• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نکاح متعہ ( شیعہ + سنی) و نکاح مسیار (سنی) کا تقابلی جائزہ/ دوسرا،آخری حصّہ ۔۔ذوالفقار خاں ناصر ایڈووکیٹ

نکاح متعہ ( شیعہ + سنی) و نکاح مسیار (سنی) کا تقابلی جائزہ/ دوسرا،آخری حصّہ ۔۔ذوالفقار خاں ناصر ایڈووکیٹ

مماثلت
۱۔ حقیقت میں دونوں قسم کے نکاح کا اصلی ہدف جائز شریعی طریقہ سے لذت کا حصول اور جنسی خواہشات کی برآوری ہے نہ کہ خاندان کی تشکیل
۲۔ ایجاب و قبول، حق مہر اور اذن ولی (باکرہ ہونے کی صورت میں) شرط ہیں۔
۳۔ دونوں میں نفقہ اور شب بسری جیسے حقوق مرد پر واجب نہیں ہیں۔
افتراق
۱۔ نکاح مسیار میں مدت معین نہیں ہوتی جبکہ متعہ میں مدت معین ہوتی ہے۔
۲۔ نکاح مسیار طلاق یا فسخ کے ذریعے ختم ہوتا ہے جبکہ متعہ مدت کے پورا ہونے کے بعد ختم ہوتا ہے۔
۳۔ نکاح مسیار میں عدت تین طہر ہے جبکہ متعہ میں دو۔
۴۔ متعہ میں تعداد کی کوئی قید نہیں ہے جبکہ نکاح مسیار ایک وقت میں چار خواتین سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔

قطر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر قرہ داغی نے نکاح مسیار پر درج ذیل اعتراض کیے ہیں:
۱۔ نکاح میں اصل ہدف حصول لذت نہیں ہوتا بلکہ روحانی تسکین، بقاء نسل انسانی اور خاندان کی تشکیل اصل ہدف ہے۔
وَ مِنْ اٰیٰتِہ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (۸)
اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تم میں سے تمھارے جوڑے بنائے تاکہ تمھیں سکون حاصل ہو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی۔ یقیناً اس میں صاحبانِ فکرکے لیے نشانیاں ہیں۔
جبکہ نکاح مسیار میں یہ تینوں اہداف مدنظر نہیں ہوتے صرف جنسی تشکیل مقصود ہوتی ہے۔

tripako tours pakistan

یہ اعتراض ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر اسے حرام قرار دیا جاسکے، کیونکہ صرف جنسی لذت کے حصول کے لیے بھی نکاح کیا جاسکتا ہے جیسا کہ رسول خداﷺ  فرماتے ہیں:
یا معشر الشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء(۹)
اے جوانو جو تم میں عورت کو سنبھالنے کی استطاعت رکھتے ہیں وہ نکاح کرلیں کیونکہ نکاح آنکھوں کو جھکانے اور شرمگاہ کو بچانے کا باعث بنتا ہے اور جو نکاح کی قدرت نہیں رکھتا وہ روزہ رکھ لے کیونکہ روزہ جنسی خواہش کو کم کر دیتا ہے۔
یہ حدیث اس وقت رسول خداﷺ نے بیان فرمائی تھی، جب صحابہ نے اپنی جنسی خواہشات کی شدت کے متعلق عرض کیا۔
نسل انسانی اور خاندانی تشکیل مقصد تو ہو سکتی ہے شرط نہیں۔ اگر شرط ہوتی تو عقیم اور بانجھ عورت سے شادی جائز نہ ہوتی۔

۲۔ حق مبیت(بیوی کا شب بسری کا حق) اور نفقہ عقد کی بنیادی شروط میں سے ہیں۔ جب یہ دونوں نہیں ہیں تو عقد بھی نہیں ہے کیونکہ شرط کے ختم ہونے سے مشروط ختم ہو جاتا ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر شوہر الغاء حق مبیت کی شرط لگائے تو عقد باطل ہے۔
جواب: حق مبیت اور نفقہ نہ ہی ارکان عقد میں سے ہیں اور نہ ہی شروط میں سے۔ ارکان عقد یہ ہیں:
ایجاب و قبول، شہود (گواہ)، حق مہر، رضایت، اذن ولی(باکرہ ہونے کی صورت میں) اور یہ سب نکاح مسیار میں موجود ہیں۔
حق مبیت اور نفقہ حقوق زوجہ میں سے ہیں اور انسان کو اپنا حق معاف کر دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ یہاں زوجہ خود اپنا حق معاف کررہی ہے۔

۳۔ یہ زواج السر( پوشیدہ شادی) ہے جو کہ مالکی فقہاء کے نزدیک باطل ہے۔(۱۰)
جواب: گواہوں کا ہونا ادنی الاعلان ہے یعنی اعلان کی کمتر حد ہے۔ پھر زواج السر صرف مالکیوں کا نظریہ ہے سب کا نہیں۔
بہت سے فقہاء نکاح مسیار کے جواز کے قائل ہیں۔جن میں سے شیخ ابن باز، شیخ نصر فرید، مسجد الحرام کے امام شیخ سعود شریم، صالح سدلان، شیخ یوسف قرضاوی، شیخ منصور رفاعی عبید، احمد شلبی، محمود عبد المتجلی خلیفہ اور شیخ ابن عثیمین وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

حوالہ جات
۱۔ ۱۲یوسف:۳۳و۳۴
۲۔ ۲بقرہ:۳۵
۳۔ قرضاوی، حول زواج المسیار مجلہ المجتمع الکویتیہ ۲۶،۵، ۱۹۷۷،ص ۳۱
۴۔ الاشقر، اسامہ عمر، مستحداث فقھیۃ فی قضایا الزواج والطلاق،ص ۱۶۳
۵۔ عقدوالزواج المستحدثۃ وحکمھا فی الشریعہ، ص ۸
۶۔ عقدوالزواج المستحدثۃ وحکمھا فی الشریعہ، ص ۲۱
۷۔ ابن قدامہ(۶۲۰ھ)المغنی، بیروت، لبنان، دارالکتاب العربی، ج ۷،ص ۴۵۱
۸۔ ۳۰روم:۲۱
۹۔ بخاری(۲۵۶)، صحیح بخاری، بیروت، لبنان دارالفکر، طبع ۱۹۸۱،ج ۶،ص ۱۱۷
۱۰۔ امام مالک(۱۷۹) کتاب الموطا بیروت، لبنان، طبع ۱۹۸۵، ج۲،ص ۵۳۵

نکاح متعہ اہل سنت کتب سے!
کوئی پڑھا لکھا شخص انکار کرسکتا ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَرَخَّصَ ، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ : إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ ، وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ .
*ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں۔*
(صحیح بخاری الحدیث رقم 5116)

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَا : كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا .
*ہم ایک لشکر میں تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے تم نکاح کر سکتے ہو۔*
(صحیح بخاری الحدیث رقم 5117، 5118)

🔖وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ، إِلَّا لَنَا خَاصَّةً» يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ
*زبید نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : دو متعے ہمارے علاوہ کسی کے لئے صحیح نہیں ( ہوئے ) یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنا اور حج میں تمتع ( حج کا احرام باندھ کرآنا ، پھر اس سے عمرہ کرکے حج سے پہلےاحرام کھول دینا ، درمیان کے دنوں میں بیویوں اور خوشبو وغیرہ سے متمتع ہونا اورآخر میں روانگی کے وقت حج کا احرام باندھنا ۔ )*
(صحیح بخاری الحدیث رقم 2967)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَا: خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا» يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ
*شعبہ نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حسن بن محمد سے سنا ، وہ جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے حدیث بیان کر رہے تھے ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک منادی کرنے والا ہمارے پاس آیا اور اعلان کیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں استمتاع ( فائدہ اٹھانے ) ، یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنے کی اجازت دی ہے۔*
(صحیح مسلم الحدیث رقم 3413)

🔖وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ»
*روح بن قاسم نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حسن بن محمد سے ، انہوں نے سلمہ بن اکوع اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ( اعلان کی صورت میں آپ کا پیغام آیا ) اور ہمیں متعہ کی اجازت دی۔*
(صحیح مسلم الحدیث رقم 3414)

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مُعْتَمِرًا، فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ، فَقَالَ: «نَعَمْ، اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ
*عطاء نے کہا : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما عمرے کے لیے آئے تو ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، لوگوں نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا ، پھر لوگوں نے متعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں متعہ کیا۔*
(صحیح مسلم الحدیث رقم 3415)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جِبْرَائِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَةٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا. وَرَوَاهُأَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَعْنَى الْمُتْعَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَلَى مَعْنَى أَبِي عَاصِمٍ.
*کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے ( اس عورت کو اپنے لیے ) حلال کر لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔*
(سنن ابی داؤد الحدیث رقم 2110)

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ مُتْعَتَانِ کَانَتَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَہَانَا عَنْہُمَا عُمَرُ فَانْتَہْیَنَا۔
*سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نکاح متعہ اور حج تمتع دونوں کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں اجازت تھی، لیکن جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں ان سے منع کیا تو ہم رک گئے۔*
(مسند احمد الحدیث رقم 4203)

عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَنْہٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَأْمُرُ بِہَا، قَالَ: فَقَالَ لِی: عَلٰییَدِیْ جَرَی الْحَدِیْثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ عَفَّانُ: وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ، فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ ہُوَ الْقُرْآنُ وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ الرَّسُوْلُ، وَإِنَّہُمَا کَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِحْدَاہُمَا مُتْعَۃُ الْحَجِّ وَالْأُخْرٰی مُتْعَۃُ النِّسَائِ۔
*ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔*
(مسند احمد الحدیث رقم 4207)

عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا نَغْزُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ لَنَا نِسَائٌ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلاَ نَسْتَخْصِیْ؟ فَنَہَانَا عَنْہُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِی أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ إِلٰی أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔}[سورۃ المائدۃ: ۸۷]
*سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیں یہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۂ مائدہ: ۸۷)*
(مسند احمد الحدیث رقم 6836، 6984)

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ وَسَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کُنَّا فِیْ غَزَاۃٍ فَجَائَنَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: (اسْتَمْتِعُوْا۔)
*سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں تھے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے ہیں کہ تم لوگ (نکاحِ متعہ کی صورت میں) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔*
(مسند احمد الحدیث رقم 6985)

(وَعَنْہُمَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَا: خَرَجَ عَلَیْنَا مُنَادِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَادٰی: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَذِنَ لَکُمْ فَاسْتَمْتِعُوْا یَعْنِی مُتْعَۃَ النِّسَائِ۔
*(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کامنادی ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ اعلان کیا: بے شک اللہ کے رسول نے تم کو اجازت دی ہے، پس تم فائدہ حاصل کر سکتے ہو، یعنی نکاح متعہ کی صورت میں۔*
(مسند احمد الحدیث رقم 6986)

Advertisements
merkit.pk

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: کُنَّا نَسْتَمْتِعُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالثَّوْبِ۔
*سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں کپڑے کے عوض نکاح متعہ کر لیا کرتے تھے۔*
(مسند احمد الحدیث رقم 6987)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply