طالبان مذاکرات میں جنگ ہار دیں گے؟۔۔اسلم اعوان

افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کے بعد بھی قیامِ امن کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ عالمی طاقتیں جاری جنگ کو سول وار میں ڈھالنے کی خواہشمند ہیں بلکہ اِس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا تاریخ کی اِس طویل ترین جنگ کے حتمی مضمرات کو پاکستان کا مقدر بنانا چاہتی ہے؛ چنانچہ اس وقت جن تنازعات نے ہماری ریاستی مقتدرہ کو گھیر رکھا ہے اس کے سر رشتے افغانستان کے وار تھیٹر سے جڑے ہوئے ہیں، جہاں فاتح کی حیثیت سے طالبان اپنی سیاسی بالادستی چاہتے ہیں لیکن امریکا وہاں ایسی مخلوط حکومت کا متمنی ہے جس میں اشرف غنی کے علاوہ تمام نسلی گروپوں کو یکساں نمائندگی حاصل ہو۔ یہ ایسی آرزو ہے جو افغانستان کو مزید برباد کر ڈالے گی۔میری نظر میں افغان تنازع کا قابلِ عمل حل یہی تھا کہ اقتدار طالبان کے حوالے کر دیا جاتا اوروہ خود مقامی سیاسی گروپوں کی تلویث سے پُرامن معاشرے کے قیام کو ممکن بنا لیتے مگر دنیا طالبان کو عالمی دھارے میں شامل کرنے کے بجائے پھر تنہائی کی جانب دھکیلنے پہ مصر نظر آتی ہے۔ ہرچند کہ افغانستان میں قیامِ امن کی حتمی ذمہ داری امریکا کی تھی جو بیس سالوں تک آتش و آہن کی بارش جاری رکھنے کے باوجود اس مملکت کو مسخر نہ کر سکا لیکن مہذب دنیا اب اپنی فوجی اور نظریاتی شکست کا بدلہ یہاں کبھی نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی کے ذریعے چکانا چاہتا ہے۔ اب جب کرۂ ارض پہ حکمرانی کا دعویٰ رکھنے والے رعونت شعار امریکی کہتے ہیں کہ افغانستان میں قیامِ امن ان افغانوں گروپوں پہ منحصر ہے جو ایک دوسرے پہ اعتماد نہیں کرتے تو ان الفاظ میں چھپی خود غرضی اور نیت کا فتور صاف نظر آتا ہے۔ اس لئے خدشہ ہے کہ ماسکو مذاکرات کی طرح استنبول کی نو روزہ نشست بھی بیکار ثابت ہو گی کیونکہ طالبان کسی صورت اپنی فتح پہ سمجھوتا نہیں کریں گے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ امریکا میدان میں ہاری ہوئی جنگ کو مذاکرات کی میز پہ جیتنے کی خاطر افغان تنازع کے حل کی ساری ذمہ داری اُسی طرح پاکستان کے کندھوں پہ ڈالنا چاہتا ہے، جس طرح اکتوبر2001ء میں یہاں آمریت کی مجبوریوں کا استحصال کر کے مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سارا وبال پاکستان کے سر منڈھا گیا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج ایک بار پھر عالمی طاقتیں پاکستان میں حالات خراب کر کے اپنی مرضی کی ایک کمزور حکومت کی خواہاں ہیں تاکہ نئے حکمرانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کے افغانستان میں ہاری ہوئی جنگ کو فتح میں بدلنے کے لئے پاکستان کو بروئے کار لایا جائے۔ ہمیں اس وہمِ باطل سے نکل آنا چاہیے کہ اگر امریکا افغانستان سے نکلا تو یہاں خانہ جنگی بھڑک اٹھے گی۔ افغانستان میں موجودہ بدترین خانہ جنگی کا محرک خود امریکی جارحیت ہے، اس لئے غیر ملکی فورسز کے انخلا سے کوئی قیامت نہیں آئے گی بلکہ امریکا کے نکل جانے کے بعد یہاں ازخود زندگی معمول پہ آنا شروع ہو جائے گی لیکن امریکی انٹیلی جنس ادارے چونکہ یہاں کسی طویل خانہ جنگی کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں اس لئے وہ خوف کی فضا بنا کر اسی تصور کو پختہ کرنا چاہتے ہیں کہ امریکا نے اگر رختِ سفر باندھا تو افغانستان برباد ہو جائے گا۔ امریکی اشرافیہ ایران اور بھارت کو ڈرانے کے علاوہ افغانستان کے وار تھیٹر کو فعال رکھنے کی خاطر کئی خلیجی ریاستوں کو بھی یہاں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے۔ پاکستان میں دفاعی حکمت عملی کا محور داخلی سیاسی استحکام ہونا چاہیے، دوسرا پاکستان کو اپنی موثرسفارت کاری کے ذریعے بھارت، ایران اور عرب ممالک کو امریکی مقتدرہ کے پیدا کردہ ”سول وار‘‘ کے مصنوعی تاثر سے نکالنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ امید ہے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا حالیہ دورۂ ایران و عرب امارات اسی تناظر میں ترتیب دیا گیا ہو گا۔ طالبان نے یکم مئی تک امریکی فورسز نکالنے کے عہد کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں استنبول مذاکرات‘ جس سے سفارتکاروں کو امید تھی کہ وہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین سیاسی تصفیے کی راہ میں نئی رفتار پیدا کریں گے‘ میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر بارک اوباما نے افغان جنگ سے دامن چھڑانے کے لئے پہلی بار 2011ء اور 2013ء کے درمیان طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ انگیج کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ جون 2013ء میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کو سابق صدرکرزئی نے ”اسلامی امارت اسلامیہ‘‘ کے پرچم تلے تسلیم کرنے سے انکارکردیا تھا، تین سال بعد2016 ء میں پاکستان کی سربراہی میں امریکا اور چین کی شراکت سے دوبارہ فریقین کو بٹھایا گیا مگر کامیابی نہ ملی۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد امن مذاکرات دوبارہ شروع کرائے جو 29 فروری 2020ء کو دوحہ امن معاہدے پر منتج ہوئے، جس میں امریکہ نے امارات اسلامی کو تسلیم کرنے کے علاوہ یہاں سے فورسز نکالنے کا ٹائم فریم بھی دیا۔ طالبان نے دوحہ امن معاہدے کے فریم ورک کے تحت غیر ملکی افواج کی واپسی کی شرط پر تشدد میں کمی، انٹرا افغان مذاکرات اور انسدادِ دہشت گردی کی ضمانت دی؛ تاہم امریکی مقتدرہ کے ارادے معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رہے۔ پہلے تو امریکا خود افغان حکومت، سیاست دانوں، سپاہیوں اور رائے عامہ کے سرکردہ رہنماؤں کے مابین مکمل اتفاقِ رائے قائم کرنے میں دشواری محسوس کرتا رہا۔ دوسری طرف طالبان نے تشدد کم کرنے کے وعدے کو امریکی فورسز تک محدود رکھا۔ در حقیقت طالبان کا سرکاری موقف یہی تھا کہ سٹریٹیجک اور سکیورٹی تعاون کا عہد و پیماں صرف امریکا سے ہوا تھا۔ اسی تناظر میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کا آغاز ہوا لیکن اس دوران رونما ہونے والا ممکنہ تنازع غیر ملکی افواج کے انخلا کی تاریخ میں یکطرفہ توسیع بنا، اس لئے بظاہر یہی لگتا ہے کہ دوحہ امن معاہدہ کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکل پائے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اگر افغانستان چھوڑ دے تو انٹرا افغان مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں؛ تاہم امریکا کے مکمل انخلا کے امکانات فی الحال بعید ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوج نکالنے کے توسیع شدہ اعلان سے قبل گھنٹہ افغان صدر غنی سے مشاورت کی لیکن بائیڈن کے فیصلے نے طالبان کو مایوس کیا۔ انہوں نے انخلا کے فیصلے کو 11 ستمبر تک ملتوی کرکے طالبان کے شکوک و شبہات کو تقویت پہنچائی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے کا یہ تجزیہ قرین قیاس نہیں کہ افغان سرزمین سے امریکی فورسز کا مکمل انخلا سکیورٹی کا فقدان پیدا کردے گا۔ اب تک امریکی ہمیں خود یہ باور کراتے رہے کہ افغانستان کی سلامتی اور دفاع عملی طور پر 2015 سے افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کے پاس ہے اور امریکی فورسز انہیں صرف فضائی کور دیتی ہیں لیکن اب انہیں افغان فورسز کی دفاعی صلاحیت مخدوش دکھائی دینے لگی ہے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ امریکا انخلا کے ذریعے نفسیاتی دبائو ڈال کر افغان حکومت، کمانڈروں، سیاسی رہنماؤں اور طالبان مخالف عناصر کو ”متحد ہوجائیں‘‘ کا پیغام دے رہا ہے، اس کے پیچھے افغانستان میں ”طالبان کے خلاف مشترکہ محاذ‘‘ بنانے کی سکیم کار فرما ہے۔ کیا واقعی امریکا افغانستان سے دستبردار ہو جائے گا؟ امریکا کو استنبول مذاکرات سے توقعات تھیں لیکن طالبان کے انکار کے بعد یہ امید بھی دم توڑگئی۔ محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کسی بھی صورت میں عام انتخابات یا عارضی حکومت کے قیام کو قبول نہیں کریں گے، وہ براہِ راست اقتدار سنبھالنا چاہتے ہیں، کیونکہ طالبان اگر مذاکرات کی میز پر آئے تو وہ جیتا ہوا معرکہ ہار جائیں گے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،