جشن اور نوحے (سلمان حیدر)

معاشرہ ایک ماں کی مانند ہوتا ہے جسکی کوکھ میں تہذیب نمو پاتی ہیں۔ انسانی فکر اسی کوکھ سے جنم لیتی اور اسی کی چھاتیوں کا دودھ پی کر پروان چڑھتی ہے۔ یہی معاشرہ انسان کے خیالات اور افکار میں تبدیلی کے لئے بنیادی محرک ثابت ہوتا ہے۔ یہیں سے ڈیکارٹ اور ہیگل جنم لیتے ہیں۔ یہیں سے رسل جوان ہوکر نکلتا ہے۔ اور اسی معاشرے سے چور اور ڈاکو بھی تیار ہوتے ہیں۔

ہمیں آج ایک بات کا اعتراف کرلینا ہوگا کہ ہم نے سرحدی پٹیاں کھینچنے کے بعد سب سے اہم کام یعنی معاشرے کی تشکیل کو پس پشت ڈال دیا۔ ہم نے افراد کی تربیت کے لئے وہ بھٹی تیار نہ کی جس میں تپ کر لوگ ارسطو اور افلاطون بنتے ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ سلمان حیدر کون تھا، میں یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ بھینسا کا ایڈمن تھا، مجھے اس سے سروکار نہیں کہ اس نے کوئی گستاخی کی تھی یا نہیں، میرے نزدیک یہ بات لایعنی ہے کہ کون کیا تھا۔ میرے لیے وہ اس معاشرے کا فرد تھا، اس کے کچھ سوال تھے، کچھ اعتراضات تھے۔ خواہ وہ کچھ بھی تھے۔ کیا معاشرے میں اتنی سکت تھی کہ وہ ان سوالوں کا جواب دشنام طرازیوں کے سوا دے سکتا؟
مجھے نہیں سروکار کہ اغوا کار کون تھے؟ اور انھیں کہاں لے گئے؟یہ سوال بھی اہم نہیں کہ اغوا کار حکومت کے آلہ کار تھے یا نہیں؟ اور یہ بھی اہم نہیں کہ وہ ان کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔ اس ملک میں ہزاروں جنازے اٹھتے ہیں۔ ایک دن آئے گا انہی جنازوں میں میرا اور آپکا لاشہ بھی شامل ہوگا۔ ہم یا تو طبعی موت مارے جائیں گے یا پھر کسی کی گولی ہماری شہ رگ کا خون چاٹ جائے گی۔
سوال صرف اتنا ہے کہ اگر وہ بدتہذیب تھا، تو اسی معاشرے کا فرد تھا۔ اسی معاشرے نے اس کی تربیت کی، کیا فرق پڑتا ہے وہ کون تھا؟ اگر اس نے گالی دی تو وہ گالی دینا ماں کی گود سے سیکھ کر نہیں آیا تھا۔ اسی معاشرے نے اسے مخالف کو گالی دینا سکھایا۔ وہ اسی معاشرے کا فرد تھا، اور معاشرہ افراد سے بنتا ہے۔ اور گالی دینے والا وہ اکیلا نہیں تھا۔
اگر اس نے دشنام طرازی کو محبوب جانا تو ہم نے کس چیز کو سینے میں لگایا؟ کیا ہم نے گالی نہیں دی؟ کیا ہم نے لعنت نہیں بھیجی؟ کیا ہم نے وہ سب نہیں کیا جو بھینسا اور موچی پر شیئر ہوتا رہا؟ اگر ہاں تو پھر وہ بھی اسی ملک کا باسی میں بھی اسی ملک کا باسی، وہ بھی جاہل میں بھی جاہل، وہ پاگل میں بھی پاگل، رولا کس بات کا ہے؟
اگر ہم معصوم ہوتے، تو ہم چیختے بھی اچھے لگتے۔ جو خون سلمان حیدر کے ہاتھ پر وہی خون میرے اور آپ کے ہاتھ پر ہے۔ ہم میں کوئی فرق نہیں، میں نے اس کے خداؤں کو گالی دی، اس نے میرے خداؤں کو گالی دی۔
جشن کس بات کا ہے؟ نوحے کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟ ہم نے کیا تیر مار لیا ہے یا قوم کا کیا نقصان ہوگیا ہے؟ آپ کو اگر لگتا ہے کہ موچی اور بھینسا کے فیسبک سے چلے جانے سے آپ کی مقدس ہستیاں محفوظ ہیں تو دراصل آپ بے وقوف ہیں۔ اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ سلمان حیدر کے جانے سے اس قوم کو کوئی نقصان ہوگیا ہے تو بھی آپ کو علاج کی ضرورت ہے۔ اگر اے پی ایس کے بچوں کے مارے جانے سے، گلشن اقبال پارک کے شہدا سے اور ہزاروں واقعات سے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا، تو یہ تو تین تھے۔
عیسی علیہ السلام کا ایک قول مشہور ہے۔ میں نے چونکہ اس کی تحقیق نہیں کی اس لیے ان سے منسوب نہیں کر رہا، صرف ایک قول کے طور پر پیش کرر رہا ہوں کہ سنگساری کا پتھر وہ مارے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔
اگرآپ نے گالی نہیں دی ، اگر آپ نے گردنیں نہیں کاٹیں تو آپ کو حق ہے کہ بولیے اور نا انصافی اور گستاخی کا ڈھنڈورا پیٹیے لیکن اگر یہ سب آپ نے کیا ہے تو آپ میں اور ان گمشدہ لوگوں میں کوئی فرق نہیں، آپ بھی سلمان حیدر ہی ہیں۔ آپ لبرل ہو مذہبی دہوکے میں مت رہیے کہ آپ کوئی خاص خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ اس وقت تک جب تک آپ نے اپنی بات کی ترویج اور اپنے سوالوں کو اخلاقی جامہ نہیں پہنایا۔اس لیے اپنی قہقہوں پر کنٹرول کیجیے اور سسکیوں کو بند کرلیجیے۔

ہم ایک بداخلاق قوم ہیں، بداخلاقی مولوی ازم سے لے کر لبرلزم تک ہم میں سرایت کرچکی ہے۔ اس لیے رات کے عابد اور دن کے انسانیت پرست اپنے آپ کو کسی دھوکے میں مبتلا نہ کریں۔اپنے آپ کو ترقی پسند یا دین پسند ہونے کے دھوکے سے نکال لیجیے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ یہ صرف سراب ہے اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں، کیونکہ اگر دین آپ میں نبیﷺ والے اخلاق پیدا نہ کرسکا اور لبرلزم آپ کو تمیز اور دوسروں کی آرا اور مقدسات کی تعظیم نہ سکھا سکا تو سلام ہے آپ کے ایسے مومن اور لبرل ہونے کو۔ بہتر ہے رضائی لیجیے اور سو جائیے، امت یا قوم کے درد دل میں پال کر اپنے آپ پر احسان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بہتر ہے اپنے لیے کوئی اور شغل ڈھونڈ لیجیے۔ یہ کام آپ کے بس کا نہیں!

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *