امتحان کا موسم۔۔آغر ندیم سحر

میں گزشتہ کئی دن سے ایک یتیم بچے کی فیس اکٹھی کرنے میں مصروف ہوں،وہ بچہ ایک نجی یونیورسٹی میں بی ایس کا طالب علم ہے،چھ بہنوں کا واحد سہارا اور انتہائی ذہین اور قابل سٹوڈنٹ۔میں گزشتہ پانچ برس سے اسے جانتا ہوں‘وہ جب سکول میں تھا تو پہلے ٹائم سکول اور شام میں ملازمت کرتا تھا۔اب یونیورسٹی میں ہے تو سیکنڈ ٹائم کلاسز اور پہلے ٹائم ملازمت کرتا ہے۔لاک ڈاؤن نے جہاں بڑے بڑے کاروبار تباہ کر دیے ‘وہیں پرائیویٹ سیکٹر انتہائی متاثر ہوا۔

ایک نجی ریسرچ ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ساٹھ فیصد سے زائد لوگ پرائیویٹ ملازمت کرتے ہیں‘لہٰذا جب ایک سال قبل لاک ڈاؤن شروع ہوا‘یہ پرائیویٹ طبقہ شدید متاثر ہوا۔ایک سال گزر گیا‘پرائیویٹ اور دیہاڑی دار طبقہ دوبارہ سے بہتر پوزیشن میں نہ آ سکا۔بڑی فیکٹریوں اور تعلیمی اداروں کے مالکان نے اپنے ملازمین کو یا تو فارغ کر دیا‘یا تنخواہوں میں کٹوتی شروع کر دی۔یوں میرا یہ ذہین بچہ بھی متاثر ہوا۔آج کل یہ ملازمت کی تلاش میں ہے‘مجھ سے فیس کا تقاضا کیا‘فیس زیادہ تھی لہٰذا میں نے دوستوں کی مدد لینا شروع کر دی۔کئی دوستوں نے حد سے زیادہ محبت سے نوازا اور میری توقع سے بڑھ کر اس یتیم بچے کی فیس کے لیے اپنا ڈونیشن دیا جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی نظر آئے جو مکمل فیس بھی ادا کر سکتے تھے مگر ہمیشہ کی طرح وہ دولت پر سانپ بن کر بیٹھ گئے۔مجھے خوشی ہے میں نے رمضان کے مہینے میں ایک اہم فریضہ سرانجام دیا‘ایک طالب علم کو سپورٹ کیا۔

tripako tours pakistan

میں نے کہیں ایک جملہ پڑھا تھا کہ”مسجد میں سیمنٹ کی بوری لے کے دینے سے زیادہ افضل عمل کسی ایسے ہمسائے کے گھر میں آٹے کا تھیلا پہنچا نا ہے جو کئی دن سے بھوکے ہیں“،کیونکہ خدا کے نزدیک حقوق العباد کی معافی نہیں ہے۔اگرچہ یہ دونوں عمل اپنی جگہ پر اہم ہیں۔

میرا مقصد اس بات کی وضاحت ہے کہ ہمیں اللہ کے بندوں سے پیار کرنا ہے تاکہ اللہ ہم سے پیار کر سکے۔
میرے دوست ہیں پروفیسر ڈاکٹر شرافت حسین‘آپ خواتین یونیورسٹی باغ آزاد جموں کشمیر میں شعبہ ریاضی کے ہیڈ ہیں۔میں گزشتہ برس اگست میں جب آزاد جموں کشمیر کے دورے پر گیا تو شرافت حسین میرے میزبان تھے۔یونیورسٹی کے سیمینار میں شرکت کے بعد مجھے وہ کشمیر کی سیر کروانے لے گئے۔مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ شرافت حسین پچھلے کئی برس سے یتیم اور مسکین بچوں کے لیے کام کر رہے ہیں‘یہ نہ صرف بچوں کی فیسوں کا بندوبست کرتے ہیں بلکہ ہر دو ماہ بعد ایک یتیم بچی کا جہیز بھی بنواتے ہیں اور اس کے مکمل اخراجات خود یا قریبی دوستوں کے ذمے لگاتے ہیں۔

مجھے کہنے لگے کہ ہر ماہ تین بچوں کی فیس اور ہر دو ماہ بعد ایک بیٹی کا جہیز میں ڈونیشن سے نکالتا ہوں۔میں یہ بھی جان کر حیران ہوا کہ اس کی کسی طرح کی کوئی این جی او‘فاؤنڈیشن یا ویلفیئر ٹرسٹ نہیں ہے‘وہ یہ سارا کام خاموشی سے کر رہا ہے جو اس کا اور اس کے پروردگار کا معاملہ ہے۔

اعتزاز حسن میرا گیارہویں کلاس کا طالب علم ہے‘نیاز فاؤنڈیشن کے نام سے چھوٹی سی آرگنائزیشن بنائی اور ہر ماہ اپنے کالج کے کسی بچے کی فیس جو زیادہ بھی ہو تو تین یا چار ہزار ہوتی ہے‘ڈونیشن سے ادا کرتا ہے۔کالج کے اساتذہ اور بچوں سے سو سو کر کے اکٹھا کرتا ہے اور یوں ہر ماہ ایک بچے کی فیس دیتا ہے۔گزشتہ ہفتے اس نے مجھے بتایا کہ اب تک درجن سے زائد بچوں کی فیس ادا کر چکا لیکن کوئی فوٹو سیشن‘کوئی میڈیا کوریج نہیں لی۔

عالیہ کوثر نے گزشتہ برس سرگودھا یونیورسٹی کے ایک سب کیمپس سے بی ایس انگریزی کیا‘سیکنڈ لاسٹ سمیسٹر میں اس کے والد کا انتقال ہو گیا لہٰذا اس نے آخری دو سمسٹر کی فیس ڈونیشن سے ادا کی۔مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنے ایک کالم میں اس کی فیس کا ذکر کیا تھا اور یوکے سے ہمارے دوست شیراز احمد(جو وہاں زبان کے پروفیسر ہیں)نے اس کی مکمل فیس ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی اور یوں میرے کالم کے توسط سے اس کا بی ایس مکمل ہو گیا۔مجھے ایک دن اس بچی کا فون آیا‘کہنے لگی سر اپ نے میرے دو سمسٹر کی فیس کا ارینج کروایا تھا‘اللہ کا شکر ہے میں نے ایک بچی کو مکمل بی ایس کروانے کی ذمہ داری لے لی‘میں چاہتی ہوں کہ میری طرح وہ بھی ڈگری مکمل کرے تاکہ کسی اور کا سہارا بن سکے۔میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل پڑے‘اللہ کے کیسے کیسے نیک لوگ موجود ہیں۔

میرے اس کالم کا مقصد قطعاً کسی کی تشہیر   نہیں بلکہ کالم کے توسط سے یہ گزارش ہے کہ خدارا دوسروں کا سہارا بنیں تاکہ کل آپ کا یا آپ کے بچوں کا کوئی سہارا بن سکے۔میں ذاتی تجربہ شیئر کیے دیتاہوں کہ میٹرک سے لے کر ایم اے تک میری تعلیم ڈونیشن سے ہوئی‘حالات سازگار نہیں تھے‘والد صاحب کی وفات نے مزید پریشانیوں سے دوچار کر دیا‘مستقبل بالکل تاریک ہو گیا تو ایک نیک بندہ جس نے ہاتھ پکڑا اور یوں پی ایچ ڈی تک پہنچ گیا۔مجھے اس وقت افسوس ہوتا ہے جب ہم کسی ایسے بندے سے ڈونیشن مانگیں جو دے بھی سکتا ہو مگر انکار کر دے یا جھوٹ بول دے،کیا یہ لوگ خدا کو جان نہیں دیں گے۔میں پورے دعوے سے کہتا ہوں کہ خیرات و صدقات دیتے وقت تشہیر یا فوٹو سیشن لازمی نہیں ہے‘بس خدا کو بتا دیا کریں کہ ہم نے یہ عمل کر دیا‘اس کا بدلہ و ہی دے گا۔رمضان کے مہینے میں ستر گنا ثواب ہے لہٰذا اس مہینے میں تو ہم کوشش کرتے ہی ہیں مگر غریبوں‘مسکینوں اور یتیموں کو ہماری تب تک ضرورت ہے جب تک وہ زندگی میں کسی مقام پر نہیں پہنچ جاتے۔پاکستان میں درجنوں ایسی فاؤنڈیشنز کام کر رہی ہیں‘جن کو دیکھ کر واقعی رشک آتا ہے۔وہ اخوت‘الخدمت‘سہارا‘کاروان علم ہو یاکوئی اور ادارہ‘مجھے ہر اس ادارے سے محبت ہے جس نے یتیم بچوں کے لیے کام کیا‘جس نے ان بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جن کا کوئی سہارا نہیں بن رہا تھا۔میں نے کالم کے شروع میں جس بچے کی فیس کا ذکر کیا‘اگر آپ اس بچے کی فیس میں اپنا حصہ ڈالنے چاہتے ہیں تو  مکالمہ ویب کی انتظامیہ کے ذریعے مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔

Advertisements
merkit.pk

اپنے ارد گرد نظر رکھیں اور ایک دوسرے کا سہارا بنیں‘لاک ڈاؤن نے کمزور طبقے کی کمر توڑ دی ہے‘اگر آپ صاحبِ حیثیت ہیں تو یہ آپ کا امتحان ہے‘اس امتحان میں کامیابی کو اپنا مقدر بنائیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں