کشمیرمیں جاری خونریزی اصل ذمہ دار کون؟ مصطفےمعاویہ

عراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹنے کے لۓ شروع کی گئی سازش سے لے کر آج تک جاری جنگ کی وجہ سے عراق میں آج تک تقریباً 5 لاکھ انسان لقمۂ اجل بن چکے ہیں، اور ہزاروں عراقی پوری دنیا میں مہاجر کیمپوں میں اور سیاسی پناہ گزینوں کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں ، اور عراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹنے والے ہی اس ساری تباہی اور بربادی کے ذمہ دار ہیں ، اس وقت دنیا کے بد ترین پاسپورٹ لسٹ میں عراق کا پاسپورٹ بھی شامل ہے عراق کئی حصوں میں  بٹنے کے امکانات بہت قوی ہیں۔ اب اس ساری بربادی ،تباہی و خون خرابہ پر صدام کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے والے کیا جواب دیں گے ؟

یہاں ایک بات ذہن نشین رہے کہ ہم کسی بھی آمریت یا شخصی حکومت کے قائل نہیں ہیں۔اسی طرح لیبیا میں لیبی صدر معمر القدافی کا تختہ الٹنے کے لۓ وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی اور عوام کو اس قدر ورغلایا گیا کہ وہ بندوق اٹھانے پر تیار ہو گئے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ معمر قذافی ایک سخت گیر حکمران اور آمر تھے ، لیکن جو لوگ عربوں کی نفسیات سمجھتے ہیں ، وہ بخوبی واقف ہوں گے کہ عربوں کو کیسی حکمرانی اور کیسا حکمران راس آتے ہیں ، قدافی نے افریقہ کے صحرا میں اس ملک کے باشندوں کو ہر سہولت سے بہرہ مند کیا ، راشن سنٹرز سے اناج مفت ملتا تھا اور روزگار ، صحت ، بنیادی تعلیم سے لے کر مفت اعلی تعلیم اور شادی پیکج تک سہولیات عوام کو میسر تھیں۔ لیکن یہاں بھی عوام کو گمراہ کیا گیا کہ یہ بہت ظالم حکمران ہے ، شریعت کا نفاذ ہو گا اور پھر ظالم حکمران سے نجات ہی تمام مسائل کا حل اور سب خوشیوں کا راز ہے ، اور اس طرح 17 فروری 2011 کو اس قدافی کے خلاف مسلح بغاوت برپا کر دی گئی ۔

ساری سازش کے پیچھے امریکہ اور یورپ تھا ، وہ قدافی جس نے امریکہ اور یورپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چالیس سال تک قوم کی بے باک ترجمانی کی اور انہیں پہچان اور تشخص دیا ، لیکن فسادیوں نے جہادی کا لقب اختیار کیا اور شر پسندوں کے پروپیگنڈے میں لوگ آئے اور پھر مسلح جنگ شروع کر دی گئی ،بے رحمانہ قتل عام ہوا پھر معمر قذافی مارے گئے اور اس وقت تک عالمی میڈیا کے مطابق پچاس ہزار سے  زیادہ لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ، لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ معذور ، ملک تباہ اور تمام نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور انارکی کی بدترین شکل وہاں دیکھی جا سکتی ہے ، اور عملا ملک تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔

داعش جیسے درندے وہاں قدم جما چکے ہیں ، اب شر پسندوں کے حامیوں سے لے کر عام بندے تک لوگ قدافی اور اس کے دور اور وحدت ملی کو یاد کر رہے ہیں۔

لیکن اب پچھتائے کیا ہوت
جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

پھر اس سے ملتا جلتا حال شام میں ہوا اور ابھی تک ہو رہا ہے۔۔شام   ایک پرامن ملک تھا ، تمام عربوں میں اپنی ہنر مندی اور قدرتی خؤبصورتی  کی وجہ سے باعث   عوام کو مذہبی آزادی اور فریڈم آف اسپیچ کا سبق پڑھایا گیا ، شر پسندوں نے تاثر دیا کہ اسد خاندان ہی تمام مشکلات اور برائیوں کی جڑ ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حکمران خاندان آمرانہ طور پر عوام پر مسلط ہے ، لیکن جب عوام کے پاس متبادل موجود ہی نہیں ، اور نہ ہی مسلح بغاوت نجات کا ذریعہ ہے اور یہ بھی کہ اگر مرکزیت کو اگر ختم کیا جاتا ہے تو بہت بڑا خدشہ یہ ہے کہ پورا ملک ہی اپنی جغرافیائی وحدت کھو بیٹھے گا ، اب حکمت کا تقاضا تو یہی بنتا تھا کہ بتدریج عوامی اقتدار کے حصول کا سفر طے کیا جائے ، لیکن بیرونی طاقتوں کے بل بوتے پر یہاں بھی ایک مسلح جدوجہد کو لانچ کیا گیا اور نتیجہ یہ کہ اس وقت تک تین لاکھ سے زائد افراد جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں ، ہزاروں افراد معذور ، لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں ۔
اور پوری دنیا میں اس وقت کئی لاکھ سوری باشندے مہاجر کیمپوں میں سسک رہے ہیں ۔ اب شر پسندوں کی نیت کو اچھا کہا جائے یا برا ، لیکن اس سارے فساد نے ایک پرامن سماج کی خوشیاں چھین لیں اور آج پچھتاوا ، دکھ درد اور غم و بے بسی شامی کا مقدر بن چکا ہے اور اس کے ذمہ دار وہی فسادی ہیں جو جہادی کہلاتے ہیں ۔ اس سارے قضیے میں حکومت کو معصوم نہیں قرار دیا جا سکتا ، لیکن فساد برپا کرنے والوں کی بے تکی بغاوت نے ملک کی نہ صرف وحدت کو نقصان پہنچا دیا ہے ، بلکہ عوام سے سکون و آرام بھی چھین لیا۔
ستر سال پہلے بد قسمت کشمیریوں سے اسی طرح کا ایک کھیل کھیلا گیا اور انہی بغاوتوں سے ملتی جلتی ایک سازش ستر سال یہاں پر برپا کی گئی ایک ایسے حکمران کے خلاف جسے دنیا گریٹ کنگ ہری سنگھ کے نام سے جانتی ہے وہ مہاراجہ ہری سنگھ جس کے باپ نے اپنی جیب سے تاوان ادا کر کے کشمیریوں کو پہچان دی ، انہیں وحدت میں پرویا اور مہاراجہ ہری سنگھ جی نے تمام بنیادی سہولتیں کشمیری قوم کو دیں ، سرکاری گہل یا پبلک اسٹریت کا تصور ہی ریاست میں مہاراجہ نے دیا ۔ اسکول قائم کیے ۔ تعلیمی وظائف جاری کیے اور اسکالر شپ کے تحت بلا تفریق مذہب و نسل اہل طلبہ کو بیرون ملک بھیجا ۔
ابراہیم خان صاحب کو بھی ولایت میں تعلیم کے حصول کے لئے مہاراجہ نے بھیجا ۔ پھر عوام کے لۓ صاف پینے کے پانی کے لۓ باولیاں اور مویشیوں کے لۓ بن یا ڈھن بنوائی گئیں اور ایک بہترین نظام متعارف کرایا گیا لیکن چند شر پسندوں نے چند فسادیوں کو ساتھ ملایا اور مہاراجہ کا مذہب چونکہ ہندو مت تھا ، اب مذہبی تعصب کی بنیاد پر محسن کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف مہم چلائی گئی ۔ اور من گھڑت قصے کہانیاں مشہور کی گئیں کہ مہاراجہ ظالم ہے ، حالانکہ آج تک ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا ۔ بس کہتے ہیں کہ میرے دادے نے میری نانی کی پھوپی کی نند کے سسر کے بھائی کے سالے سے سنا تھا کہ مہاراجہ ظلم کرتا تھا۔
اب جھوٹ کی بنیاد پر ایک مسلح تحریک برپا کی گئی اور وحدت کشمیر کی علامت مہاراجہ کے خلاف معصوم لوگوں کو گمراہ کیا گیا ۔ لیکن آفرین ہو محسن کشمیر مہاراجہ ہری پر کہ اس نے کشمیری قوم پر گولی نہیں چلائی ۔ دوسری طرف اسے اس کے مذہب کی وجہ سے مطعون کرنے والوں نے کبھی غور کیا کہ لیبیا اور سوریا ، عراق و تیونس میں حکمرانوں نے اپنی ہی عوام کا گولیوں سے کیا حال کیا ؟ مہاراجہ کے خلاف مسلح بغاوت کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے درندوں کو کشمیر میں مداخلت کا موقع ملا اور انہوں نے اسی اکتوبر کے مہینے میں 1947 ء کو کشمیریوں کی عزت و مال کو لوٹا پھر وحدت کشمیر پارہ پارہ ہو گئی اور اس وقت تک ان ستر سالوں میں کم از کم دو لاکھ معصوم لوگوں کو جان سے مارا جا چکا ہے ۔ عصمتیں تار تار کی جا رہی ہیں ۔ کئی کشمیری بیٹوں کو اغوا کے بعد گم کر دیا گیا ہے اور بھارت میں اگر مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی ہے تو یہاں اس پار عارف شاہد جیسے لوگ جان سے مار دیے گئے ہیں اور ایک نہ تھمنے والا سلسلہ ستر سال سے جاری ہے اور اس سب کی ذمہ داری ان شر پسندوں کے سر ہے جنہوں نے مہاراجہ کے خلاف مسلح بغاوت کی بنا ڈالی اور اسی وجہ سے آج کشمیری قوم تین حصوں میں منقسم ہو کر تین نیوکلئیر ممالک کی سدا کی غلامی میں جا چکی ہے۔
اب ان شر پسندوں کو کیا ہیرو مانا اور دور اندیش کہا جائے ؟ کیا یہ دوراندیش تھے ؟ یا فسادی جن کے برپا کردہ فساد نے وحدت کشمیر کو پارہ پارہ کیا اور دو لاکھ سے زائد افراد جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں اور کتنے بنتے رہینگے ، اس کا کسی کو علم نہیں ہے ۔ لیکن ستر سال سے جاری اس ساری تباہی و بربادی اور خون خرابہ کے ذمہ دار وہی فسادی اور شر پسند ہیں جنہوں نے مسلح بغاوت کی ، ورنہ شخصی حکومت کا خاتمہ پرامن طریقے سے ممکن تھا اور جب مہاراجہ محسن کشمیر تھے تو انہیں علامتی بادشاہ بنانے میں کیا قباحت تھی ؟ اگر برطانوی ملکہ کینیڈا کی بھی ملکہ ہو سکتی ہیں تو مہاراجہ ہری سنگھ تو اس کے ذیادہ مستحق تھے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کشمیرمیں جاری خونریزی اصل ذمہ دار کون؟ مصطفےمعاویہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *