• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • دورِ حاضر کی ’’روشن خیالی کا خالق‘‘ ، جان سٹورٹ مِل، ایک تعارف۔۔ادریس آزاد

دورِ حاضر کی ’’روشن خیالی کا خالق‘‘ ، جان سٹورٹ مِل، ایک تعارف۔۔ادریس آزاد

ہم فی زمانہ حقوق ِ انسانی، حقوقِ نسواں، تحفظ حیوانات، تحفظِ ماحولیات کے جس قدر بھی نعرے سنتے ہیں، جتنے قوانین اور دساتیر دیکھتےہیں اور جس قدر لبرل ازم سے ہماری واقفیت ہے اس کا زیادہ تر حصہ مِل کے فلسفہ سے نمودار ہورہاہے۔ جان سٹورٹ مل اُنیسویں صدی کا ایک کلاسیکل لبرل انگریز فلسفی ہے۔ مِل کی تین کتابیں بے پناہ مشہور ہوئیں۔ صرف مشہور نہیں ہوئیں بلکہ عہدِ حاضرکی نناوے اعشاریہ نونو فیصد لبرل اخلاقیات جان سٹورٹ مِل کی اِن تین کتابوں سے ہی برآمد ہوتی ہے۔ اِن تین کتابوں کے نام یہ ہیں،
۱۔ آن لبرٹی
۲۔ یوٹیلی ٹیریَن اِزم
۳۔ دہ سبجیکشن آف وومین

اِن تینوں کتابوں میں مشترکہ عنصر ایک ہی ہے۔ اور وہ ہے جان سٹورٹ مِل کی ’’لبرل آزادی‘‘ کے حق میں کی گئی متشدد وکالت۔ سب سے پہلی کتاب ’’آن لبرٹی‘‘ میں مِل نے جو مرکزی خیال پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ
’’ ایک فرد کی انفرادی زندگی میں دخل دینے کے لیے سوسائٹی یا حکومت کا جائز حق کتناہے اور اُس کی حدود کیا ہونی چاہییں؟‘‘
آن لبرٹی میں وہ دو اُصول مقرر کرتاہے۔

tripako tours pakistan

نمبرایک،
فرد اپنی انفرادی حیثیت میں معاشرے کو تب تک جواب دہ نہیں ہے جب تک وہ اپنی پسند کے ہر عمل اور اس کے نتائج کو فقط اپنی ذات تک محدود رکھتاہے اور کسی اور کو کسی قسم کا ضرور نہیں پہنچاتا۔
چنانچہ میری ذاتی زندگی میں معاشرے کو کوئی حق نہیں کہ وہ مجھے یہ بتائے کہ ’’مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے‘‘۔
یعنی، اگر میں بے لباس ہوکر سڑکوں پر گھومنا چاہتاہوں تو سوسائٹی کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا چنانچہ سوسائٹی کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ مجھے مجبور کرے کہ میں کپڑے پہنوں۔
نمبردو،
اگر ایک شخص کسی اور کے لیے نقصان دہ ہے تو وہ ضرور معاشرے اور حکومت کی طرف سے سزا کا مستحق ہے۔

جان سٹورٹ مِل نے بے شمار مثالوں کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر شراب نوشی جو کہ فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور اُس میں حکومت یا معاشرے کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کے ذاتی معاملے میں دخل دیں، چاہے وہ اپنا نقصان کررہا ہے یا فائدہ۔ لیکن اگر وہی شراب پینے والا شخص اپنے گھر سے باہر نکلتاہے اور ڈرائیونگ کرتاہے تو عین ممکن ہے کہ وہ حادثہ کربیٹھے، کسی کو زخمی کردے یا کسی کی جان لے لے۔ اس لیے یہ وہ مقام ہے جہاں سوسائٹی کو حق پہنچتاہے کہ وہ اس شخص پر گرفت کرے۔
آن لبرٹی میں جان سٹورٹ مِل ایک سادہ سے اصول کی بنیاد پر اپنا مقدمہ قائم کرتاہے۔ اپنے اس اصول کو وہ، ’’دہ ہارم پرنسپل‘‘ یعنی ’’ضرر پہچانے کا اُصول‘‘ قرار دیتاہے۔ یہ اصول کچھ اس طرح ہے کہ
’’میرے پڑوسیوں کو، میری ریاست کو اور میرے معاشرے کو چاہیے کہ وہ مجھے ہر طرح کی آزادی کے ساتھ جینے دیں۔ کم از کم اُس وقت تک جب تک میں کسی کے لیے کسی قسم کے ضرر کا باعث نہیں بنتا‘‘۔
جان سٹورٹ مِل کا یہ اصول ایک قول کی صورت میں بہت شہرت حاصل کرچکاہے،
’’آپ کو اپنا بازور گھمانے کی آزادی ہے لیکن یہ آزادی اُس وقت تک جائز ہے جب تک آپ کی مُٹھی میری ناک سے دُور ہے‘‘

اس سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتاہے کہ اگر میں ایک بالغ شہری ہوں اور شراب پیتاہوں تو مجھے اِس لیے شراب سے روکنا کہ میں جلدی مرجاؤنگا میرے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر میں ننگا گھومنا چاہتاہوں تو مجھے ننگا گھومنے سے روکنا میرے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہاں وہ مثالوں سے کام لیتے ہوئے سمجھاتاہے کہ والدین کے لیے بچوں کی حفاظت کرنا لازم ہے کیونکہ وہ خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتے۔ اس لیے اگر کسی ننگے شخص کو دیکھ کر ایک بچے کی ماں اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتی ہے تو اُس کی ماں نے اپنے بچے کی حق تلفی نہیں کی لیکن اگر اُس عورت (جو کہ ماں ہے) کا شوہر اُس عورت کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتاہے تو یہ اُس عورت کی شخصی آزادی پر ڈاکہ ہے۔ چنانچہ آپ کو چاہیے کہ مجھے میری مرضی کے مطابق جینے دیں۔ اگر میں اپنے رہنے کے انداز میں غلط بھی ہوں تو آپ مجھے میری ہی غلطیاں کرنے دیں اور مجھ پر نصیحتوں کا انبار لادنے کی تکلیف نہ کریں۔ یہ انفرادی آزادی دراصل ذہانت کا کھیت ہے جہاں دانائی کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس کی حفاظت ضروری ہے۔ اور یہی عام آدمی کے لیے دائمی خوشی کی بنیاد ہے۔

جان سٹورٹ مِل فریڈم آف سپیچ کا فلسفی ہے لیکن پھر بھی وہ اِس بات کا خصوصی طور پر ذکر کرتاہے بولنے کی آزادی تو ہے لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کب اور کہاں نہیں بولنا ہے۔ مثال کے طور پر مزدوروں کا ایک جلوس ایک مالک کے دروازے پر کھڑے ہوکر نعرے لگاتاہے کہ ’’یہ مالک ظالم ہے، اسے زندہ رہنے کا حق نہیں‘‘۔ تو ایسی فریڈم آف سپیچ معاشرے کے لیے ضرر رساں ہے سو اس پر گرفت واجب ہے۔ ساتھ ہی وہ کہتاہے کہ اگر کسی کا بولنا، کسی اور کے لیے نقصان دہ نہیں ہے تو حکومت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ بولنے والے کو چُب کرائے یا روکے۔ جب ہرکسی کو بولنے کا حق ہوگا تو ہمارے سامنے مختلف الخیال لوگوں کی آرأ آئینگے اور تب ہی ہم اچھی سے اچھی رائے اختیار کرنے کا فیصلہ کرسکینگے۔ وہ کہتاہے کہ سینسرشپ، ترقی کی دشمن ہے۔
سٹورٹ مِل کی دوسری بڑی کتاب ، ’’یوٹیلی ٹیریَن اِزم‘‘ (افادیت پسندی) ہے۔ یہ جان سٹورٹ مِل کا فلسفہ ٔ اخلاقیات ہے۔ مل کا مانناہے کہ،
’’یہ عمل غلط ہے، وہ عمل غلط ہے۔ یا یہ عمل نیکی کا ہے ، وہ عمل بدی کا ہے وغیرہ وغیرہ‘‘

اس طرح کہنا درست نہیں۔ جان سٹورٹ مِل ایسا کہنے کی بجائے نتائج پر نظر رکھتاہے۔ وہ کہتاہے کہ ہمیں یوں کہنا چاہیے، ’’یہ عمل نتائج کے اعتبار سے درست نہیں، وہ عمل نتائج کے اعتبار سے غلط ہے وغیرہ وغیرہ‘‘۔ چونکہ ہم نتائج کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتےہیں اور اس لیے ہمیں کہیں اور سے کوئی رہنمائی وصول کرنے کی بجائے اپنی تجزیاتی صلاحتیوں کو کام میں لاتے ہوئے اعمال کے نتائج کو ملحوظ ِ خاطر رکھنا چاہیےاور اعمال کی اچھائی یا برائی کا عنصر طے کرنا چاہیے۔ جان سٹورٹ مِل کی یوٹیلی ٹیریَن اپروچ کو سمجھنے میں اس کا مشہور جملہ ہماری مدد کرسکتاہے۔
’’دہ گریٹسٹ گُڈ فار دہ گریٹیسٹ نمبر‘‘

چنانچہ کسی عمل کی ماہیت میں کوئی قدر نہیں پائی جاتی۔ جو کوئی اقدار بھی پائی جاتی ہیں فقط اعمال کے نتائج میں پائی جاتی ہیں۔ کوئی عمل نہ تو صحیح ہوتاہے اور نہ ہی غلط۔ کوئی بھی عمل صرف صحیح اور غلط اپنے ثمرات کی وجہ سے کہلاتاہے۔ جبکہ سٹورٹ کے نزدیک اعمال کے نتائج صرف دو طرح کے ہوسکتے ہیں،
۱۔ کوئی عمل خوشی کی زیادہ سے زیادہ مقدار حاصل کرنے کا موجب بن سکتاہے۔
۲۔ کوئی عمل درد اور تکلیف کی زیادہ سے زیادہ مقدار حاصل کرنے کا موجب بن سکتاہے۔

سو چونکہ مِل کا یہ قول ہے کہ ’’گریٹیسٹ گُڈ فار دہ گریٹیسٹ نمبر‘‘ تو وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ جہاں لوگوں کی زیادہ تعداد مل کر یہ طے کرلے کہ کون سا عمل درست ہے اور کون سا عمل غلط ہے اور وہ اسے سوسائٹی میں لاگو کردیں تو وہ سوسائٹی پرفیکشن کی طرف سفر کرسکتی ہے۔ اس کے برعکس وہ اپنے ’’لبرٹی‘‘ (آزادی) کے نظریے کو اپنے ’’یوٹیلی ٹیرین اِزم‘‘ کے نظریہ کے ساتھ جوڑتاہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتاہے کہ ہرفرد کو انفرادی سطح پر آزادی چاہیے۔ وہ ایک طرح سے بابائے معاشیات آدم سمِتھ کے ’’غیر مرئی ہاتھ‘‘ کے طریقۂ کار کو اختیار کرتاہے۔ آدم سمتھ کے غیر مرئی ہاتھ کا نظریہ کیا ہے؟

آدم سمتھ کا مانناہے کہ افراد جب انفرادی طور پر کاروبار کرتے ہیں تو وہ فقط اپنے ذاتی مفاد کا سوچ سکتے ہیں۔ کوئی بھی فرد کبھی معاشرے کی بھلائی کے لیے اپنی رقم کاروبار میں انویسٹ نہیں کرتا۔ لیکن ہرفرد کی یہ انفرادی شرکت ہی دراصل سوسائٹی کے لیے مفید اکنامکل ڈھانچہ تیار کرسکتی ہے۔

بالکل اسی اُصول کے تحت جان سٹورٹ مل کا فرد بھی غیر مرئی طریقے سے ’’معاشرتی خیر‘‘ میں اپنا حصہ ڈالتاہے۔ افراد کبھی بھی معاشرے کی بہتری کے لیے اجتماعی بھلائی اختیار نہیں کرسکتے۔ وہ فقط اپنی بہتری کے لیے بھلائی یا برائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں چنانچہ جب فرد کی ’’لبرٹی‘‘ اور معاشرے کی ’’افادیت پسندی‘‘ ( یوٹیلی ٹیریَن اِزم) آپس میں ملتےہیں تو نتیجۃً اچھی سوسائٹی تیار ہوتی ہے جسے وہ ’’گریٹسٹ گُڈ فار گریٹسٹ نمبر‘‘ کا نام دیتاہے۔

جان سٹورٹ مِل کی تیسری اور زیادہ مشہور کتاب ہے، ’’دہ سبجیکشن آف وومین‘‘۔ عورت کے موضوع پر جان سٹورٹ مِل بہت زیادہ لبرل ہے۔ اُس کی ذاتی زندگی میں اس کی بیوی اُس کی سب سے قریبی دوست تھی۔ وہ ایک پڑھی لکھی اور مدبر خاتون تھی۔ مِل جب دیکھتا تھا کہ اُسے تو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مکمل انسان کو ہونے چاہییں لیکن اس کی قابل بیوی کو حاصل نہیں ہیں تو وہ کسی ری ایکشنری کی طرح اِن نتائج تک پہنچتا تھا کہ عورت کی لبرٹی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ کسی بھی عام انسان کی۔ وہ عورت کے لیے عورت ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کے امتیاز کا شدید ترین مخالف ہے۔ جان سٹورٹ مِل اس خیال کا شدید ترین مخالف ہے کہ ایک ’’عورت مرد کی وفادار رہے؟‘‘۔ سیکس کو خوشی حاصل کرنے کا ایک بنیادی ذریعہ سمجھتے ہوئے وہ اس نتیجہ پر پہنچتاہے کہ عورت جب چاہے، جس کے ساتھ چاہے قریب ہو، وفا کرے، بیوفائی کرے، محبت کرے ، نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کے لیے سب اجازتیں ویسی ہی ہونی چاہییں جیسے کسی بھی بالغ انسان کا حق ہے۔ مِل جس معاشرے میں رہتاتھا یعنی انیسویں صدی کے لندن کا معاشرہ، وہاں اُس وقت تک عورت کو ابھی ووٹ دینے کے حقوق بھی میسر نہ تھے۔ جان سٹورٹ مل کا مؤقف ہے کہ اگر ہم ایک آزاد سوسائٹی بننا چاہتے ہیں تو پھر تمام افراد کو لبرٹی دے کر ہی بن سکتے ہیں نہ کہ صرف آدھی آبادی یعنی صرف مردوں کو لبرٹی دے کر۔ یہی وجہ ہے کہ جان سٹورٹ مِل کو پہلا مرد فیمنسٹ بھی کہا جاتاہے۔

Advertisements
merkit.pk

مِل کے بے شمار ناقدین ہیں جن کا خیال ہے کہ مل کا یوٹیلی ٹیرین ازم انسانیت کے لیے ضرر رساں ہے۔ اُن کے مطابق مِل نے انسانی سوسائٹی کی بُنتر کو جس نظر سے دیکھا انسانی معاشرہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور گھنا ہے۔ لوگوں کے آپس میں رشتے فقط مادی ہی نہیں بلکہ رشتوں کی بے شمار نفسیاتی اقسام ہیں اور اس لیے مِل کی ’’لبرٹی‘‘ مکمل طور پر نافذ کرنا ناممکن ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply