سیب کا آخری درخت۔۔حبیب عزیز

ہماری آبائی زمین پر یہ سیب کا آخری درخت ہے۔یہ درخت اس باغ کی آخری نشانی ہے جو کبھی ہمارے پرکھوں نے اس زمین پر لگایا تھا۔

اس درخت پر بہار آچکی ہے۔سردیاں جب رخصت ہوتی ہیں تو نئے پتے پھوٹتے ہیں۔کلیاں کھلتی ہیں جو آگے چل کر پھل کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ہر سال اس درخت پر ڈھیروں کلیاں کھلتی ہیں اور بہت سارا پھل آتا ہے۔اس پھل کی خاصیت اس   کا ذائقہ اور خوشبو ہے۔سیب کی یہ قسم گولڈن کشمیری سیب کہلاتی ہے جو ذائقے اور خوشبو میں بے مثال ہے۔اس اکیلے درخت سے کئی من پھل پیدا ہوتا ہے۔

tripako tours pakistan

یہ درخت بہت اداس ہے۔اس کا تنا  زخم زخم ہے۔اس کو علم ہوچکا ہے کہ شاید  یہ بہار یا اس سے اگلی دو تین بہاریں اس کی زندگی کی آخری بہاریں ہونگی۔اس کے تمام ساتھی رخصت ہوچکے ہیں۔سردیوں کی اداس راتوں میں یہ اب بالکل تنہا  ہوتا ہے۔اس کی کوئی دیکھ بھال نہیں کرتا۔اس سے کوئی پیار نہیں کرتا۔ سب کو صرف اس کے پھل سے مطلب ہوتا ہے۔

یہ درخت نہیں بلکہ ایک مٹتی تہذیب کا نوحہ ہے۔ایک ایسی تہذیب اور تمدن جس میں محنت سے اسی زمین سے اپنا رزق پیدا کیا جاتا تھا۔جس میں سادگی تھی آسانی تھی۔سب سے بڑھ کر مرد کوہستانی کی آزادی تھی۔وہ مرد کوہستانی جو کبھی کسی کی نوکری یا غلامی نہیں کرتا تھا۔کبھی دور دیس جاکر اغیار کے سامنے نہیں جھکتا تھا۔جس کو پہاڑوں اور جنگلوں کی مہک سے عشق ہوتا تھا۔
یہ درخت ایک ایسی نسل کی آخری نشانی ہے، جو بہت ایماندار ہوا کرتے تھے۔جن میں انسانیت اور آپس میں دکھ درد محسوس کرنے کا احساس ہوا کرتا تھا۔مہمان نوازی اور سادگی جن کا اوڑھنا بچھونا ہوا کرتا تھا۔

آج وہ نسل تقریباً  ختم ہوچکی ہے۔ ان کے وارث ہم ہیں جو غیر فطری آسائشوں کے ایسے اسیر ہوئے کہ ہماری زندگی بھی فطرت سے دور ہوگئی۔ماڈرن سائنس کی زندگی آسان کرنے والی ایجادات کے پیچھے بھاگتے ہوئے ہم سب مقابلے کی ایسی دنیا  میں پہنچ چکے جہاں کنکریٹ اور سیمنٹ کے مینار بنانا، لوہے کی بنی موٹر کار پانا اور گھر کو بیش قیمت سامان سے بھر دینا ہی زندگی کی معراج ہے۔
ایسے میں اس درخت کی دیکھ بھال کرنے کا مطلب وقت ضائع کرنا ہے۔ہمیں آسانی سے مارکیٹ میں چائنا کے سیب اور دیگر پھل مل جاتے ہیں تو پھر کیوں وقت ضائع کیا جائے؟

سیب کا یہ درخت بہت جلد مر جائے گا۔اس  کے پاس عمر کی نقدی ختم ہوچکی ہے۔مگر جاتے جاتے یہ درخت ہمیں یہ پیغام دے کر جارہا ہے کہ تمہارا انجام بھی اچھا نہیں ہوگا۔فطرت اور سادگی سے دور ہوکر تم انجانی بیماریوں اور دکھوں میں مبتلا  رہو گے۔پردیس جاکر جتنے مرضی پیسے کمالو مگر واپسی میں تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *