لالچی کسان اور ڈیجیٹل درویش۔۔آصف محمود

سوشل میڈیا پر اہل دانش بقلم خود کا ایک طبقہ ایسا ہے جس کے نزدیک معلوم انسانی تاریخ کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جس دن وہ سوشل میڈیا پر پیدا ہوئے تھے۔ان کے ہاں دنیاکا ہر کام پہلی مرتبہ ہو رہا ہے اور میلے میں گھومتے بچے کی حیرانی سے ایک ایک چیز کو دیکھتے ہیں اور آواز لگاتے ہیں : پہلی بار صاحب پہلی بار۔واہ صاحب واہ۔کنویں کا مینڈک اپنے کنویں کی وسعت کو کل کائنات سمجھتا تھا۔یہ ڈیجیٹل دانشوران اپنے موبائل سکرین سے باہر کسی زندگی کے وجود کے قائل نہیں۔ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ کالونیاں اس وقت معاشرے میں زیر بحث ہیں اور اس بحث میں حصہ لینے والوں کی اکثریت کسان کے مسائل سے یکسر لا علم ہے۔نہ پس منظر سے آگہی ہے نہ زمینی حقائق سے کوئی واسطہ۔بس موبائل ہاتھ آ گئے ہیں اور دیوان لکھے جا رہے ہیں۔ایک برہان تازہ یہ ہے کہ ہمارا کسان بڑا لالچی ہے۔اپنے لالچ میں وہ زمینیں بیچے جا رہا ہے۔کل ایک محفل میں یہ طعنہ سنا اور پھر سوشل میڈیا پر اس کا اعادہ ہوتے دیکھا تو خیال آیا کسان تو لالچی ہو گا ، یہ ڈیجیٹل نونہال کون سے ابن عربی کے درویش ہیں جو پیر سے پیٹ باندھ کر روپے کے تعاقب میں یوں بھاگتے پھرتے ہیں کہ نہ صبح کی خبر ہے نہ شام کی۔ ننانوے کے چکر میں بھاگے جا رہے ہیں۔ کسان کو گالی دینا آسان ہے لیکن گریبان میں جھانکنا مشکل۔عالم یہ ہے کہ ہائوسنگ سوسائٹیاں جنگل کے جنگل کھا گئی ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عارف عباسی نے ایوان میں سوال کیا کہ محکمہ جنگلات راولپنڈی کی کتنی زمین ہائوسنگ کالونیاں ناجائز طور پر کھا گئی ہیں؟ ایوان میں پوچھے گئے سوال کا جواب تو مل گیا لیکن اس گستاخی پر اگلے الیکشن میں ٹکٹ نہیں مل سکا۔کیا یہ بھی لالچی کسان تھا جس نے عمران خان سے جا کر کہا تھا کہ اس بندے کو ٹکٹ نہیں دینا؟ اس ملک میں سرمایہ کار کو احتساب کے ڈر سے بھگا دیا گیا۔ بڑا سادہ سا اصول ہے جہاں خوف ہو وہاں سرمایہ نہیں رہتا۔قرض لے کر کھا لیے گئے لیکن ملک میں کوئی انڈسٹری نہیں ہے جہاں لوگ سرمایہ کاری کریں۔چنانچہ واحد شعبہ اب ہائوسنگ کالونیوں کا بچا ہے۔ ہر شخص فائل اور پلاٹ لینے کے لیے بائولا ہوا پھرتا ہے۔ کوئی ڈیجیٹل درویش بتائے گا کہ کیا اس قوم کو پلاٹ فوبیا میں ڈالنے والا لالچی کسان ہے؟ کیا لالچی کسان نے اس معاشرے کو پلاٹ اور فائل کے عارضے میں مبتلا کیا ہے؟ اہل صحافت کے ہاں تو گویا جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ کسان زمینیں بیچ دے تو یہ بھاشن دینے آ جاتے ہیں کہ کسان بڑا لالچی ہے۔کسان اور عام زمین دار کے پاس اب مربعوں کی ملکیت نہیں رہی۔ اکثریت کے پاس اب ایکڑ ہیں۔ ایکڑوں کی آمدن سے بچوں کی فیسیں نہیں دی جاتیں۔ کسان نے بچے بھی پڑھانے ہیں۔گھر میں کوئی بیمار ہو جائے تو اس کا علاج بھی کرانا ہے کیونکہ یہاں تعلیم اور صحت کاروبار بنا دیا گیا ہے۔زمینیں شوق سے نہیں بیچی جاتیں ۔ مجبوری میں بھی بیچی جاتی ہیں۔کیا یہ لالچی کسان ہے جس نے تعلیم کو مہنگا کاروبار بنا رکھا ہے؟ کیا یہ لالچی کسان ہے جس نے صحت کو عام آدمی کی دسترس سے دور کر دیا ہے؟ ہر شعبہ زندگی نے اپنے لیے اپنی طاقت کے حساب سے قومی وسائل پر اپنا حق جتا رکھا ہے۔ لالچی کسان کے لیے ریاست نے آج تک کیا کیا ہے؟ کوئی صحت کا پیکج؟ اس کے بچوں کے لیے کوئی تعلیمی پیکج؟ کوئی ایک چیز تو بتائیے؟ اب اہل دانش دہائی دے رہے ہیں کہ کسان کو اس کی زمینیں فروخت کرنے سے روکا جائے کیونکہ یہ ہماری فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے۔جس کسان کو اس کی اپنی سیکیورٹی نہ ہو وہ آپ کی فوڈ سیکیورٹی کا ٹھیکہ کیسے اٹھا سکتا ہے؟ کسانوں کو جب کھڑی فصلیں جلانا پڑتی ہیں اس وقت کسی کو کسان یاد نہیں آتا۔ جب وہ سڑک پر احتجاج کر رہا ہوتا ہے تو کوئی اسے ٹاک شو میں نہیں بلاتا ۔کیونکہ جون کی گرمی میں بھی ٹاک شوز میں ٹائی لگا کر دانشوری فرمائی جاتی ہے اور کسان کوٹ پتلون نہیں پہنتا اور اسے ٹائی لگانا نہیں آتی۔ ڈیجیٹل درویش سارا سال روپے کے پیچھے ’’ جھلے‘‘ ہوئے پھرتے ہیں۔ ایک سے دو اور دو سے چار کے کھیل میں انہیں اپنا ہوش نہیں۔ وزیر اعظم کٹے بکریوں اور انڈوں کی بات کر دے تو یہ کندھے اچکا کر اس کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ لو دیکھو بھلا کٹوں انڈوں اور بکریوں سے بھی معیشت کھڑی ہو سکتی ہے۔ اب کچھ درخت کٹے تو انہیں اچانک اپنی زراعت کی محبت یاد آ گئی ہے اور کسان کو لعن طعن کرنے لگ گئے ہیں کہ کم بخت لالچی بہت ہے۔ کسان نے کسی دن یہ طے کر لیا کہ اس بار صرف اپنی ضرورت کی گندم اگانی ہے تو سب کی عقل ٹھکانے آ جائے گی کہ ’’ لالچی کسان‘‘ کتنا اہم ہے۔اس بے چارے کے لیے نہ کوئی فوڈ سیکیورٹی ہے نہ تعلیم اور صحت کا پیکج۔ ایک عام زرعی مزدور کو چھ ماہ کی محنت کے بعد فصل اٹھانے پر جو معاوضہ ملتا ہے اسے تقسیم کیا جائے تو یہ 200 روپے یومیہ سے زیادہ نہیں ہے۔چھوٹے زمین داروں کا بھی یہی حال ہے۔ایک پالیسی کے تحت زراعت کو نظر انداز کر کے اس کو برباد کیا گیا ہے۔ کسان سے آپ کو نفرت ہے، اس کا حلیہ آپ کو اچھا نہیں لگتا، پینڈو کی اصطلاح آج تک حقارت سے استعمال ہوتی ہے۔انوکھے لاڈلے اب قانون سازی کا مطالبہ کر رہے ہیںکہ خبردار کوئی کسان درخت نہ کاٹے اور زمین نہ بیچے۔ انہیں معلوم ہی نہیںکتنے درخت لگائے ہی اس لیے جاتے ہیں کہ فلاں موسم میں بیچ کر بیٹی بیاہی جائے گی۔ زراعت کی اگر اتنی ہی تکلیف ہے تو کسان کی تکلیف کو بھی محسوس کیجیے۔کیا ہوا وہ ٹویٹر اور فیس بک پر نہیں ہے۔ہے تو انسان۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply