روس کے خلاف یورپی یونین کی سرد جنگ کی وجوہات۔۔مہدی خرسند

امریکہ کی ڈیموکریٹک حکومت کی جانب سے یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلانسکی کو روس کے خلاف اشتعال دلانے کے نتیجے میں یوکرائن اور روس کے درمیان سرحدی تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر چکا ہے۔ دوسری طرف یورپی ممالک بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد عالمی سطح پر امریکہ کی خارجہ پالیسی میں زیادہ کردار حاصل کرنے اور فعالیت دکھانے کی غرض سے اس تنازعہ کے میدان میں کود پڑے ہیں۔ سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت میں یورپ امریکہ پر ایک بوجھ کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ سرکاری طور پر یورپی ممالک سے بین الاقوامی سطح پر امریکہ سے تعاون بڑھانے اور مالی اخراجات میں زیادہ حصہ ڈالنے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ امریکی صدر کا یہ مطالبہ برسلز کو زیادہ پسند نہ تھا۔

ٹرمپ حکومت کے زمانے میں امریکہ اور یورپ کے درمیان تعلقات شدید تناو کا شکار ہو گئے تھے اور حتی بعض اہم یورپی ممالک کے سربراہان علیحدہ یورپی فوجی اتحاد بنانے کی باتیں کرنے لگے تھے۔ لیکن امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست اور جو بائیڈن کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی میں بھی یکطرفہ سوچ اور اقدامات چھوڑ کر سب کو ساتھ ملا کر آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ لہذا اس نئی صورتحال کے پیش نظر اب یورپی ممالک عالمی سطح پر امریکہ کی توجہ حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ جب روس نے یوکرائن کی جانب سے اپنے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں پر فوجی حملے کا خطرہ محسوس کیا تو اس نے روک تھام کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پہل کی اور سرحد پر فوجیں تعینات کر دیں۔

tripako tours pakistan

ایسی صورتحال میں امریکہ نے یوکرائن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے روس کے خلاف اسے مزید شہہ دینے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور یورپی ممالک بھی واشنگٹن کی پیروی کرتے ہوئے یوکرائن کو روس کے خلاف آشیرباد دینے میں مصروف ہیں۔ مارچ کے آخر میں یوکرائن کے فوجی سربراہان نے روس کی جانب سے سرحدی علاقوں میں تعینات فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے کو اپنے ملک کی قومی سلامتی کیلئے خطرناک قرار دیا تھا۔ اسی طرح انہی دنوں میں یوکرائن کی فوج نے دونباس کے علاقے میں خودمختار ریاست ڈانتسیک کی فورسز پر حملے بھی کئے تھے۔ روس نے سرحدی علاقوں میں فوج بڑھانے کے عمل کا مقصد اپنی سرحدوں کی حفاظت بیان کیا ہے۔ روس کے اس عمل نے یوکرائن، امریکہ اور مغربی ممالک کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

روس اور یوکرائن کے درمیان جاری تنازعے میں نیٹو بھی اپنا کردار بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ نیٹو کے ترجمان نے اخبار دی ویلٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے: “نیٹو یوکرائن کی حق خود ارادیت اور ملکی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک پوری توجہ سے یوکرائن کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح روس کی جانب سے سرحد پر تعینات فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے پر نیٹو میں یوکرائن کی رکنیت کی بات بھی سامنے آئی ہے جس کے خلاف روس نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ روس کی وزارت خارجہ نے یوکرائن کی جانب سے نیٹو میں رکنیت اختیار کرنے کی دھمکی کے خطرناک نتائج کے بارے میں خبردار کیا اور کہا کہ ایسا ممکنہ اقدام یوکرائن کی نابودی پر منتج ہو گا۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی کی دستاویز کے مطابق 2010ء کے بعد انڈو پیسیفک خطہ امریکہ کی خاص توجہ کا مرکز قرار پایا ہے۔ لہذا خطے میں امریکی اتحادی ممالک کو مزید طاقتور بنانے کی پالیسی بنائی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ابھر کر سامنے آنے والی نئی اقتصادی اور سیاسی طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مغربی دنیا میں رونما ہونے والے اقتصادی بحران اور کرونا وائرس کے باعث کووڈ 19 وبا کے پھیلاو نے امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک میں عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرنے کی سکت ختم کر دی تھی۔ امریکہ کے فوجی سربراہان کی جانب سے یوکرائن کے فوجی سربراہان سے مسلسل اور مشکوک رابطے مستقبل قریب میں روس اور یوکرائن کے درمیان سرحدی تنازعہ مزید شدید ہو جانے کی خبر دے رہے ہیں۔

امریکہ اور یورپ اس تنازعہ میں دو اہداف حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ پہلا مقصد روس کی شکل میں ابھر کر سامنے آنے والی ایک نئی طاقت کے ممکنہ ردعمل کو جانچنا ہے تاکہ اس کی بنیاد پر دیگر ممالک کے خلاف اگلے اقدامات انجام دے سکیں۔ اسی طرح خود کو چین سے بھرپور مقابلے کیلئے تیار کر سکیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک کا دوسرا مقصد جو زیادہ اہم ہے، امریکہ میں حکومت اور پالیسیوں کی تبدیلی کا اعلان کرنا ہے۔ امریکہ اس صورتحال کا محتاج ہے تاکہ یوں خود کو گذشتہ گوشہ نشینی سے باہر نکال سکے اور اپنے اتحادی ممالک کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکے۔ دوسری طرف یورپی ممالک بھی امریکہ کی توجہ اور حمایت چاہتے ہیں۔ جب روس نے جزیرہ کریمہ کا اپنے ساتھ الحاق کیا تھا تب یورپی ممالک یوکرائن کی کھل کر مدد نہیں کر سکے اور یہ خفت اب تک انہیں پریشان کر رہی ہے۔

Advertisements
merkit.pk

بشکریہ اسلام ٹائمز

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply