• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہائرونوموس بوش اور جاگیرداری کے عالم نزع کی تصویر کشی(3)۔۔تحریر:ایلن ووڈز/ ترجمہ: صبغت وائیں

ہائرونوموس بوش اور جاگیرداری کے عالم نزع کی تصویر کشی(3)۔۔تحریر:ایلن ووڈز/ ترجمہ: صبغت وائیں

بدی کا چہرہ

جرمنی کے بعد کے گوتھک آرٹ میں اٹلی کی نشاۃ ثانیہ کی نئی روح جھلکنا شروع ہو گئی تھی۔ لیکن جہاں اطالوی آرٹ دھوپ اور روشنی سے لبریز تھا وہیں ان دنوں کا جرمن آرٹ تاریک ہے، اس کا موضوع ہیبت ناکی ہے اور اس کا طرز مسخ شدہ ہے۔ یہ آرٹ دو دنیاؤں کے درمیان معلق ہے۔ اس کا کردار عبوری ہے کیوں کہ یہ ایک روایتی دور کی پیدائش ہے جو کہ آخری دور کی جاگیرداری اور ابتدائی سرمایہ داری کے چوک پر کھڑا ہے۔

tripako tours pakistan

ایزن ہائم کی قربان گاہ جرمن مصور ماتھیاس گروُنے والڈ کی 1506ء سے 1515ء کے دوران پینٹ کی گئی ایک قربان گاہ کی تصویر ہے۔ اس میں تصلیب کے عمل کو انتہائی اذیت پسند اور ظالمانہ طور سے پیش کیا گیا ہے۔ اس میں کہیں کوئی سکون کا، آرام کا پہلو دکھا ئی دے رہا ہے اور نہ ہی کہیں موت کے بعد کی زندگی میں نجات کی صورت دکھائی دے رہی ہے، بلکہ ایک نہ ختم ہونے والی ظلمت اور سیاہی نظر آ رہی ہے۔ وہاں موجود شیطان بدی کی فتح کا استعارہ ہیں۔ یہ ایک ایسے وقت کا آرٹ ہے جہاں خوف اور اندیشوں کا راج ہے۔ اور یہ مصیبت کی ایک ایسی گھڑی کے دوران اجتماعی شعور کے تاریک ترین گوشوں تک میں نفوذ کر چکے ہیں جب آدمی اور عورتیں ہر جانب سے بدی کی بے قابو قوتوں کے نرغے میں پھڑپھڑا رہے ہیں۔

اپنی تصویر تضحیکِ مسیح میں بوش نے انسانوں کو شیطان کے روپ میں دکھایا ہے، ان کے چہرے غیر انسانی تاثرات سے مسخ پڑ چکے ہیں۔ پونٹیئس پائلیٹ (مسیح کی تصلیب کے وقت کا رومن گورنر) کے کردار سے حکمرانی کے نشے کی جھلک نظر آ رہی ہے، جو کہ ایک مکروہ، گھٹیا، مکار اور منافق قسم کا انسان دکھایا گیا ہے۔ ان میں صرف ایک صورت ایسی نظر آ رہی ہے جسے انسان کہا جا سکتا ہے اور وہ مسیح کی اپنی صورت ہے، جو کہ کچھ دیر میں شہادت پانے والا ہے۔ یہاں پھر سے انسانیت کو پیش کرنے کا نظریہ منفی صورت لیے ہے، یہ ایک ایسی دنیا کا نظریہ ہے جو کہ تباہی اور بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، جہاں انسانیت کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔

گینٹؔ شہر کے فائن آرٹ کے عجائب گھر میں ایک اور تصویر میں مسیح کو صلیب اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ہمیں ایک تنہا اور تھکے ماندے مسیح کی صورت نظر آتی ہے جو کہ ہر طرف سے خونی درندوں اور شیطانوں والے چہروں کے حامل آدمیوں میں گھرا ہے۔ یہ اس قدر بدعنوان لوگوں کے چہرے ہیں جو ہر طرح کے انسانی خاصے اور محسوسات کھو چکے ہیں۔ بہرحال اگر ہم اس کو باریک نظر سے دیکھیں تو مکمل طور پر ایسا بھی نہیں ہے۔ بوش کی نظر میں تمام انسانیت ایسی نہیں بلکہ محض اس کا ایک مخصوص سماجی گروہ ایسا ہے۔ یہ چہرے غریب عوام کے نہیں ہیں، بلکہ یہ متمول تاجروں کے، سرداروں کے اور دیگر بااختیار لوگوں کے ہیں جن میں ایک جنسی شیطان ڈومینیک پروہت بھی شامل ہے۔

Bosch's Christ Carrying the Cross
بوش کی پینٹنگ جس میں یسوع مسیح مے صلیب اٹھائی ہوئی ہے۔

اپنے اختیار، دولت اور مراعات کے دفاع کرنے کے لیے دولت والے اور طاقت ور لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ (ضرورت پڑنے پر، یا بسا اوقات شوقیہ) خوفناک قسم کی درندگی اور ظلم کے نظارے دکھا سکیں۔ صلیب بردار مسیح کی تصویر میں غیرانسانی چہرے ان انسانوں کی روح کی طمع، بے لگام بھوک کے ندیدے پن سے مسخ شدہ چہرے ہیں۔ یہ کرہ ارض کے دولت مند اور بااختیار لوگوں کے چہرے ہیں۔۔۔یہ وہ چہرے نہیں ہیں جو کہ وہ دکھانا پسند کرتے ہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو کہ حقیقت میں ان کے چہرے ہیں۔ بوش ایک بے رحمانہ انداز میں ان کا مسکراتا مکھوٹا نوچ پھینکتا ہے تاکہ وہ بدکار درندہ عیاں ہو جائے جو اس کے پیچھے گھات لگائے بیٹھا ہے۔بوشؔ کی تصویروں میں گناہ گاروں کو دوزخ کی اذیت ناکیاں جھیلتے کسی بھی مخصوص قسم کے جذبہ رحم کے بغیر پینٹ کیا گیا ہے، وہ ان لوگوں کے لیے اپنی نفرت چھپا کر نہیں رکھتا۔ یہاں بھی ہمارے اپنے عہد کے لیے ایک سبق موجود ہے۔ بوش ایک ایسے دور میں مصوری کر رہا تھا جب منڈی کی قدریں اور زر ایک نیا مظہر تھا اور حال ہی میں ایک سماجی قوت کے طور پر ابھر کے سامنے آیا تھا۔ آج کل ہم کسی انسان کو ]تعریف کرتے ہوئے[ کہہ دیتے ہیں کہ وہ ”ایک کروڑ روپے کا“ بندہ ہے اور ذرا بھی نہیں سوچتے کہ ہم نے کیا کہا ہے۔۔۔کہ لوگ نری اشیا ]commodities[ بن کر رہ چکے ہیں، بکاؤ مال۔

یقیناً بااختیار لوگ ایک الگ انداز میں خود کا دیکھا جانا پسند کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ان کو”انسانیت کے محسن“، ”روزگار دینے والے“، ”صنعتوں کے ناخدا“ وغیرہ کے طور پر جانا جائے۔ درباری خوشامدی پورٹریٹ بنانے والے مصور ان کو انہی کے من پسند انداز سے پیش کیا کرتے ہیں۔ ”ہے وین“کی تصویر اس سارے معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک کنجی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نام نہاد منڈی کی مَعیشت کی پیداوار ہے جس نے دنیا کو مسخ کر چھوڑا ہے اور اس کی انسانیت کو ڈاکا مار کے اس سے چھین لیا ہے۔

زمینی لذتوں کا باغ

The_Garden_of_Earthly_Delights_by_Bosch

میڈرڈؔ (ہسپانیہ) کا ”پراڈو میوزیم“ بوش کے عظیم ترین شہ پارے زمینی لذتوں کے باغ کی آرام گاہ ہے۔ یہاں ہستی انسان کے المیے کی ترجمانی ایک قابلِ دید بے مثل فن پارے کی مدد سے کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ ایک دیوانے کے خواب جیسا رنگ اور حرکت کا ہنگامہ ہے جو کہ دیکھنے والے کو قریب قریب گھُما کے رکھ دیتا ہے۔ تفصیلات کی اس بھیڑ میں ایسے ایسے گنگ کر کے رکھ دینے والے متضاد قربتوں (جکسٹا پوزیشن) کے نظارے ہیں کہ ایک ہی نظر میں سب کو سمو لینا ناممکن ہے۔ لیکن ہم ہر تفصیل پر ]الگ الگ[ تفکر بہرحال کر سکتے ہیں، ہم ان تصورات کی شان اور دلفریبی سے ششدر رہ جاتے ہیں۔

زمینی لذتوں کے اس باغ میں بار بار ہمارا سامنا جس موضوع سے ہوتا ہے وہ ہے۔۔۔بہکاوا۔ یہ اپنے آپ میں خود ایک تضاد ہے اور متحارب رجحانات کی کش مکش کا اظہار ہے۔ شجرِ ممنوعہ کا پھل (مادی زندگی کی جنسی مسرتیں یا جسمانی گناہ) ایک پھل اور بے لباس پری چہرہ دوشیزہ کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔۔جو کہ منع کردہ ثمرات میں سب سے زیادہ چاہا جانے والا ہے۔ اسی متخیلہ کو سینٹ انتھونی کے بہکاوے ]کی تصویر[ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک نزدیکی جائزہ بتاتا ہے کہ بوش زمینی لذات کی نہیں بلکہ دوزخ کی اذیت ناکیوں کی تصویر کشی کر رہا ہے۔

Detail from The Garden of Earthly Delightsزمینی لذات کے باغ کی تفصیلات ایک سہ لوحی تصویر (جیسی کہ ہے وین والی تصویر ہے) کی صورت میں موجود ہیں، یعنی یہ تین حصوں میں منقسم ہیں۔ قرونِ وسطیٰ کے مخصوص علامتی انداز میں یہ ایک تمثیلی کتھا ہے۔ یہ ہمیں ایک قصہ سناتی ہے۔ بلکہ یوں کہیں تو زیادہ درست ہو گا کہ یہ انسان کی عظمت سے گر جانے کی کہانی سناتی ہے۔ اگر ہم اس کو بائیں سے دائیں جانب کو دیکھیں تو اس کی شروعات باغِ عدن سے ہو رہی ہیں۔ لیکن اس بہشت میں بھی گناہ کے بیج پہلے ہی سے موجود ہیں۔ یہاں ہم پہلے سے موجود بھیانک عفریت دیکھتے ہیں: ایک ایسی مچھلی جس کے ہاتھ انسان کے ہیں اور سر بطخ کا ہے ہاتھ میں کتاب پکڑے ہوئے پانی کے ایک چھوٹے سے جوہڑ سے نمودار ہو رہی ہے۔ ایک شیر نے اپنا شکار مارا ہے اور وہ اسے چیر پھاڑ کر ہڑپ کرنے کو ہے۔ بے ڈھنگی شکل والا زندگی کا فوارہ جو کہ تصویر کے وسط میں ہے اس کی پھننگ پر ایک ہلال آراستہ ہے، جو کہ شیطان کی، ترکوں کی اور ان کے مذہب کی علامت ہے۔

ان میں سب منحوس وہ الو دکھ رہا ہے جو کہ فوارے کے نچلے حصے میں موجود ایک سوراخ میں سے باہر ٹکٹکی لگائے بیٹھا ہے۔ اگرچہ پرانے ایتھنیائی اس پرندے کو عقل کی دیوی ایتھینا کے ساتھ منسوب کرتے تھے (چنانچہ دانا الوُ)، قرونِ وسطیٰ میں رات کے اس پنچھی کو اس کی چیختی آواز سمیت بدی کے ساتھ منسوب کیا جاتا تھا۔ بوشؔ کے کام میں الوُ کو جابجا دیکھا جا سکتا ہے۔

درمیانی تختی زندگی کے وسیع منظر کو پیش کرتی ہے: ان میں عریاں شبیہیں، تخیلاتی جانور، معمول سے بڑے اور پکے ہوئے فواکہات اور دونسلے پتھروں کے بنے ٹیلے موجود ہیں۔ جناتی قامت کی سٹرابریاں جن کا مزا چکھنے کی خاطر مرد جانیں لڑانے کو تیار ہیں بہکاوے کی ایک علامت کے طور پر ہیں، جس کی واضح شکل جنسی تعلقات ہے۔ بڑی سی مچھلی جو کہ ہر جانب نظر آ رہی ہے لنگ کی علامت ہے۔ پہلی تختی میں انسان (آدم اور حوا) جانوروں سے بڑی قامت کے ہیں اور وہ بعینہ اسی جسامت کے ہیں جس جسامت کا مسیح (خدا) ہے۔ لیکن ان کی جہتیں بدل کے رکھ دی گئی ہیں۔

درمیانی تختی بہت سے ایسے پرندوں پر مبنی ہے جو کہ انسانوں کے ساتھ اختلاط رکھے ہوئے ہیں اور یہاں تک کہ ان کو (ممنوعہ) پھل لا لا کر کھلا رہے ہیں۔ اس جگہ ہمیں ایک جینئس کے سٹروک ملتے ہیں جو کہ ہمیں سریئلزم کے نزدیک لے جاتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں پرندوں کو عموماً بے ضرر جانا جاتا ہے۔ ہم ان کی جانب ان کے رنگ برنگ پنکھوں اور سریلے گیتوں کے باعث ملتفت ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں ان کی موجودگی نحوست اور دہشت کی علامت کے جیسی ہے۔ ان کے قدوقامت کو بڑھا دیا گیا ہے جو کہ انسانوں کی نسبت کہیں قوی الجثہ ہیں۔ اپنی خالی خالی ٹکٹکی جمائے آنکھوں اور طاقت ور اور تیز دھار چونچوں کے باعث یہ اپنے اردگرد کے ننگے اور نہتے لوگوں کے لیے خاصے خطرناک نظر آ رہے ہیں۔

زمینی لذات کے باغ میں ہر قدم پر خطرہ ہے۔ بوشؔ ہمیں تمام دنیاوی مسرتوں کی ناپائیداری کے بارے میں چتاونی دے رہا ہے۔ رسیلے خوش ذائقہ پھلوں کا میٹھا سواد جلد ہی نابود ہونے کو ہے۔ تمام نسلِ انسانی صرف ایک سمت میں رواں ہے اور یہ وہ ہے جو کہ دائیں ہاتھ کی تختی کی جانب ہے۔ یہاں جہنم کے مناظر میں جہنمیوں کو عذاب دینے کے کرب ناک نظاروں کو نہایت تفصیل کے ساتھ تصاویر کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔

لعین صورت اپنے اپنے گناہوں کے مطابق سزایاب ہو رہے ہیں: بسیار خوروں ]مسیحیت میں بسیار خوری سات کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے[ کو دائمی الٹیاں کرنے کی سزا ملی ہوئی ہے یا پھر (ان کی یہ الٹیاں) شیطان نکال رہا ہے جس کا سر پرندے کا ہے۔ ایک آدمی (جو کہ ممکنہ طور پر اپنی زندگی میں موسیقار رہا ہو گا) کے سارے جسم میں سے بربط کے تار گزار دیے گئے ہیں، وہیں ایک اور کے پیچھے ایک بانسری کو گھسیڑ دیا گیا ہے۔ یہاں مختلف انواع کی محیرالعقول بلائیں اور شیطان موجود ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی کسی بھیانک سپنے سے کم نہیں۔

تاہم دوزخ کی ان بلاؤں میں سب سے زیادہ بھیانک اور عجیب وغریب وہ شجری انسان ہے جو کہ اس تصویر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ اس کا کھوکھلا دھڑ جو کہ دو بوسیدہ پیڑوں پر کھڑا ہے، تیز نوکیلی شاخوں سے چھدا پڑا ہے جو کہ اس کے خود کے جسم کو پھاڑ کر باہر نکلی ہیں۔ اس شجری انسان کی نگاہیں کہیں باہر دیکھنے والوں سے پار گھور رہی ہیں، اس کے حیرانی بھرے حسرت ناک اور افسردہ تاثرات اس امکان کا اظہار کرتے ہیں کہ جیسے یہ شجری انسان خود بوش کا اپنا ہی پورٹریٹ ہے جو کہ انسانیت کی گراوٹ کا تماشا انتہائی کرب ناکی سے دیکھ رہا ہے۔

تضادات

یہ عجوبہ روزگار تصاویر روشنی اور ظلمت کے مابین انتہا کا تضاد دکھاتی ہیں، لیکن انجام کار جیت ہمیشہ اندھیروں کی ہی ہوتی ہے۔ یہاں آن کر قرون وسطیٰ کے تمام ڈراؤنے خواب مل ملا کر ایک ہو جاتے ہیں۔ یہاں دوزخ کی تمام آتش ناکی اور اذیتیں موجود ہیں۔ یہاں ایک ابدی لعنت اور تاریکی ہے، ہر جانب آہ و بکا اور دانتوں کی کچکچاہٹ کا راج ہے۔

بوش کی ان تصاویر کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایک زبردست قسم کے تضاد کا احساس جکڑ میں لے لیتا ہے۔ ان بے جوڑ رجحانات کی کرب ناک کشمکش کو ہم محض دیکھتے ہی نہیں: ہم اس کو محسوس کرتے ہیں، چھوتے ہیں، سنتے ہیں اور اس کو سونگھتے ہیں۔ یہ تخیلاتی ہیولے زندگی سے اس قدر بھرپور ہیں کہ تصویر سے باہر نکل کر آپ کو گلے سے دبوچ لیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر ہم میں سریئلزم کے آرٹ والا تاثر پیدا کرتا ہے، جو کہ اسی طور کے تاریخی حالات کی پیداوار تھا۔ اس میں بھی اسی طرح کے بین السطور تضادات ہیں، جن کو ایک کٹھورتا کے ساتھ اک دوجے کے ساتھ رکھتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔

جاری ہے

بشکریہ طبقاتی کشمش

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *