انتظا ر حسین-پر یو ں کے د یس سے(2،آخری حصّہ)۔۔۔رابعہ الرُّبا

انتظا ر حسین اپنے افسانو ں میں اشعار کا استعمال کرتے ہیں۔ مصرعوں کا استعما ل کرتے ہیں۔ اور زیادہ تر اساتذہ کے مصروں کا استعما ل کرتے ہیں۔ شاید اس لئے بھی کہ اساتذہ شعراء کا دور بھی پُر آشوب تھا، اور انتظار صاحب کے من کا دور بھی پُر آشوب ہی رہا۔ ایک جگہ ہجرت کے حوالے سے انتظار حسین لکھتے ہیں ”اسلامی تاریخ میں یہ تجربہ با ر بار خود کو دہراتا ہے اور خارجی اور با طنی دکھ درد کے طویل عمل کے ساتھ ایک تخلیقی تجربہ بن جاتا ہے۔

مختصر یہ کہ ہجرت ان کا عنصر لازم و جزو لازم ہے۔ خواہ جسمانی ہو یا ذہنی اور ان دونوں ہجرتو ں سے پیدا ہو نے والے مسائل و مصائب و حالات و واقعات کو انہو ں نے اپنے منفرد انداز میں تحریر کیا ہے۔ ڈاکٹر انور سدید رقم طراز ہیں۔
”انتظار حسین حلقہ ارباب ذوق کا سب سے ذہین اور ماہر افسانہ نگار ہے۔ گزشتہ ربع صدی میں اس نے اردو افسانے میں تجسم، تجرید اور علامت نگاری کے متعدد تجربے کئے اور یوں وہ اردو افسانے کی نئی جہت کا پیش ر و شمار کیا گیا۔

tripako tours pakistan

کنکری سے شہر افسوس تک انتظار حسین کے فن نے متعددمراحل طے کئے ہیں۔اور وہ ہر مرحلے پر اپنے فن کا واحد نمائندہ ثابت ہوئے ہیں ،انتظار حسین کا افسانہ متجسس فرد کے باطن کا آئینہ ہے۔
(اردو ادب کی تحریکیں۔۔۔۔۔ص۶۸۵)

واقعہ نگاری، جزیات نگاری، منظر نگاری مکالمہ نگاری کے عمدہ فن نے ان کے افسانے کو روح بخش دی۔ ایک منظر دیکھیے، اور اس واقعہ میں موجو د جہتو ں کو سمجھیے داد و تحسین کے الفاظ نہیں ملتے۔
”پہلے آدمی نے اپنے باپ کاذکر کیا تو دوسرے کو بھی اپنا باپ یاد آگیا۔ میر ا باپ بھی اسی سادگی سے مرا تھا۔
میں نے اس کے پا س جا کر اس کی شفقت پدری کو اکسانے کی کو شش کی اور رقت کے ساتھ کہا اے میرے باپ تیرا بیٹا آج مر گیا۔ با پ میری مسخ صورت کوتکنے لگا اور پھر بو لا کہ اچھا ہو اکہ تو میرے پا س آنے سے پہلے مر گیا۔ یہ سب کچھ کر نے اور دیکھنے کے بعد بھی تو زندہ آتا تو میں تجھے قیامت تک کا بو جھ اٹھانے کی بس دعا دیتا۔
(شہر افسوس۔۔۔۔ ص۱۱۲)

انتظا ر حسین اور شہر زاد
”شہر زا د، انتظار حسین کا یہ افسانو ی مجمو عہ ۲۰۰۲ میں سنگ میل سے شائع ہو ا۔ یہ ان کے تخلیقی ادبی ارتقاء کا ایک اور منظر نا مہ ہے۔ جس میں بدلتے ملکی حالات کا منظر نا مہ اور انسان کی داخلی صورتحال بھی نظر آجا تی ہے۔ اس افسانوی مجمو عے میں سترہ افسانے شامل ہیں۔ جن میں تاریخ، بد لتے حالات، انسانی کیفیات و نفسیات، اساطیر گو یا ان کے فن کی تما م تر خصوصیات مو جو د ہیں۔ جو ان کو باقی افسانو ی منظر نا مے میں سب سے منفرد کر تی  ہیں۔
“دائرہ”

دائرہ، اس مجمو عے کا پہلا افسانہ ہے۔ جو اپنی تکنیک کے اعتبا ر سے یادداشتیں ہیں۔ جہا ں انتظار صاحب دائرے کی صورت ما ضی کے کھنڈرات میں سفر کرتے نظر آتے ہیں۔ کہا نی میں سراپا نگاری اور مافوق الفطرت یا ماورائے حقیقت واقعات نے داستانوی خوبی پیدا کر دی ہے۔ جو ان کا خاص رنگ ہے۔مگر اس میں بھی تاریخ کے ہلکے پھلکے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ جو اس کی اہمیت کو بڑھاتے ہیں۔ شاعرانہ نثر سے خوب کا م لیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ وصف ان کے ہا ں کثرت سے دکھائی دیتا ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ وہ محاوروں کا بھی بھر پو ر استعما ل کر تے ہیں۔ اگر ایک جملے میں ان کے اس افسانے کو سمیٹوں تو وہ یہ ہو گا”یہ کہا نی انتظار حسین کی یاداشتو ں کا ایسا مجمو عہ ہے، جس میں ان کا ما ضی سانس لیتا محسو س ہو تا ہے اور تاریخ ایسی کہ جس کو دیمک نے نہ چاٹا ہو۔ بلکہ محفوظ آثار قدیمہ میں بد ل گئی ہو۔

“مورنامہ”
یہا ں بھارتی راجھستا نی مو رو ں کا تذ کر ہ ملتا ہے۔ ایک مختصر سے راجھستانی سفر نا مے کا گمان ہو تاہے۔ جے پو ر ’پنک سٹی، وہا ں کا حسن، وہا ں کے مو ر، وہا ں کے راج ہنس، اور مو جو دہ ایٹمی دور کے اثرات کو بہت درد مندی سے پیش کیا گیا ہے۔

یہ بہت بڑی علا متی و المیا ئی کہا نی ہے کہ فکر رسا رکھنے والے اور حساس قاری اس کو پڑھ کر مسوس ہو ئے بنا نہیں رہ سکتے۔ ایٹمی دھما کے کا پس منظر، مو روں کو علا مت بناتے ہو ئے یہ بتا نا کہ وہ دھما کے سے قبل کی چہکا ر کو بھو ل کر اب گو نگے ہو گئے ہیں۔اس میں کس قدر گہرائی و گیرائی و معنو یت ہے۔ کہا نی میں سیاسی رنگ بھی در آتا ہے، اور مستقبل کے اندیشے بھی نظر آتے ہیں۔

عراق و امریکہ کی جنگ کی ہو لنا کی کو بھی بیا ن کیا گیا ہے کہ احساس بیدار کیا جائے کہ جنگ سلامتی نہیں، تبا ہی ہے۔ اس سے کبھی انسانیت کو فلا ح نہیں ملی، نسلیں شانت نہیں ہو ئیں۔ اس کی  وضاحت کے لئے’مہا بھارت،سے واقعات اور ’ہیرو شیما، کی تبا ہی کا منظر پیش کر نے کا مقصد فقط جنگ کی ہو لنا کیو ں کے بارے میں آگا ہ کر نا ہے۔ ایٹمی تجربات کے باعث پیدا ہو نے والے ایک بہت بڑے اندیشے کا انہو ں نے کما ل خو بی سے بیان کر دیا ہے۔

“شہر زار کی مو ت”
یہ ایک خوبصورت کثیر جہتی افسا نہ کا ہے۔ داستانو ی رنگ اس کو بو جھل نہیں کر تا، اس میں روح پھو نکنے کا کا م کر تا ہے۔ بعض اوقات نا مساعدحالات ہی انسا ن کے لئے سود مند ہو تے ہیں۔ وہ اس کو بہا در اور با عمل بنا دیتے ہیں۔ یہ فا نی زندگی      بہت  ظالم شے ہے، جینے کے لئے انسا ن سولی چڑھ کے بھی جی لیتا ہے۔ شہرزاد بھی یو نہی جیتی ہے۔ اس کی مو ت اس کی زندگی بنی رہی۔

دوسرے معنی میں تخلیق بعض اوقات فقط وقت و حالات کی وقتی پیدا وار ہو تی ہے۔ اگر حالات ساز گار ہو جائے تو یہ الٹے پیر پلٹ جا تی ہے۔ یہا ں کہانی میں مو جو دہ انسا ن کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ کہا نی میں دلچسپی بھی باکل ویسے ہی ہے جیسے الف لیلی کا لطف آتا ہے۔ اس کہا نی کا بہترین حصہ اس کا اختتا م ہے۔ جس میں کئی کہا نیاں سانس لیتی نظر آتی ہیں۔ زندگی اور مو ت کی ایک اور ہی تصویر دکھا ئی دیتی ہے
”اے با د شاہ، اے میرے سرتاج، شہر زاد غم زدہ آواز میں بو لی۔ تو نے میری جا ن تو بخش دی مگر مجھ سے
میری کہا نیاں چھین لیں مگر میں تو ان کہا نیو ں میں زند ہ تھی۔ وہ کہا نیاں ختم ہو ئیں تو سمجھو میری زندگی ختم ہو گئی،
شہر زاد کی مو ت اصل میں یہ ہے، وہ نہیں تھی کہ اس کو قتل کر دیا جا تا۔ اس افسا نے میں اساطیر کے اندر ایک تخلیق کا ر کی زندگی کی حقیقت ہے۔

“ریز رو سیٹ”۔
اس کہا نی میں ایک طر ف تو مو جو دہ حالات کی گھمبیرتا ہے تو دوسری طر ف یہ افسانہ روحانی و نفسیاتی بھی ہے۔ اس افسانے میں انہو ں نے ثابت کیا ہے کہ خواب ایک علم ہے۔ اس کو ہم محض “نفسیاتی” عارضہ سمجھ لیتے ہیں۔تو ایک طرف بظاہر ملک کے مو جو دہ حالات پہ تبصرہ ہے کہ نو جو ان دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، زندگی میں داخل ہو نے سے قبل موت کے سفر ہی چلے جا تے ہیں۔ جس کے با عث عمر رسیدہ افراد معاشرہ کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے، کہ نو جوان جن کے کا ندھو ں پہ قومو ں کا مستقبل ہو تا ہے، وہ نا کا فی ہو ئے تو قوم آگے کیسے بڑھے گی؟ترقی کیسے ہو گی؟ خوف کی فضا میں زندگی سانس کیسے لے گی؟
”وارد ہو نا شہزادہ تورج کا شہر کا غذ میں اورعاشق ہو نا ملکہ قرطاس جادو پر،
داستا نو ی رنگ میں لکھی گئی کہا نی سفر سے شروع ہو کر سفر پہ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ عام سی کہا نی لگتی ہے مگر اس میں پرت در پرت گہرائی ہے، پرت در پرت راز ِ زیست ہیں۔ انسانی نفسیات کا عمیق مشاہدہ ہے، عمل و ردعمل کا دائرہ فطری ہے، انسا ن کو معلو م ہی نہیں ہو تا کہ اس کے اپنے کئے گنا ہ اور نا انصا فیا ں خوف و نا کامی بن کر اس کا پیچھا کرتے ہیں اور انسان کو مظلو م کی بد دعا اور آہ لگ جا تی ہے۔

شہز ادے نے اسلام کی آڑمیں بہت سو پر ظلم کئے جبکہ اسلام (یا کو ئی بھی مذہب ہو) صرف امن ہے۔ تلو ار کی ہر جا و ہر وقت اجازت نہیں دیتا۔ دین فطرت کسی کے ساتھ ’زبردستی، کو نہیں ما نتا۔ مگر وہ ہر جا زبر دستی، طاقت آزمائی کر تا ہے۔وہ شہزادی مہتاب کو اسلام قبول کرواتا ہے، اس کے ساتھ وصل کے رنگین لمحے گزارتا ہے۔ تو شہزادی کو اس سے انس ہو جا تا ہے، پھر وہ اس کو روتا ہوا چھوڑ کر اپنے اگلے نا م نہا د جہا دی سفر پہ روانہ  ہو جاتا ہے۔ وہ جہا ں جا تا ہے اسلام قبول کروا کے شہزادیو ں سے وصل کر تا ہے، مگر شہزادی مہتاب سے وصل کے بعد اس  کا  وصل ایک خواب ہی رہ جا تا ہے۔ یہ ایک آہ تھی، جو اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ کہ اسے اگلی بستی میں کا غذ کی شہزادی ملتی ہے۔ آج کی دنیا میں دیکھیں توفلرٹ کے نا م پہ کتنے دل دکھا کر، آگے بڑھ جانے والے لو گوں کی ازدواجی زندگی کبھی خوشگوار نہیں گزرتی۔ کئی آہیں، اور بد دعائیں ان کا پیچھا کر تی رہتی ہیں۔مگر ہم سمجھنے کو تیا ر نہیں۔

مکا فات عمل اور اللہ کی خامو ش لاٹھی، انسا ن اس کو اپنی طاقت کے غرور میں بھلا بیٹھتا ہے۔ یہا ں انتطار حسین نے اس کو آرٹ بنا دیا ہے۔ آخر میں محسو س ہو تا ہے کہ شہزادہ اندر سے کھو کھلا و خوف زدہ ہو گیا ہے اور مزید سفر خوف اور لا حاصلی کا ہے۔ وہ کا نٹے جو اس نے دوسروں کے لئے بو ئے تھے وہی اس کے بدن پہ چبھ رہے ہیں۔

“ہم نو الہ”
ایک معصوم جذبو ں سے گندھی کہا نی ہے۔ انس و محبت عشق میں کب بدل جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہو تا۔ اور یہ جذبہ انسان سے انسان تک بھی محدود نہیں ہے۔
جوبھی زندگی میں خوشی و رنگ کا با عث بنتا ہے، زیست کو زیست کر نا آسان کر دیتا ہے، انسان اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اس کے بچھڑنے سے کھو کھلا و ادھو را ہو جا تا ہے۔ اس کو بھو ل جانے  کے رستے تلاشتا ہے مگر نا کا م رہتا ہے۔ ہمیں کسی کی مو جودگی کا احساس اس کے جا نے کے بعد ہو تا ہے۔ یہا ں انتظا ر صاحب نے ایک اور خوبصورت نقطہ واضح کیا ہے کہ جا نو روں کے بھی احساسات و جذبات ہو تے ہیں، جن کا وہ اظہا ر بھی کر تے ہیں۔ پا لتو جا نو ر اور پر ندے تو کبھی کبھا ر انسانو ں سے بھی زائد شدت سے اظہا ر کرتے ہیں، مثلاََ طو طے کو ایک دن بے توجہی کا ایسا احساس ہو ا کہ اس نے دن بھر کچھ نہیں کھا یا۔ انتظا ر حسین کے جا نو روں اور پر ند وں کے کردار انسانو ں سے زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ جو انسا ن کے بھی تغیر کا با عث بنتے ہیں۔

“ما نو س اجنبی”
یہ افسانہ پچھلے افسانے کا ہی شاخسانہ معلو م ہو تا ہے۔ گرچہ اس کی نو عیت قدرے مختلف ہے۔ انتظار حسین نے یہ با ور کروانے کی کا میاب سعی کی ہے کہ انسان کے اضطراب کی وجہ فطرت سے دوری ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ جو سکو ن دیتی ہے، وہ مو سیقی میں نہیں، انسان اپنی فطرت نہیں سمجھ پا رہا، جس کو وہ ترقی کہہ رہا ہے، وہ ترقی نہیں، اضطراب ہے، بے سکو نی ہے، مشکلات و پریشانیوں  کا سبب ہے۔ یہ ترقی دھیرے دھیرے اللہ کی مخلو ق زمین پہ معدوم کر رہی ہے۔ گو یا انسان خود اپنی فنا کی طر ف ترقی کے نا م پہ تیزی سے سفر کر رہا ہے۔وہ خود فطرت سے ہٹتا جا رہا ہے، خود اپنا مستقبل خراب کر رہا ہے،خود آلو دگی بڑھا رہا ہے، خوددرخت کا ٹ کر، ما حول کو خو د اپنے ہا تھو ں سے خراب کر رہا ہے۔ آہ۔۔یہا ں بین السطو ر فکر و غم کی اک دنیا آباد نظر آتی ہے۔
افسانے میں منظر نگاری بہت پْر لطف ہے۔

“اللہ میا ں کی شہزادی”
یہ افسانہ ماضی اور حال میں بیک وقت سفر کر تا ہے۔ پنن اس کہانی میں انتظار حسین کا اپنا ہی کردار محسوس ہو تا ہے۔ جو کم عمری کے ما ضی میں اپنا آپ تلا ش کر کے خوش ہو رہے ہیں۔ یہ سب یا د کر کے ان کے اندر مسرت کی لہریں دوڑ جا تی ہیں کہ ماضی کتنا خوبصورت تھا۔ جب سرحدیں نہیں تھیں، تو یہ مو جو دہ مسائل بھی نہیں تھے۔ سرحدیں کھنچ جا نے کے بعد حالات و واقعات بدلتے ہیں تو انسا نی سوچ بھی بدل جا تی ہے۔ حال کے مسائل اور مصا ئب و وحشتیں مل کر خوبصورت ما ضی کو بھی دھندلا کر دیتے ہیں کہ وہ پو ری تو جہ سے ما ضی میں یا دوں کے ذریعے بھی سفر نہیں کر پا تے۔

“جبا لا کا پو ت”
یہ افسانہ انسان پر طنز ہے۔ اس کے اشرف المخلوقات ہو نے پہ طعنہ ہے کہ یہ تعلیم اس کو سدھارنے کی بجا ئے اس میں بگاڑ پیدا کر رہی ہے۔ اس تعلیم کا کیا فائد ہ؟ انسا نو ں سے اچھے تو جانو رہی ہیں، جو کم از کم دوسروں کے لئے نقصان کا با عث تو نہیں بن رہے۔ انسا ن جس کو علم و دانش سمجھ رہا ہے، وہ علم ہے ہی نہیں۔

“کلیلہ نے منہ سے کیا کہا؟”
اس میں انتظار حسین نے مو جو دہ سیا سی نظام اور سیا سی کردارو ں کا نقشہ بہت ہی جا نبداری اور مہا رت سے کھینچا ہے۔ یہ با ور کر وانے میں کا میا ب نظر آتے ہیں کہ کو ئی بھی جاندار کہیں بھی پہنچ جا ئے، کچھ بھی بن جائے، اس کی خصلت نہیں بدلتی۔ اگر چوہا ہے تو چو ہا ہی رہے گا۔ گیدڑ ہے تو گیدڑ ہی رہے گا۔ انسان بھی خمیر ہی سے جڑا رہتا ہے۔ اس کا خمیر بد لے نہیں بدلتا، اس پر وہ ملمع کا ری تو کر لیتا ہے، مگر وقت آنے پر اس کا رنگ اتر جا تا ہے۔لہذا انسا ن کو اپنی خصلت نہیں بدلنی چاہئے، وہ خمیر سے بیڑ لے گا تو نقصان اس کا اپنا ہی ہو گا۔
یہ کثیر جہتی افسانہ ہے جو قومی معاملات سے شروع ہو کر بین الاقوامی سطح تک دیکھا جا سکتا ہے بلکہ اس کا کا ئنا تی سطح پر بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے بس ذرا بصارت سے بصیرت کا سفر درکا ر ہے۔
”دمنہ کیو ں ہنسا، کلیلہ کیو ں رویا،

یہا ں با ت جا نورو ں پرندو ں کی ہے، مگر مخا طب انسا ن ہے۔ علا متی افسا نہ ہے۔ عصری صورتحال کے پس منظر میں ہے۔ بد لتے ہو ئے معاشرتی و سیا سی حالا ت کی علا متی عکا سی ہے۔ ان شر پسند و ں کی نشا ہدہی ہے جو امن و سکو ن کو خراب کر تے ہیں اور پھر اس کو مسلسل خواب رکھنے میں بھر پو ر کر دار ادا کر تے ہیں۔ ملک کی سیاسی جما عتو ں نے سیاست کو جو تما شابنا رکھا ہے اس پہ بات ہو ئی ہے اور اس تما شے کی وجہ کو ئی با ہر کا تیسرا فریق آکر اپنی جگہ بناتا ہے تو بھی ہم با ہر والو ں کو الزام دیتے ہیں اپنے گریبانو ں میں نہیں جھانکتے۔ حالات یہ ہیں کہ دعوے وفا کے سب کر تے ہیں، مگر مو قع ملنے پہ، کو ئی بھی مو قع ہا تھ سے نہیں جانے دیتا۔ اس صورتحا ل میں دوسروں کو ملک کے داخلی معا ملات میں دخل اندازی کی اجازت اور مو قع دے کر خود اپنے پیرو ں پہ کلہا ڑی مارنے کے مترادف ہے۔ خود ملک کا امن برباد کر نے والی بات ہے۔انتظار صاحب نے بہت سادگی و پْر اثر انداز میں اتنی بڑی با ت بیا ن کر دی ہے یہی ان کا فن ہے۔
”کلیلہ دمنہ ہٹ لسٹ پر،،
یہ افسانہ پچھلے ہی افسانے کا شاخسانہ ہے۔ جس میں انتظار حسین ملکی حالات پہ مسوس ہیں۔ افسانہ بظاہر جا نو رو ں پرندوں کے منظر میں سیا سی فرشتو ں کی طر ف اشارہ ہے۔ جہا ں منافقت عام ہے، سیاست دان کہتے کچھ ہیں اور کر تے کچھ ہیں۔ تعلیم و روشن خیا لی کے نا م پہ ڈگری تو قبو ل کی جا تی ہے۔مگر روشن خیال ذہین قبو ل نہیں کیا جا تا، کیو نکہ یہ قدامت پسندوں کی،جا گیر وں، ان کی حکو متو ں و حکمرا نی کے لئے خطر ہ ہے۔ وہ غریب کوان پڑھ رکھ کر ہی اپنے مقا صد پو رے کر تے رہے ہیں، ان کو ان کے قد مو ں پہ کھڑا ہی نہیں ہو نے دیتے۔ پھر بھی اگر کو ئی روشن خیال و ذہین، علم سے لبریز فرد آگے بڑھتا دکھا ئی دے تو اس کو کسی نا کسی چکر میں پھنسا کر ختم کروا دیتے ہیں۔رستے سے ہی ہٹا دیتے ہیں۔ کیو نکہ یہ شعور کی پہلی سیڑھی ان کے لئے خطرہ ہے۔ اور وہ کو ئی خطر ہ مو ل لینا نہیں چاہتے، جو ہے، جیسے ہے کہ بنیاد پہ خا لی خْو لی نعرو ں سے اپنا کا م چلا نا چاہتے ہیں۔
”کلیہ چپ ہو گیا،،
یہ افسا نہ بھی پچھلے تین افسانو ں ہی کی ایک کڑی ہے۔ مگر یہا ں ملکی حالات کے باعث ما یو سی کہ ایک لہر نظر آتی ہے۔ تبدیلی کی امید دم توڑتی دکھا ئی دیتی ہے۔ خود غرضی، بے اعتما دی، منافقت، بد امنی، بے حیائی، انسانی بے تو قیری، بے قدری، اور اس طرح کے رویو ں سے بڑھتی ہو ئی ما یو سی، با شعور افراد کو یہ سو چنے پہ مجبو ر کر دیتی ہے کہ خامو شی بہتر ہے۔ بہتری کی بات کرنا،بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔
”چاہیا نے کیا کھا یا کیا پا یا،،
اس کہا نی میں علم کی اہمیت اور اس کی اصلیت کو بیا ن کیا گیا ہے۔ علم ڈگری کا نا م نہیں یہ رویے کا نا م ہے۔ معلو مات اور علم میں بھی واضح فرق ہے۔ اس وقت ہم جس ڈگر پہ ہیں یہ معلومات تو ہو سکتی ہیں علم نہیں۔ انتظار حسین نے علم کو صوفیو ں۔ ولیو ں کے درجا ت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کا خیا ل ہے کہ علم تو عاجزی پیدا کر تا ہے، انکساری سکھاتا ہے، احترام آدمیت کے کا درس دیتا ہے۔ جو علم غرور پیدا کر دے، وہ علم نہیں۔ کہ پھلو ں والی ڈالی تو ہمیشہ جھکی ہو تی ہے۔

”مہا جن کے بندروں کا قصہ،
پو ری دنیا کے بدلتے حالات سے جو ایک گلو بل ویلج بن رہا ہے، یہا ں انتطار صاحب اس کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس ترقی سے انسا ن اپنی شنا خت کھو رہا ہے۔ نئی نسل کی نئی روش سے وہ فکر مند نظر آتے ہیں۔

”میرے اور میری کہا نی کے بیچ،
بڑے تخلیق کا ر کی بصیرت بھی وسیع ہو تی ہے اس کا دردبھی کئی گنا ہو تا ہے۔ یہا ں بھی ایک ایسا ہی مصنف سکتے کے عالم میں ہے۔ پاکستا ن و ہندوستا ن کے ایٹمی پاور بننے پہ تشویش کا اظہا ر، صنعتی ترقی کے نا م پہ زوال کی کہا نی، روس کے ٹوٹنے کا تذکرہ، جیسے قیا مت ان کی آنکھو ں کے سامنے اپنا درد بھرا رقص کر رہی ہو۔ اور اس درد سے اس کی تخلیق ان سے دور چلی گئی ہو۔ لکھتے ہیں
”مجھے کہا نی لکھنے کے چھو ٹے سے مقصد سے آگے کو ئی مقصد ہی نظر نہیں آتا اور اب میری کہا نی بھی ایک بحران سے دوچار ہے۔ جب قلم اٹھاتا ہو ں تووہ چا غی کا پہا ڑ میری آنکھو ں کے سامنے آن کھڑا ہو تا ہے۔ مگر مجھ پر تو اس کا اثر وہی کوہ ندا کی پکا ر والا ہو تاہے تو میری صورت یہ ہے کہ ایٹم بم کے سحر میں نہیں ہو ں۔ اس پہاڑ کی اذیت بھری ہیبت میں سانس لے رہا ہو ں۔ اس اذیت سے لبریز ہیبت سے نکلو ں تو کہا نی لکھو ں۔ میرے اور میری کہا نی کے بیچ یہ درد رسیدہ پہا ڑ آن کھڑا ہو ا ہے”۔

“شہر زاد کے نام”
کہا نی کی بات ہو ا ور شہر زاد کی با ت نا ہو ممکن نہیں۔ اور انتظا ر حسین کا ذکر ہو اور شہرزاد  کا نہ  ہو یہ بھی ممکن نہیں۔ اس مضمو ن نما کہا نی میں انتظار حسین شہر زا د کو اپنے انداز مخصوص میں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ کہ اس نے ایک ہزار راتیں خوف کے عالم میں کہا نی کہتے گزار دیں۔ اس سے بڑا کہا نی کا ر کو ئی نہیں ہو سکتا۔ مو ت کے سائے میں کہا نی کہنا کما ل فن ہے جو فقط الف لیلی کی شہرز اد کے ہا ں ہی ملتا ہے۔
انتظار صاحب سے ان حالت کے با عث کہا نی لکھی ہی نہیں جا رہی۔ یہ وہ حالات ہیں، جن کا ذکر انہو ں نے اپنی اس کتا ب میں موجو د اکثر افسانو ں میں کیا ہے۔قلم کا ر کا قلم رک جا نا ایک اذیت ہے۔ اور اس اذیت کوقلم کا ر ہی سمجھ سکتا ہے، یہا ں اس کرب زدہ قلم کا ر کا درد مو جو د ہے۔ جو اس درد میں شہر ذاد کو یاد کر تا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

یہ انتظا ر حسین کی ایک کتا ب ہی نہیں ایک دور ہے، ایک تاریخ ہے۔ جو تاریخ مصلیحت کے قلم سے رقم نہیں ہو ئی۔
مجھے پھر انتظا ر صاحب سے وہ آخری ملا قات یاد آگئی۔ جب اس صدی کا ”شہر زاد، اپنے چاہنے والو ں کے جھر مٹ میں تھا۔ اور چند ما ہ بعد کی وہ خبر کہ وہ اپنے داستاں سرائے میں لوٹ گیا
تب نم آنکھیں بس اتنا لکھ پا ئیں
تو۔۔۔ بس۔۔۔ یہ آخری ملا قات تھی۔۔۔
سفر میں ہیں ہم بھی۔۔۔ آپ چلیے۔۔۔
ہم بھی اپنا وقت پو راکر کے آ رہے ہیں
مجھے ’شہزاد احمد، بھی یا د آگئے
کہتے تھے۔۔۔ تم نہیں آ سکو گی اور میں چلا جاؤں گا
اور
انتظار صاحب۔۔۔
میں اب بھی نہیں آ سکی، اور آ پ بھی چلے گئے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply