی، دہان، سرسوں، سبزیوں جنگل، ریگستان، خارستان،شفق، برف ، شمس قمر، باراب سیل، چشمے، سحر وشام، سیارے، قطب اوربروج جیسی ماحولیاتی علامتوں کا شاعری میں دریافت کرتے ہوئے ان کو ماحولیاتی معنویت کو اردو تنقید میں ایک نظریے کے طور پر پیش کیا۔ اور ماحولیاتی تنقید کو عملی تنقید کا حصہ بھی بنادیا۔ جس کو اردو ادب و نقد میں دریافت نہیں کیا گیا تھا۔ یہ امر بہت دلچسپ ہے کہ فطرت اور اس کی صداقت، ماحولیات کے حقائق کا مارکسی نظریہ ایک ” مکر” کی صورت میں سامنے آیا کیونکہ یسساریت پسند فکریات اور ادبی تنقید اس کو دل سے تسلیم نہیں کرتی تھی۔ فطرت اور ماحول کو مارکسی فرینکفرٹ مکتبہ فکرنے نو مارکسیت کے تصور کے ساتھ مطالعہ کیا ہے جس میں ماحولیاتی تنقید اور نظرئیے کو غلط معنون میں تشریح کی اور اس کے آڑا میں اپنے سیاسی اور فکری آئیڈیالوجی کو آگے بڑھایا۔ اور انھوں نے کمال ہوشیاری سے”تکنیکی ثقافت” کا نظریہ اخذ کیا۔ فرینکفرٹ اسکول کی عملیات کی روش کو خیالی بناکرمارکسی ماحولیات کا حصہ بنانا چاھا اور ماحولیات کی اصطلاح کو استبداد کی کی مختلف سطحوں سے تجزیہ کیا۔
اردو میں ماحولیات کے مزاج کی شاعری کا زخیرہ اچھا خاصا ہے۔
* درختوں کی کچھ چھاؤں زور کچھ وہ دھوپ
وہ دھانوں کی سبزی، سرسوں کا روپ { نامعلوم}
* طہارین گاتے ہیں مینڈک تال کنارے
آسمان پر بھورے بادل مٹک رہے ہیں { مظفر حنفی}
* تلخیاں نیم کے پتوں کو ملی ہیں ہرسو
یہ میرا شہر کسی پھول کی خوشبو بھی نہیں { زبیر رضوی}
* موسم نے کھیت کھیت اگائی ہے فصل زرّد
سرسوں کے کھیت ہیں کہ جو پیلے نہیں رہے
* خواہشوں کی برف کوچوں سے چھدی فصل بدن
ژالہ باری نے پکی فصلوں کو ہرا کردیا { ریاض مجید}
اس سلسلےمجید امجد کی نظم ” توسیع شہر” ہے ۔ جس میں ماحولیات کا نوحہ لکھا گیا ہے۔ جب نئے  شہر بسانے کے لیے درخت کاٹے جارہے تھے اور فطری ماحول کا گلا دبایا جارہا تھا۔ اس سلسلے میں حرمت الاکرام کی” اماوس کاچاند” ۔۔” بدیع الزاماں کی ” آم کا پیڑ میرے آنگن میں”۔۔، محمود علی محمود کی ” سورج داسی” ۔۔۔۔ نو بہار صابر کی ” دھرتی کی خوشبو” کے نام لیے جاسکتے ہیں جس میں ماحولیاتی شعری جمالیات کو خوشبویں اور ماحول لولہان نظر آتا ہے۔ جو جدید معاشرے کی المناک حقیقت ہے ۔
**کتابیات **
Lawrence Buell – “The Environmental Imagination: Thoreau, Nature Writing, and the Formation of American Culture” (1995) and “Toxic Discourse,” 1998
Charles Bressler – Literary criticism: an introduction to theory and practice, 1999
Cheryll Glotfelty and Harold Fromm – The Ecocriticism Reader: Landmarks in Literary Ecology, (1996)
Greg Garrard – Ecocriticism, 2004
Donna Haraway – “A Cyborg Manifesto: Science, Technology, and Socialist-Feminism in the Late Twentieth Century,” (1991)
ISLE: Interdisciplinary Studies in Literature and Environment (Journal)
Joseph Markus – The Comedy of Survival: literary ecology and a play ethic, (1972)
Leo Marx – The Machine in the Garden: Technology and the Pastoral Ideal in America, (1964)
Raymond Williams – The Country and The City, (1975)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply