کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟۔۔سعدیہ علوی

ہم کلاس فیلو تھے۔ ہم تو خیر کچھ زیادہ اچھے نہ تھے پڑھائی میں، مگر وہ تو چیتا تھا۔
تمام اساتذہ کی  آنکھ کا تارہ، بے حد قابل ،اس حد تک کہ اکثر کلاس میں استاد بھی زچ ہوجاتے تھے۔
دوستوں کا دوست وہ بھی ایسا کہ،
“ہر ایک کو ہے گماں کہ  مخاطب ہم ہی رہے”
سب کا خیال رکھنے والا،

اللہ جانے حضرت کو ہم میں کیا نظر آیا کہ محبت فرمانے لگے، ہم ابا کی بچپن میں دی جانے والی رائے کے پیش نظر خود کو چنداں اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی با ہوش انسان ہماری محبت میں گرفتار ہو جائے ،چلیے حلیے  کو تو ایک طرف رکھیے ،ہمارے تو انداز بھی خاصے عجیب تھے۔ ہم سے اکثر کہا جاتا تھا کہ گفتگو چاندی ہے اور خاموشی سونا اور سونا زیادہ قیمتی دھات ہے سو اس کو مقدم رکھو مگر ہم کو ئی لالچی تھوڑا ہی تھے، لہذا بولتے تھے اور وہ بھی ایسے کہ چپ کروانا “مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا تھا”۔

tripako tours pakistan

اسکے علاوہ شرارتیں( ہم نے شرارت اس لیے لکھا کہ جو لفظ اماں ہماری ان حرکتوں کے لیے استعمال کرتی تھیں وہ کم از کم ہم خود اپنے لیے نہیں کر سکتے ہیں، خواہ کتنے ہی ڈھیٹ ہو جائیں) وہ بھی اہل محلہ مطلب اہل جامعہ کے لیے خاصی ناگوار تھیں، اب ہم کو اسکی کیا پرواہ۔

خیر بات ہورہی تھی موصوف کی ۔۔وہ اکثر آکر یہ بتاتے کہ ہم انھیں کس قدر عزیز ہیں ،اور ہم طارق عزیز کی طرف نکل جاتے کہ کیا شاندار آدمی ہے ،وہ کہتے کہ ہم دلدار ہیں تو دلدار پرویز بھٹی کی شکل سامنے  آجاتی اور جھگڑا ہو جاتا کہ مانا ہم کم رنگ کے ہیں مگر اب ایسے بھی نہیں ہیں وہ بےچارہ صرف ہماری شکل دیکھتا رہ جاتا۔

اس محبت سے ہمیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا کیوں کہ پڑھائی میں اچھے نہ ہونے کے باوجود ہم کسی کے احسان تلے دبنے کے قائل نہ تھے، سواپنے نوٹس خود بناتے، اپنا جرنل بھی اپنی ذاتی محنت سے ہم مکمل کرتے تھے ،سو موصوف کا ہم پر کوئی احسان نہ تھا۔

آخری سال میں ہمیں خیال آیا کہ چلو سن لیں کہ جس قدر چا ہت  کا اظہار کرتے ہیں وہ، ذرا اسکی شدت و حدت کو محسوس کر لیں ۔۔

ایک دن سیمینار لائبریری میں پڑھتے ہوئے( ہم کتاب پڑھ رہے تھے اور وہ ہمیں)۔۔
ہم نے پوچھ لیا
یہ بتاؤ اس قدر جو محبت کرتے ہو کیا کرسکتے ہو ہمارے لیے؟
ان کی تو گویا لاٹری نکل آئی کہ ہم نے پوچھا ،بہت جذب سے گویا ہوئے،
“تم نہیں جانتی کہ میں کیا کرسکتا ہوں ،میں تمہارے ساتھ چشمے پر بیٹھ کر گھنٹوں تمہیں دیکھ سکتا ہوں ،تمہاری خاموشی سن سکتا ہوں، اس خوشبو کو محسوس کرسکتا ہوں جو تمہاری وجہ سے ارد گرد پھیلی ہو ،میں سب کچھ کرسکتا ہوں جو تم کہو”۔۔

Advertisements
merkit.pk

اللہ جانے کیا ہوا ہمارا جواب سن کر وہ بالکل خاموش ہوگئے اور آج تک خاموش ہیں ہم نے تو صرف یہ پوچھا تھا
“یار اگر ہم دونوں چشمے پر بیٹھ گئے تو وہ ٹوٹ نہیں جائیگا؟”
آپ ہی بتائیں کیا غلط کہا تھا ہم نے؟

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply