خود اعتمادی کیسے حا صل کریں؟۔۔ ایازمورس

Self Doubtہماری ترقی کاسب سے بڑا دشمن ہے۔یہ بظاہر اتنا خطرناک اور مہلک نہیں لگتا لیکن یہ پاؤں میں لگے چھوٹے سے کانٹے اور ٹائر میں چھوٹے سے کیل کی وجہ سے ہونے والے سوراخ کی مانند ہے،جو ایک دم نہیں لیکن آہستہ آہستہ ٹائر کو نقصان پہنچائے بغیر ٹیوب سے ہوا نکال دیتا ہے بلکہ ایسے ہی جیسے ہم رات کو اپنی گاڑی کھڑی کریں اور صبح جب کام پر جانے لگیں تو ٹائر میں ہوا کم ہوتی ہے۔

سیلف ڈاؤٹ ہماری صلاحیتوں،اعتماد اور یقین کو بڑی آسانی اور خاموشی کے ساتھ تباہ کردیتا ہے۔بدقسمتی یہ بھی ہے کہ سیلف ڈاؤٹ باہر سے نہیں بلکہ ہمارے اندر سے ہی ہمارے اندیشوں اور انجانے خوف کے باعث پیدا ہوتا ہے۔جو ہمارے ماحول اور معاشرے کی دین ہوتا ہے۔میں نے زندگی میں اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ صلاحیتوں،خوبیوں،اسکلز اور مثبت رویے کے باوجود اپنے کیرئیر میں زیادہ آگے نہیں بڑھ پاتے۔ خود اعتمادی کا فقدان ان کے پاؤں کی سب سے بڑی زنجیر ہوتا ہے جو اپنی زندگی کا آغاز تو بڑے جوش وخروش اور گرم جوشی سے کرتے ہیں لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب حالات کے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی ذات پر بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے ہمت ہا ردیتے ہیں اور حالات کے ہاتھوں بازی ہارجاتے ہیں۔خود اعتمادی کافقدان ہمیں اکثر آگے بڑھنے سے روکنے والی سب سے طاقتور آواز ہوتی ہے۔یہ آپ کی قدرتی صلاحیتوں کے بہترین اظہار کرنے سے آپ کو روکتی ہے۔ کسی کا کیا خوب کہنا ہے کہ If you have 0% Doubt, you are outہم اپنی ذات کے متعلق بے شمار خدشات اور خوف کا شکارہوتے ہیں۔اپنی ذات پر اعتماد کی کمی کی بے شمار مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں چند درجہ ذیل ہیں:
اپنی ذات کی پہچان نہ ہونا۔
رب کی ذات پر یقین نہ ہو نا۔
والدین کی جانب سے بہتر تعلیم وتربیت کا نہ ملنا۔
بہتراسکولنگ اور اساتذہ کا نہ ملنا۔
مثبت اور سازگارماحول کا میسر نہ ہو نا۔
منفی لوگوں اور سوچوں میں زیادہ تر وقت گزار نا۔
دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنا۔
اپنی صلاحیتوں کا ادراک نہ ہو نا۔
ناکامی اور کامیابی کا خوف۔
نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کا خوف۔

tripako tours pakistan

جدید ریسرچ کے مطابق بے شمار ایسے ٹولز اور طریقے کار ہیں جن کی بدولت آپ خود اعتمادی کے فقدان پر قابو پا کر زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

شک کی آواز کو روکیں:
جب بھی آپ کے اندرسے ایسی آواز آئے کہ تم نہیں کرسکتے۔اس آواز کو روکیں۔

ماضی کی کھڑکی میں جھانکیں:
جب بھی منفی سوچیں اور انجانا  خوف آپ پر حاوی ہونے لگے تو ماضی کے ان واقعات کی خوش گوار یادوں کو یاد کریں۔میں آج بھی جب کسی مشکل وقت میں پریشان ہو تا ہوں تو اپنی میٹرک کی مارک شیٹ نکال کر دیکھتا ہوں اور خود کو یہ یاد دلاتا ہوں کہ اگر میں نے میٹرک کا مشکل ترین امتحان پاس کرلیا تھا تو یہ مشکل میرے لئے کچھ نہیں۔

دوسروں کی مدد حا صل کریں:
اس ضمن میں کسی بھی انسان سے مدد لینے سے گھبرائیں نہیں،دوسروں سے مدد لینے سے ہم دوسروں سے اپنے تعلقات مضبوط کرتے ہیں۔

اپنی ذات کی پہچان:
اپنی ذات کے بارے میں خدشات کا شکار انسان کبھی بھی آ گے نہیں بڑھ سکتا اس لئے لازم ہے کہ اپنی ذات کے بارے میں آگاہی حا صل کی جائے اور خود کی پہچان کی جائے،یعنی خود شناسی کے ذریعے خود آگاہی اور فرض شناسی کا سفر شروع کیا جائے۔

اپنی ذات کا SWOT تجزیہ کریں:
اپنی قدرتی صلاحیتوں،مہارتوں،خوبیوں،کمزوریوں کے بارے میں جاننے بغیر آپ اپنی زندگی میں مواقع اور خدشات سے آگاہ نہیں ہوسکتے۔

دوسروں سے موازنے سے اجتناب کریں:
دوسروں سے اپنی ذات کا موازنہ کرنا اپنی ذات اور شخصیت کی توہین ہے کیونکہ قدرت نے آپ کو منفرد اور مختلف بنایا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

آپ کا وقت آئے گا دوسروں سے موازنہ ہماری مثبت توانائی کو بُری طرح متاثر کرتا ہے۔بس اپنے حصے کا کام کرتے جائیں۔آپ کے وقت پر قدرت آپ کو ضرور صلہ عطا کر ے گی۔ولیم شیکسپیئر نے کیا خوب کہا ہے۔”ہمارے خوف ہمارے غدار ہیں، اور ہمیں محروم کردیتے ہیں، اُس اچھائی سے جو ہم جیت سکتے ہیں۔صرف کوشش نہ کرنے کے خوف سے؟“
اپنے اندر کے انجانے خوف اور خدشات پر قابوپاکر اپنی ایک پر اعتماد اور پر سکون وکامیاب زندگی بسر کرسکتے ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply