التباسات کی دھند چھٹ رہی ہے۔۔اسلم اعوان

عالمی و داخلی حالات کے تناظر میں بساط سیاست پہ جس سرعت کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں،اس سے پون صدی پہ محیط سیاسی تصورات کا وہ جمود ٹوٹ جائے گا جس نے طویل مدت تک سماج کی مجموعی ذہنی فضا کو اپنی گرفت میں لے رکھا،آج سیاستدانوں،سول سوسائٹی،جوڈیشری،بیوروکریسی اور پولیس فورس سمیت ہر شعبہ زندگی میں جس نوع کی نت نئی سوچیں کروٹیں لیتی ہیں یہ انہی ہمہ گیر تغیرات کا اعجاز ہو گا جو ساون کے بادلوں کی مانند ہمارے سروں پہ منڈلا رہے ہیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ چند جوہری تبدیلیوں کے لئے ہمارا معاشرہ اندر سے تیار ہو چکا ہے اور اسے اپنے مضطرب داخلی احساسات کے اظہار کے لئے خارج سے جس اپیل کی ضرورت تھی،وہ پکار بھی اب فضاوں میں گونجتی سنائی دیتی ہے،گویا حیات اجتماعی اب ایک نئے لباسِ مجاز میں جلوافروز ہونے کو بیتاب ہے۔

عام خیال یہی تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی طویل اور تھکا دینے والا عدالتی عمل جسٹس قاضی فائز عیسی کی برطرفی پہ منتج ہو گا لیکن دس رکنی بینچ کے نظرثانی درخواستوں پہ فیصلہ نے نظام عدل کی نئی جہتوں کی نشاندہی کرکے سوچ کے روایتی دھارے کو بدل ڈالا،جس سے یہ امید بھی پیدا ہو گئی کہ اب ہماری تخلیقی صلاحیتیں ایک دوسرے کو ردّ کرنے کی بجائے ایک ڈگر پر گامزن ہو جائیں گی،اسی لئے شاید سپریم کورٹ کا یہی فیصلہ ہائی کورٹس سمیت ماتحت عدالتوں کو طاقتوروں سے باز پرس کی جرات عطا کرنے کے علاوہ سابق ڈی جی ایف آئی اے،بشیر میمن،کے ان حیرت انگیز انکشافات کا محرک بھی بنا ہو گا،جنہوں نے اپنے تازہ فرمودات سے ایوان اقتدار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔مسٹر میمن پہلے بھی حکومت کے خلاف اسی طرح کی لب کشائی کرتے رہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلہ سے پیدا ہونے والی مخصوص فضا میں ان کے الزامات کے مفاہیم کچھ زیادہ سنگین دیکھائی دینے لگے ہیں،بہت جلد ہمیں بشیرمیمن جیسی مزید آوازیں بھی سنائی دیں گی۔سیدحضرت عیسٰی علیہ سلام نے فرمایا تھا”اگر تم چپ رہے تو پتھر چِِلّا اٹھیں گے“ بلاشبہ اس عمیق اضطراب کی کیفیت میں مبتلا سماج کو زیادہ دیر تک خاموش رکھنا ممکن نہیں ہو گا،سوشل میڈیا پہ جن تباہ کن رجحان کو پذیرائی مل رہی ہے اگر اُنہیں بروقت مینج کرنے کی فکر نہ کی گئی ایسی بیباک لہریں ریاست کے مجموعی ڈھانچہ کو گزند پہنچا سکتی ہیں۔

tripako tours pakistan

اور امر واقعہ بھی یہی ہے کہ اس کایا کلپ میں سوشل میڈیا کی وساطت سے تیزی سے پروآن چڑھتی اُس رائے عامہ کا کردار نہایت اہم ہے،جس نے ہمہ وقت ریاستی مقتدرہ کی سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھی،دوسرے وکلاءکی فعال تنظیموں نے بینچ کو قانونی معاونت کے علاوہ وسیع اخلاقی حمایت دیکر خوف کے آسیب سے نجات پانے اور مصلحت کی زنجیریں توڑنے میں مدد فراہم کی۔لاریب،اگر نظام عدل اپنے بنیادی ڈھانچہ کے اندر توازن پیدا کر لے تو تقسیم اختیارات کا آئینی فارمولہ جلد موثر ہو جائے گا لیکن اس خواب کی تعبیر اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی جب تک ریاستی اداروں اور قومی سیاست میں اخلاقی قوت کے حامل ایسے کردار نمایاں نہیں ہو جاتے جنہیں اختیارات،مرعات اور سہولیات کھو جانے کی کوئی فکر دامن گیر نہ ہو۔بدقسمتی سے ہم نے جن لوگوں کے گرد مقبولیت کا ہالہ کھینچا ان کی ممتاز ترین صفت بزدلی اور کم ہمتی تھی،آج بھی ہمارے اہم ترین لوگ افلاس کو اپنی عظمت کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں لیکن ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ معاشرہ نے ایسے لوگوں کی معذرتی تاویلیں بخوشی قبول کر لیں۔افسوس کہ کرپشن نے لوگوں کی بصیرت کو کند کر دیا،اگر انہیں اوپر کی کمائی نہ ملے تو عمل انہضام بگڑ جاتا ہے۔

زندگی میں تبدیلیاں ارادی نہیں بلکہ اچانک آتی ہیں چنانچہ اس امر میں اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ ہمارے سسٹم میں پائے جانے والے جمود کو توڑنے میں عمران خان کی 14 اگست سنہ 2014 میں شروع کی جانے والی اُس پُرجوش تحریک نے اساسی کردار ادا کیا جس کے ہنگامہ خیز لانگ مارچ اور دھرنوں کے تسلسل نے ایسی جاں گسل کشمکش کو جنم دیا،جس کی بپھری ہوئی لہریں ابھی تک سیاسی عمل کو وقف اضطراب رکھے ہوئے ہیں۔تحریک انصاف ہی سب سے پہلے نظام عدل میں اصلاحات کا علم لیکر اٹھی تھی،اس لئے لگتا یہی ہے کہ جس جدلیات کی ابتداءعمران خان کی سیاسی فعالیت ہوئی تھی اسی کی تکمیل بھی خان صاحب کے ہاتھوں ہو جائے گی۔پی ٹی آئی کی برپا کردہ کشمکش ضدین کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی سیاسی بدنظمی اور فکری انتشار نے ہر ادارے کی بقاءکو خطرات سے دوچار کر دیا چنانچہ ریاستی اداروں کو اپنی بقاءاور دائرہ اختیار کے تحفظ کی خاطر مجبوراً درست راہ عمل کا انتخاب کرنا پڑے گا کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اب شاید وہی فرد اور ادارہ دوام پائے گا جو آئین و قانون کی چار دیواری کے اندر پناہ گزیں رہ سکتا ہے،حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ آئینی دائرہ کار سے باہر نکل کے کھیلنے والوں کے لئے دن بدن زمین تنگ ہوتی جائے گی۔

بہرحال،قاضی فائز عیسیٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے اس لئے اس کے عواقب کا احاطہ کرنا تو ابھی ممکن نہیں لیکن ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیرمیمن کے تازہ انکشافات ہوا کا رخ بتانے کے لئے کافی ہیں۔مسٹر میمن کے انکشافات سے قبل قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر ریفرنس اور ایف بی آر کے ذریعے سپریم کورٹ کے فاضل جج کی بیوی،بچوں کے آثاثہ جات کی چھان بین کوکنایتاً مقتدر قوتوں کی طرف منسوب کیا جا رہا تھا لیکن دس رکنی بینچ کے نظرثانی درخواستوں پہ فیصلہ میں ججزکی نظری تقسیم کے علاوہ بشیر میمن کے انکشافات نے فائز عیسی کے خلاف مبینہ تادیبی کاروائی کا سارا وبال وزیراعظم ہاوس کی طرف منتقل کر دیا اور اب وفاقی حکومت کے ماتحت اداروں کی طرف سے بشیر میمن کی گھی ملز پہ چھاپہ اور خاندانی زرعی اراضی کی چھان بین جسی اجلانہ کاروائیوں نے اِسی تاثر پہ مہر تصدیق ثبت کر دی کہ اس قضیہ کی محرک اصلی وفاقی حکومت تھی،گورنمنٹ اگر خاموش رہتی تو پھر بھی معاملہ شک میں رہتا لیکن اس کاروائی کے بعد حقیقت کھل کے سامنے آ گئی،اس لئے اب شاید سپریم کورٹ کے فاضل جج کے خلاف ناکام مہم جوئی کے سارے مضمرات حکمراں جماعت کے وزراءاور مشیروں کو بُھوگنا پڑیں گے۔

اس پوری صورت حال کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ریاستی مقتدرہ نے اپوزیشن کو ٹریپ کرنے کے لئے جتنے دام بچھائے وہ سب رائیگاں چلے گئے،ابتداءمیں پیپلزپارٹی کے ذریعے پی ڈی ایم کی جماعتوں کو عدم اعتماد کی تحریکوں جیسے کارِِ بیکار میں الجھانے کی کوشش کی گئی جس سے گورنمنٹ نے کچھ وقت حاصل کر لیا۔پھر حکومت نے ازخود تحریک لبیک کے ساتھ مبارزت کا میدان سجاکر نہایت حساس مذہبی تنازعہ میں اپوزیشن جماعتوں خاصکر نواز لیگ کو کھینچنے کے علاوہ حکومت مخالف جماعتوں کو عالمی برادری کے خلاف صف آراءکرنے کی منصوبہ بندی کی لیکن یہ سکیم بھی الٹا حکومت کے گلے پڑ گئی۔اسی طرح جہانگیر ترین کے حامی ممبران اسمبلی کو کھڑا کر کے اپوزیشن کو پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک لانے کی بالواسطہ ترغیب دی گئی لیکن یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا۔حکومت جس وقت ٹریپ کر کے حزب اختلاف کی لیڈرشپ کی ساکھ کو نقصان پہچانے کی کاوش میں مصروف تھی،انہی لمحات میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی کمر توڑمہنگائی،بے روزگاری اور گورننس کی خامیوں کو نمایاں کر کے اپنی حکومت مخالف تحریک کو موثر بنانے کی خاطر رائے عامہ بنانے کی کوشش جاری رکھی،اس میں کوئی شبہ باقی نہیں کہ تمام تر رکاوٹوں اور دباو¿ کے باوجود اپوزیشن نے اپنی عوامی جدوجہد کے لئے فضا سازگار بنا لی،اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے عید کے فوری بعد جس وسیع پیمانے پہ رابطہ عوام مہم لانچ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے وہ اب نتیجہ خیز بھی ہو سکتی ہے،پی ڈی ایم کے حالیہ سربراہی اجلاسوں میں سیاسی مہمات کی جزیات تک متعین کر لی گئیں ہیں۔اگرچہ پیپلزپارٹی کی قیادت پی ڈی ایم کو دوبارہ انگیج کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہے لیکن جہاں دیدہ سیاستدانوں کا یہ گروہ اب پیپلزپارٹی کو اپنے کاروان جمہوریت کا حصہ بنانے کی غلطی نہیں کرے گا۔

Advertisements
merkit.pk

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پیپلزپارٹی پاپولر ووٹ کے ذریعے بلاول بھٹوزرداری کو وزیراعظم بنوانے کی اہلیت نہیں رکھتی تاہم انہیں نواز لیگ اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج میں اپنے لئے امید کی کرنیں دیکھائی دیتی ہیں،اس لئے سابق صدر آصف علی زرداری یہ تو چاہتے ہیں کہ نوازلیگ اور جے یو آئی مقتدرہ سے لڑتی رہیں لیکن وہ خود طاقت کے مراکز سے ایک خاص لیول کا تعلق بدستور استوار رکھنا چاہتے ہیں،پچھلے تین سالوں میں انہوں نے زیادہ بہتر پرفارم کرنے کا تاثر پیدا کر کے اسٹبلشمنٹ کو یہ باور کرانے کی کامیاب کوشش کی کہ وہ نہ صرف پی ٹی آئی سے کہیں زیادہ بہتر ڈلیوری دے سکتے ہیں بلکہ انکے وسیع تر مقاصد کی تکمیل کی پوری اہلیت بھی رکھتے ہیں،راز ہائے نہاں خانہ سے آگاہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مقتدر حلقے عمران خان سے زیادہ اب آصف علی زرداری پہ اعتماد کرنے لگے ہیں، جسکی واضح دلیل کراچی کے حلقہ این اے249 کے ضمنی الیکشن میں پی پی پی کی جیت کو قرار دیا جا رہا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply