آہو چشم غزال۔۔سعدیہ علوی

ہم باتیں پکڑتے ہیں؟
لیجیے  ایک اور الزام۔۔

بھائی باتیں نہ ہوئیں چڑیاں، مچھلیاں ہو گئیں کہ پکڑی جاسکیں۔

tripako tours pakistan

ہوا کچھ یوں کہ  موصوف کو شاعری سے اچانک رغبت محسوس ہونے لگی ،بقول ان کے” محبت ہو تو تم سمجھو” ہم ٹھہرے  ذرا بدذوق سو ان کے سنائے  ہوئے اکثر اشعار ہمارے سر پر سے ایسے گزر جاتے جیسے زن سے کوئی جہاز اب آپ ہی بتائیں کہ کیا کوئی سمجھدار انسان خود کو ہرن سمجھ سکتا ہے؟

کہتے ہیں آہو چشم ہو ہم تو مکمل بُرا مان گئے ،کہ جی نہیں ،ہم آشوب چشم ہرگز نہیں ہیں ، فرمایا آہو ہرن کو کہتے ہیں ۔۔اب یہ تو ہمیں شدید بے عزتی لگی کہ ہمارے وزن کا مذاق اڑایا جائے، ٹھیک ہے کہ  ہم ذرا  زیادہ صحت مند ہیں، مگر اب اس میں طنز کی کیا تُک ہے بھلا؟ ہماری اماں تو بھینس کے دیدے کہتی تھیں، اس پر ہمیں کچھ اعتراض بھی نہ تھا۔

ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے فون پر کہنے لگے
” سنو ہمیں نیند نہیں آتی”
ہم نے فٹ سے دوا کا نام اور خوراک بتا دی اور ساتھ میں نیم گرم دودھ پینے کا مفت مشورہ بھی دیدیا، مگر کیسے ناشکرے  لوگوں سے پالا پڑا ہے کہ اس پر بھی خفا ہوگئے، اور فرماتے ہیں کہ جب تک مناؤ گی نہیں ناراض رہیں گے ،ہم نے بھی ترنت کہہ دیا تم روٹھے ہم چھوٹے۔۔

ایک دن کہنے لگے
تیرے بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہے
میرے بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

ہم  نے جواب دیا آپکا تو نہیں پتہ، ہاں اپنا بتا سکتے ہیں، کہ آپ نہ تو ہمارا تکیہ ہیں، نہ چادر ،اور نہ ہی ہمارے کمرے کا اے سی سو بہت اطمینان سے آتی ہے اللہ کا شکر ہے۔۔

کل کہتے ہیں کافی پر چلو گی ؟۔۔ ہمارے تو تلوؤں  پر لگی اور سر پر شعلہ بھڑکنے لگا کہ بے شک ہم بہت باہمت ہیں، مگر ذرا سوچیے تو گرم کافی پر چلنا کوئی انسانیت ہے، بھلا ہم نے تو کہہ دیا معاف کریں ہمیں اور کسی اور کو تلاش کرلیں ،جو ایسے کرتب دکھا سکے۔

Advertisements
merkit.pk

بس جب سے ٹھنڈی آہیں بھر رہے ہیں ،ہمیں دیکھتے ہیں، آہ بھرتے ہیں اور کہتے ہیں
تم باتیں پکڑتی ہو
کیا واقعی؟

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply