• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • نجی نیوز چینل کے مارننگ شو میں بے حیائی کے موضوع پر بحث چھڑ گئی ،شرکاءآپس میں الجھ پڑے

نجی نیوز چینل کے مارننگ شو میں بے حیائی کے موضوع پر بحث چھڑ گئی ،شرکاءآپس میں الجھ پڑے

نجی نیوز چینل کے مارننگ شو پر بے حیائی کے موضوع پر بحث چھڑ گئی اور اس دوران شرکا آپس میں دست و گریبان ہو گئے ۔پروگرام کے دوران شو کی میز بان سمیت دیگرمہمانوں نے ڈانس کیا جس کے اختتام پر میزبان نے کامیڈین باسط علی سے سوال کیا کہ سب لوگ میوزک سے لطف اندوز ہو رہے تھے تو وہ کیوں اپنی نشست پر بیٹھے رہے ،وہ کیوں نہیں آئے ؟اس پر باسط علی نے جواب دیا جس پر باسط علی نے کہا کہ ‘یہ میوزک نہیں ہے آپ لوگ سرِعام بے حیائی پھیلارہے ہیں، مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ کے شو کا کیا اینگل ہے، اس طرح سے لڑکے اور لڑکیاں ڈانس کررہے ہیں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے’۔اس پر مارننگ شو کی میزبان نے کہا کہ ‘ یہ میرا شو ہے ، آپ یہاں آئے ہیں، آپ کومارننگ شوک کا فارمیٹ پتہ ہے آپ کو معلوم ہے کہ خواتین بھی آرہی ہیں، گلوکاری ہوگی، گیمز کھیلے جائیں گے تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بے حیائی ہورہی ہے؟۔
اس پرباسط علی نے کہا کہ معاشرہ خواتین کو رقص کی اجازت نہیں دیتا، تو اینکر نے ان سے پوچھا کہ کیا معاشرہ انہیں مارننگ شومیں آنے کی اجازت دیتا ہے جس پر باسط علی نے کہا کہ آپ لوگوں نے مجھے کامیڈی کے لیے بلایا ہے جس میں کوئی حرج نہیں لیکن رقص کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

Advertisements
merkit.pk

اس دوران اینکر کی جانب سے انہیں اپنے الفاظ واپس لینے کا کہا گیا لیکن باسط علی نے اپنے الفاظ واپس نہیں لیے جبکہ مہمان خاتون اور مردوں کی جانب سے بحث کا سلسلہ جاری رہا۔ اینکر نے بحث طویل ہونے پر بریک لینے کا کہا لیکن ایک مہمان خاتون نے انکار کیا اور پھر باسط علی نے عورت مارچ کا نکتہ اٹھادیا۔اس دوران شرکا کے دوران ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ مہمان خاتون اور باسط علی کی جانب سے ایک دوسرے پرطنز کا سلسلہ بھی جاری رہا اور نامناسب الفاظ کا استعمال بھی کیا گیا۔بعدازاں مارننگ شو ہی میں میزبان کی جانب سے دونوں مہمانوں کے درمیان صلح بھی کروائی گئی تھی۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply