طاقتور کے پاؤں ،کمزور کا گلا۔۔رؤف کلاسرا

ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم بے اختیار یاد آئے۔
یاد تو خیر ہر وقت رہتے ہیں لیکن بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ بے اختیار یاد آتے ہیں۔ پچھلے دو دنوں میں ان کے یاد آنے کی وجہ تھی۔
میجر عامر کے گھر بیٹھا تھا تو ذکر چل پڑا ایک مشترکہ دوست کا جس پر ان کے چند بڑے احسانات بھی تھے اور ان کا کیریئر سیٹ کرنے میں انہوں نے بہت مدد دی تھی۔ میجر عامر مشکل میں دوستوں کے بہت کام آتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کے بعد میں نے وہ دوسرا بندہ دیکھا ہے جو کسی دوست یا جاننے والے کو مشکل میں دیکھ کر اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اداس ہو کر کہنے لگے: پچھلے دنوں اسے دو تین دفعہ فون کیا تو نہ فون اٹھایا نہ کال بیک کی۔ میں نے مسکرا کر کہا: آپ شاید اپنی بیگم صاحبہ اور ہماری بہن کا وہ جملہ بھول گئے ہیں جو انہوں نے آپ پر کسا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: میجر صاحب اب آپ وہ پرانا کیری ڈبہ بن گئے ہیں جس پر کوئی سواری نہیں بیٹھنا چاہتی۔
وہ مسکرائے۔ میں نے کہا: جن صاحب کی بات آپ کررہے ہیں وہ اپنے بارے میں خود ایمانداری سے کہتے ہیں کہ میں ایک تو ریٹائرڈ لوگوں سے اور دوسرے جن سے کام نہ ہو ان سے نہیں ملتا۔ اب آپ کی بدقسمتی کہ دونوں باتیں آپ پر پوری اترتی ہیں۔ ایک ریٹائرڈ اور اوپر سے اب ان کے کسی کام کے نہیں۔ جو کام لینا تھا وہ لے لیا۔ دعا کریں انہیں آپ سے کوئی کام نکل آئے تو شاید پھر ملاقات ہو جائے۔ انہیں دکھی دیکھ کر میں بولا: ایک بات بتائوں کل کلاں وہ آپ کا ون سائیڈڈ دوست کسی مشکل میں پھنس گیا اور اس نے فون کال کی تو سب کچھ بھول کر آپ پھر اس کی مدد کو دوڑ رہے ہوں گے۔ میں نے کہا: ایسا ظرف زندگی میں دو لوگوں کا دیکھا‘ ایک ڈاکٹر ظفر الطاف اور دوسرا میجر عامر۔ لاکھ کسی سے ناراض یا ہرٹ ہوں گے لیکن کوئی مشکل میں مدد مانگے گا تو پرانے گلے لے کر نہیں بیٹھ جائیں گے۔
انہیں افسردہ دیکھ کر دل اداس ہوا۔ میجر عامر نے کبھی کسی دوست کو کبھی کوئی کام نہیں کہا‘ الٹا دوستوں کے کام کیے اور دوسروں کا احسان اٹھا کر کیے۔ حساس دل کے مالک ہیں لہٰذا جلدی ہرٹ ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار میرے سامنے اپنا دل کھول دیتے ہیں۔ میں نے اپنے اس مشترکہ دوست کا دفاع کرنے کی کوشش کی اور کہا: دراصل اس نے بچپن سے بہت مشکلات دیکھی ہیں۔ وہ سیلف میڈ بندہ ہے۔ ذہین ہے۔ اس نے زندہ رہنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ جب سیلف میڈ بندہ ترقی کرتا ہے تو اس کی شخصیت پر دو طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ خود مشکلات سے گزرا ہوتا ہے لہٰذا دوسروں کا احساس کرتا ہے۔ بہت humble اور Down to eatrh ہو جاتا ہے‘ یا پھر جن مشکلات سے وہ گزرا ہوتا ہے وہ اسے بہت سخت دل کر دیتی ہیں اور وہ انسانوں کو انسان نہیں سمجھتا۔ اس کے نزدیک ہر سیڑھی کو استعمال کرکے پھینک دینا مناسب ہو جاتا ہے یعنی جس بندے نے زندگی میں آپ کے کام نہیں آنا اس پر وقت ضائع نہ کرو۔
لیکن مجھے لگا میجر عامر کا دکھ پھر بھی کم نہیں ہوا تھا۔ جب آپ نے کسی کے کیریئر کو بنانے میں مدد کی ہو اور وہ بندہ پھر آپ کا فون تک نہ اٹھائے تو دکھ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی عزت بہت کرتے ہیں اور کبھی کسی کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ ان کو ہرٹ کریں۔ ڈاکٹر ظفر الطاف بھی ایسے تھے۔ مجھے اکثر میجر عامر سے مل کر ڈاکٹر ظفر الطاف یاد آتے ہیں۔ اگرچہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن بعض چیزیں مشترک لگتی ہیں۔
ڈاکٹر ظفر الطاف ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔ شاید دو ہزار تین کا سال تھا۔ اب انہوں سرکاری گھر چھوڑنا تھا۔ ان کے سب بیچ میٹ اور سرکاری افسر دوست ریٹائرڈ ہو کر بھی گھر رکھنے کی توسیع لے چکے تھے۔ ان کے بھی سرکاری دوست اوپر بیٹھے تھے یا ان کے ماتحت رہ چکے تھے۔ ان کے ایک فون پر کام ہو جاتا‘ لیکن کسی کو کچھ نہیں کہا۔ مدت ختم ہونے سے ایک دن پہلے گھر کا سامان بندھوایا اور اٹھ کر اسلام آباد سے سترہ میل دور چلے گئے۔ کسی کا احسان لینے کی ہمت نہ ہوئی۔ عمر بھر دوسروں پر بے شمار احسانات کیے لیکن اپنی باری لگی تو کسی کو فون نہ کیا کہ یار مزید چھ ماہ تک یہ سرکاری گھر میرے پاس رہے گا۔ عرصہ بعد میں نے ان سے پوچھا تو ٹال گئے۔ وہ جس ایشو پر بات نہ کرنا چاہتے تو اتنا کہتے: چھوڑو یار۔ مطلب مزید بات نہیں ہو سکتی۔ کتنے لوگوں کو انہیں زخم دیتے دیکھا۔ مجال ہے کسی سے گلہ کیا ہو یا بدلہ لینے کا سوچا ہو۔ کسی مشکل میں پڑ جاتے تو مجھے بلا کر بس اتنا کہتے: بھائی جان ذرا تیار رہنا۔ بھائی جان ان کا تکیہ کلام تھا۔
دوسری طرف ایک خبر اپنے شو میں بریک کی کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیئرمین راشد عزیز نے پچھلے ماہ اپنے عہدے سے استعفا دیا تو مبینہ طور پر وہ ٹویوٹا کرولا فارچونا دفتر میں جمع کرانے کی بجائے اپنے ساتھ لے گئے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ وہ گاڑی واپس لینے کیلئے پنجاب حکومت منت ترلے کر رہی تھی‘ اور راشد عزیز واپس دینے سے انکاری تھے۔ انہیں پچھلے سال اگست میں اتھارٹی کا چیئرمین لگایا گیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق ان کا ماہنامہ پیکج پندرہ لاکھ روپے تھا‘ تیرہ سو سی سی گاڑی اور ڈرائیور اور تین سو لٹر پٹرول‘ لیکن مبینہ طور پر انہوں نے تیرہ سو سی سی گاڑی لینے سے انکار کیا اور کہا کہ انہیں تین چار ہزار سی سی گاڑی دی جائے جس پر انہیں بتایا گیا ابھی کورونا کی وجہ سے حکومت نے فنڈز بچانے کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندیاں لگا رکھی ہے۔خیر جب ضد بڑھی تو اس پر پنجاب حکومت نے آکشن کیلئے موجود ٹویوٹا کرولا دے دی۔ یہ ستائیس سو سی سی گاڑی تھی۔ ساتھ میں پٹرول بھی پانچ سو لٹر کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ زبانی احکامات پر ہوا اور جب راشد عزیز نے استعفا دیا تو وہ گاڑی LEG 1039 واپس کرنے کے بجائے اپنے ساتھ لے گئے۔ اب پوری پنجاب حکومت ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے کہ وہ گاڑی واپس کریں کیونکہ اس پر ان کے خلاف آڈٹ پیرا بن جائے گا کہ کیسے تیرہ سو سی سی گاڑی کا استحقاق رکھنے والا ستائیس سو سی سی گاڑی چلاتا رہا۔ پنجاب ٹرانسپورٹ کے محکمے نے گاڑی واپس لینے کیلئے ایک ٹیم ان کے گھر بھیجی۔ وہاں گارڈز نے انہیں گھاس نہ ڈالی۔ سٹاف افسر نے الگ سرکاری ٹیم کو ذلیل کیا۔
اب یہ سب کچھ میرے پاس دستاویزات کی شکل میں موجود ہے۔ ویسے گاڑیوں کے غیرقانونی استعمال پر سابق وزیراعظم گیلانی جیل جا چکے ہیں۔ سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد بھی اس طرح گاڑیوں کا سکینڈل بھگت چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی چالیس گاڑیاں منگوا کر شریف خاندان میں بانٹنے کا مقدمہ بھگت رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ آپ کو معمولی بات لگتی ہو‘ لیکن معمولی بات نہیں ہے۔
پاکستانی بیوروکریسی کرنے پر آتی ہے تو کسی کے زبانی حکم پر تیرہ سو سی سی کی بجائے ستائیس سو سی سی کر دیتی ہے۔ کوئی اس سمری لکھنے اور اس کی منظوری دینے والے افسران کو نہیں پکڑے گا کہ آپ کو پتا ہے زبانی احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘ پھر بھی سب کچھ زبانی احکامات کو سامنے رکھ کر کیا گیا۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ یہ معاشرہ کہاں کھڑا ہے۔ عام انسان اور امیروں اور طاقتوروں کیلئے الگ الگ قانون ہیں۔ پاک پتن میں خاور مانیکا نے اپنے بیٹے کی شادی میں اندھا دھند فائرنگ کی لیکن مجال ہے پوری پنجاب پولیس کو جرأت ہوئی ہو کہ وہ مانیکا پر اس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرے جیسے وہ عام شہریوں پر کرتی ہے۔ پوری پنجاب پولیس کو سانپ سونگھ گیا جیسے اب راشد عزیز کے گاڑی واپس نہ کرنے پر پنجاب کی بیوروکریسی کو سونگھا ہوا ہے۔ یہ سب قانون اور سرکاری افسران بس کمزور پر شیر ہیں۔ آگے سے خاور مانیکا اور راشد عزیز ٹکر جائیں تو انہیں بکری ہونے میں دیر نہیں لگتی۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply