احساس

کسی کا سیکولر بھینسا گیا، کسی کی روشنی گل ہوئی۔ کوئی زبان بند کر گیا۔ کوئی اٹھا لیا گیا، کسی نے ڈر کے مارے گرم رضائی اوڑھ لی۔ کسی نے ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے بازو کس لیے ۔
کسی نے کوشش ہی نہیں کی جاننے کی کہ ہم کون ہیں۔ ہماری ہستی اور ہئیت کیا ہے۔ کس خمیر سے معجزہ آشکار ہیں ہم۔ کس مٹی کو آواز دیں گے۔ کونسی آگ ہستی سے آہ بن کے نمو پائے گی۔ کس جگر سے درد سوز گداز کی سیڑھی پہ پاؤں پھیلا کے چڑھے گا۔ کس پانی کی ملاوٹ سے گندگی پاکیزگی کا سفر طے کرپائے گی۔
ہوش و خرد کے پیمانے چھلکتے پھرتے ہیں ۔ کوئی مے شناس ہی نہیں۔ جھوٹے رند ساقی کا نام ومقام ڈبو رہے ھیں۔ سچ جھوٹ کی گلوری میں لپٹ رہا ہے۔ ساز راگ سے ناآشنا ہوکے اپنی سر تال اور لے سے بغاوت اختیار کیے ہے۔
مجھ سے کیا آشفتہ سری کی بےحالی کا حال دریافت کرتے ہو۔ میں تو خود اپنے ہونے اور کیوں ہونے کی سولی پہ مصلوب ہوا چاہتا ہوں۔ دل کی آگ خاموش لبوں سے ناراض ہے ۔ذات اقدس محو تماشہ ہے اور اپنی کہانیوں کی ترتیب و بےترتیب کی فخریہ رونمائی پہ مخلوق سے ثنائی کی توجہ کی مطلوب حال ہے۔
فکر اور فقر کی جہتیں عطا کرکے دیدار نور و نر کی شربت افزائی کے بعد دانشوری کو مقام اوج سے پستی کی گہرائی سے آشنا کراتے ہوئے اپنی شان بےنیازی کے معترف بندے کے چشمۂ حیات سے پھر کسی بھینسے کو نکال کے غروب و طلوع کے سحر کی جھلک دکھلا کے مقابل لا کھڑا کرنا تو مشغلہ محب ٹھہرا۔
تو پھر ہم سے جاہل وکاہل کے پاس جی حضوری اور خود سپردگی کے علاوہ کیا جاء رہ جاتی ہے ۔
چلو اک کھیل کھیلتے ہیں۔ بھینسے کو سر بازار تماشائے اہل خرد کی یکسوئی میں دے کے اقرار شیر کرواتے ہیں۔ جب بھینسا دودھ اتار دے، عقل وخرد کو ورطۂ حیرت میں غوط زنی پہ مجبور کر دے تو خیال کی سمت کون متعین کرے گا۔ بلا شبہ ہم ہی یہ بازی ہاریں گے۔
آؤ احساس کی سیڑھی پہ چڑھ کے اک بار پھر اس سوال کو دہرائیں کہ
"ہم کون ہیں ؟"
خود کو کسی کے سپرد کردیں۔ کسی کے ہو جائیں۔ اصل کا اصل کو سفر سونپ دیں اور اسی اقرار کی منزل کی طرف گامزن ہو جائیں جس کی بندگی کا اقرار ہم سے کروایا جا رہا ہے۔ اور راستے کےخار اور کانٹے خود کوچبھوتے بچتے گلاب کی منزل پا جائیں۔
وہ ذات کہ جس کے قبضۂ قدرت میں یہ ناتواں اور حقیر سی جاں ہے، اس کار کل کے مالک سےملتمس ہیں کہ خرد سے نا آشنا کر کے عشق کا پاگل پن عطاء فرما دے۔ آمین

Avatar
ظفراقبال مغل
رائیٹر/کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *