جنسی تعلیم کے فائدے۔۔کاشف حسین سندھو

میرا بچہ پانچویں کلاس میں ہے آجکل کے بچوں کی طرح اپنا فارغ وقت ٹیبلٹ دیکھنے میں گزارتا ہے، کل میں پاس سے گزرا تو مجھے کچھ غلط ہوتا محسوس ہوا عموماً وہ کارٹون دیکھتا ہے لیکن کارٹون فلمز کے بیچ میں جو ads دکھائی جاتی ہیں اس وقفے میں ایک گانا چل رہا تھا جسکے سین نامناسب تھے جب میں نے اسکے پاس رک کر دیکھنا چاہا تو گھبرا گیا اور ایپلیکیشن کلوز کرنے لگا ۔میں نے سختی سے پوچھا کہ یہ کیا دیکھ رہے تھے تو کہنے لگا سوری بابا ہن نئیں ویکھاں گا ” سوری سوری کی گردان شروع کر دی ،ویسے تو میرا اپنے بیٹے سے بہت یارانہ ہے، میرے والد کی نسل بچوں سے دوری بنائے رکھنا یا ان پہ رعب رکھنا ہی بہتر سمجھتی تھی لیکن چونکہ میں نے والد کے خود سے دوری کے نقصانات بھگت رکھے ہیں اس لیے میں یہ غلطی نہیں دوہرا رہا اور اپنے بیٹے کو مکمل اعتماد دے کر ساتھ رکھتا ہوں اور میں نے بے وقوفانہ شرم کے نام پہ اسے غیرضروری تجسس کا عادی بھی نہیں بنایا کہ مجھے یہ فائدے کی بجائے نقصاندہ فعل لگتا ہے۔

ہم میاں بیوی فلم دیکھتے ہوئے بوسہ لینے ،گلے لگنے کے سین پہ چینل نہیں بدلتے، میں بہت دنوں بعد گھر آؤں تو بیگم سے بھی اسکے سامنے گلے ملتا ہوں، اسے یہ بھی علم ہے کہ بچہ آسمان سے آ کر کوئی فرشتہ جھولے میں نہیں پھینک جاتا بلکہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس لیے اب اسکے لیے ان چیزوں میں تجسس کم ہے یا نہیں ہے، اگر وہ ٹیب دیکھنے میں مصروف ہو تو سامنے چل رہے کسی لو سین کو دیکھ کر نظرانداز کر دیتا ہے، میں اسکی تربیت اسی طریق پہ کر رہا ہوں، جو مجھے اپنی زندگی کے تجربے سے حاصل ہوئی سمجھ کے مطابق ہے، اور میں فی الحال کامیاب ہوں میں نے اسے بچوں کی جنسی تربیت بھی دے رکھی ہے، اسکی  سکول اور محلے میں گرل فرینڈز بھی ہیں جن کے ساتھ کھیلتے ہوئے فی الحال وہ کسی خاص تعصب کا شکار نہیں ہے اور لڑکے و لڑکی سے کھیل کر برابر خوشی محسوس کرتا ہے، اگر اسکا موڈ نہ  ہو تو وہ محلے میں اپنی ماں کی دوست سہیلیوں کی بیٹیوں سے بھی کھیلنے نہیں جاتا اسکے لیے فی الحال جنسی ایکٹیویٹیز میں کشش نہیں ہے، لیکن اب چونکہ اسکی عمر دس سال سے بڑھ رہی ہے تو میں اور میری مسز اس وقت پہ دھیان رکھ رہے ہیں جب اسے بلوغت کی جنسی تعلیم کی ضرورت پڑے گی ،میں اس تعلیم کی  اہمیت حالیہ واقعے کی روشنی میں اجاگر کرنا چاہتا ہوں ۔

tripako tours pakistan

تمہید لمبی ہو گئی ،کہنے کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ میں نے اسے خواہ مخواہ کے تجسس میں مبتلا نہیں کیا ،اس لیے اسکی جانب سے کچھ چھپانا مجھے عجیب اور برا لگا، میں نے فوری طور پہ اس سے ٹیب لے کر ماں کے حوالے کیا اور واش روم چلا گیا، میں اس دوران سوچتا رہا کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیے، کیا اسے جوان بچوں کو دی جانے والی جنسی تعلیم کا وقت آن پہنچا ہے، میں واش روم سے باہر آیا تو ماں سے جڑا ہوا خوفزدہ نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا، میں نے اسکا ٹیب اسکے حوالے کیا اور اسے ساتھ لگا کر کہا کہ بیٹا مجھے اس بات پہ غصہ نہیں آیا کہ آپ مائن کرافٹ بنانے کے طریقے دیکھتے ہوئے اشتہار کے وقفے میں چلنے والے ایک نامناسب گانے کو skip کرنے کی بجائے اسے دیکھ رہے تھے، مجھے غصہ اس بات پہ ہے کہ آپ نے اسے مجھ سے چھپانے کی کوشش کی ،آپ مجھ سے اور اپنی ماں سے وعدہ کرو کہ آپ آئندہ سے کوئی چیز مجھ سے چھپانے کی کوشش نہیں کرو گے، اس کے چہرے پہ اطمینان دیکھ کر میں نے اسے باہر بھیج دیا۔

اب یہاں میں جنسی تعلیم کے بارے مذہبی طبقے کیجانب سے تشویش ظاہر کی جانے والی باتوں پہ کچھ کہنا چاہونگا جو کہتا  ہے  کہ مغربی تعلیمی اداروں میں جنسی عمل کو جنسی تعلیم میں شامل کرنا بے حیائی اور ناپسندیدہ عمل  ہے۔

میں نے اگرچہ اپنے بچے میں اسکی عمر کے حساب سے کوئی بے جا تجسس نہیں پنپنے دیا  اور مجھے اس نے کبھی شکایت کا موقع بھی نہیں دیا لیکن اب شاید اس میں بلوغت کے آثار پیدا  ہونے کے دن ہیں اس لیے وہ لاشعوری طور پہ کچھ ایسی چیزوں میں دلچسپی لینے لگا ہے  جن کی طرف اسکے جسم میں پیدا  ہونے والے مادے اسے متوجہ کر رہے  ہیں اب اگر میں جس نے اسکے ذہن میں کبھی جنسی تجسس پپدا نہیں ہونے دیا اس موقع پہ اپنی پرانی پالیسی کو بدل دوں اور مرد عورت کے بوسے ، ہم کنار ہونے سے اگلے ممکنہ مرحلے کے بارے اسے شرم و حیا کے نام پہ آگاہ نہ  کروں تو کیا  ہو گا ؟ یقیناً اس میں وہی تجسس پیدا  ہو گا جس سے میں اسے آج تک بچاتا آیا ہوں اور وہ ان سب معاملات کو نارملی لیتا رہا ہے  لیکن اب اگر میں اسے خود آگاہ نہیں کرونگا تو وہ “خطرناک تجسس” میں مبتلا ہو کر اس جانکاری کو فلموں ، دوستوں یا کسی ایسے ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جہاں اسے صرف جانکاری ملے گی اور شاید یہ جانکاری غلط طریقے سے ملے لیکن اس جانکاری کے ساتھ اسے مناسب ہدایات نہیں مل سکیں گی اور جانکاری حاصل کرنے کا یہ عمل اسے غلط رستوں پہ لے جا سکتا  ہے  (ہماری نسل اکثر غلط رستہ ہی اپناتی  ہے) کل کے اس واقعے نے مجھ پہ مغربی طریقہء جنسی تعلیم میں جنسی عمل کو شامل کرنے کی ضرورت آشکار کی  ہے بالغ بچوں کی جنسی تعلیم میں اس عمل کو بتانے کی حکمت یہی  ہے، کہ بچے اوّل تو اس عمل کو بھی زندگی کی نارمل روٹین کا ایک حصہ سمجھیں اور دوم وہ اس سے جڑی ضروری ہدایات قبل از بلوغت حاصل کر سکیں ۔

میں یہاں اپنی ایک رشتے دار خاتون سے جو برطانیہ میں رہتی ہیں حاصل کی گئی کچھ معلومات بھی شیئر کرنا چاہونگا ۔

انکی بیٹی اب چودہ برس کی  ہے ، اسے جنسی تعلیم حاصل کیے دو برس گزر چکے ہیں میں نے پوچھا کیا اس تعلیم کو حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنی بیٹی میں کچھ تبدیلی دیکھی اور اگر ہاں تو کیا یہ مثبت تھی یا منفی ۔ خاتون کا کہنا تھا کہ میں اگر اپنے اس دور کا جائزہ لوں جو میں نے بطور جوان عورت پاکستان میں گزارا تو مجھے یہ تعلیم نعمت محسوس ہوئی اور میں نے اپنی بیٹی کو اسے دینے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جبکہ ہماری اکثر پاکستانی فیملیز اپنے روایتی مذہبی تصور کے تحت اسے مسترد کرتی ہیں اور اس بارے غور کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں انکا کہنا تھا کہ میری بیٹی بالکل نارمل  ہے، بلکہ مجھ سے زیادہ پراعتماد  ہے، کیونکہ اسے یہ اطلاعات درست وقت پر درست ہاتھوں سے موصول ہوئی ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

میں نے اسے کہا ہے، کہ اٹھارہ برس کی عمر تک ہو سکے تو جنسی عمل سے پرہیز کرنا اس سے پہلے اگر نہ  برداشت کر پاؤ تو حاملہ ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور ہو سکے تو کسی ایسے  لڑکے کو پارٹنر بنانا جس کے ساتھ تمہاری طبیعت عادات سہولت محسوس کریں اور جو تمہارے ساتھ طویل ریلیشن شپ کے لیے تیار ہو نا کہ محض فلرٹ  ہو،لیکن بہرحال یہ تمہاری زندگی ہے۔ انسان تجربے سے بھی سیکھتا ہے، تم پہ میں زبردستی نہیں کروں گی ،یہ نہ   ہو کہ تم کسی غلط شخص سے ریلیشن شپ بنانے کے بعد دکھ محسوس کرو۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply