• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مصطفی نواز کھوکھر بنام یوسف رضا گیلانی۔۔رؤف کلاسرا

مصطفی نواز کھوکھر بنام یوسف رضا گیلانی۔۔رؤف کلاسرا

پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے بات ہی ایسی کردی ہے کہ یقین نہیں آرہا ‘واقعی ہمارے سیاسی کلچر کی راکھ میں کوئی چنگاری بچی ہوئی ہے؟
مصطفی نواز کھوکھر نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مابین سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی سیٹ پر جاری جھگڑے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ان کی پارٹی نے سرکاری پارٹی کے ووٹوں کی مدد سے عہدہ لے کر غلط کیا ۔ اس سے ان کی پارٹی کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔مصطفی نواز کھوکھر کی یہ بات شاید مجھے اس لیے بھی اچھی لگی ہے کہ کچھ دن پہلے ایک ٹی وی شو میں یہی بات میں نے کہی تھی کہ یوسف رضا گیلانی صاحب کو جس طرح سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنایا گیا اس سے پیپلز پارٹی کی اخلاقی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ بہتر ہوتا کہ وہ اعلیٰ اخلاقی پوزیشن لے کر یہ سیٹ ہار جاتی۔ اگر یوسف رضا گیلانی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نہ بنتے توکون سی قیامت آجاتی ؟زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ ایک دفتر‘ دو تین سٹاف ممبرز اور ایک سرکاری گاڑی نہ ملتی۔ ان تمام چیزوں سے تو وہ پچھلے نو برس سے محروم تھے جب وہ2012 ء میں سپریم کورٹ سے نااہل ہوگئے تھے۔ اگر گیلانی صاحب نو برس ان چیزوں کے بغیر گزارسکتے ہیں تو اگلے تین برس بھی گزار لیتے۔ لگتا ہے یوسف رضا گیلانی کو خود بھی علم نہ تھا کس طرح نمبرز پورے کر کے انہیں اپوزیشن لیڈر بنایا جارہا ہے‘یہی وجہ تھی کہ جب وہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے دفتر سے خود کو اپوزیشن لیڈر بنوا کر نکلے اور صحافیوں نے پوچھا کہ کیسے ان کے نمبرز پورے ہوئے ہیں تو انہیں خود بھی معلوم نہ تھا اور انہوں نے اپنے ساتھ موجود سینیٹر شیری رحمن کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ آپ کو بتائیں گی کہ نمبرز کیسے پورے ہوئے۔ داد دیں شیری رحمن کو کہ انہیں سب نمبرز زبانی یاد تھے‘ لیکن یہ بات واضح تھی کہ یوسف رضا گیلانی کو علم نہ تھا کہ وہ کیسے اورکن کے ووٹوں سے اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ صاف لگ رہا تھا کہ گیلانی صاحب اس پر خوش نہیں ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اگلے دن پریس کانفرنس کر کے پوری وضاحت دی جس میں اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وہ تو سینیٹر نہیں بننا چاہتے تھے لیکن ان کی پارٹی نے بہت اصرار کیا تو وہ تیار ہوگئے۔ گیلانی صاحب کو ایک بات کا ہمیشہ فخریہ احساس رہتا ہے کہ وہ سب کے مشترکہ وزیراعظم بنے تھے۔ ان کو سب نے ووٹ ڈالے تھے‘ لہٰذا وہ جب وزیراعظم تھے تو وہ سب کے وزیراعظم تھے۔ پیپلز پارٹی کے لوگ تو انہیں نواز لیگ کا وزیراعظم کہتے تھے‘ اس لیے کہ نواز لیگ کے ارکان نے بھی انہیں دل و جان سے ووٹ دیے تھے۔لیکن سوال یہ ہے کیا یوسف رضا گیلانی کو صرف اس لیے اپنی پارٹی کا ہر حکم آنکھیں بند کر کے مانتے چلے جانا چاہئے کہ یہ پارٹی ڈسپلن کا تقاضا ہے؟ اگر گیلانی صاحب اپنی پارٹی کو انکار کردیتے کہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے چار ارکان کے ووٹ سے اپوزیشن لیڈر بن کر جمہوری روایات کا جنازہ نہیں نکالیں گے‘یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو سرکاری جماعت کے لوگوں کے ووٹوں سے عہدہ دیا جائے؟ یوسف رضا گیلانی اس پارلیمنٹ کے سب سے پرانے ممبر سمجھے جاسکتے ہیں۔ ان کے بعد چوہدری نثار علی خان اور شیخ رشید ہیں جو 1985 ء کی اسمبلی سے چلے آرہے ہیں۔ کیا ان روایات کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری گیلانی صاحب کے کندھوں پر زیادہ نہیں تھی؟ کیا انہیں زرداری ‘بلاول یا شیری رحمن کو نہیں روکنا چاہئے تھا کہ وہ جو کچھ کررہے تھے اس سے پارلیمانی روایات کو نقصان ہوگا؟ گیلانی صاحب کو اس وقت سٹینڈ لینا چاہئے تھا۔ ایک تو وجہ یہ تھی کہ وہ پی ڈی ایم کے ووٹوں سے سینیٹر کا الیکشن جیتے تھے۔ انہیں سینیٹر بنوانے میں نواز لیگ اور مولانا فضل الرحمن کی پارٹی کے ووٹ بھی پڑے تھے۔ تو کیا اب انہیں اس اتحاد کو ایک لات مار دینی چاہئے تھی؟ کیا انہیں یہ میسج دینا چاہئے تھا کہ ان کا کام نکل گیا ہے‘ انہوں نے نواز لیگ کو استعمال کرنا تھا کر لیا ‘اب رات گئی بات گئی؟گیلانی صاحب کو ماضی میں کئی ایشوز کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر وہ اس موقع پر ہمت دکھاتے اور پارٹی کے سامنے ڈٹ جاتے تو شاید پچھلے گناہوں کی تلافی ہوجاتی۔ وہ خود نواز شریف‘ مریم نواز یا مولانا فضل الرحمن کو کہہ سکتے تھے کہ وہ اس سیٹ کیلئے امیدوار نہیں ہیں۔ تو کیا یہ طے ہے کہ سیاست نام ہی خودغرضی کا ہے؟ کیاواقعی تسلیم کر لیا گیا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا؟
اس نوجوان سیاستدان مصطفی نواز کھوکھر کی یہ اصولی بات اس لیے جی کو بھاتی ہے کہ کسی نے بڑے عرصے بعد سیاست میں کچھ اصول اور ہائی مورال گراؤنڈ کی بات کی ہے۔ورنہ یہاں تو یہی سمجھ لیا گیا ہے کہ جس کا دائو لگے لگا لے۔کھوکھر اس خطے کی اہم قوم ہیں۔ پوٹھوہار کی دھرتی کے مالک ہیں۔ میں نے مصطفی نواز کھوکھر کو مختلف پایا ہے۔ اس نوجوان کو جب وزیراعظم گیلانی کا مشیر مقرر کیا گیا تھا اور قومی اسمبلی میں یہ نوجوان جب وقفہ سوالات میں اُٹھ کھڑا ہوتاتو کچھ تجسس اورکچھ حیرانی تھی کہ بھلا یہ نوجوان کہاں ہاؤس میں سوالات کے جوابات دے پائے گا لیکن جس اعتماد کا مظاہرہ اس نے کیا اور جس لاجک اور گہرائی کے ساتھ جواب دیے اس سے میں متاثر ہوتا تھا کہ پوٹھوہار کی دھرتی نے ایک اور قابل نوجوان کو جنم دیا ہے۔ پوٹھوہار نے جو ذہین لوگ پیدا کیے ان میں بابر اعوان ہوں یا چوہدری نثار علی خان یا اب مصطفی نوازکھوکھر ‘سب میں یہ قدرِ مشترک ہے کہ بات کرنے کا فن اور ڈھنگ جانتے ہیں۔
ہمارے بڑے مہربان فاروق اقدس کے بیٹے کی شادی میں حاجی نواز کھوکھر صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں نے کہا کہ ناراض نہ ہوں تو ایک بات کہوں ‘کھوکھروں کی سرگرمیوں کے بارے روز کوئی نیگیٹو خبر آپ کو سننے کو ملتی ہوگی لیکن میں ایک اچھی بات آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کا برخوردار مصطفی نواز ایک دن بہترین سیاستدان کے طور پر جانا جائے گا۔ بڑا سمجھدار بچہ ہے۔ اچھی سیاسی گفتگو کرتا ہے۔ ایک باپ کے چہرے پر فخر آمیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ میری طرف جھکے اور بولے :واقعی؟ میں نے کہا :جی واقعی۔
آج وہ لمحہ ہے کہ مصطفی نواز نے سیاستدانوں کی کچھ عزت بحال کرنے کی ایک اچھی کوشش کی ہے۔ اس گھپ اندھیرے میں‘ جہاں خودغرضی‘ چالاکی‘ مکاری‘ دھوکے اور فراڈ کو سیاست کا نام دے دیا گیا ہے ‘ مصطفی نواز کھوکھر کا اصول کی بات کرنا اس اندھیرے میں ایک امید کی کرن ہے۔ ایک ہی سہی لیکن آواز تو اُبھری ہے جس نے اپنی پارٹی کو غلط کہا‘ جس نے اپنی پارٹی کو کچھ اخلاقی سبق دینے کی کوشش کی ہے۔کاش یہ اخلاقی سبق گیلانی صاحب کو یہ نوجوان نہ سکھاتا بلکہ گیلانی صاحب ان نوجوانوں کے لیے ایک مثال بنتے۔ گیلانی صاحب سے بہتر کون جانتا ہے کہ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ساکھ‘عزت‘ اخلاقیات بچا لینی چاہیے۔ مصطفی نواز کے پاس گیلانی صاحب کی طرح کوئی بڑا عہدہ نہیں لیکن میرے خیال میں ایک بڑی بات کہہ کر انہوں نے خود کو بڑے عہدے پر فائز کر لیا ہے۔ اس بھاری بھرکم ذمہ داری کا بوجھ اب شاید ساری عمر وہ محسوس کریں گے۔ اخلاقی پوزیشن کا بوجھ دنیا کا سب سے بڑا بوجھ ہوتا ہے۔ یہ بوجھ اٹھا لینا کوئی بڑی بہادری نہیں لیکن اسے ساری عمر اپنے ساتھ اٹھائے رکھنا اصل امتحان ہوتا ہے اور اس نوجوان کا امتحان شروع ہوچکا ہے۔
مان لیا گیلانی صاحب اپوزیشن لیڈر کی سیٹ جیت گئے ہیں لیکن وہ اس نوجوان مصطفی نواز کھوکھر سے شکست کھا گئے ہیں جس نے دراصل ان کو پچھلے نو برس سے ملتان میں سیاسی گمنامی کی زندگی سے نکال کراسلام آباد لا کر سینیٹر کا الیکشن لڑانے کا منصوبہ اپنی پارٹی کو پیش کیا تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *