زبیر منصوری صاحب۔۔حسان عالمگیر عباسی

قاسم علی شاہ فرما رہے تھے جو چاہتا ہے اسے سب اچھا بولیں وہ نام ہی ‘اچھا’ رکھ لے۔ ہر ایک اپنی نظر رکھتا ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ میری نظر میں وہ ایسا ہے یا ویسا ہے۔ زبیر منصوری صاحب ایک بڑا نام ہیں۔ ایک دفعہ کئی سالوں پہلے منصورہ میں نظر آئے تو یہ کہنے بھاگتے پہنچا کہ میں ان کا ‘فین’ ہوں۔ ہنستے ہوئے جواب دیا کہ کونسا فین؟ وہ والا جو اوپر چلتا ہے تو نیچے منا سوتا ہے؟ ان کی بڑائی کرو تو وہ ہچکچاتے ہیں۔ ان کو اپنی بڑائی شاید پسند نہیں ہے۔ یہ ایک احساس ہے جو ان کا کومنٹ باکس میں لوگوں سے گپ شپ کرتے دیکھ کر جاگا ہے۔ جب بھی کوئی ان کے لیے ‘بہت خوب’ ،’کمال’ ،’کیا بات ہے’ ،’زبردست’ ،’عمدہ’ اور اس طرح کے تعریفی کلمات پکارتا ہے تو وہ جواب میں اکثر خاموش رہتے ہیں لیکن جب عوام ان کی ‘کٹ’ لگا رہے ہوتے ہیں تو ان کو بڑھ چڑھ کر جواب دیتے ہیں۔ جوابی وار کچھ یوں کرتے ہیں: ‘خوش رہو’ ،’تمھاری خیر ہو’ ،’دعاگو ہوں’ ،’اللہ بھلا کرے’ یا ‘خرم رہو پیارے’ وغیرہ وغیرہ۔

دو باتیں واضح ہوئیں: پہلی, ہر ایک کی نظر میں ہر ایک اچھا نہیں ہوتا اور اگر کسی کی ایسی خواہش ہے تو قاسم علی شاہ تحریر کے آغاز میں آپ ہی کے لیے موجود ہیں، دوسری, کچھ لوگ تعریفیں سننے کے لیے پیدا ہی نہیں ہوتے کیونکہ تعریف وہی کرتا ہے جس کی نظر میں اس شخص کا مقام داخل ہوتا ہے کیونکہ نظریاتی ہم آہنگی کا عمل دخل ہوتا ہے, یہ لوگ ان لوگوں پہ فوکس کیے ہوئے ہوتے ہیں جن کی منہ کی دکان کا تالہ کھلتے ہی کوئلے ہی کوئلے بکھرے نظر آتے ہیں۔ اب جیسے ہر ایک کی نظر میں ہر ایک اچھا نہیں ہے اسی طرح ہر ایک کی دکان کا تالہ کھلنے کے بعد لازمی نہیں ہے کہ سونا ہی ہاتھ لگے۔ جب ہر ایک کی نظر میں ہر ایک معتبر و مہان نہیں ہے تو کسی کی خوشی کے لیے کیا ضرورت ہے کہ اللہ کی تلاش میں کبھی کبھار شیطان کی وکالت کر لی جائے؟ جب ہر ایک کی نظر میں ہر ایک اچھا نہیں ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ‘سب اچھا ہے’ کے رٹے لگائے جائیں؟

tripako tours pakistan

سب اچھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ دو گروہوں کو کیوں تشکیل دیتا؟ جب خدا نے بہترین سانچے میں بنانے کی قسم سورة التین میں تین مقدس زمینوں کی کھائی ہے تو کیا یہ نہیں کہا کہ جو مومنین و صالحین کے راستے سے ہٹے یا کٹے گا وہ مرے گا؟ کیا انھیں ‘اسفل السافلین’ نہیں کہا؟ کیا حاکموں کا حاکم قیامت والے دن ناانصافی سے کام لے گا؟ یا وہ اچھے اور برے کی تمیز کرے گا اور جزا و سزا کا فیصلہ سنائے گا؟ کیا وہ خدا منصف نہیں ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو انسان کو عدل و انصاف کی بجائے کسی کو اچھا لگنے یا نظر آنے کے لیے ظلم کرنا چاہیے؟ اگر سچی بات ہو گی تو عدل ہوگا اور اگر بری بات یا برے کا سہارا بنا جائے گا تو ظلم پھر کس چڑیا کا نام ہے؟

یوں کہوں تو درست ہے کہ بڑا آدمی اپنی بڑائی سننے کا عادی ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ خدا، اس کے انبیاء، اور اس کی کائنات کے آگے ایک چھوٹا شخص ہوتا ہے! وہ اسی طرح عاجزی سے اپنے حصے کی شمع روشن کرنا چاہتا اور چلتا بنتا ہے۔ اس کا صرف نبی کریم ص کی شفاعت اور حوض کوثر کے پانی سے مطلب ہوتا ہے! یہ لوگ زبانی تعریف کے محتاج ہوں نہ ہوں, ان کے دلوں پہ دوسرے لوگ راج کریں اس کے خواہشمند وہ شاید ضرور ہوتے ہیں۔ بڑا وہ نہیں ہوتا جس کو سننے دیکھنے والے اس کی بڑائی کریں بلکہ بڑا وہ ہوتا ہے جس کے چاہنے والے اسے دل میں جگہ دیں۔ زبانی تعریف کرنی تھی جو ہو گئی لیکن پیٹھ پیچھے برائی ہونے لگے تو ایسا شخص لیگیسی اور کریڈیبیلیٹی سے محروم ہوتا ہے۔ اصل بندہ تو وہ ہے جس کی گواہی دلوں میں ہو!

جب سب اچھا نہیں ہے تو ‘بی بی سی’ کیسے صحیح ہوا؟ آج کل ان کی خوب ‘کٹ’ لگا اور ‘کٹ’ چاڑ رہے ہیں! ہم تماشائیوں میں شامل ہیں اور دور کہیں لحاف لپیٹے باؤنڈری پار چھکوں پہ تالیوں سے ان کی تالیف کرتے رہتے ہیں۔ اکثر لوگ ان کو ان کا مقام یاد دلاتے ہیں کہ کومنٹ باکس میں کا آنا ان کی تکریم کے خلاف ہے۔ ظاہر ہے ایک ٹرینر، لکھاری اور جانی مانی شخصیت یوں کومنٹس کرے اور عوام کی جلی کٹی سنے اور سنائے تو فالوورز سوچنے پہ مجبور ہوتے ہیں کہ آخر ایسا بھی کیا ہو گیا ہے! اب فالوورز کی بات کہی ہے تو بھی انھیں ہچکچاہٹ کا احساس ہوگا اور دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے کہ من آنم کہ من دانم! کہاں وہ ایک عاجز خطاؤں والے اور کہاں ان کے فالوورز کا ہونا! پریشان نہ ہوں, شانت رہیے! یہ فیس بکی فالوورز کی بات چل رہی ہے! اب ظاہر ہے دانشور اور فالوورز لازم و ملزوم ہیں! ان کا ساتھ قیامت کے بعد بھی رہے گا! یہی تو اچھے کاموں کی گواہیاں پیش فرمائیں گے! دانشور لفظی و معنوی اعتبار سے تو موزوں ہے لیکن فیس بکی سیاق میں کئی ماتھوں پہ بدنامی کا بدنما داغ بن چکا ہے! دانشور کو تو دانشوڑ بھی کہتے ہیں! آپ کو فلسفی کہیں تو کیسا ہے؟ لیکن فلسفی بھی منہ چھپانے لگتا ہے جب اسی کا دوست، حبیب اور ولی اسے یہ کہتے ہوئے جھاڑ پلاتا ہے، ‘منہ بند رکھ، فلسفے مت جھاڑ اور انھیں اپنے لیے سنبھال کے رکھ اور کچھ کر کے دکھا تب مانیں گے تیرا فلسفہ تیرا رازق و راہنما ہے۔’ آپ کو دانشمند کہہ لیں؟ چلیں اعتراض کرنے والے تو تب بھی کریں گے جب دانشمندی پہ سوار ہونے کی بجائے اپنے اوپر ہی کیوں نہ سوار کر لیں۔

‘بی بی سی’ سے آپ کا بغض در حقیقت ایک فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔ ایک مشرقی، خاندانی اور رشتوں کو متاع ماننے والے کا بغض یہاں صرف خدا تعالیٰ کے لیے ہے! جہاں خدا کے لیے محبت لٹائے جا رہا ہے تو بغض کیوں نہ کرے؟ من احب للہ و ابغض للہ ہی تو ایمان کی تکمیل ہے! آپ ہر وقت مقدس رشتوں کے احترام میں انھیں انتہائی عاجزی و انکساری سے پکارتے ہیں۔ آپ فرزندان توحید کو بھی ایڈریس کرتے ہیں لیکن قوم کی بیٹیوں کو بالعموم اور دختران تحریک کو بالخصوص محبت، شفقت اور پیار دیتے ہیں۔ آپ ان کو بھائی اور باپ ہونے کا احساس اور تحفظ دلاتے ہیں۔ بیٹیوں سے آپ کی محبت قابل دید ،قابل داد اور ناقابلِ فراموش ہے۔ آپ کا یہ کرنا اس لیے ہے کیونکہ آپ کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک ہی ادارہ یعنی خاندان اب تلک محفوظ ہے۔ وہ کسی بھی قیمت پہ بیٹیوں اور بہنوں کو ان کے مقدس رشتوں سے محروم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے! وہ جب بی بی سی کو کہتے ہیں کہ وہ ہماری اقدار کو روندنا بند کرے تو درحقیقت ان کے اندر کا وہ باپ اور بھائی جاگتا ہے جسے اگر پرکار کی بیرونی موونگ نوک پکارا جائے تو وہ چاروں اطراف گولائی میں ایسے گھومتا ہے گویا اندرونی نوک یعنی بیٹی، بہو، بہن، ماں، اور دختران اسلام کی حفاظت پہ معمور ہو!

آپ کا مری سے تعلق دیکھ کر سوچتا تھا کہ اس زمین سے محبت کے بہانے اپنے حبیب محترم عتیق الرحمن صاحب سے ملاقات کرنا مقصود ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے! ایسا ہے کہ محترم سے ملاقات بہانہ اور دخترانِ اسلام اکیڈمی کی بیٹیوں سے میل جول اور گپ شپ مقصود ہوتا ہے! محترم سے ملاقات کہیں بھی ممکن ہے جبکہ بیٹیوں کو تحفظ کا احساس دلانے انھیں بانسرہ گلی آنا پڑتا ہے!

آپ ایک بار مری سے آگے ہمارے اوسیاہ میں رمضان المبارک کے مہینے ہماری علاقائی مسجد میں بھی آئے تھے۔ تراویح کے اوقات میں پہنچے تو آرام کے لیے معتکف بھائی کی رضائی تلائی تلک رسائی پائی جہاں میں والد صاحب کے حکم پہ چائے کے ساتھ پیش ہوا تو ایک تھکے ہارے نے ایسے شکریہ ادا کیا گویا کہہ رہا ہو کہ میں ہی وہ ہوں جو ان کی تر و تازگی کی وجہ بن گیا ہوں! کچھ آرام کے بعد علاقہ مکینوں سے انھوں نے مخاطب جو ہونا تھا! اس کے بعد جو اوپر، نیچے، دائیں، بائیں، سٹ، سٹینڈ، اٹھک، بیٹھک، دبانے چبانے کا سلسلہ ہے ان سے ہم تو واقف تھے لیکن علاقہ مکینوں کے لیے ‘آؤ کچھ نیا کرتے ہیں’ جیسا تھا! دبانے سے مراد ایک دوسرے کی مالش جبکہ چبانے سے مراد وہ چاکلیٹ ہیں جو سوال کے صحیح جواب کا انعام ہوتا ہے!

آپ کی تحاریر جہاں بہت مزیدار ہیں وہیں مختصر ویڈیوز کا اک نیا سلسلہ بھی خوش آئند ہے۔ تحریر میں کوئی بھی اپنے جذبات اور مزاج کا وہ انتقال ممکن نہیں بنا سکتا جو تقریر سے ممکن ہے۔ آپ کی مختصر میٹھی ویڈیوز دیکھ کر وہ احساس بھی جاتا رہا کہ آپ کبھی کبھی سختی کو بھی تحریر میں جگہ دے دیتے ہیں! سختی ایک بار تب نظر آئی جب فواد چوہدری کی شامت آئی! اللّہ تعالیٰ آپ سے وہ کام لے جس کے نتیجے میں وہ آپ سے راضی رہے!

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

قولوا قولا سدیدا
سچی کھری بات کرو!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *