معاہدے (Contractarianism) (13)۔۔وہاراامباکر

تصور کریں ایسی دنیا کا جہاں پابندیاں نہیں۔ کچھ بھی غیرقانونی نہیں۔ ضوابط اور قواعد نہیں۔ ہر کوئی مکمل طور پر آزاد ہے۔ یہ دنیا کیسی دنیا ہے؟ تھامس ہوبز کہتے ہیں کہ ایسی دنیا ایک بدترین ڈراونا خواب ہو گا۔
ہوبز ایسے مفروضاتی وقت کو جہاں پر ہمارے اوپر کوئی ضابطے نہ ہوں، “قدرتی حالت” کہتے ہیں اور ایسی زندگی تنہا، غربت کی، ظالمانہ، ناگوار اور مختصر ہو گی۔
ہو سکتا ہے کہ پہلی بار سننے میں “جو چاہے کرو” جیسی زندگی اچھی لگے لیکن جلد ہی احساس ہو گا کہ یہ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ سب کے لئے ہے۔ آزادی تو بہت ہے لیکن سیکورٹی نہیں۔ جو طاقتور ہے، وہ حاوی ہے۔ خوف اور جارحیت کی وجہ سے۔ اور اگر آپ خود سب سے بڑے غنڈے ہیں تو بھی زندگی آسان نہیں۔ کئی چھوٹے بدمعاش اکٹھے ہو کر آپ کو اوپر پہنچا دیتے ہیں۔ بغیر قواعد و ضوابط اور اصولوں کے نظام، رہنے کے لئے بدترین جگہ ہے۔
ہوبز نشاندہی کرتے ہیں کہ معقول لوگ ایسی جگہ سے بچنا چاہیں گے۔ وہ اپنی کچھ آزادی کا سودا مہذب معاشرے کی فراہم کردہ سیکورٹی سے کریں گے۔ دنیا کو کیاوس سے بچانے کا طریقہ “معاہدہ” ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوبز کے نکتہ نظر میں اخلاقیات کوئی ایسی شے نہیں جو ستاروں پر لکھی ہے یا عقل سے دریافت کی جا سکتی ہے یا سائنسی تجربات سے اخذ کی جا سکتی ہے۔ نہ ہی یہ نیچرل ہے اور نہ ہی قدیم۔ لیکن جب بھی آزاد، مفاد پسند اور معقول افراد اکٹھے ہوں گے تو اخلاقیات ابھر آئیں گی۔ کیونکہ تعاون کے فائدے تعاون نہ کرنے کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔
فرض کیجئے کہ میرے گھر میں امرود کا درخت ہے اور آپ کے گھر میں سیب کا۔ آپ جتنے مرضی سیب کھائیں اور میں جتنے مرضی امرود۔ لیکن کئی بار میرا سیب کھانے کا دل کرتا ہے اور آپ کا امرود کا۔
قدرتی حالت کی صورت میں، جہاں قوانین نہیں۔ میرے لئے سیب حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ میں انہیں چوری کر لوں۔ اب ہم ایسی دنیا میں ہیں جہاں پر ہمیں ہم دوسروں سے چوری کرتے ہیں اور ہمیں ہر وقت چوکس رہنا پڑتا ہے اور ہم ایک دوسرے کو دشمن سمجھتے ہیں۔
لیکن ہم معقول لوگ ہیں تو ایک بہتر حل تلاش کر لیتے ہیں۔ ہم معاہدہ کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے چوری نہیں کریں گے۔ اور پھر ہم تجارت کا معاہدہ کرتے ہیں۔ امرود کے بدلے سیب کا۔ اب ہم زیادہ محفوظ ہیں اور ہماری غذا بھی بہتر ہے۔
ہم نے ایک معاہدہ تخلیق کیا۔ اس مشترک ایگریمنٹ کے ساتھ ہی یکایک اخلاقیات کی پیدائش ہو گئی۔ اس نکتہ نظر کو آج contractarianism کہا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مکتبہ فکر کے مطابق درست اعمال وہ ہیں جو آزاد طور پر کئے گئے معقول معاہدوں کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اور ہم یہ معاہدے اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہماری زندگی بہتر کرتے ہیں۔
سیب اور امرود کی مثال بہت سادہ سی ہے۔ ہم دونوں کو کسی چیز کی ضرورت تھی اور ہم نے باقاعدہ طور پر معاہدہ کر لیا جو ہمارے اپنے مفاد میں تھا۔ لیکن ہمارے کئے گئے کئی معاہدے اتنے واضح نہیں ہوتے۔
ہم بہت سے مضمر معاہدوں میں بندھے ہیں۔ ایسے معاہدے جو ہم نے کبھی کئے ہی نہیں تھے لیکن ہم خود کو ان میں جکڑا پاتے ہیں۔
مثلاً، فرض کیجئے کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہاں کے شہری ہیں۔ آپ نے کبھی اس سے اتفاق نہیں کیا تھا کہ ملکی قوانین کی پاسداری کریں گے۔ (اگر دوسرے کی شہریت حاصل کرتے ہیں تو اس کے لئے ایسا باقاعدہ معاہدہ کریں گے)۔ لیکن باقی سب کی طرح آپ سے توقع رکھی جائے گی کہ آپ قسم قسم کے قوانین کی پابندی کریں گے جن سے آپ نے کبھی اتفاق کیا ہی نہیں۔
اب اگر ٹریفک پولیس نے آپ کو ہلمٹ نہ پہننے پر پکڑ لیا ہے اور آپ اسے وضاحت دے رہے ہیں کہ آپ نے تو کبھی اسے قانون مانا ہی نہیں تو میرا خیال ہے کہ یہ استدلال آپ کو چالان سے نہیں بچا سکے گا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ غیرمنصفانہ لگے۔ لیکن کانٹریکٹیرین آپ سے اتفاق نہیں کریں گے۔
کیونکہ نظام کا حصہ بن کر آپ اس سے قسم قسم کے فوائد اٹھا رہے ہیں۔ محفوظ سڑکوں پر سفر کر سکتے ہیں۔ پانی پینے کے لئے قتل و غارت نہیں کرنی پڑتی۔ اگر آپ کے گھر آتشزدگی ہو جائے تو لوگ آ کر بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حقوق کا مطلب ذمہ داری بھی ہے۔
اور جب آپ ٹیکس دیتے ہیں یا قانون توڑنے کی سزا قبول کرتے ہیں تو یہ وہی ذمہ داری ہے، خواہ آپ کو ان قوانین سے اتفاق نہ ہو۔
معاہدے معاشرے بنانے کا زبردست طریقہ ہیں۔ نہ صرف ایسے جن میں زندہ رہا جا سکے بلکہ ان کے بغیر معاشرہ ممکن نہیں۔ ہوبز کے مطابق، ان کے بغیر ہر ایک کی ہر ایک سے جنگ ہو گی اور یہ اس سے بچا کر ہمارے لئے سب کا باہم تعاون ممکن بنا دیتے ہیں۔
لیکن کیا ہم تعاون پر واقعی اعتبار کر سکتے ہیں؟ اس کے لئے گیم تھیوری سے سوچ کا تجربہ نیچے دئے گئے لنک سے دیکھا جا سکتا ہے۔ “قیدیوں کی الجھن” نامی سوچ کا یہ مشہور تجربہ کونٹریکٹرینزم کی کچھ دلچسپی کمزوریوں پر روشنی ڈالتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ تعاون سے فائدہ ہوتا ہے لیکن صرف اس وقت جب آپ یہ بھروسہ رکھ سکیں کہ جن کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے، وہ ان کی پاسداری کریں گے۔ یہ نہ ہو تو معاہدے برقرار نہیں رہتے اور معاہدے کے شرکاء معاہدے کے بجائے اپنے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
اور یہ اس وقت زیادہ ہوتا ہے، اگر معاہدے کے شرکاء ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مثال کے طور پر، گاڑیوں کا رش ہو تو ایسا آپ نے دیکھا ہو گا۔ ٹریفک اصولوں کے معاہدے کی پاسداری کے بجائے کئی لین بن جانا۔ دوسرے کو باری نہ دینا اور جہاں پر موقع ملے، گاڑی گھسا دینا۔ ایسا ہونے سے نقصان سب کو ہوتا ہے۔
لیکن جب معاہدے کے شرکاء ایک دوسرے سے اجنبی نہ ہوں تو ایسا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ کیونکہ قانون توڑنے والے کو ایسا کرنے کی سماجی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ایسے لوگوں پر شدید غصہ کرتے ہیں جو وعدہ کریں لیکن پھر اس کی پاسداری نہ کریں کیونکہ ہمارا پورا معاشرہ ہی بھروسے پر قائم ہے کہ لوگ وہ کریں گے، جو کہتے ہیں۔
لیکن اس تھیوری کا ایک اور اہم حصہ ہے۔ وہ یہ کہ ایسا معاہدہ کرنے والے کو آزاد ہونا چاہیے۔ یہ زبردستی نہیں ہو سکتا اور معاہدے میں بندھے ہوئے لوگ اگر اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہے تو پھر وہ اس سے باہر رہنا پسند کریں گے۔
ایسا ضرور ہے کہ کئی قوانین ایسے ہوں گے جو ہمیشہ آپ کے فائدے کے نہیں ہوں گے لیکن اگر مجموعی طور پر نظام زندگی کو بہتر کر رہا ہے تو یہ چلتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کونٹریکٹرینزم غلامی جیسے چیزوں کو رد کر دیتا ہے کیونکہ ایسے معاہدے میں بندھا شخص ایسے نظام کے باہر بہتر ہو گا۔ اس لئے خواہ اکثریت اس نظام پر اتفاق کر لے، یہ پھر بھی کام نہیں کرے گا۔
اور اس اخلاقی تھیوری میں دوسری تھیوریوں کے مقابلے میں ایک اور خاص فرق ہے۔ اس میں اخلاقیات ہمارے کچھ طے کر لینے کے بعد اصل ہوتی ہیں۔ اس لئے یہ زیادہ permissive اخلاقی تھیوری ہے۔
اگر ایک گروپ اپنا ذہن تبدیل کر لے تو معاہدہ تبدیل ہو جائے گا اور وہ قوانین بھی جن کی پاسداری کرنی ہے۔ اور جب ہم قوانین (خواہ واضح یا مضمر) تبدیل کرتے ہیں تو یہی ہوتا ہے۔ سوشل تبدیلیوں کے ساتھ یہ تبدیلیاں آتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مثلاً، اگر یہ طے کر لیا گیا کہ گاڑی میں سیٹ بیلٹ پہننا لازم ہے تو پھر سب اس بارے میں اپنی آزادی چھوڑ دیں گے۔
اگر یہ طے ہو گیا کہ سب ماسک پہننیں گے تو ماسک نہ پہننا غیراخلاقی ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف کچھ معاملات میں خاصی rigid بھی ہےْ۔ اگر آپ پر ذمہ داری ہے تو اسے نبھانا آپشنل نہیں، آپ پر لازم ہے۔ اور وعدہ نبھانے کی ذمہ داری کے حوالے سے ہر ایک کو بلند معیار رکھنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخلاقیات کے بہت سے پہلو ہیں۔ کچھ اخلاقی تھیوریاں اصولوں کو ترجیح دیتی ہیں، کچھ نتائج کو، کچھ اجتماعی رویے کو اور اب ہم ایک اور تھیوری دیکھتے ہیں جہاں پر ترجیح کردار ہے۔ یہ نیکی کی تھیوری ہے۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply