اِ ک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔۔۔سعدیہ علوی

آج ہمیں اپنی چھٹی جماعت کی انگریزی کی کتاب یاد آگئی۔
ہم، کہ ٹھہرے اردو میڈیم بچے، پنجم تک خالص اردو پڑھتے رہے ششم میں آتے ہی ایک اور مضمون کا سامنا تھا جسے انگریزی کہا جاتا تھا ۔
گھر میں خالص اردو ماحول کہ اماں اور ابا دونوں ہی اردو بولنے والے اور ہم جس وقت کی بات کر رہے ہیں تب انگریزی آج کی طرح حواسوں پر سوار بھی نہ تھی، سو چند ان الفاظ کے جو اردو کا ہی حصہ مانے جاتے ہیں، ہم اس سے نابلد تھے۔
اب جو سر پر پڑی تو نبھانی بھی پڑی۔۔

سب سے پہلے تو حروف کا تعارف ہوا اے سے زیڈ تک سب کو یاد رکھنا بھی ایک کار مشکل تھا۔ ہمارے لیئے b اور d ایک ایسا امتحان تھے جس میں کامیابی جوئے شیر لانے جیسی تھی، یہ مشکل مرحلہ، ہجر کی طرح لاحق تھا خیر زہر کی طرح اتار ہی لیا۔

tripako tours pakistan

کمال جب ہوا جب ٹی سے ٹوائے لکھا ملا اور شکل بھالو کی تو بھیا ہم نے مس کو سنایا
‘ٹی سے ٹوائے
ٹوائے معنی بھالو”
اور ایک دھپہ سر پر کھایا
اسی طرح گرتے پڑتے میٹرک تک آگئے اور یقین کریں کسی سال، کوئی دن ایسا نہ گزرا کہ، اس ناہنجار  کی وجہ سے ہم بینچ پر کھڑے ہونے کی سعادت سے محروم رہے ہوں۔
سب سے اعلیٰ  بات جو اب ہم بتانے جا رہے ہیں وہ یہ رہی کہ ہم نے انگریزی گرامر اردو میں پڑھی،
ہوئی نا حیرت کہ کیسے؟

Advertisements
merkit.pk

جناب وہ ایسے کہ ہماری استانی صاحبہ جب ٹینس پڑھاتی تو ہمیں لکھواتی تھیں،
“ورب کی پہلی فارم میں “آئی  این جی” لگایا جاتا ہے سبجیکٹ کے ساتھ “ایم”، “از”، اور” آر”،تو پیرزینٹ  کنٹینیوز  بن جاتا ہے”
ایمان سے بالکل ایسے ہی غضب ہے جو ایک لفظ جھوٹ بولا ہو تو۔
بہرحال میٹرک ہو ہی گیا ،آگےبھی تعلیم حاصل کرلی۔۔ اب ایک باعزت نوکری بھی میسر ہے مگر ایک چیز سیکھ لی کہ اگر خود پر اعتماد ہو تو سب آسان ہوجاتا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply