عجلت پسند(12،آخری قسط)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

گیارہویں  قسط کا آخری حصہ

tripako tours pakistan

تین دن کے قیام کے دوران ہم نے ساٹھ لاکھ روپے میں غیر ملکی فٹنگز والا کا ایک چار بیڈ روم کا گھر ای ایم ای کالونی لاہور میں لے لیا ہے۔دو گلیاں چھوڑ کر تایا ابو کا بھی گھر ہے۔یہ ان کے کسی دوست کا تھا جن کی پوری فیملی اب آسٹریلیا ہجرت کرگئی ہے۔ٹی پو کو ابو نے کہہ دیا کہ سمجھ لیں یہ گھر آپ دونوں کی اولاد کا ہے۔ بی نو چپ چاپ جب ظہیر کے پاس چلی جائے اور آپ کینیڈا ٓئیں گے تو وہ ظہیر سے طلاق لے کر آپ سے باقاعدہ نکاح کرلے گی۔تب تک امی ابو وہاڑی چھوڑ یہاں لاہور میں رہیں گے۔اتنی ہی رقم ابو کے اکاؤنٹ میں ڈیزل چوروں نے اور بھی جمع کرادی ہے۔طے ہوگیا ہے تب تک بچے والے معاملے میں ابو اور میری جانب سے مکمل خاموشی رہے

railway road -Multan
market building map
magnetic key card
mobile phone detector

cell phone recorder

گی۔میں نے کہا بھی کہ آپ کی سرکاری مہر سے ایک اشٹامپ پیپر بنوالیتے ہیں۔ پہلی دفعہ پتہ چلا کر اسٹیمپ پیپر درست ہجے ہیں۔اس کو قانونی زبان میں ایفی ڈیوٹ کہتے ہیں۔بچے کا باپ پڑھا لکھا ہو تو اس کے یہ فائدے ہیں کہ آپ کو صحیح ہجے آجاتے ہیں۔ٹی پو جی کہنے لگے تمہاری زبان میرے لیے آئین پاکستان ہے۔

بارہویں قسط

ملتان میں بی-نو کی ٹیپو سے ملاقات ریلوے روڈ کی ایک پرانی عمارت میں ہوتی ہے۔اس میں نچلی منزل میں تیس دکانوں کی تین قطاریں ہیں۔ پہلی سامنے کی قطار جو ریلوے روڈ پر کھلتی ہے
اس کی دکانوں کو دو حصوں میں دیوار چن کر جدا کردیا گیا ہے۔جیسے بازو علیحدہ ہوتے ہیں بی نو کی آمد اس پہلی قطار میں کھلنے والی مارکیٹ کی سیڑھیوں سے ہوتی ہے۔اس کی چھوٹی سی راہداری پر ایک گرل والا گیٹ نصب ہے۔سیڑھیوں پر بھی ایک دروازہ ہے جس میں چابی کے ساتھ ایک خفیہ بٹن اندر کی طرف ہے۔سلاخوں سے ہاتھ ڈال کر اس چھوٹے سے بٹن کو دباؤ تب دروازہ بغیر آواز کیے کھل جاتا ہے۔ اندر داخل ہو نے کے ایک منٹ کے اندر آٹو میٹک طریقے سے بند بھی ہوجاتا ہے۔اس کی ٹائمنگ ایسی ہے کہ لاک کو دوبارہ کھولنے کے لیے پانچ منٹ انتظار کرنا ہوتا ہے۔اس کی سیڑھیاں چڑھ کر بی نو اوپر پہلی منزل تک آجاتی ہے۔

اس دروازے کو کھول کر سیڑھیاں چڑھ کر اندر آئیں تو نمبر والے تالے سے کھلنے والا ایک گیٹ آپ کا راستہ روک لیتا  ہے،اس چھوٹے سے حصے میں جو گرل کے پار لیکن کمرے کے ساتھ ہے اسے ایک چھوٹا سا اندرونی صحن سمجھ لیں اس سے وہ میٹنگ والے کمرے تک آجاتی ہے۔ کمرے والی راہدری کے باہر جو گرل والا گیٹ ہے اس کے لاک کا نمبر1992 ہے جو بی نو کو بتادیا گیا ہے۔ کمرے کا لاک عام طور پر بڑے ہوٹل والے دروازوں کی طرح مقناطیسی کارڈ سے کھلنے والا ہے۔ٹی پو کی ہدایت ہے کہ  یہاں پر سیل فون لے کر نہیں آنا۔فون بند ہو تو بھی اس عمارت میں cell phone detector لگا ہوا ہے۔پتہ لگ جاتا ہے اور الرٹ بٹن  دب جاتے ہیں۔

Brazilian bikini
lingerie
bottles

suit
thob
choli blouse
zoobi doobi kareena kapoor

خود ہی بتایا کہ اس عمارت کے پیچھے ان کا دفتر ہے اس میں بہت طاقتور فون ریکارڈرز نصب ہیں،عمارت کی پہلی منزل ٹی پو جی کے کیمپ آفس  کے طور پر استعمال ہوتی  ہے۔اس فلور پر تین کمرے ہیں دو ایک ساتھ اور تیسرا بڑے والا ایک کونے میں۔اس کو Executive Suite سمجھ لیں۔ ٹی پو اور بی نو ملتان آمد کے بعد یہیں ملتے رہے ہیں۔اس کمرے میں بہت آرام دہ بستر، عریانگی کے ملاحظے پر شرمسار کرنے والے چار مختلف زاویوں پر نصب بڑے آئینے اور دو بڑی اور ایک چھوٹی سی الماری ہے۔ یہ چونکہ  آخر کا کمرہ ہے۔دو د روازے اس کمرے کے سامنے سے اور بھی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی صحن میں جانے والی سیڑھیوں کی طرف کھلتے ہیں، ٹی پو ان میں سے ایک زینہ سے کمرے میں آتے ہیں ۔اس پر نمبر والا لاک بیرونی سمت لگاہے۔ باہر جانے کے لیے اور دوسرا اندرونی لاک والا دروازہ ہے۔ ٹی پو کی آمد اس کے کمرے میں پہنچنے کے آدھا گھنٹے سے پونا گھنٹے کے عرصے میں ہوتی ہے۔اس کی الماری سے وہ کپڑے نکال کر تیار ہوجاتی ہے۔عام طور پر یہ سلسلہ دو بجے تک چلتا ہے۔

کونے میں ایک ریک پر بُلٹ پروف جیکٹس بھی رکھی ہیں۔سو یہ تین چار گھنٹے جو ان کی رفاقت میں گزرتے ہیں بی نو سیل فون کا استعمال نہیں کرتی۔پروگرام بھی ایک دن پہلے طے ہوتا ہے اکثر رات گئے۔ مختصر سا ایس ایم ایس سیل فون پر نائین اے۔ ایم کافی وِد زونی۔اوپر جاتے وقت بھی بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ جلدی میں احتیاط سے ہاتھ  اندر ڈال کر بٹن  دبا کر دروازہ کھولنا ہوتا ہے۔بی نو کے لیے یہ سب سے  مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔کوئی دیکھے نہ  اور بٹن بھی مل جائے۔ورنہ پانچ منٹ بعد ٹرائی کرنا ہوگی۔ایک دو دفعہ ایسا ہوچکا ہے۔

ٹی پو کا کہنا ہے کہ یہاں سے آنے جانے میں اور تاک جھانک میں وہ خاص احتیاط کرے ،کیوں دہشت گرد، نگران ایجنٹ اور دیگر ادارے بھی سروی لینس کررہے ہوتے ہیں۔کسی ہاکر، ٹھیلے والے یا فقیر کے پاس نہیں رکنا ہے۔رکشہ بھی ذرا دور نکڑ پر رُکواکر ادھر اُدھر چکر لگا کر گیٹ کے قریب آنا ہے۔ان دنوں چونکہ  پکڑ دھکڑ اور دہشت گردی دونوں ہی برابری کی ٹکر پر ہیں، لہذا بہت خاص احتیاط کرنی پڑتی ہے۔

Tiwana ki jeep

ایک دفعہ بی نونے چپ چاپ رکشہ سے اُتر کر باہر کھڑے رہ کر تین چار تصویریں بنالیں اور فون امی کو دے دیا ،جو اسے وہاں چھوڑ  کر فون سمیت حسین آگاہی مارکیٹ میں چلی گئیں۔یہ سب اس لیے کہ گھوڑے کی سواری کا شوق ہو تو چابک بھی پاس ہونا چاہیے۔ فرض کریں کبھی کوئی برائی سر پر مسلط ہو تو ایسی صورت میں اپنے پاس ثبو ت موجود ہونے چاہئیں۔ ٹی پو کی سہولت اور مرضی کے مطابق بی نو کا ملنا ہوتا ہے۔ریلوے روڈ کی  مارکیٹ کا یہ کیمپ آفس دراصل ایک ایسا حدیقہء لطف و سرور ہے جہاں ان کی صحبت بوس و کنار برپا ہوتی ہے۔

انہیں لانژرے اور برازیلین بکنیز کا بہت شوق ہے۔ دنیا کی مشہور ترین زیر ِ جاموں کی مختلف برانڈزAgent Provocateur،ناتوری، لاپریلا،شینٹیل، وکٹوریہ سیکریٹ جانے کہاں کہاں کا الم غلم جمع کرکے رکھا ہے۔ بی-نو نے تصدیق کرلی کہ یہ لنڈے کا مال نہیں۔ایسا ہوا تو وہ انہیں آگ لگادے گی۔اس کی سمجھ میں نہیں آتی کا جب ملاقات کا نقطہ ء لطف وصال کامل برہنگی ہے تو یہ سب اہتمام کاہے کو۔ وہ کہتے ہیں جتنی قیمتی شراب یا پرفیوم ہو اس کی بوتل اور پیکنگ بھی ویسی ہی ودھیا ہوتی ہے۔
Its all about class

ٹی پو جی کا اس بارے میں فلسفہ کچھ یوں ہے کہ مرد زیادہ کپڑوں میں اور عورت کم کپڑوں میں اچھا لگتی ہے میں  تھری پیس سوٹس،عربوں کے ثوب اور چھ گز کی ساڑھی کے ساتھ وہی زوبی ڈوبی والاچولی بلاؤز۔بی نو کو بھی اس بننے سنورنے میں مزا آتا ہے۔محبوب کے سامنے Exhibitionist بننے کا کیا لطف ہے یہ کوئی کسی دلہن سے پوچھے۔اس کی اپنی شادی کا اوّلین دو سالوں کا عرصہ تو ایک بے آب و گیا  دشت بے اعتنائی تھا۔ایک صحرائے ازدواج خار پرور جس میں ٹیپو کی توجہ کے پھول کھلے تو بدن کو ایک تراوٹ ایک ذائقہء  بیش بہا ملا۔

دونوں کے ہفتے میں ایسے تین پروگرام لازمی بنتے ہیں۔پچھلی ملاقات میں کہہ رہے تھے ساس سسر آئے ہوئے ہیں۔بیگم کا مزاج بھی بہت برہم ہے۔لگتا ہے ان کو شک ہے کہ میں کسی عورت کے چکر میں ہوں۔میں نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہاں اولاد کی خاطر میں نے دوسری شادی کرنی ہے۔

Gibson island
garden hotel gibbson island vancouer
garden hotel gibbson island vancouer

وہ دن عجیب دن تھا۔اتوار کی صبح ہی میسج آگیا تھا کہ اگلے دن صبح نو بجے پیر والے دن دونوں کی ملاقات ہونا طے تھی۔ پچھلی ملاقات میں طے ہوا تھا کہ بی نو نے کمرے پر آن کر تھری ایڈیٹ نامی فلم میں کرینہ کپور والی ذوبی ڈوبی والی ساڑھی پہننی تھی۔ گھر سے  سکول کی بجائے سیدھا ریلوے روڈ والی مارکیٹ پر آ جانا تھا۔جب اس نے اوکے کردیا تو ہدایت آئی کہ کافی ودھ زونی ڈن۔راجر اینڈ آؤٹ۔اس کا مطلب ہے اب مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔ پروگرام پنی تمام تر تفصیل سے طے ہو چکا تھا۔ بی نو اہتمام آرائش برائے ملاقات میں مصروف تھی۔

آپ تو جانتے ہی ہیں کہ عورتوں نے سوئم چہلم پر بھی جاناہوتا  ہے تو ایک آدھ گھنٹہ آئینے کی شامت ضرور آجاتی ہے۔ یہ تو وصال یار کی بات تھی اور وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں۔

اتوار کے دن ہی اس پروگرام کے طے ہوجانے پر وہ مسرور تھی۔ ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو ابو کو دو بجے دوپہر پیغام آیا کہ ٹوانہ صاحب بی نو کو لینے  کے لیے ایک گھنٹے میں پہنچ رہے ہیں۔سیدھا پشاور اور وہاں سے کسی اہم فیملی کے ساتھ سفارت کار وں کی ایک ٹولی کے ہمراہ کابل وہاں سے اعلی الصباح دبئی کی فلائیٹ ہے اور براستہ اوساکا وینکور۔امی اداس تھیں مگر کیا کرتے۔ ٹی پو کو بتانے کا محل اور ضرورت نہ تھی۔اس کا مطلب تھا دونوں کی گرفتاری اور حضرت کی واہ واہ۔ سو چپ چاپ ٹوانہ صاحب کے ساتھ سیاہ رنگ کے شیشوں والی جیپ میں بیٹھ کر نکل گئی۔ ٹیپو صاحب کو بھی اعلیٰ  الصبح ان کے کمانڈر نے لاہور بلالیا۔انہوں نے پھر بھی کمرے کے دروازے سے نیچے ایک نوٹ ڈال دیا کہ سرکاری کام آگیا۔میری دو ٹکیاں دی نوکری آپ کا لاکھوں کا ساون جائے۔ منسوخی کا ہرجانہ ادا ہوگا۔نئی اطلاع کا انتظار فرمائیے گا۔

دہشت گردی پر اس اہم میٹنگ کے دوران جب تازہ ترین خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف سندھ بلوچستان اور پنجاب کی سرحد پر ایک ہائیڈ آؤٹ پر چھاپے اور گرفتاریوں کا مربوط منصوبہ زیر بحث تھا۔ اطلاعات تھیں کہ پڑوس کے دشمن اور دوست ممالک نے ایجنٹوں کی ایک تازہ کھیپ بھیج دی ہے۔ سلی پر سیلز سرگرم ہوگئے ہیں ایسے میں کمانڈر صاحب کو سیل فون پر میسج آیا اور اٹھ کر باہر چلے گئے۔ خبر آئی کہ ریلوے روڈ پر مارکیٹ کی عمارت میں بہت بڑا دھماکہ ہوا ہے۔ یہ وہی  مارکیٹ کی عمارت تھی جہاں بی-نو اور ٹیپو ملا کرتے تھے اسے دھماکے سے اڑادیا گیا۔مارکیٹ کی بلڈنگ ملیا میٹ ہوگئی سامنے کا حصہ تو اس بری طرح مخدوش ہو ا  ہے کہ پہچاننے میں نہیں آرہا۔ پچاس کے قریب دکاندار اور خواتین اور بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ دھماکے کا وقت صبح ٹھیک ساڑھے نو بجے تھا۔ بی نو اور ٹوانہ جی تب تک کابل سے اڑان بھر کے دبئی کی فضاؤں میں تھے۔

ٹیپو گھر آئے تو بہت پریشان تھے۔ پریشانی دیکھ کر ان کی بیگم نے پوچھا تو سب کچھ بتادیا۔کہہ رہے تھے کہ مرنے والوں میں ان کی ایک مددگار بھی تھی۔ وہ غیر ملکی ایجنٹوں کے سلیپر سیلز میں بہت اندر تک گھسی ہوئی تھی۔ اس سے ملاقات طے تھی۔ اس نے کچھ اہم دہشت گرد گرفتار کروانے تھے۔وہ بھی اس عمارت میں ان کے ایک حوالدار کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔دونوں مارے گئے۔کچھ اہم ریکارڈ بھی بربادہوا۔بیگم اٹھیں اور ایک تصویر سامنے رکھ دی۔یہ بی نو کی ان کے ساتھ ڈونگا گلی کی تصویر تھی۔وہی تصویر جس میں بی نو ان کی گود میں لیٹی ہوئی تھی۔ ٹی پو کو لگا کہ یہ تصویریں اسی جوڑے نے کھینچی تھیں جس پر انہیں شبہ بھی ہوا تھا کہ انہوں نے مرد کو کسی جگہ دیکھا ہے یہ وہی تھے جواپنی فیملی کے ساتھ ڈونگا گلی آئے تھے۔ وہ ٹی پو کو پہچانتے تھے مگر ٹی پو  کو   ان کے بارے میں کچھ خاص پتہ نہ تھا۔

بیگم نے اپنی والدہ، والدہ اور دنوں اور بچوں کا سامان پہلے ہی پیک کررکھا تھا۔ وہ ان کے ساتھ چلی گئیں۔

ماہی والے دنوں میں ٹوانہ صاحب زیادہ تر بی نو کے گھر آجاتے تھے۔ انہیں ایک دوسرے کی ملاقات کا لطف فراہم کرنے کی غرض سے ظہیر ذرا جلد ہی آفس چلا جاتا۔ اسی وجہ سے ایک دوسرے سے پیار کرنے کا خاصا وقت مل جاتا۔اس بار عید بھی تھی اور لانگ ویک اینڈ بھی تھا۔ ویسے کاروبار چوں کہ ظہیر ہی سنبھال رہا تھا۔اسی لیے ٹوانہ جی، بی نو اور زونی یہ تینوں وینکور کے قریب گبسن کے جزیرے پر نکل گئے۔ یہ برٹش کولمبیا کا بہت خوب صورت علاقہ ہے۔ظہیر کی اپنے ٹرک ڈرائیور دوستوں کی کوئی کیمپ آؤٹنگ تھی۔

رات کے کسی پہر جب وہ گارڈن ہوٹل کی ٹیرس سے شانت سمندر کو تکتے تھے تو بی نو کو ڈونگا گلی یاد آئی۔اس نے پوچھا”ارے وہ آپ کے ایک ساتھی ہوتے تھے۔موئے جھوٹے۔ میرا وہاڑی ٹرانسفر بھی نہیں کرایا۔باتیں اور بھرم ایسا مارتے تھے جیسے اوباما کو بھی وہائٹ ہاؤس میں انہی نے لگوایا ہو۔مجھے تو اس لوزر کا نام بھی یاد نہیں۔ٹوانہ جی نے بتایا کہ”خود کو ٹی پو کہتے تھے مگر یہ شاید ان کا اصلی نام نہ ہو۔ میرا تو بس پیشہ ورانہ تعلق تھا۔ادھر ادھر سے خبریں ملتی تھیں۔پکا ویمن آئزر۔

binu in vancover
udas tipu je
udas tipu jee

بی نو کے دل میں آیا کہ وہ ان کا نام بھی لے دے۔دل کو صدمہ ہوا کہ وہ عورتوں کے معاملے میں رنگ رسیا نکلے۔ان کی اس ایک برائی کے انکشاف سے وہ بہت کرچی کرچی ہوئی۔ اسے لگا کہ وہ تو محض ایک باب الفت تھی جسے شاہراہ ہوس پر کھول کر وہ لطف وصال کی دوسری منزلوں کی طرف گامزن ہوجاتے تھے۔

بی نو چالاک تھی۔ اس انکشاف کا شاک خاموشی سے جھیلنا چاہتی تھی۔ اسی لیے پوچھ بیٹھی جانو آپ تو ایسے نہیں نا۔مجھے ویمن آئزر مردوں سے شدید چڑ ہے۔جو ہوا سو ہوا۔ نو مور
ٹوانہ صاحب کہنے لگے ۔ ظہیر نے اس تامل عورت کے بارے میں ضروربتایا ہوگا جس کے ساتھ میں بارنابے میں رہتا ہوں۔اس جینیء لیا مڈو گلے سے میرا سمبندھ ضرور ہے۔زیادہ کچھ نہیں۔
مجبوری ہے اس لیے اس کے ساتھ رہنا ہوتا  ہے کہ کہیں نیب والے کینیڈا انہیں گرفتار کرنے نہ پہنچ جائیں۔ یہ تامل بڑے ہشیار لوگ ہیں۔ ان کی بولی بھی کوئی نہیں سمجھتا سو ان میں چھپ کر رہنے میں بچت ہے۔ مجھے تمہارا اور زونی کا پیار یہاں لے آتا ہے۔ یہ ہائی رسک مشن ہے مگر اولاد اور بیوی کی خاطر یہ ضروری ہے۔

بی نو کا ٹوانہ جی کا اسے بیوی اور زونی کو اولاد کہنا اچھا لگا۔ جب تک وہ گارڈن ہوٹل میں رہے اس پانچ چھ دن اور اس پورے مہینے اس نے مانع حمل گولیاں نہیں کھائیں تاکہ ٹوانہ صاحب کو بھی سچ میں
باپ بنادے۔اس کا فائدہ یہ ہوگاکہ اس کے بچے ان کی جائیداد کے کینیڈا اور پاکستان میں بھی وارث بن سکتے ہیں۔بی نو جانتی ہے کہ جب سب ہی اپنی شرائط کا تھیلا تھامے غیر مشروط اور بے دریغ محبت کے طالب ہیں تو وہ کیوں نہ اپنی شرائط پر جینا شروع کرے۔اس نے ایک سبق اور بھی سیکھ لیا کہ لوگوں پر اعتبار یا پیار جتنا بھی ہو ان کے لیے مہمانوں والا کمرہ ہی کھولنا چاہیے۔ایک اور سبق جو اس فیصلے کے جواز میں اس نے اپنایا ہے وہ یہ ہے کہ بیج اگر خاموشی سے بویا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا گلستان بھی خاموش رہے گا۔

اس رات کے انکشافات اس پر بہت گراں گزرے ۔وہ سوئی کم۔روئی بہت۔ٹوانہ سوگئے تو نیچے بار میں جاکر کافی دیر تنہا بیٹھی پیتی رہی۔ جانے وہ کون سا لمحہ تھا کہ اس نے ٹی پو کو معاف کردیا۔وہ اس کا پہلا پیار تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے خود کو قائل کیا کہ اس نے انہیں دل سے چاہا ہے اور جو کچھ بھی اس نے کیا وہ اپنی رضا و رغبت سے زندگی کی چند گھڑیاں چرانے کے لیے کیا۔یہ سود و زیاں کا سودا نہ تھا۔وہ اس میں نفع نقصان کا سوچ کر اس  کا تصور کر کے بہتان اور نقصان آلود نہیں کرنا چاہتی تھی۔
یہ وہ لمحات ہیں جنہیں وہ اپنا سرمایہ حیات مانتی ہے۔

بی نو کو اس دوران ایک خیال یہ بھی آیا کہ اس نے ٹی پو کو ہمیشہ مضبوط، جری، جفا جو دیکھا۔اسے بڑا عجیب لگا کہ ایسا مرد اداس ہو۔ٹوٹا بکھرا تو کیسا لگے گا۔پہلے سوچا کہ وہ انہیں اس پیر کی صبح نہ پہنچ پانے کا احوال لکھ بھیجے۔ بی نو کو ابو نے بتادیا تھا کہ اس عمارت کا کیا حال ہوا۔ اس انکشاف پر اس نے اپنے مسیحا محمود اچاریہ جی عرف ڈی آئی جی محمود ٹوانہ کے پیر مونچھیں سب چوم کر پیار کیا کہ ان کے بروقت فرار منصوبے سے جان بھی بچ گئی اور عزت بھی محفوظ رہ گئی۔

بی نو نے اگلی رات ٹوانہ جی سے حوصلہ کرکے پوچھ لیا۔وہ جو آپ کے دوست تھے ٹی پو صاحب۔ان کی کیا بیوی بھی تھی اور بچے بھی۔ظہیر تو کہتا تھا ان کی بیوی کراچی کی تھی گجراتی۔جب ہی وہ کراچی بھی بہت جاتے تھے۔ٹوانہ جی کہنے لگے ظہیر کو ان لوگوں کی کیا خبر، کراچی میں ہوسکتا ہے مال کی وصولی کے لیے جاتے ہوں یا ہماری طرح حوالے کا کوئی چکر ہو۔ بی نو نے پوچھا وہ آپ کے دوست اب کیا کرتے ہیں۔کیا وہ بھی آپ کی طرح سندھ سے پنجاب پوسٹ ہوئے تھے تو جواب ملا ہاں ہمارا پہلا تعارف وہیں کا تھا۔ بتانے لگے کہ نوکری چھوڑ نے کے بعد ٹی پو جی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی چلاتے ہیں۔سوات۔ کراچی روٹ پر بسوں کا کام ہے۔خوش ہیں۔ شمالی علاقہ جات کے لیے ٹریول ایجنسی بھی ہے۔برے کام کا برا انجام ۔پروموشن بھی نہیں ہوا۔بیگم نے بھی چھوڑ دیا۔کوئی افیئر سامنے آیا تو دونوں بچے لے کر چلی گئی۔اس کے ماں باپ ان کے سگے خالہ خالو تھے۔ خالو کا کنسٹرکشن کا بڑا کام تھا۔ ہائی ویز بناتے ہیں۔

اب کوئی رابطہ ہے۔کہنے لگے نہیں یار۔یہاں کئی لوگ ہیں۔ان کے ساتھ کے اور سینئرز،سو خبریں مل ہی جاتی ہیں۔ سنا ہے وہاں شادی کرلی ہے۔ان کے قبیلے کے ہیں۔ ان کے افسر بھی تھے لاہور میں۔ ان کی بیوہ بہن   سے  شادی کرلی۔بچہ بھی ہوگیا ہے۔

بی نو نے سوچا ہے کہ وہ پاکستان گئی تو زونی کو ابو امی کے پاس چھوڑ کر ایک دفعہ ان سے ملنے ڈونگا گلی جائے گی۔ہوسکا تو ایک بچہ ان کا اور پیدا کرے گی۔ بی نو نے زندگی کا ایک سبق مڑ مڑ کر دیکھنے میں یہ سیکھ لیا کہ محبت کرنا اور محبت پانا دو مختلف عمل ہیں۔وہ ٹی پو سے پیار کرتی ہے۔محبت کے بارے میں اس کا اندازہ ہے کہ اسے اپنی شدت،سادگی اور سچائی کا اندازہ محبوب سے بچھڑ کر ہوتا ہے۔
ختم شد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *