اسلام اور موسیقی (الجواب)

موسیقی، غناء، معازف اور مزامیر جیسے موضوعات آجکل زیر بحث ہیں۔ پچھلی ایک دو صدی میں حلال و حرام کا فلسفہ اتنی تیزی سے تبدیل ہوا ہے کہ اگر جلیل القدر فقہا کو اللہ پاک یہاں بھیج دیں تو دین کے اس چہرے کو دیکھ کر شاید وہ بھی حیران رہ جائیں۔ میرا اس موضوع پر لکھنے کا بالکل ارادہ نہیں تھا کیونکہ یہ معاملہ قاری حنیف ڈار صاحب اور چند دوسرے دوستوں کے درمیان تھا۔ اس لئے میں درمیان میں آنا نہیں چاہتا تھا لیکن ابھی" مکالمہ" پر کراچی کے ایک مفتی صاحب کی تحریر دیکھی، میں اس قابل تو نہیں کہ کچھ لکھ سکوں اورنہ ہی میری تحقیق مفتی صاحب کے پائے کی ہوسکتی ہے۔ اس تحریر کو ایک عامی طالب علم کی علماء کی آراء میں قائم کردہ رائے ہی سمجھا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس میں غلطی کا بہرحال احتمال موجود ہے۔

مفتی صاحب نے اپنی تحریر میں موسیقی کو اشتعال انگیزی قرار دینے، قران کی آیات اور ایک دو احادیث سے حرام اور ناجائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اسی صدی کا کمال ہے کہ ہم نے ہر چیز کو حلال و حرام اور ثواب و گناہ کے پلڑوں میں تولنا شروع کردیا ہے۔ خیر، اس سلسلے میں دین کی اصل تصویر کیا ہے، آئیے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں تو میں ایک بات قران کے الفاظ میں حضرات مفتیان کرام اور اہل علم دوستوں کے گوش گذار کرنا چاہوں گا۔ قران نے چودہ سو سال قبل علماء دین سے ایک سوال کیا تھا :
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )
ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کسی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں ۔
ہمیں کسی بھی چیز کے مطلق حرام ہونے کے لئے اس کی اشتعال پسندی اور ایسی چیزوں کو بنیاد بنانے سے قبل قران کی اس آیت کو پڑھ لینا چاہیے اور ہر چیز کو اٹھا کر حرام و حلال کا موضوع نہیں بنا دینا چاہیے۔ ہمارے ہاں سد ذرائع کو بھی آجکل حلال و حرام کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ ایسا کس جذبے کے تحت کیا جاتا ہے۔ کیا ہم فقہی حکم کو اسکی اصل کے ساتھ بیان نہیں کرسکتے؟ مباح کومباح، حرام کو حرام، سد ذرائع کو سد ذرائع، مکروہ کو مکروہ، لیکن ہم ہیں کہ اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک ہم کسی چیز کے بارے میں مطلق حرمت یا مطلق حلت کا فتویٰ صادر نہ کردیں۔

موسیقی اور قران: (حرمت کا جائزہ)
ہمارا خیال ہے کہ شاید اسلام صرف چند عبادات تک ہے اور اس سے بڑھ کر اخلاقی زندگی میں اسکا کوئی کام نہیں، ہم نے رہبانیت کو عیسائیت اور دوسرے مذاہب سے لے کر اسلام میں بھی داخل کرنے کی پوری کوشش کی۔ قران نے اس سے براءت کا اعلان کردیا ہے اور نبیﷺ کی زندگی سے ہمیں کہیں بھی رہبانیت کی تعلیم نہیں ملتی۔ اللہ کے نبیﷺ نے لوگوں کو بننے سنورنے اچھا پہننے کا مشورہ دیا ۔ کبھی بھی ایسی زندگی گزارنے کا مشورہ نہیں دیا جس سے دنیا سے لا تعلقی جھلکتی ہو۔ ایک شخص عجیب حال میں نبیﷺ کے پاس آیا، آپ نے اسکے مال و دولت کی بابت دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس کے پاس کافی مال ہے تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر مال ہے تو اسکا کچھ اظہار لباس سے بھی ہونا چاہیے۔ قران اور اسلام نے بھی دنیا کی زینتوں کو حرام نہیں کیا، بلکہ یہ ہم ہیں جنہوں نے ان زینتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔
سورۃ لقمان میں لہو الحدیث کا مطلب:
آیت میں لہو الحدیث کا مطلب عموماً مطلق غناء سے مراد لیا جاتا ہے اور بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے حق میں عبداللہ ابن مسعود اور کچھ اصحاب کی رائے پیش کی جاتی ہے کہ اس کا مطلب غناء ہے اور اس طرح مطلق غناء کی حرمت کو بیان کیا جاتا ہے۔ کسی بھی محقق کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ تصویر کا ایک رخ دکھا رہا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ دوسرا رخ بھی پیش کرے اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دے۔ تفاسیر اور روایات میں لہوالحدیث کے مطلب کو جمع کیا جائے تو اس کے کئی مطالب سامنے آتے ہیں ۔ ان مطالب کی بحث کو مولانا جعفر پھلواری کی کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔
1-گانا بجانا
2-نفع رساں باتوں کے مقابل میں ضرر رساں باتوں کو خریدنا
3-گانے والی لڑکیوں کو خریدنا
4-شرک
(اسلام اور موسیقی از مولانا جعفر پھلواری، ص 172*169)
منظور الحسن صاحب نے اس لفظ لہو الحدیث کی ترکیب اور اس کے معانی پر جو بحث کی ہے وہ بھی مفید ہے۔ لکھتے ہیں:
"یہ ترکیب 'لھو' اور 'حدیث' کے الفاظ سے مرکب ہے۔
'لھو' کے معنی کھیل تماشے اور غافل کر دینے والی چیز کے ہیں۔
''لسان العرب ''میں ہے:
لھو:ما لھوت بہ ولعبت بہ وشغلک من ھوی وطرب نحوھما. (۱۵/ ۲۵۸)
'''لہو' سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ تم کھیلتے ہو یا ایسی خواہش یا خوشی یا کوئی بھی ایسی چیز جو تمھیں مشغول کردے یا ان دونوں جیسی کوئی چیز۔''
صاحب مفردات علامہ راغب اصفہانی بیان کرتے ہیں:
اللھو ما یشغل الإنسان عما یعنیہ ویھمہ. (المفردات فی غریب القرآن ۴۵۵)
''لہو وہ چیز ہے جو انسان کو اس سے غافل کردے جس کا وہ ارادہ رکھتا ہو۔''
حدیث کے معنی نئی چیز یا خبر کے ہیں۔
''لسان العرب'' میں نقل ہوا ہے:
الحدیث: الجدید من الأشیاء. والحدیث : الخبر. (۴/ ۱۳۳)
''حدیث کا لفظ 'نئی چیز' کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے اور 'خبر' کے معنی میں بھی ۔''
''اقرب الموارد'' میں ہے:
الحدیث : الجدید والخبر . (۱/ ۱۷۰)
''حدیث کا مطلب 'نئی چیز' بھی ہے اور خبر بھی۔''
اہل لغت کی ان آرا کی روشنی میں 'لھو الحدیث' کے لغوی معنی حسب ذیل ہو سکتے ہیں:
۱۔ کھیل تماشے کی خبر
۲۔ غافل کر دینے والی بات
۳۔ باطل چیز"
(منظور الحسن، المورد)
ابن عابدین شامی ردالمختار میں لکھتے ہیں
'' آلۂ لہو فی نفسہٖ حرام نہیں ہے، بلکہ ارادۂ لہو کی وجہ سے ہے ۔خواہ یہ ارادہ سننے والے کا ہو یا گانا گانے والے کا۔ گویا یہ ایک اضافی چیز ہے ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ یہی ساز ایک موقع پر حرام ہوتا ہے اور دوسرے موقع پر حلال۔ یہ فرق محض نیت کی وجہ سے ہوتا ہے یا ان باتوں کی وجہ سے جو اس کے مقصد سے متعلق ہوں ۔ '' (رد المحتار۵/ ۲۲۱)

اس سب سے ہٹ کر سورۃ لقمان کی اس آیت کے نزول کو اور آیت کو دیکھ لیا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ آیت اصل میں غناء کی ایک صورت سے متعلق ہے وہ صورت کیا ہے وہ آیت اپنے آپ میں واضح کر رہی ہے۔
اسکا شان نزول نضر بن حارث کی محافل بتائی جاتی ہیں۔ نضر بن حارث قصائص سنایا کرتا تھا دوسری اقوام کے تاکہ لوگوں کو قران سے بھٹکا سکے۔ اس آیت کو اگر آج کے دور میں دیکھا جائے توکوئی بھی جائز چیز جو اللہ کی یاد سے غفلت کا سبب ہو یا احکام شریعہ میں سستی کا سبب ہو وہ حرام ہوجائیگی ۔ اس پر اسلام اور موسیقی سےا قتباس پیش خدمت ہے۔
"ایسے لہو الحدیث کی خریداری کو کون حرام نہیں کہے گا؟ یہ نظم ہو، نثر ہو، غنا ومزامیر کےساتھ ، بے غنا و مزامیر ہو، ایسا کلام انسانی ہو یا اللہ اور اس کے رسول کی طرف منسوب ہو، بیداری سے اسکا تعلق ہو یا خواب سے،خود کہے یا دوسرا سنے، کسی باندی کو خرید کر ہو یا بےخریدے زبانی ہو یا کتابت میں آ جائے۔ کچھ بھی ہو اگر حدیث کا یہ انداز اور یہ مقصد ہو توبلاشبہ وہ حرام ہے"
(اسلام اور موسیقی از مولانا جعفر پھلواری، ص175)

ان تمام ادلہ سے صاف واضح ہے کہ یہ آیت مطلق کہیں بھی غناء سے یا اسکی حرمت سے متعلق نہی بلکہ عمومی لہو الحدیث سے متعلق ہے۔ اسکے علاوہ القلم کے شمارہ 560 میں لہو الحدیث کے بارے میں لکھا ہے کہ جمہور صحابہ اور علماء لہو الحدیث سے مطلب عمومی لیتے تھے۔اسکے علاوہ اور کچھ دوسرے اصحاب اور احباب کی آراء بھی پیش کرنا چاہونگا تاکہ بات کو زیادہ واضح کیا جاسکے اور کوئی ابہام نہ رہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس (صحابی)نے ایک قول میں اس سے مراد باطل الحدیث(باطل بات) فرمایا ہے۔''(الاعتصام۱۸؍۵۷:۱۲)
''امام ضحاک رحمۃ اللہ علیہ (تابعی)نے اس سے مراد شرک لیا ہے۔''(الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۳)
''قتادہ رحمۃ اللہ علیہ (تابعی)نے اس کے معنی باطل بات کے کیے ہیں۔''(الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۳)
''حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ (تابعی) لھو الحدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ لھو الحدیث ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو۔''(الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۷)
''امام ابن جریر فرماتے ہیں… کہ اس سے مراد ہر وہ بات ہے جو اللہ کے راستے سے غافل کر دے۔''(الاعتصام۱۷؍۵۷:۱۵)
''علامہ زمخشری فرماتے ہیں: ہر وہ باطل چیز ''لھو'' ہے جو انسان کو خیر کے کاموں اور بامقصد باتوں سے غافل کر دے۔'' (الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۵)
''علامہ آلوسی وغیرہ متاخرین مفسرین نے اس سے عام مفہوم مراد لیا ہے۔''(الاعتصام۱۸؍۵۷: ۱۳)
''مولانامودودی لکھتے ہیں… ایسی ہر بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے۔''(الاعتصام ۱۷؍۵۷: ۱۵)
''مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمایا ہے کہ یہ حکم عام ہے جس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد سے ہٹانے والی ہو۔'' (الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۶)
''…حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رقم طراز ہیں:جمہور صحابہ و تابعین اور عام مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے تمام ان چیزوں کے لیے جو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈالے۔''(الاعتصام۱۸؍۵۷: ۱۲)
(اشراق)

اس کے علاوہ مفتی صاحب نےتین اور آیات پیش کیں جس پر مختلف آراء موجود ہیں۔ جن میں سامد کا مطلب بھی غنا بیان کیا جاتا ہے۔ علامہ راغب اصفہانی سامد کے معنیٰ میں "سر اٹھاکر لہو کرنے والا لکھتے ہیں" جبکہ تفسیر ابن کثیر میں اسکے کئی مختلف معنیٰ(غناء کے علاوہ) حضرت ابن عباس اور حضرت عکرمہ سے بیان کئے ہیں۔ اسکے علاوہ حضرت حسن اور حضرت علی کے نزدیک اسکے معنیٰ غافل ہوجانا ہے۔جہاں تک صوتک اور شیطانی آواز کا تعلق ہے اس پر بھی اختلافات موجود ہیں۔ ابن عباس، قتادہ اور جریر اس کے بیان کرتے ہیں " ہر وہ شے جو نافرمانی خدا کی دعوت دے"۔
(اس ساری بحث کی تفصیل جو میں نے حذف کردی ہے آپ "اسلام اور موسیقی از مولانا جعفر پھلواری" میں ص 190*194، کے اردگرد دیکھ سکتے ہیں)

موسیقی اور احادیث: (حرمت کا جائزہ)
میں چونکہ ابھی ایک خاص رخ پر لکھ رہا ہوں اس لئے تمام آحاد یا تمام آیات کا مفصل جائزہ پیش نہیں کر رہا۔ شوقین حضرات امام بن حزم کا رسالہ ، اسلام اور موسیقی از مولانا جعفر پھلواری اور اشراق اور الاعتصام کے درمیان ہونے والی مباحث کو پڑھ سکتے ہیں۔ کبھی وقت ملا تو انشاءاللہ ان کتب اور جدید محقیقین کی تحقیق آپکے سامنے رکھوں گا۔ خیر، ان چار آیات کے علاوہ مفتی صاحب نے چند احادیث بھی پیش کی ہیں۔ آئیے انکا جائزہ لیتے ہیں۔
پہلی حدیث:
میں بانسریاں(آلات موسیقی) توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
میں اس حدیث کا ماخذ ڈھونڈے میں ناکام رہا ہوں لیکن کچھ ایک دو مقالہ جات نظر سے گذرے جن کےمطابق یہ انتہائی ضعیف حدیث ہے۔
دوسری حدیث:
گانا دل میں اسی طرح نفاق پیدا کرتا ہے جس طرح پانی کھیتی اگاتا ہے۔
یہ روایت بھی ضعیف ہے۔ البانی نے سلسلۃ الضعیفہ والموضوعۃ میں اسے ضعیف کہا ہے۔ کسی بھی عام سی عربی سائٹ پر جا کر ان روایات پر جرح دیکھی جاسکتی ہے۔
تیسر ی حدیث:
اس میں جو روایات کا مفہوم مفتی صاحب نےبیان کیا ہےاگر وہ درست روایت بیان کرتے تو زیادہ بہترین تھا۔ کیونکہ وہ روایت اپنے مدعا میں کسی حرمت کی طرف اشارہ کر ہی نہیں رہی، کیونکہ اگر آپ اس سے مطلق حرمت اخذ کرنا چاہتے ہیں تو اسی لسٹ میں ایک شے اللہ کے نبیﷺ نے یہ بھی گنوائی ہے لوگ شرمگاہ کو حلال کرلیں۔ سوال ہے کیا شرمگاہ مطلق حرام ہے؟ بالکل بھی نہیں، بلکہ نکاح کی صورت میں حلت پر تصریح ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے، کہ کسی بھی چیز کی مطلق حرمت بیان کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ یہاں ان کا غلط استعمال (شرمگاہ کی صورت میں زنا) مذکور ہے۔ یہ روایت بخاری کی ہے اور اسکا درجہ حسن ہے شائد، مجھے اب یاد نہیں۔
چوتھی اور پانچویں:
یہ دونوں احادیث اصل میں حلت کی دلالت کی ہیں جن کا رد کرنے کی کوشش کی ہے مفتی صاحب نے لیکن انہوں نے صرف ان دو روایات کا مطالعہ کیا ہے شاید، ابن حزم نے اپنے رسالہ میں حلت سے متعلق نبیﷺ سے روایات بیان کی ہیں جوکہ اس سے زیادہ مختلف ہیں۔ اور مولانا جعفر پھلواری نے کئی اصحاب اور فقہا سے متعلق بحث کردی ہے۔ بحث لمبی ہو رہی ہے ورنہ روایات پیش کرتا اور جاریتان وغیرہ کی بحث کو چھیڑتا۔
جدید دور کے علماء اور موسیقی:
موسیقی سے متعلق اباحت کے قائل علماء نہ صرف شروع سے موجود رہے بلکہ آج کے دور کے چوٹی کے علماء بھی اسکی اباحت کے قائل ہیں۔ صرف ان علماء کا تعارف کروا کر اجازت چاہوں گا۔
شیخ علی جمعہ:
مصر کے بڑے مفتی ہیں۔ الازھر یونیورسٹی میں ہوتے ہیں اور وہاں کے بڑے مفتی ہیں۔
ڈاکٹر یوسف قرضاوی:
علم کی دنیا کا بہت بڑا نام ہیں۔ طالب علم ان سے اچھے سے واقف ہیں۔
الشیخ صالح المغاسی:
مدینہ منورہ میں قباء مسجد کے امام ہیں۔
شیخ الکلبانی:
یہ حرم کے امام ہیں۔
(یاد رہے سماع اور موسیقی کو کچھ حدود و قیود کے ساتھ مباح قرار دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ابن عابدین شامی کے قول سے ظاہر ہے۔ اسلئے اس تحریر سے اپنا کوئی بھی مطلب اخذ نہ کیا جائے۔ کوئی بھی فحش شاعری، شرک یا کسی بھی قسم کی بد اخلاقی دین میں کسی طور جائز نہیں اور اگر یہ شاعری میں ہے تو یہ ایسی چیز موسیقی کی حرمت کا سبب بن سکتی ہے۔)

واللہ عالم

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *