• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • کیا لہلہاتے کھیتوں اور سینکڑوں دیہات پر ’نیا لاہور‘ تعمیر ہو گا؟

کیا لہلہاتے کھیتوں اور سینکڑوں دیہات پر ’نیا لاہور‘ تعمیر ہو گا؟

لاہور رنگ روڈ اور سیالکوٹ موٹروے کے ٹول پلازہ سے ایک کچی سڑک نیچے جاتی ہے بائیں طرف شہر کی حدود شروع ہونے سے پہلے رنگ روڈ کے اطراف فیکٹریوں کا ایک سلسلہ ہے تو دائیں طرف موٹر وے کے نیچے سے گزرتے ہوئے کھیتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اور پہلا گاؤں کرول آتا ہے جس کے قریب گزشتہ برس موٹر وے ریپ کیس کا واقعہ پیش آیا تھا۔

ہزاروں گھروں پر مشتمل اس گاؤں کے ساتھ کچے پکے راستوں پر دیہات کا ایک سلسلہ ہے جو دریائے راوی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

tripako tours pakistan

موٹر وے سے اس سڑک پر چھوٹا سا گاؤں بکن وال ہے جس کے باہر خاردار تاروں کے حصار میں بھاری مشینیں کھڑی ہیں جو بظاہر تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی لگتی ہیں۔

بکن وال میں کسانوں کا ایک گروہ سر جوڑے بیٹھا تھا اور اپنی زمینوں کو بچانے کے لیے حکمت عملی پر غور کر رہا تھا۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں وزیر اعظم عمران خان کے ’ویژن‘ کے مطابق ایک نیا شہر بسایا جانا ہے جس کا نام راوی ریور فرنٹ کا منصوبہ رکھا گیا ہے اور اس کے لیے الگ سے ایک محکمہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنایا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے بظاہر یہ بتایا جا رہا تھا کہ اس منصوبے سے بظاہر کوئی زیادہ لوگ متاثر نہیں ہوں گے اور اس منصوبے کے لیے استعمال ہونے والی زیادہ تر زمین ’بنجر‘ ہے۔

اس علاقے کے متاثرہ کسانوں نے اپنی زمینیں بچانے کے لیےایک باقاعدہ تنظیم بھی بنا لی ہے جس کو ایکشن کمیٹی کا نام دیا گیا ہے۔

اس کمیٹی کے کنوینئر میاں مصطفی رشید ہیں۔ کھیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’یہ پنجاب کی زرخیز ترین زمین ہے۔ یہ گندم دیکھیں اتنے موٹے خوشے آپ کو پورے پنجاب میں نہیں ملیں گے۔ وہ آلو کا کھیت دیکھیں یہ آلو جب مارکیٹ میں آتا ہے تو منڈی کی قیمت نیچے آجاتی ہے اور لوگ سستا آلو کھاتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ یہ زمین بنجر ہے۔ اور ان لہلہاتے کھیتوں کے درمیان یہ سامنے کھڑی مشینری ہمارا منہ چڑا رہی ہے کہ کسی وقت بھی یہ کھیت ہم سے چھین لیے جائیں گے۔ لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘

حکام کے مطابق سب سے پہلے راوی فرنٹ کا منصوبہ 1947 میں شہر کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا (فوٹو:راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی)

دیگر کسانوں کے جذبات بھی اس سے مختلف نہیں تھے ایک اور کسان شفاقت علی نے بتایا ’یہاں لوگوں کی صرف دو دو تین تین ایکڑ یا پانچ ایکڑ کی زمین ہے جو چھوٹے چھوٹے فصل لگاتے ہیں اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کیونکہ سبزی کم وقت لیتی ہے تو سال میں کئی فصلیں ہو جاتی ہیں اور ایک ایک فصل دو دو لاکھ روپے دے جاتی ہے۔ اور حکومت نے یہ زمین خریدنے کے لیے جو ریٹ متعین کیا ہے وہ فی ایکڑ دو لاکھ روپے ہے۔ یہ تو ہماری نسلوں کو بھوکا مارنے والی بات ہے۔ وہ ہماری زمینوں پر پلازے بنانا چاہتے ہیں، ہم اور ہمارے بچے ان پلازوں میں مزدوری کریں گے یہ ہم سے نہیں ہوگا۔‘

مصطفی رشید نے بتایا کہ راوی فرنٹ کے منصوبے میں تین سو سے زائد دیہات آ رہے ہیں جن کی زمین پچاس ہزار ایکڑ سے زیادہ ہے۔ اور لاکھوں لوگ اس سے متاثرہوں گے۔

راوی فرنٹ منصوبہ ہے کیا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ راوی فرنٹ کا منصوبہ نیا نہیں ہیں اورپرانا بھی اتنا کہ اس کی جڑیں قیام پاکستان سے ملتی ہیں۔

لاہور کی ضلعی حکومت کے مطابق سب سے پہلے راوی فرنٹ کا منصوبہ 1947 میں شہر کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا جس کے خدوخال اگرچہ مختلف تھے لیکن وہ تھا راوی کے گرد ہی۔

دوسری مرتبہ یہ منصوبہ اس وقت منظر عام پر آیا جب مسلم لیگ ن کے پنجاب میں دوسرے دورحکومت کے دوران 44 ایکڑ پر یہ منصوبہ بنانے کی بات کی گئی تاہم اس وقت بھی یہ معاملہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔

البتہ موجودہ حکومت نے بالاخر راوی کنارے نیا شہر بسانے کا اعلان کیا ہے اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق یہ منصوبہ ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے۔

منصوبے میں ساٹھ لاکھ درخت، تین بیراج اور چھ پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگائیں جائیں گے (فوٹو: اے ایف پی)

موجودہ حکومت نے اگست 2020 میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ جب کہ اس کی تعمیر کی فیزیبلٹی سنگاپور کی ایک نجی کمپنی مین ہارڈت کو دی گئی ہے۔

کپمنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ منصوبہ یعنی نیا شہر ساڑھے تین کروڑ افراد کو سمونے کی گنجائش رکھتا ہے۔ اور یہ اگلے تیس سال میں مکمل ہو گا۔ جبکہ اس کے خدوخال لندن میں بہنے والے دریائے تھیمز سے ملتے ہیں۔

منصوبے کے مطابق اس صورت حال میں دریائے راوی کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کا پانی بی آر بی سمیت دیگر نہری نظام سے لیا جائے گا۔

اس منصوبے میں ساٹھ لاکھ درخ، تین بیراج اور چھ پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگائیں جائیں گے جو نالہ نما راوی کا پانی صاف کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے مطابق ’اس منصوبے سے 50 ہزار ارب روپے پاکستان کی معیشت میں داخل ہوں گے۔ لاہور سے ہیڈ بلوکی تک یہ منصوبہ چار سو چودہ مربع کلومیٹرپر مشتمل ہوگا۔‘

ہزاروں کسانوں نے راوی فرنٹ منصوبے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

مین ہارڈت کمپنی کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق اس منصوبے سے 74 ہزار سے زائد زرعی زمین متاثر ہو گی اور قریب 20 ہزار سے زائد گھر متاثر ہوں گے۔ جبکہ 80 ہزار افراد اس منصوبے کی زد میں آئیں گے۔

تازہ ترین صورت حال:

ہزاروں کسانوں نے اس منصوبے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے اور پیٹیشن کی ابتدائی سماعت میں عدالت نے پنجاب حکومت کو کسانوں کی زرعی زمین راوی فرنٹ پراجیکٹ کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔

27 فروری کو جاری ہونے والے اس حکم نامے میں نہ صرف حکومت سے اس منصوبے کی تفصیلات طلب کی ہیں بلکہ کسانوں کو بھی جامع جواب داخل کروانے کی ہدایت کی ہے۔

تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ ابھی تک ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ زمین حاصل کر لی گئی ہے اور اس منصوبے پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ کسان ایکشن کمیٹی کے مطابق حکومتی اہکار ان کو بے جا تنگ کر رہے ہیں اور آئے روز حکومتی اہکار دیہات میں لگائے گئے آگاہی کے بینرز اتار رہے ہیں۔   

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *