شرمین عبید چنائے کی ڈائری سے اقتباس۔۔۔ معاذ بن محمود

یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ یہ فیصلہ میں نے اس دن کیا جب نادرا والوں نے شناختی کارڈ کے لیے تصویر مانگی۔ گویا قومی شناختی کارڈ بنانے کے بہانے جنسی ہراسمنٹ؟ یہ کیسا ملک ہوا؟ میں نے تو اسی لمحے فیصلہ کر لیا کہ اب یہاں نہیں رہنا۔ ایک لمحہ نہ لگایا اور پاسپورٹ آفس جا پہنچی۔

پاسپورٹ آفس میں جم غفیر تھا جو ٹوکن لیے اپنی باری کا منتظر تھا۔ یہ ملک بالکل میری سمجھ سے باہر ہوچکا ہے۔ مانا کہ میں لبرل ہوں، مساوات کا مقدمہ لڑتی ہوں، پھر بھی، عورتوں کے بھی تو حقوق ہوتے ہیں ناں؟ میں کہتی ہوں ہاں بنتے ہیں، یکساں حقوق بنتے ہیں، خواتین کے، لیکن خواتین کی الگ قطار کاہے ختم کر ڈالی؟ یہ تو خواتین کے حقوق پہ سراسر ڈاکہ ٹھہرا۔ میرے خاندان نے ہمیشہ یہی سکھایا کہ “اپنا کام پورا ،بھینس چرائے نورا”۔ اسی محاورے کا سینسرڈ ورژن پچھلے دنوں رخسانہ نے مجھے بھیجا۔ رخسانہ وہی خاتون ہے جس کا چہرہ فروخت کر کے میں نے آسکر جیتا۔ کیا فضول باتیں یاد آگئیں، خیر، خواتین کی قطار ختم کر کے ٹوکن سسٹم کا نفاذ اس عظیم الشان ضرب المثال کے مکمل خلاف تھا۔

تصویر کھنچوانے کی باری آئی تو فوٹوگرافر نے کیمرہ میری جانب کر کے تصویر کھینچنا شروع کر دی۔ اس وقت مجھے گینگز آف وسی پور میں ہما قریشی کے ڈائیلاگ کی اہمیت یاد آئی، “ایسے تھوڑی ہی کسی کو ٹچ کرتے ہیں، نہیں ہم آپ کو منع نہیں کریں گے، کیجیے ٹچ، لیکن پوچھنا تو چاہئے ،ہے ناں”۔ فوٹوگرافر کو اس جنسی ہراسمنٹ پر ٹھیک ٹھاک سنائیں میں نے۔ وہ جانتا نہیں تھا کہ کس خاندان کی دختر کے ساتھ سینگ پھنسائےاس نے۔ مطلب ایسے کیسے کسی خاتون کی تصویر کوئی لے سکتا ہے؟ مطلب منع نہیں کرنا میں نے، لیکن پوچھنا تو چاہئے تھا!

فوٹوگرافر کی تصویر مجھے پسند نہیں آئی۔ ایک تو میرا فیس پاؤڈر اتنی محنت کے بعد خراب ہوچکا تھا اور دوسرا میرا جو فیس ہے مطلب چہرا، وہ تھوڑا مطلب انچ ڈیڑھ موٹا دکھائی دے رہا تھا۔ لبرلزم اپنی جگہ، موٹاپے کا الزام اور سوتن نامی جذام کسی عورت کے بس کی بات نہیں، لہٰذا اصرار کیا کہ شٹل کاک برقعے کے پیچھے تصویر لی جائے۔ نادرا افسر نے انکار کیا تو اسے سمجھایا کہ تم جانتے نہیں میں کس خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ فوٹوگرافر راجپوت رانا نکلا، لہٰذا فیصلہ کیا کہ ایسی جنسی ہراسمنٹ پر اس بار معاف کر دیتی ہوں، اگلی بار نہیں چھوڑوں گی۔ پاسپورٹ پہ چھپی تصویر مجھے کبھی وہ ہراسمنٹ بھولنے نہیں دے گی۔

پاسپورٹ بنوانے کے بعد میں نے دُکھی انسانیت کی خدمت کا قصد فرمایا۔ گھر پہنچ کر دُکھی انسان ڈھونڈنا شروع کیے لیکن سب کو خوش پایا۔ انگلینڈ سے ایک آنٹ آئی ہوئیں تھیں جو اپنی مارتھا کے پیٹ سے ہونے کے غم میں دُکھی تھیں۔ مارتھا ان کی کتیا کا نام تھا جسے کوئی ناہنجار کتا پیٹ سے کر گیا تھا۔ آنٹ اور میرا اتفاق تھا کہ کتا یقیناً کسی سیاہ فام خاندان سے تعلق رکھتا ہوگا جو ایسی نیچ حرکت کر گیا۔ ایک بات جو مجھے سمجھ نہ آئی وہ یہ تھی کہ آنٹ دُکھی مگر مارتھا خوش دکھائی دیتی تھی۔ آنٹ مجھے خدمت کا موقع دینے سے پہلے ہی واپس انگلینڈ جا پہنچیں۔اب مجھے کسی اور کی تلاش ہے جس کے دکھ کا مداوا کر سکوں۔ سوچتی ہوں آغا خان ہسپتال کے اس ڈاکٹر سے رابطہ کروں جسے میری ٹویٹ کے بعد نوکری سے نکال دیا گیا!

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *