پیپلزپارٹی اکھاڑے سے باہر ہو گئی؟۔۔اسلم اعوان

پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کا ایک مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ اب سابق صدر آصف علی زرداری کی مفاہمتی حکمت عملی کارگر نہیں رہی اس لئے جمہوریت پسندوں اور مقتدر قوتوں کے مابین جاری کشمکش جلد کسی فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو جائے گی۔یہ عین ممکن ہے کہ عید کے بعد اس مملکت کو ایسی ہمہ گیر سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے جو یہاں کے روایتی سیاسی کلچر کے علاوہ تقسیم اختیارات کی اُس فارمولے کو بھی منتشر کر ڈالے،جس کے اردگرد قومی سلامتی کی باڑ لگی ہوئی ہے ۔لہذا، پی پی پی کی محتاط قیادت نے گہری سوچ بچار کے بعد اُس نامطلوب کشمکش سے دامن چھڑا لیا جو پیپلزپارٹی کے کمزور وجود کو نگل سکتی تھی مگر یہی شعوری پسپائی انہیں قومی سیاست کے فعال دھارے سے دور بھی کر سکتی ہے،اگر ہمارا اندازہ درست ثابت ہوا تو پھر اِسی جدلیات کے نتیجہ میں ابھرنے والے مستقبل کے دبستانوں میں پیپلزپارٹی اور اے این پی کا کردار محض علامتی رہ جائے گا لیکن پیپلزپارٹی کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ بھی تو نہیں بچا،اگر وہ اس ممکنہ ٹکراؤ  کا حصہ بنی تو بھی ماسوائے داد و ستائش کے اس کے ہاتھ میں اقتدار کا کوئی سرا نہیں آئے گا۔

پیپلزپارٹی فی الوقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے،بظاہر یہی لگتا ہے کہ موجودہ حالات میں ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم کی سیاسی وراثت کو دوام ملنے کے امکانات ختم ہونے والے ہیں،اس لئے پی پی پی کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور اور انکی عوامی حمایت کا دائرہ بتدرج سکڑتا چلا جائے گا۔سیاست کے طالبعلم اس موضوع پہ تحقیق کر سکتے ہیں کہ نصف صدی بعد کی ملکی سیاست پہ ذوالفقار علی بھٹو کرشماتی شخصیت کے اثرات باقی رہ سکتے ہیں؟ یا پھر وہ بھی عبقری سیاستدان جواہر لعل نہرو کی طرح قومی سیاست کا محض ایک حوالہ ہی رہ جائیں گے۔

tripako tours pakistan

پیپلزپارٹی کی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ نئی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جَلُو میں اٹھنے والی سماجی تحریکات کی بنا پہ ہمارے عقلی ورثہ کو کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے،بلاشبہ قومی سیاست کو نئے نعروں کے ساتھ ایسے نئے کردار بھی مطلوب ہیں جو اپنے زمانے کے تقاضوں کا ادراک رکھنے کے علاوہ اس پیچیدہ عہدکی اجتماعی دانش کو سے نئی اصطلاحات کے ساتھ ابلاغ کرسکیں کیونکہ”جئے بھٹو“ یا”روٹی کپڑا اور مکان“ کے نعروں میں اب کوئی کشش باقی نہیں رہی۔بہرحال،تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی رجحانات کے باعث اقتدار کی سیاست میں پیپلزپارٹی کی بارگینگ پوزیش کمزور اور سیاسی کردار اندرون سندھ تک محدود ہوتا دیکھائی دیتا ہے۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے انہیں قومی سیاست میں کچھ کردار ادا کرنے کا سنہرا موقع  ملا تھا لیکن حالات کا جبر انہیں پھر اسی کوئے ملامت کی طرف دھکیل رہا ہے،جہاں سے انہیں موجودہ بندوبست میں ،نقرائی زنجیروں میں جڑا، اقتدار کا مناسب حصہ ملا تھا،گویا بقاءکے تقاضے انہیں ریاستی مقتدرہ سے ناتا توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن پی ڈی ایم سے علیحدگی بھی انکی مفاہمتی سیاست کو متروک بنا دے گی۔

لاریب ،تاریخ کا اہم ترین اصول یہی ہے،جو چیز ابھرتی ہے وہ گرتی ضرور ہے۔اب اہم سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ فنا و بقاءکے درمیان حائل خطہ امتیاز پہ چلنے کی کوشش میں،عوام اور مقتدرہ،دونوں کا اعتماد کھو بیٹھی ہے؟ ۔پیپلزپارٹی موجودہ بندوبست کے دوام کے لئے اس نظام کے کسٹوڈین کے ساتھ وابستہ رہنے کے باوجود پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ایک مہمل سی پوزیشن لیکر اپنی سیاسی ساکھ بچانے اور سودابازی کی قوت کو بہتر بنانے کے لئے کوشش ضرور کرتی رہی اور اس کھیل میں انہیں وقتی نوعیت کی کچھ ریلیف بھی ملیں لیکن بلآخر یہی دوہری حکمت عملی ان کے پاؤں  کی زنجیر بن گئی۔

چنانچہ جب پی ڈی ایم کی پختہ کار قیادت نے انہیں سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کا منصب پانے کے لئے باپ سے تعاون لینے کی بابت اپنی پوزیشن واضح کرنے کو کہا تو وہ تلملا اٹھے،اس بات کا اندازہ بلاول بھٹو زرداری کے سنٹرل ایگزیکٹو کونسل سے ڈرامائی خطاب سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے پی ڈی ایم کے جنرل سیکریٹری شاہد خاقان عباسی کی طرف سے مانگی گئی وضاحت کا خط پھاڑ کے اپنے داخلی اضطراب کو چھپانے کی ناکام کوشش کی،یہ پُر جوش تقریر کسی سیاسی یا اخلاقی قوت کا اظہار نہیں بلکہ وہ جذباتی التجائیں تھیں جو انکی بے بسی پہ دلالت کر رہی تھیں۔ماضی قریب میں پی ڈی ایم کی بڑی جماعتوں کے مابین پائی جانے والی شکررنجیوں کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے جس نوع کی بچگانہ بیان بازی جاری رکھی۔اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اب تک شاید اپوزیشن کی سیاست کو رسی کودنے کی مشق سمجھتے رہے اب جب انہیں تنہا اس دشت کی آبلہ پائی کا مرحلہ پیش آیا تو وہ گھبرانے لگے ہیں۔

بہرحال،یہ خفیف سا سیاسی جھٹکا انہیں اپنی جماعت کی حقیقی سیاسی قوت کا درست تخمینہ لگانے اور اپنی سیاسی بصیرت کو آزمانے کا موقع  ضرور دے گا۔لیکن بلاول بھٹو زرداری کی طفلانہ تعلّی کے برعکس پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن کا طرز عمل زیادہ سنجیدہ،باوقار اور پُر اثر واقع ہوا، جس سے ان کا شخصی اعتماد جھلکتا تھا،ان کی متوازن گفتگو قومی سیاست پہ پی ڈی ایم کی مضبوط ہوتی گرفت کا مظہر بھی تھی،مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی کو اپنے عاجلانہ فیصلوں پہ نظرثانی کرکے دوبارہ پی ڈی ایم میں واپس آنے کی دعوت دیکر جہاں اپنے ہمدمِ دیرینہ کو ہمدردی کا پیغام بھیجا وہاں انہوں نے سیاسی حلیفوں پہ اپنی اخلاقی برتری بھی قائم رکھی،جس سے آصف علی زرداری کو یہ باور کرانا مقصود تھا کہ وہ انکی ہوشیاری سے خوفزدہ نہیں بلکہ ایک مہربان دوست کی طرح ان کی شاطرانہ چالوں کے زخم سہنے کی سکت رکھتے ہیں،کسی جذباتی ردعمل کی بجائے مولانا کا نپا تلّا انداز انکی ایسی قوت ارادی کو ظاہر کر رہا تھا جو میر کارواں کے شیایان شان ہوا کرتی ہے۔سپائی نوزا نے کہا تھا کسی سے نفرت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی کم مائیگی اور خوف کا اعتراف کرتے ہیں۔طاقتور لوگ مہربانی میں رفعت ذہنی پاتے ہیں اور وہ کسی ایسی چیز کی تمنا ہرگز نہیں کرتے جس کے حصول کی کھلے دل کے ساتھ دوسروں کو اجازت نہ دے سکیں۔

البتہ اے این پی کی جہاں دیدہ قیادت نے اپنی سیاسی پسپائی کا وبال پیپلزپارٹی کے کاندھوں پہ لاد کے اچھی حکمت عملی اپنائی وہ پہلے بھی مسٹر زرداری کی شخصی انانیت سے اسی طرح کے فائدے اٹھاتے رہے،سنہ2008 میں اے این پی نے نہ صرف ان سے خیبر پختون خوا کی وزرات عالیہ حاصل کر لی بلکہ این ڈبلیو ایف پی کا نام تبدیل کرا کے ایک بڑا سیاسی سنگ میل بھی عبور کر لیا جو وہ اپنی پارٹی جدوجہد کے ذریعے کبھی سر نہ کر پاتے۔حالانکہ شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام خیبر پختون خوا رکھنے کے نتیجہ میں یہاں پیپلزپارٹی کا صفایا ہو گیا کیونکہ اس صوبہ میں پیپلزپارٹی سے وابستگی رکھنے والوں کی اکثریت ہندکو اور سرائیکی بولنے والوں سمیت غیر پشتونوں پہ مشتمل تھی،شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام پختون خوا رکھنے کے نتیجہ میں ان کی تہذیبی شناخت کمپرومائز ہو گئی،سنہ 2013  کے عام انتخابات میں اسی ناراض ووٹرز نے پیپلزپارٹی سے خاموش انتقام لینے کی خاطر اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑا میں ڈال دیا۔

شاید عام پاکستانیوں کو یہ بات معلوم نہ ہو کہ خیبر پختون خوا میں بولی جانے والی زبانوں کی سرکاری طور پہ تسلیم شدہ تعداد 31 ہے،پشاور،کوہاٹ اور ہزارہ ڈویژن کے علاوہ صوابی،نوشہرہ اور مردان کے کئی علاقوں میں بھی ہندکو بولی جاتی ہے،اسی لئے ہندکو زبان کی ترویج کے لئے صوبائی حکومت کو گندھارا ہندکو بورڈ بنانا پڑا۔جنوبی خیبر پختون خوا کا ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن،جو کبھی پیپلزپارٹی کا دوسرا ”لیاری“ سمجھا جاتاتھا،کی اکثریتی زبان بھی سرائیکی ہے،پیپلزپارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو نے اسی لئے پہلا الیکشن یہیں سے لڑا تھا۔لکیمروت سٹی میں اب بھی سرائیکی بولنے والوں کی قابل لحاظ تعداد پائی جاتی ہے۔شمالی خیبر پختون خوا کے مالاکنڈ ڈویژن کے ضلع سوات میں گوجری،شینا اور دری سمیت نصف درجن قدیم زبانیں بولی جا رہی ہیں۔چترال میں چترالی کے علاوہ چودہ مختلف زبانیںبولی اور سمجھی جاتی ہیں،جن میں کھوار،کالاشہ،دمیلی،فارسی مدک لشئی،شیخانی اور گوجری قابل ذکر ہیں۔تاہم خیبر پختون خوا کے پشتون ووٹرز کی اکثریت مذہبی جماعتوں کے علاوہ پشتون قوم پرست تنظیموں سے وابستگی میں فخر محسوس کرتی ہے۔

Advertisements
merkit.pk

یہی وجہ ہے کہ پختون نوجوانوں کی ابھرتی ہوئی تحریکیں بوڑھی اے این پی کی جگہ لینے کی خاطر پر تول رہی ہیں۔بہرحال،اقتدار سے علیحدگی کے بعد نیب کی جوابدہی سے بچنے کے لئے اے این پی کے پاس طاقت کے مراکز سے خاموش تعاون کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا،اس لین دین میں پیپلزپارٹی نے ان کا ہاتھ بٹا کے باہمی تعلق کو زیادہ مضبوط بنا لیا،اس لئے اے این پی والے اطاعت بیشک مقتدرہ کی کرتے رہیں لیکن اپنی رجعت کا احسان وہ پیپلزپارٹی پہ دھر دیتے ہیں۔القصہ مختصر،غیر پشتونوں کی وہ اکثریت جو کبھی پیپلزپارٹی کا دم بھرتی تھی وہ اور انکی نئی نسلیں اب تحریک انصاف کا دست و بازو ہیں،یہی وجہ تھی کہ این ڈبلیو ایف کا نام خیبر پختون خوا رکھنے کے بعد پیپلزپارٹی کا نہ صرف یہاں سے مکمل صفایا ہو گیا بلکہ مرکزگریز جماعتوں کے ایجنڈا کو توانائی فراہم کرنے کی بدولت پنجاب میں بھی پیپلزپارٹی کو ناقابل تلافی پہنچا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply