کاش ڈاکٹر خدا ہوتا ۔۔ڈاکٹر عزیر سرویا

میں نے عرصہ ہوا کرونا کے سرکاری اعداد و شمار نہیں دیکھے، ٹی وی دیکھنا و خبریں سننا تو دس بارہ سال سے چھوڑا ہوا ہے، بس سوشل میڈیا پر دیکھ لیتا ہوں کہ روزانہ ایک سو کے لگ بھگ اموات ہو رہی ہیں۔

پرسوں 100 کے ہندسے میں سے بس 1 کو الگ کر کے آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ یہ 100 جو قبر میں اترے ان کے ساتھ اور کتنے ہوتے ہیں جو زندہ درگور ہوئے ہوتے ہیں۔

tripako tours pakistan

ایک 38 سالہ دو لڑکوں اور ایک پیاری سی چھوٹی بچی کی ماں شہناز, جس کا شوہر محنت مزدوری کرتا تھا، ایک سال قبل میرے پاس جناح ہسپتال کینسر آوٹ ڈور میں اسٹریچر پر لائی گئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک ماہ قبل بازو فریکچر ہوا، ہڈی کے ماہرین سے علاج شروع کروایا تو انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس عمر میں ایسا فریکچر دیکھ کر شبہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔ شبہ کینسر کا ہوا تو ریفر کیا، لیکن لانے سے ایک دن پہلے شہناز کی کمر میں تکلیف ہوئی اور یکا یک دونوں ٹانگیں کام کرنا چھوڑ گئیں۔

اب میرے سامنے ایک ایسی خاتون جو ایک ماہ پہلے تک سارے گھر کو اور تین بچوں کو سنبھالے ہوئے تھی معذور پڑی تھی، آنکھوں سے خاموش آنسو جاری تھے اور میری طرف سے کسی امید کی منتظر تھی۔ میں نے سب حال پوچھ کر معائنہ مکمل کیا، ٹیسٹ دیکھے، اور شوہر سے کہا کہ ذرا مریضہ کو آرام دہ جگہ پر لٹا کر واپس آ کر بات سنے۔ جب شہناز کے چھوٹے لڑکے اس کے سٹریچر کو گھسیٹ کر لے جانے لگے تو میرے دل سے دعا نکلی کہ ابھی تو ان کی یہ عمر نہیں کہ سٹریچروں وہیل چیئروں کو سنبھالتے پھریں، اللہ ان کی ماں کو واپس پیروں پر لے آئے! مریضہ کے نکلتے ہی اس کا شوہر میرے پیروں میں گِر گیا کہ ایک ماہ میں کسی نے توجہ سے نہیں دیکھا مریض کو، آپ نے دیکھ لیا ہے تو مہربانی کریں میرے پاس اسے واپس لے جانے کے پیسے بھی نہیں ہیں، اسے داخل کر لیں، میں باقی کے ٹیسٹ جیسے تیسے کروا لوں گا لیکن اسے واپس لے گیا تو شاید پھر نہ آیا جا سکے گا۔ ادھورے ٹیسٹوں پر وارڈ میں مریض داخلے کی پالیسی نہیں ہوتی، لیکن میں نے کسی طریقے ایڈمٹ کروا لیا، ڈونیشن کی رقم سے ٹیسٹ کروائے جس میں وہی کینسر ظاہر ہوا جس کا شبہ تھا، اور علاج بھی فوراً شروع کروا دیا۔

اللہ کی مہربانی اور ڈونیشن دینے والوں کی فراخ دلی سے چھے ماہ تک مہنگا علاج چلتا رہا جس سے مریضہ پہلے اسٹریچر سے وہیل چیئر اور پھر اپنے پیروں پر آ گئی۔ جس دن وہ چلنے لگی تو تینوں بچوں کو میرے پاس لائی، انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور چھوٹی بچی نے محبت سے ایک ننھا سا پھول بھی پیش کیا۔

شہناز کے علاج کو ایک سال کا عرصہ مکمل ہوا، بیماری کا سر کاٹا جا چکا تھا لیکن علاج انجام تک نہ پہنچا تھا، جو امداد کر رہے تھے انہیں بتایا جا چکا تھا کہ ان کی فراخ دلی نے ایک بستر سے لگی عورت کو پیروں پر  کھڑا کر کے اپنے علاوہ چار اور زندگیوں کو روشن کرنے کا بندوبست کر دیا ہے۔

مگر اللہ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ پرسوں مجھے شہناز کے شوہر کا فون آیا کہ سانس کا مسئلہ ہو گیا ہے، قریبی ڈاکٹر نے کرونا کا کہا ہے، کیا کروں؟ میں نے فوراً ایمرجنسی آنے کا کہا۔ ایمرجنسی پہنچنے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر شہناز اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ وہی دو لڑکے جو ایک سال پہلے اس کا اسٹریچر گھسیٹ کے اس کا علاج شروع کروانے کینسر وارڈ لے جا رہے تھے، اب اسٹریچر پر اپنی اس ماں کی میت لے جا رہے تھے جس نے کینسر سے جنگ تو تقریباً جیت لی تھی لیکن کرونا سے جنگ ہار گئی تھی۔۔۔

Advertisements
merkit.pk

جو کینسر کے ٹیکے میں شہناز کے لئے خرید چکا تھا وہ واپس کروا کے میں نے اس کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے رقم اس کے شوہر کو تھما دی، جس کے دو لڑکوں اور چھوٹی بچی کو اب اپنی ماں کے بغیر ہی دنیا کا سامنا کرنا تھا۔ وہی ماں جو پرسوں کے 100 لوگوں میں سے بس ایک ہندسہ تھی۔۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply