ملکہ پکھراج اور مہاراج پٹیالہ۔۔رؤف کلاسرا

بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو چمٹ جاتی ہیں۔ ایک دفعہ اٹھا لیں تو پھر ختم کیے بغیر نیچے نہیں رکھ سکتے۔ ملکہ پکھراج کی لکھی ہوئی آپ بیتی بھی ان کتابوں میں سے ہے جو آپ پر گزر جاتی ہیں۔ ابھی کتاب ختم نہیں ہوئی اور سوچنے لگ گیا ہوں‘ اسے دوبارہ پڑھوں گا بلکہ دو بار ختم کرکے تیسری دفعہ پڑھوں گا اور کچھ عرصے بعد اسے چوتھی دفعہ پڑھوں گا۔ شاید دل پھر بھی نہ بھرے۔ ٹھہر ٹھہر کر آرام سے پڑھیں تو ہی اس کتاب کی خوبصورتی کو انجوائے کیا جا سکتا ہے۔
میں نے ملتان کے مہربان ڈاکٹر انوار احمد کی فیس بک پر اس کتاب کا تعارف دیکھا۔ ملتان یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کی چیئرمین شپ سے ریٹائرڈ ڈاکٹر انوار احمد روز کسی نہ کسی کتاب کا شاندار تعارف لکھتے ہیں۔ وہ محض تعارف نہیں لکھتے بلکہ پہلے پوری کتاب پڑھتے ہیں اور پھر چند پیراگرافس میں کتاب کا اپنے خوبصورت انداز میں نچوڑ بیان کردیتے ہیں۔ خیر بات ہورہی تھی ملکہ پکھراج کی آپ بیتی کی۔ ان کی فیس بک وال پر یہ کتاب دیکھی تو دل مچل گیا۔ میں کتاب کسی سے مانگتا نہیں‘ خود خریدتا ہوں؛ اگرچہ زمانہ طالب علمی میں پیسے نہ ہوتے توکتاب چرا بھی لیتا تھا۔ گزرے برسوں میں یہ فرق پڑا کہ چرانے کے بجائے اگلے بندے سے کتاب کے پبلشر کا نام، پتہ یا فون نمبر پوچھ لیتا ہوں۔ خیر میں نے فیس بک پر کمنٹ کیا: کہاں سے مل سکتی ہے تو ڈاکٹر انوار احمد نے وہی کتاب مجھے اپنے دستخط کرکے ارسال کر دی جو وہ خود پڑھ رہے تھے۔
یہ کتاب نہیں بلکہ ایک جہاں اس میں آباد ہے۔ ایک پوری دنیا سمائی ہوئی ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں ملکہ پکھراج کی ذہانت، ان کی یادداشت اور سب سے بڑھ کر اردو زبان کی مہارت پر۔ اتنی خوبصورت اردو‘ اتنی جزئیات کے ساتھ میں نے شاید ہی پڑھی ہو۔ جموں میں پیدا ہونے والی ملکہ پکھراج نے جس طرح کے ماحول میں آنکھ کھولی اور جس طرح ان نظاروں‘ کلچر اور لوگوں کے رہن سہن کو اپنی زبان میں بیان کیا‘ یوں لگتا ہے ایک دیومالائی داستان کے کسی گوشے میں آپ کھو چکے ہیں۔ جتنی محبت، احترام اور احتیاط سے ایک ایک لفظ کو ترتیب دیا گیا ہے وہ اپنے سحر سے باہر نہیں نکلنے دیتا۔ دل چاہتا ہے کہ بس یہ کتاب کبھی ختم نہ ہو اور آپ ملکہ پکھراج کے ہم سفر رہیں‘ چاہے وہ جموں سے نکل کر دلی رقص اور گانا سیکھنے جارہی ہیں، یا لاہور، بمبئی، یا کہیں اور۔ بس آپ ملکہ پکھراج کے ہم سفر رہیں اور یہ سفر کبھی ختم نہ ہو۔ میں تو کہوں گا اگر آپ نے جموں سے دلی اور لاہور تک کے کلچر اور اس دور کے رسوم و رواج کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا اور دل میں محسوس کرنا ہو اور خود کو ان گزرے زمانوں میں گم کرنا ہو تو یہ کتاب پڑھیے۔ اس کتاب کا نام ہے ”بے زبانی زباں نہ ہو جائے‘‘۔
اس کتاب کا کریڈٹ فرازے سید کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی دادی ملکہ پکھراج کی اس شاندار کتاب کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بقول فرازے سید‘ ان کی دادی ملکہ پکھراج نے اس آپ بیتی پر اٹھارہ برس کام کیا۔ کم از کم سات آٹھ مسودے ہاتھ سے لکھ کر تیار کیے اور ہر مسودہ آٹھ سے دس کاپیوں یا نوٹ بکس میں آیا۔ ہر بار نظرثانی کرتے وقت وہ پورے مسودے کو شروع سے آخر تک لکھتیں۔ فرازے سید لکھتی ہیں کہ برسوں پر محیط عرصے میں اس ان تھک محنت کا مشاہدہ کرتے رہنے کے بعد وہ اس وقت شدت جذبات سے مغلوب ہو گئیں جب ان کی دادی نے آپ بیتی کا مکمل مسودہ اشاعت کیلئے انہیں سونپا۔ ان کی آخری خواہش تھی کہ ان کی کہانی دنیا والوں کے سامنے آئے۔ کراچی کے اجمل کمال نے اسے چھاپا ہے جو خود بہت بڑے ادیب اور مترجم ہیں بلکہ عظیم ادیب گئبریل گارشیا مارکیز کو پاکستان میں متعارف کرانے کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے۔
باقی سب کچھ اپنی جگہ لیکن جو منظر ملکہ پکھراج نے مہاراجہ کشمیر کی تاج پوشی کا کھینچا ہے وہ آپ کو مدہوش کردیتا ہے۔ اس تاج پوشی میں شرکت کے لیے مہاراجہ پٹیالہ کی آمد کا پڑھ کا سب سے زیادہ مزہ آیا‘ بلکہ یہ بھی پتا چلا کہ یہ ”پٹیالہ پیگ‘‘کی اصطلاح کہاں سے نکلی‘ جس پر ابھی بڑا کمال پنجابی گانا بھی گایا گیا ہے۔ بات ہورہی تھی مہاراجہ پٹیالہ کی کشمیر آمد کی۔ ملکہ پکھراج لکھتی ہیں: دو تین دن بعد تاج پوشی تھی۔ سب مہمان آ گئے تھے۔ ہر رات قلندری میں کھانے کے بعد مہاراج اپنے اپنے سٹاف کے ساتھ آتے۔ تمام گانے والیاں‘ جو باہر سے آئی تھیں‘ موجود ہوتیں۔ جس کو حکم ہوتا وہ گاتی۔ گانے والیاں سو ڈیڑھ سو سے کم نہ تھیں۔ کئی مہاراج دو تین کو سن کر اُٹھ جاتے۔ کئی رات کے تین بجے تک بیٹھے رہتے۔ بعض تو آتے ہی دس گیارہ بجے تھے۔ ہر ایک کی اپنی مرضی تھی جس وقت چاہیں آ جائیں‘ جب چاہیں چلے جائیں۔ مہاراجہ پٹیالہ بھی گیارہ بجے سے پہلے نہیں آتا تھا۔ اس کی ہر بات دوسرے مہاراجوں سے الگ تھی۔ جب بھی آتا ہاتھ میں شراب کا گلاس ہوتا، نشے میں دھت، لہو کی طرح آنکھیں سرخ، سات فٹ لمبا، چوڑا اور فربہ، حد سے زیادہ وجیہ، آنکھیں حد سے زیادہ خوبصورت، گندمی رنگ، خوبصورت ناک مگر چہرے پر وحشت، نظروں میں شیطانیت۔ اسے دیکھ کر کپکی طاری ہو جاتی تھی۔ اس کے سیکرٹری اے ڈی سی بھی اسی طرح لمبے تڑنگے۔ جس وقت وہ قلندری میں داخل ہوتے سناٹا چھا جاتا۔ باقی کے جو مہاراج کھانے کے بعد آتے، سادہ لباس، پاجامہ، کرتا اور شال لپیٹ کر آتے مگر مہا راجہ پٹیالہ رات کے گیارہ بجے بھی پورے درباری لباس میں آتا۔ زری کی اچکن، بڑے گھیر کی بوسکی کی شلوار، پائوں میں نہایت خوبصورت زری کا جوتا، ڈاڑھی اور بال نہایت خوبصورت طریقے سے پگڑی میں چھپے ہوئے۔ بعد میں لوگوں سے سناکہ اسے مجبوراً اچکن پہننی پڑتی تھی۔ پیٹ اتنا ڈھیلا تھاکہ گھٹنوں پر گرتا تھا۔ صبح جب نہاکر تیار ہوتا تو دو آدمی ہاتھوں سے پیٹ کو اوپر کرکے ململ کی پٹی سے کس کر باندھ دیتے تاکہ اصل جگہ پر آجائے۔ اس پر اچکن پہنا کر بٹن بند کر دیتے۔ اس لیے وہ سونے سے پہلے کبھی اچکن نہ اتارتا۔
راجہ پٹیالہ کے بارے میں ہزاروں قصے مشہور تھے۔ بہت ہی ظالم اور جابر۔ ذرا سی حکم عدولی پر موت کے گھاٹ اتار دیتا۔ کئی لڑکیوں کو معمولی سے بات پر کھڑکی سے نیچے پھینک دیتا۔ جو دل میں آتا بغیر سوچے سمجھے کرلیتا۔ سب مہاراجوں میں سے خوبصورت تھا۔ بڑی خوبصورتی سے ڈاڑھی باندھتا۔ لمبے قد کی وجہ سے گھیردار شلوار، ململ کی رنگین پگڑی، کانوں میں بڑے بڑے ہیرے کے ٹاپس۔ کچھ بھی پہنے اچھا لگتا۔ قصے تو ہزاروں سنے تھے، آج دیکھ بھی لیا۔ دیکھ کر بقول ممن خان کے واقعی کانپ گئی۔ جب قلندری میں آیا تو پیچھے پیچھے پٹیالہ کی گانے والیاں تھیں۔ بے ڈھنگے لباس، بوڑھیاں، جوان، کم عمر، کوئی بھینگی، کسی کے منہ پر چیچک کے داغ، کوئی کالی، کوئی موٹی۔ خدا معلوم انہیں ساتھ کیوں لایا تھا۔ نہ یہ گانے میں اچھی نہ شکل صورت میں۔ شاید یہ دکھانا چاہتا تھا کہ میں غریب پرور ہوں۔ تمام مہاراج مخصوص مشروب کم پیتے تھے۔ بعض تو ہاتھ بھی نہ لگاتے تھے۔ جو پیتے تھے وہ بھی گھنٹوں میں ایک پیگ ختم کرتے‘ مگر مہاراج پٹیالہ تو پانی کی طرح غٹاغٹ پیتا۔ آج تک پٹیالہ پیگ مشہور ہے۔ مہاراج کا ایک اے ڈی سی ہر وقت ایک بوتل ساتھ رکھتا۔ جب گلاس ختم ہوتا تو دوسرا بھر دیتا۔
ملکہ پکھراج نے جس محنت اور محبت سے یہ آپ بیتی لکھی ہے یہ آنے والے زمانوں میں کلاسک کے طور پر پڑھی جائے گی۔ فرازے سید کا شکریہ جس نے اپنی دادی ملکہ پکھراج کو کتاب میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے۔ اگر کسی کا خوبصورت زندگی بارے کبھی پڑھنے کا دل کرے تو ملکہ پکھراج کی یہ آپ بیتی پڑھ لے۔ کیا سچ لکھا گیا ہے اور کتنا خوبصورت لکھا گیا ہے‘ جو آپ کو مدہوش کردے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *