ایک بھولی بسری بغاوت۔۔رؤف کلاسرا

مشہور لوگوں کے بچوں کی زندگی بڑی مشکل ہوتی ہے۔ ان کے والدین کو سب جانتے ہیں۔ ان کے اچھے برے کارناموں کا بھی سب کو علم ہوتا ہے۔ ان پر رائے بھی دی جاتی ہے۔ بعض ساری عمر سکینڈلز بھی بھگتتے رہتے ہیں۔ مجھے اکثر ایسے بچوں ساتھ ہمدردری محسوس ہوتی ہے کہ انہیں بہت سا بوجھ اپنے والد کے فیصلوں کا اٹھانا پڑتا ہے جب وہ ان فیصلوں کا حصہ بھی نہ تھے اور نہ کبھی ان سے ان فیصلوں کے وقت مشاورت کی گئی تھی۔ وہ تو شاید پنگھوڑے میں جھولے جھول رہے ہوں یا دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے ہوں لیکن انہیں اس کا علم نہ ہو کہ برسوں بعد کسی روز ان کو اپنے والد کے ان فیصلوں کا دفاع کرنا پڑے گا جن کی خبر بھی انہیں شاید کسی اخبار سے ہوئی ہو۔ اب ایک بیٹے یا بیٹی کیلئے کیا آپشن ہے کہ اگر اس کے والد پر کوئی سکینڈل یا بُری خبر نکلے تو وہ کیا کرے؟ چپ رہے یا اس سکینڈل یا متنازع فیصلے کی وضاحت دینے کی کوشش کرے؟
ابھی دیکھ لیں میرے ساتھ انٹرویو کرتے ہوئے نیب کے پہلے پراسیکیوٹر میجر جنرل (ر) فاروق آدم کے بیٹے عمر آدم ساتھ یہی کچھ ہوا۔ آج کل ان کے والد پر براڈ شیٹ سکینڈل کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے بلکہ براڈ شیٹ سکینڈل کا لگتا ہے سارا ملبہ ان پر ہی ڈال دیا گیا ہے کیونکہ فاروق آدم خان اس وقت اپنا دفاع کرنے کیلئے اس دنیا میں موجود نہیں لہٰذا سب سے آسان ٹارگٹ فاروق آدم کو بنایا گیا ہے۔ نیب کے سابق چیئر مین جنرل (ر) محمد امجد نے بھی سب کچھ اپنے اس مرحوم پراسیکیو ٹر جنرل پر ڈال دیا ہے۔ خیر میں نے جب عمر آدم سے پوچھا کہ آپ کے والد نے نواز لیگ کے صدیق الفاروق کے بارے میں سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ انہیں نہیں پتا کہ وہ کہاں تھے کیونکہ نیب نے انہیں گرفتار کرنے کے بعد dump کر دیا تھا اور بھول گئے تھے۔اس پر عمر آدم نے بڑا اچھا جواب دیا۔ کہنے لگے کہ آپ ان کا کردار دیکھیں کہ انہوں نے عدالت میں جھوٹ نہیں بولا اور وہی کچھ کہا جو فیکٹ تھا۔ انہوں نے تو نیب کے بارے بتایا کہ کیسے وہ لوگوں کا اُٹھا کر گرفتار کر کے بھول جاتے تھے۔ ان کی صاف گوئی کو اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی appreciate کیا تھا کہ ادھر ادھر کی ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے وہی کچھ بتایا تھا جو سچ تھا؛تاہم عمر آدم نے کہا کہ میرا خیال ہے میرے باپ کو یہ ریمارکس نہیں دینے چاہئیں تھے۔ یہ سخت ریمارکس تھے۔ ان لفظوں سے بے حسی نظر آرہی تھی۔ اگر آپ فیکٹس بھی بتا رہے ہوں تو بھی یہ نہیں لگنا چاہئے کہ آپ کو کسی دوسرے انسان یا اس کے خاندان کی تکلیف کا احساس نہیں ہے۔
عمر آدم کی بات میں وزن تھا خصوصاً جب فاروق آدم خود اس صورتِ حال سے گزر چکے تھے جب برسوں پہلے انہیں بھی اسی طرح گرفتار کیا گیا تھا اور پھر کئی ماہ تک ان کا بھی پتا نہیں چلا تھا کہ وہ کہاں تھے۔اب برسوں بعد فاروق آدم کا بیٹا باپ کے ان فیصلوں کا جواب دے رہا تھا جن میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔لیکن ایک بیٹا کیا کرے‘ اگر وہ باپ کے اقدامات کی مذمت کرتا ہے تو بھی دنیا کہے گی کہ کیسا بیٹا ہے کہ باپ کو ہی غلط کہہ رہا ہے‘ اگر دفاع کرے گا تو بھی لوگ کہیں گے کہ باپ کے غلط کاموں کا دفاع کررہا ہے۔
امریکی سفارت کار رچرڈ ہالبروک پر اس کے انتقال کے بعد ایک ڈاکیومنٹری بنی تو اس کے بیٹے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس کا باپ قابل تھا لیکن اس میں بھی انسانی کمزوریاں تھیں‘ اس نے بھی کئی غلط فیصلے کئے لہٰذا اسے غیرمعمولی انسان بنا کر پیش نہ کیا جائے۔اس لیے میرا واسطہ اگر ایسے بچوں سے پڑے جنہیں اپنے والدین کے فیصلوں کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہو تو میں میرا رویہ ہمدردی کا ہوتا ہے۔ مجھے اس والد پر بھی گلہ ہوتا ہے کہ اسے علم نہ تھا کہ وہ جن بچوں کیلئے دولت کما رہا تھا انہیں ایک دن دولت اور عزت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا؟آپ کچھ بھی کہہ لیں ایک بیٹا یا بیٹی اپنے باپ سے خود کو دور نہیں کرسکتے نہ ہی اس سے اعلانِ لاتعلقی کرسکتے ہیں۔ اگر آپ لاتعلقی کرتے ہیں تو دنیا کہے گی کہ سب کچھ باپ کا کھایا پیا‘ اس کے پیسوں سے عیاشی کی اور اب جب باپ نہیں رہا یا جیل میں ہے تو خود کو اس سے دور کر لیا تاکہ خودپر چھینٹے نہ پڑیں۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ والا معاملہ۔ اب اگر وہ دفاع کرتا ہے تو پھر بھی اسے بہت سے سوالات کا سامنا ہوتا ہے جن کا جواب وہ شاید نہ دے سکے۔
اب اسی طرح کی صورتحال کا سامنا نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم خان کے بیٹے عمر آدم کو بھی تھا‘ جب وہ تین چار سال کا تھا تو اس کاباپ اس کے چچا کے ساتھ مل کر دیگر فوجی دوستوں کے ساتھ بغاوت پر کام کررہے تھے۔ دونوں بھائی آرمی میں میجر تھے اور مشرقی پاکستان میں شکست کے بعد وہ مشتعل تھے۔ اُس وقت ان فوجی افسران‘ جو اکیس کے قریب تھے‘ نے بغاوت کا سوچا اور کر ڈالی۔ فیصل آباد کے میجرراجہ نادر پرویز‘ جونواز شریف دور میں وزیر بنے‘ بھی اس میں شامل تھے، اس ناکام بغاوت کے بعد یہ سب گرفتار ہوئے۔ اسے اٹک سازش کیس کا نام دیا گیا اور اس ملٹری کورٹ کی سربراہی میجر جنرل ضیاالحق کو دی گئی۔ بعد میں وہ لیفٹیننٹ جنرل اور آرمی چیف اور پھر صدر بنے۔
اب میرے ساتھ 45 سال پہلے کے واقعات پر بات کرتے ہوئے میجر فاروق آدم کے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ تین چار برس کے تھے جب وہ اپنی ماں کے ساتھ جیل میں باپ سے ملنے جاتے تھے۔ جب یہ بغاوت کا منصوبہ بن رہا تھا تو ان کی والدہ نے ایک دن اُن کے باپ سے پوچھا کہ آپ جو کچھ کرنے جارہے ہیں اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، آپ کی اپنی جان بھی جاسکتی ہے، کچھ سوچا ہے میرا اور بچوں کا کیا ہوگا؟لیکن اُس وقت ان 21 افسروں کے سر پر اپنے خاندان اور بچوں سے زیادہ پاکستان کو ہونے والی شکست اور دیگر ایشوز کی اہمیت سوار تھی۔ بیوی‘ بچے بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ اُس وقت جوان افسروں کا خون جوش مار رہا تھا‘ بلکہ جس رات میجر فاروق آدم کو لاہور سے رات گئے گرفتار کیا گیا تو ان کی بیگم فوراً اس کمرے کی طرف بھاگیں جہاں ان کے شوہر بیٹھ کر کام کرتے تھے کہ کہیں وہاں ایسی دستاویزات نہ رکھی ہوں جو اِن کے ملٹری ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف استعمال ہوں۔ وہ سب کاغذ اٹھا کر انہوں نے کموڈ میں بہا دیے۔ اس وقت ایک بیوی کو اپنے خاوند کے خلاف ہونے والے ٹرائل کی فکر پڑ گئی تھی۔ باہر فوج بڑی تعداد میں گرفتار کرنے کے لیے موجود تھی لیکن انہیں فکر ان دستاویزات کی تھی۔ اُس وقت وہ اپنے بچوں‘ خاوند اور باہر موجود فوجیوں کو بھولی ہوئی تھیں۔
چند ماہ تک تو پورے خاندان کو کچھ علم نہ تھا کہ میجر فاروق آدم کو کہاں لے گئے ہیں، کہاں رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ جب چند ماہ بعد پتا چلا اور فاروق آدم کی بیگم صاحبہ اپنے بچوں کے ساتھ ان سے ملنے گئیں تو اپنے خاوند کی جیل میں خیرخیریت دریافت کرنے کے بجائے انہوں نے پہلا سوال یہی کیا آپ نے اپنے دوستوں کے نام تو نہیں بتا دیے کہ آپ کے ساتھ اور کون کون اس سازش میں شریک تھا؟ آپ کو انہوں نے اس دوران توڑ تو نہیں لیا؟
حیران ہوتا ہوں کیسے کیسے کرداروں سے زندگی میں واسطہ پڑتا ہے کہ ایک بیوی کو اپنے قید خاوند کی خیرخیریت سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہیں اس کے خاوند نے اپنے ساتھیوں کو دھوکا تو نہیں دیا تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *