خاموش انکار۔۔۔ ابوبکر

جو معاشرہ عورت کی خاموشی کو رضا سمجھتا ہو اسے چائیے کہ بعض اور باتیں بھی جان لے۔ انکار اس بات کا پابند نہیں کہ زبان سے چیخ چیخ کر دہرایا بھی جائے۔ انکار سینے میں پلتا اور خون میں دوڑتا ہے۔ انکار کرنے والے کا پورا وجود مزاحمت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ انکار کو آنسوؤں کا پانی ملتا رہے تو پھر یہ نفرت اور بغض میں بدل جاتا ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے انکار ایک بیج کی طرح پھلتا پھولتا جاتا ہے۔ مجھے وہ انگریزی نظم یاد آرہی ہے جس میں اس بیج کو درخت بنتے دکھایا گیا ہے، اور جب اس درخت پہ پھل لگ جائے تو ان سب کو محتاط ہوجانا چائیے جو کبھی زبانوں پر پابندی لگاتے تھے۔ جونہی وہ دشمن یہ پھل کھاتا ہے تو فوراً مرجاتا ہے۔ بغض کے درخت کا پھل زہریلا ہے۔

جن لوگوں کو کانوں سے سنے بغیر انکار کی سمجھ ہی نہیں آتی انہیں اس نظم سے سبق سیکھنا چائیے۔ مظفر گڑھ میں دو روز قبل ایک ہی خاندان کے ۱۳ لوگ زہریلی لسی پینے سے ہلاک ہوگئے۔ مزید ۱۴ افراد زندگی و موت کی کشمکش میں ہسپتال پڑے ہیں۔ اب اس سانحے سے پردہ یوں اٹھایا گیا ہے کہ ڈیڑھ مہینہ قبل اسی خاندان کے امجد کی شادی آسیہ سے کی گئی۔ آسیہ اس شادی سے خوش نہیں تھی۔ مبینہ طور پر اس کا ایک آشنا بھی دریافت ہوا ہے۔حادثے کے دن آسیہ نے اپنے شوہر کے دودھ میں زہر ملادیا۔ امجد نے دودھ نہ پیا لیکن صبح یہی دودھ ملا کر لسی تیار کی گئی جسے چالیس افراد پر مبنی خاندان نے پیا۔ اسی اتفاق سے وہ بدقسمتی ہوئی کہ جہاں ایک کو مرنا تھا وہاں درجن سے زیادہ مارے گئے اور اتنے ہی ابھی بے سدھ پڑے ہیں۔ مارے جانے والوں میں امجد بھی شامل ہے۔ جبکہ آسیہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس نے جرم کا اقرار بھی کر لیا۔ یہ اقرار دراصل اس انکار کی منفی شکل ہے جو آسیہ اپنے نکاح کے روز نہ کر سکی تھی۔ ( منفی اور منفی مثبت ہوتے ہیں۔ آسیہ نے یہ اثبات اپنے عمل کی صورت پیش کیا۔)۔

جس طرح معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے اسی طرح افراد کے انفرادی مسائل ایک بڑی سطح پر مل کر معاشرتی مسائل میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی الجھنیں جب رشتوں کے نظام میں مسلسل ضرب کھاتی جائیں تو ایک مہیب بگاڑ کی صورت سامنے آتی ہیں۔ ہمارے یہاں اور کسی شے کی افزائش پر توجہ دی جائے یا نہ دی جائے لیکن افزائش نسل پر کامل توجہ دی جاتی ہے۔ ہرچند قومی سطح پر ہماری آبادی عظیم شرح سے بڑھ رہی ہے لیکن جبلت کا گھوڑا اپنی نظریں سیدھ میں ٹکائے دوڑتا ہی جارہا ہے۔ شادی اور خاندان کا تسلسل اہم ترین فریضہ ہے۔ اس ضروری کام کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں عورت اور مرد کا شادی سے پہلے آزادانہ میل جول ممنوع ہے۔ ایسی کوئی روایت نہیں ہے کہ وہ پہلے ایک دوسرے کو جان سکیں اور یہ سمجھ سکیں کہ کیا وہ ایک دوسرے کے لیے موزوں بھی ہیں یا نہیں ؟ معاشرتی رواج کا جبر اتنا شدید ہے کہ فرد کو اس عمل کے بارے میں بھی آزادانہ چناؤ کا حق حاصل نہیں، جو عمل معاشرے نے اس کےلیے لازمی قرار دے رکھا ہے۔ فرد حصار در حصار پابند ہے۔ خاندانی نظام پہلے سے فرسودہ ہے۔ شادی اگر پسند سے نہ ہوئی ہو تو یہ اور بھی مشکل ہے کہ شادی کے بعد باہمی کوشش سے کوئی حل نکالا جا سکے۔ شوہر مجازی خدا ہے جو مکمل اطاعت چاہتا ہے۔ ساس اور نند منکرنکیرین ، جو مددگار تو نہ ہوں مگر حساب لینے پر مامور رہیں۔ جوائنٹ فیملی ہو تو شوہر کے بھائی اور بسا اوقات چچا تایا وغیرہ بھی فریق ہوتے ہیں۔ بیاہ کر آئی عورت بھی اسی معاشرے میں پلی بڑھی ہے۔ ان گنت الجھنیں اور ان سے بھی کہیں زیادہ مداوے کی فکر۔ تعلیم کا معیار سخت پست ہے اور عام معاشرتی سطح پر دقیانوسی روایات اور مبہم مذہبی تقاضوں سے شعور کا کام لیا جاتا ہے۔

پہلے صرف جبر اور گھٹن تھی، ایسا کر کے آنکھوں سے بینائی بھی چھین لی جاتی ہے۔ بگاڑ کا یہ سارا مرکب خاندان کی بوتل میں بند ہوتا ہے۔ معاشرہ اس بوتل کو ہلا ہلا کر بگاڑ کو حل کرنا چاہتا ہے۔ بعض اوقات دھماکہ ہوجاتا ہے۔ گھٹن کے اس مرکب میں دھماکہ اکثر رابطہ کاری کی جدید سہولیات سے ہوتا ہے۔ خاندان افراد سے مل کر بنا ہے۔ لیکن خاندان کی تشکیل اور اس کے تسلسل میں فرد کی مرضی کا کوئی مقام نہیں۔ البتہ جدید دور میں فرد چاردیواری میں قید رہ کر بھی قید نہیں ہے۔ موبائل سے لیکر انٹرنیٹ تک کئی ایسے ذرائع ہیں جو دیوار پھلانگتے ہوئے قدموں کے نشان بھی نہیں چھوڑتے۔ بعض اوقات کوئی ایک فرد اسی آزادی سے اپنے انکار کو انتقام میں بدل دیتا ہے۔ جب تک بنیاد کی اینٹ سیدھی نہ رکھی جائے مسئلہ حل نہ ہوگا۔ یہ بگاڑ صرف سیاسی خرابی اور شعور کی پستی تک محدود نہیں۔ یہ ہماری تہذیبی صورتحال میں ایک بڑے بحران کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سخت تشویش کی بات ہے کہ ہم میں سے اکثر نہیں جانتے کہ انہوں نے زندگی کیسے اور کیوں گزارنی ہے۔ تہذیب کا ایک بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ فرد کو ان سوالات کے مانوس جوابات تیار شدہ حالت میں اور غیر محسوس طریقے سے یوں پیش کرے کہ اسے معنویت کا بحران محسوس ہی نہ ہو۔ یا پھر فرد کو وہ حالات مہیا کرے جن میں وہ ان سوالات پر کوئی فیصلہ کر سکے۔ معنویت کا یہ سوال انسانی مسرت سے جڑا ہے۔ انسان ان سوالات پر مطمئن ہو تو عمومی طور پر مطمئن اور خوش باش زندگی گزارتا ہے۔ اسی وجہ سے کسی بھی تہذیب کے لیے فرد کی معنویت اور اس سے جڑی مسرت کا مسئلہ ہمیشہ نہایت اہم ہوتا ہے۔

ہماری موجودہ نسل کے دور میں حالات اس تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں کہ معنویت اور طرز زندگی کی پرانی اقدار نامانوس اور ناکافی لگنے لگی ہیں۔ عرصے سے چلتا خاندانی نظام اب ہچکولے کھا رہا ہے۔ معاشرتی رسوم اور مذہبی روایات اب اس طرح سے کارآمد نہیں رہیں کہ اس بحران کو پہلے کی طرح خیر کے نتیجے میں بدل دیں۔ جدیدیت کی یلغار نے زندگی کا راستہ اور رفتار دونوں بدل دئیے ہیں۔ ان حالات میں ممکن نہیں رہا کہ ہم اپنے اجداد کے قدموں کے نشانوں پر سہولت سے پیر رکھتے ہوئے زندگی کے رستے پر چلتے جائیں۔ ہماری نسل کا ہر قدم بے یقینی اور عدم اطمینان سے اٹھایا گیا ہے۔ تہذیب کے اس بحران میں ہمیں زندگی پر ازسرنو غور کرنا ہوگا تاکہ ہم اس رستے پر چلنے کا کچھ جواز پیدا کرسکیں۔ ہمیں اپنے اخلاقی نظام اور معاشرتی ترتیب کو ایک نئے رخ سے سوچنا ہوگا تاکہ ان کا ضرر کچھ کم یا پھر مکمل ختم ہو سکے۔ ہمیں بعض بولڈ فیصلے بھی کرنے ہوں گے۔ تبدیلی کے اس سفر میں ممکن ہے ہمارے ابتدائی قدم بالکل غلط پڑیں لیکن یہ غلطیاں بھی ورزش میں شمار ہوں گی اور ایک دن تندرستی بخشیں گی۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *