خطوط اور مجالسِ سید مودودی۔۔خورشید ندیم

تاریخ ساز شخصیات سے منسوب ہر شے اپنی جگہ ایک تاریخ ہوتی ہے۔ سماج زندہ ہوتو ان اشیا کوورثہ قراردیتا اوران کو محفوظ رکھتا ہے۔
پاکستان کی نظریاتی تشکیل کا ایک مفہوم ہم نے یہ سمجھاکہ اپنی تاریخ اورورثے کو مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان تک محدود کر دیاجائے۔ جو اس سے باہر رہا، وہ نہ تو ہماری تاریخ ہے اور نہ ہمارا ورثہ۔ اگر پاکستان مسلم تہذیب کے تحفظ کیلئے وجود میں آرہا تھا تو لازم تھاکہ ماضی و حال سے ماورا، اس تہذیب سے وابستہ ہر شخصیت اورمظہر کی حفاظت ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتی۔ پھر نظری و مذہبی اعتبار سے سرسید ہی نہیں، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا محمود حسن، مولانا احمد رضا خان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا مودودی یہ سب ہمارا ورثہ قرار پاتے۔
یہی نہیں، ادب، فنون اور دیگر حوالوں سے مسلمانوں نے تہذیب کوجو کچھ دیا، اس کی حفاظت کی جاتی۔ اس کیلئے ادارے بنتے۔ ریاست نے مگرصرف سرسید، قائد اعظم اور علامہ اقبال کو اپنا سمجھا۔ ہمیں ان شخصیات سے منسوب چند ادارے یا عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔ ان سے حقیقی وابستگی کا ہم نے کہاں تک حق ادا کیا، یہ الگ موضوع ہے مگر کم ازکم انہیں نصاب اور ثقافت کو حصہ تو سمجھا۔ ان کے سوا جو کچھ تھا، اس نے اعلانِ برات کیا، جیسے ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
یہ المیہ میرے ذہن میں ایک بار پھر تازہ ہوا جب مجھے حال ہی میں مولانا مودودی کے علمی ورثے پر مرتب ہونے والی دو کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ پہلی کتاب ”مجالس سید مودودی‘‘، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی اوردوسری ”سید مودودی کے خطوط‘‘، ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے مرتب کی ہے۔ ان کتابوں کے موضوعات، ان کے عناوین ہی سے واضح ہیں۔
مولانا مودودی کا برسوں یہ معمول رہاکہ وہ عصر سے اذانِ مغرب تک، اپنے گھر کے لان میں مجلس آرا ہوتے تھے۔ اس بے تکلف نشست میں ہر کوئی شریک ہو سکتا تھا۔ شرکا کو یہ آزادی بھی میسر تھی کہ وہ کسی موضوع پرسوال کر سکتے تھے۔ ماہنامہ ‘آئین‘ کے مدیر مظفر بیگ صاحب کو یہ خیال سوجھاکہ ان مجالس کی رودادوں کو قلم بند اور پھر شائع کیا جائے کہ علم کی یہ روشنی اس لان تک محدود نہ رہے۔ چراغ برداری کی خدمت دوافراد نے اپنے ذمہ لی۔ مظفر بیگ مرحوم اور ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی۔
یہ رودادیں ‘5اے ذیلدار پارک‘ کے عنوان سے ‘آئین‘ میں شائع ہونے لگیں اور حسبِ توقع مقبول ہوئیں۔ بعد میں انہیں اسی عنوان سے کتابی صورت میں مرتب کرکے دو حصوں میں چھاپ دیا گیا۔ ان مجالس کا جو حصہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب نے مرتب کیاتھا، اسے چند اضافوں کے ساتھ ‘مجالسِ مودودی‘ کے عنوان سے ایک بار پھر شائع کردیا گیا ہے جس سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
اس مجموعے میں 1965ء تا 1968ء منعقد ہونے والی مجالس کی رودادیں شامل ہیں۔ نئی اشاعت میں ‘جنازے کے آداب‘ پر مولانا کے ایک درسِ حدیث (1966ء، مبارک مسجد، لاہور) کے علاوہ ‘معاشرہ، قانون اور وکلا‘ ،’پاکستان، جنگِ ستمبر(1965) اور مسلم دنیا‘ کے زیرِ عنوان مولانا کی دوتقاریر بھی شامل ہیں۔ ‘ملفوظات‘ کے باب میں مولاناکی بعض ایسی گفتگوئیں بھی نقل کی گئی ہیں جو پہلی اشاعت میں شامل نہیں تھیں۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب نے دیباچے میں لکھا ہے کہ انہوں نے ان مجالس کی رودادوں کو زیادہ تر حافظے کی بنیاد پر مرتب کیا ہے یاان کے الفاظ میں ‘چھوٹی سی پنسل کی مدد سے کاغذ کے کسی پرزے پر چند بنیادی الفاظ اور اشارات رقم کرلیتا اور بعد میں ان کی مدد سے مفصل بات چیت لکھ لیتا‘۔ کسی کی بات کواس طرح روایت کرنا زیادہ سے زیادہ ظن کا فائدہ دیتا ہے‘ تاہم ہاشمی صاحب نے دیباچے ہی میں بتایا کہ جب یہ رودادیں ‘آئین‘ میں شائع ہوئیں تو ان کی صحت پر مولانا نے اطمینان کا اظہار کیا۔ اس تصدیق سے ان روایات کی حیثیت مصدقہ ہوجاتی ہے۔
مولانا کی مجالس کے دونوں حصے بہت دلچسپ اورعلمی نکات کا قابلِ ذکر ذخیرہ ہیں۔ اس میں موضوعات کا تنوع ہے۔ سنت الٰہی کے بیان سے امام مہدی کی روایات تک۔ عالمِ اسلام سے پاکستان کے سیاسی مسائل تک۔ زبان و ادب سے تاریخ تک، بے شمار موضوعات پرمولانا نے اپنے خیالات کا اظہارکیا ہے۔ جو لوگ مولانا مودودی کی فکرسے واقف ہونا چاہتے ہیں، انہیں یہ دونوں حصے ضرورپڑھنے چاہئیں۔
بحیثیت محقق ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں۔ علامہ اقبال اورمولانا مودودی کی حیات و افکار، ڈاکٹر صاحب کی تحقیق کے خصوصی مضامین ہیں۔ ‘علامہ اقبال: شخصیت اور فکروفن‘ میری نظر میں اپنے موضوع پر سب سے سہل اور جامع کتاب ہے۔ ڈاکٹر صاحب تحقیق کی سائنس سے اچھی طرح واقف ہیں اور اس کا بھرپور اطلاق ان کی کتابوں میں دکھائی دیتا ہے۔ ‘سید مودودی کے خطوط‘ بھی وراثتِ مودودی میں ایک اہم اضافہ ہے۔ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے بہت محبت سے مولانا کے 96 خطوط کو جمع کیا۔ ان میں سے چند مولانا کی ہدایت پران کے معاونین نے لکھے۔ باقی سب مولانا کے اپنے قلم سے نکلے۔ خطوط بھی کسی فرد کی شخصیت اورافکار کی تفہیم میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی شخصیات کے خطوط کوبھی محفوظ کیا جاتا ہے اور محققین ان کی تلاش میں عمر کھپا دیتے ہیں۔
مولانا مودودی کے خطوط کے ایک سے زیادہ مجموعے اس سے پہلے بھی شائع ہو چکے۔ اس مجموعے میں زیادہ ترخطوط پروفیسر خورشید احمد کے نام ہیں۔ ہمارے محترم انورعباسی صاحب کے نام بھی دلچسپ خطوط ہیں۔ مجھے مولانا کی شخصیت کا ایک خاص رنگ ان خطوط میں نظر آیا یاپھر مولانا وحیدالدین کے نام خطوط میں۔ ‘رسائل و مسائل‘ میں بھی بعض سوالات کے جواب میں مولانا کا یہ رنگ دکھائی دیتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر صاحبِ علم ایک صاحبِ دل بھی ہوتا ہے۔ اس کے بھی جذبات ہوتے ہیں۔ ان بڑی شخصیات کی تفہیم میں ان کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ عطیہ فیضی کے نام علامہ اقبال کا ایک خط بھی اس بات کو واضح کرتا ہے۔
اس مجموعے میں مولانا کا ایک خط ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم کے نام بھی ہے۔ اپنے خط میں ڈاکٹر صاحب نے مولانا کے قلم سے ہونے والی ایک تاریخی فروگزاشت کی طرف توجہ دلائی۔ مولانا نے جواباً اسے’زلتِ قلم‘ قرار دیتے ہوئے، نہ صرف اس غلطی کا اعتراف کیا بلکہ توجہ دلانے پر ڈاکٹر صاحب کا شکریہ بھی ادا کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ لوگ محض علم ہی کی بنیاد پربڑے نہیں ہوتے۔ ان کی بڑائی میں ان کے ظرف اور رویے کا بھی اہم کردار ہوتاہے۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے مولاناکی گفتگو کو حرفِ مطبوعہ میں ڈھال کراور ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے مولانا کی خطوط کو سامنے لاکر ہمارے علمی ورثے کو توانا بنایا۔ گزشتہ صدی میں برصغیر کے مسلم مفکرین نے مسلمانوں کی فکری ساخت اورعلمی روایت کی تشکیل میں جوکردار اداکیا ہے، پورے عالمِ اسلام میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں۔ مولانا مودودی ان میں سے ایک تھے۔ ان سے منسوب اشیا کی حفاظت ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
کسی قوم کی علمی روایت میں مولانا مودودی، ڈاکٹر فضل الرحمن، مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا آزاد جیسے لوگوں کا ہونا اس کیلئے فخر کی بات ہے۔ ہم نے اپنی تاریخ اور روایت کو محدود کرکے، اپنے قیام کے مقاصد سے انحراف کیا۔ ان کتابوں کودیکھ کر مجھے خیال ہواکہ کاش یہ کام کسی ریاستی ادارے کی طرف سے ہوتا۔

Advertisements
merkit.pk

بشکریہ روزنامہ دنیا

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply