مرد  ہی بے وفاکیوں قرار پاتے ہیں؟(1)۔۔عبید اللہ چودھری

شادی ۔۔۔ ایک غیر فطری رشتہ ہے! اسے سماج نے بنایا ہے۔قدرت نے تو صرف جوڑے بنائے تھے۔ لاکھوں سال انسان بھی فطری جوڑوں کی شکل میں اپنی نسل آگے بڑھاتے رہے۔ پھرباقاعدہ کاشتکاری کے بعد جائیداد اور وراثت کا سوال کھڑا ہوا؟ اختصار سے عرض ہے کہ وراثت کے جائز وارث کے تعین کے لئے مرد اور عورت کے فطری جنسی ملاپ کو شادی کے نام پر محدود کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوا۔شادی کی موجودہ شکل انسانی تاریخ کے لحاظ سے زیادہ پرانی نہیں۔ جب سے شادی جیسے غیر فطری ادارے کا آغاز ہوا ہے،بے وفائی کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ اس غیر فطری بندش کے آغاز ہی سے مرد و زن دونوں ہی اپنی اپنی بساط کے مطابق تانک جھانک ، ملاقات اور پھر شادی سے باہر ملاپ کی کوشش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ سماجی زندگی کی ڈارک سائیڈ ہے۔ اس پر نہ  بات ہوتی ہے اور نہ  ہی کوئی اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ دونوں فریق خاموشی سے اسے برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ عورتوں نے معاشی کمزوری کے باعث اور بچوں کی خاطر مرد سے زیادہ برداشت کیا ہے اور کر بھی رہی ہیں۔ آئیں اس پر سیر حاصل بحث کریں۔

دنیا میں مرد اور عورتوں کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ عرب اور افریقہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مرد کی ایک سے زائد شادیوں کا بھی رواج ہے۔ یہ میری پختہ رائے ہے کہ زبردستی اور یا کسی لالچ کی بنیاد پر شادی کے لوازمات پورے کرنا ایک قسم کی مزدوری “پیڈڈ سروس” ہے۔ اور جب ازدواجی رشتہ مزدوری ہو تو وہ ایک بوجھ ہوتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ عرب اور افریقی ممالک میں پہلی بیوی خود ڈھونڈ کر دوسری بیوی لے کر آتی ہے اور یہ سلسلہ چار بیویاں پوری ہونے تک جاری رہتا ہے۔ خیر یہ ایک الگ اور مکمل موضوع ہے اس پر کسی اور تحریر میں بحث ہو گی۔ لیکن ایک سے زائد شادیوں کے رواج کی وجہ سے تو باقی بچ جانے والوں میں اصولی طور پر کنواری عورتوں کی تعداد مردوں سے کم بنتی ہے۔ ایسے میں جب یہ تاثر ہو کہ مرد ہوتا ہی بے وفا ہے! تو پھر اسے بے وفائی کے لئے  نئی عورت کہاں سے مل جاتی ہے؟ اس اعتبار سے تو اگر شادی شدہ مرد بے وفا ہیں تو اس اصورتحال میں عورتوں کی اکثریت بھی بے وفا ہوئی۔ شائد ہی کچھ فیصد مرد  ہی  کامیابی سے اپنی پہلی شادی چھپا سکیں لیکن عورتوں کی اکثریت یہ جانتے ہوئے بھی کہ  مرد شادی شدہ ہے پھر بھی اس کے ساتھ تعلقات بنا لیتی ہیں۔

tripako tours pakistan

مرد کو بے وفائی کے لئے دوسری عورت کہاں سے مل جاتی ہے؟

مردوں پربے وفائی کا الزام لگاتے وقت بالکل بھی اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ بے وفائی کا دوسرا فریق عورت ہی ہوتی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، تیزاب گردی اور بہت ساری زیادتیوں کے واقعات بھی ایک تلخ حقیقت ہیں ،لیکن یہ واقعات سنگین ضرور مگر اس حد سے بہت کم ہیں جس تعداد میں عورتیں بے وفائی کے کھیل میں اپنی مرضی سے شامل ہوتی ہیں ۔ سنگین تشدد میں بھی اکثر واقعات کی جب تحقیق کی جائے تو عورت کی بے وفائی ہی عموماً   بڑی وجہ نکلتی ہے! یاد رہے کہ مرد اور عورت کے مرضی کے تعلق خالص ہوتے ہیں اور ان میں بے وفائی کو برداشت کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

اولاد کے جائز ہونے کی اہمیت:

جب سے بیج سے فصل اُگا کر باقاعدہ زراعت شروع ہوئی اور پھر اس زرعی جائیداد کے جائز وارث کی جدو جہد کا آغاز ہوا ہے ۔ موجودہ معاشرے کی بنتر کا بنیادی تانا بانا جائز وارث کی تلاش ہی ہے۔ زراعت کے بعد جائیداد کی اور شکلیں ، مویشی، مکان، قیمتی دھاتیں ، دولت، اور پھر حکومت شامل ہوتے گئے۔۔ جائز وارث کو یقینی بنانے کی جدو جہد بھی آگے بڑھتی گئی۔

جب تک صرف زراعت تھی۔ شروع شروع میں شادی کا آغاز دو قبیلیوں کے درمیان شروع ہوا۔ یک قبیلہ کی عورتیں دوسرے قبیلہ اور دوسرے قبیلہ کی عورتیں پہلے قبیلہ پر ہلال قرا دی گئیں۔ اس طریقہ سے مشترکہ جائیداد کے مشترکہ جائز وارث مل گئے۔ قبیلیوں ( آبادی ) کے مرد اور عورتیں آزاد تھے کہ وہ دوسرے قبیلے کے ایک سے زائد اپنی مرضی کی عورتوں اور مردوں سے جب چاہیں  جنسی تعلقات رکھ سکتے تھے۔ اس دور میں بچوں یعنی جائز وارث کی پہچان ماں کے نام سے ہوتی۔ ۔کیونکہ جو بچہ جس عورت کے بطن سے پیدا ہوتا اس کا تو سب کو علم تھا لیکن باپ کون ہے اس کا کسی کو معلوم نہیں تھا۔ جب تک شادی کا یہ نظام رہا دنیا بھر میں مدَر شاہی نظام بھی قائم رہا۔

جیسے جیسے جائیداد اشتراکیت سے نکل کر انفرادیت کی ملکیت ہوتی گئی ،اور اس جائیداد اور معیشت پر مرد کا غلبہ ہوتا گیا! جائز وارث کی تلاش میں اب عورت سے زیادہ مرد کی جائز اولاد کا مسئلہ  کھڑا ہو گیا۔ عورت کی اولاد کا تعین تو فطری طریقہ سے ممکن تھا! لیکن مرد کی جائز اولاد کو یقینی بنانے کے لئے غیر فطری حربے اپنانے کا آغاز ہوا۔ ان حربوں میں مرد اور عورت کے جنسی ملاپ کو مزید محدود کرنا ہی سب سے پہلا انتخاب ٹھہرا ! ایک خاص مرد سے وابستہ  عورت / عورتوں کی نقل و حرکت، پھر کسی دوسرے مرد سے ملاقات کی آزادی سلب کر لی گئی۔ کہتے ہیں کہ تالے ، چمڑے کے انڈر وئیر اور گھروں کے دروازوں کا آغاز بھی مرد کی جائز اولاد کو یقینی بنانے کی کوششوں کا نتیجے  میں ہی ایجاد ہوئے۔

جائز اور نا جائز کی بحث میں جینز کا کردار:

یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ وراثت چاہے پہلی سے آخری ترجیح  ہو جائے! شادی کا ادارہ چاہے بالکل ختم کیوں نا ہو جائے، مذہب کا کردار بھی نہ  ہونے کے برابر ہو اور گناہ و ثواب کی بحث بھی اہم نہ  رہے۔ لیکن انسانی فطرت میں اپنے اصل کی تلاش کی جستجو جاری رہے گی۔ چاہے بچے صرف سپرم بنک سے حاصل خدمات ، کرایے کی بچہ دانی کی سہولت اور سنگل پیرنٹ کا رواج عام بھی ہو جائے ، کیونکہ اپنے اصل کی یہ تلاش فطرت کے بہت قریب ہے۔ اپنے حیاتیاتی ماں اور باپ کی تلاش پر آپ کو سینکڑوں کہانیاں، فلمیں ، ڈرامے اور قصے مل جائیں گے۔ یہ کہانیاں زیادہ تر مغربی معاشرے کی نمائندہ ہیں۔

جہاں مرکزی تلاش صرف اپنے اصل کی ہوتی ہے، ان کو نہ  تو اپنے حسب نصب کو بدلنے سے غرض ہوتی ہے اور نہ  ہی وراثت میں کوئی رغبت۔ چبھن ہے تو میرے اصل ماں اور باپ کون ہیں؟ انگلش فلم سیریز جوکرکی 2019 والی آخری فلم اس موضوع کے زیر بحث پہلو کی شاندار نمائندہ فلم ہے۔ ہم بھی تو مغربی معاشرے کے پیروکار ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب یہی کہانیاں مشرقی معاشرے کا بھی اہم موضوع ہونگی۔

بدلتے سماج میں مذہب کی انٹری:

اب جب جنگل میں آزاد گھومنے والے انسان نے زراعت ( جو زیادہ قابل اعتماد خوراک کو یقینی بنانے کا طریقہ تھا) کو اپنایا تو انسانی بستیوں کا وجود عمل میں آیا۔ جب انسانی بستیاں بنیں تو پھر ان بستوں میں ساتھ رہنے کے اصول بنانے کی ضرورت پیش آنے لگی۔ زراعت کا کل دارومدار بارشوں پر تھا تو ایسے میں قدرت کو راضی کرنے کے لئے بھی جتن شروع ہوگئے۔ قدرت کو راضی کرنے کی کوششوں کے نتیجہ میں توہمات اور رسومات کا آغاز ہوا، خوف اور قدرت کی اس طاقت جس کے قابو میں سورج ، بارش، طوفان ، ہوا اور زلزلے تھے کی خوشنودی کے لئے قسم قسم کی بھینٹ چڑھائی جانے لگی۔ کبھی لڑکیاں ، کبھی لڑکے، اور پھر جانوروں کی قربانی کی باری آئی۔

انسانی بستیوں کے وجود سے جہاں حقوق و فرائض کی بحث نے جنم لیا وہاں بستیوں کے نظام کو مربوط بنانے اور اکھٹے رہنے سے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بھی کچھ اصول وضع کرنے ضروری تھے۔ ہر بستی نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق قوانین بنائے، اور پھر قدرت کو راضی کرنے، سماجی اصولوں کی مشترکہ ضرورت اور حضرت انسان کے اجتماعیت سے انفرادیت کے سفر نے عقائد کو جنم دیا جو ایک طویل تسلسل کے بعد مذاہب کی شکل اختیار کر تےگئے۔

آپ غور کریں تو شروع شروع میں سورج ، چاند، سمندر، کی پوجا ہوتی تھی، کیونکہ جس قدرت کو راضی کرنا مقصود تھا اس کا مظہر یہی اشارے تھے۔ جیسے جیسے سماج آگے بڑھتا گیا۔ عقائد اور روایات مذہب میں تبدیل ہوتے گئے ! ریاست کی عدم موجودگی میں یہ عقائد اور مذاہب ہی تھے جو سماج میں اپنے اپنے طریقے سے توازن اور امن برقرار رکھنے کے راہنما اصول فراہم کرتے تھے۔ انسانی تاریخ میں جدید ریاست اور برابری کی بنیاد پر قائم ہونے والے قوانین کا عہد انسانی معاشرے میں مذہب کی صدیوں پرانی تاریخ کے مقابلے میں نہ  ہونے کے برابر ہے۔ ایک صدی کا مقابلہ ہزاروں  صدیوں سے کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ، لیکن ابلاغ کے جدید طریقوں سے جدید یاستی قوانین کی کامیابی صدیوں پر حاوی ہوتی نظر آ رہی ہے۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply