عقل و مذہب مکالمہ(1)۔۔عمار خان ناصر

عقل اور مذہب کے باہمی تعلق یا موافقت ومخالفت کی بحث میں سب سے پہلا نکتہ جس کی تنقیح ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ عقل سے مراد کیا ہے اور کس مفہوم میں مذہب کے ساتھ اس کے موافقانہ یا مخاصمانہ تعلق کا سوال پیدا ہوتا یا زیر بحث آتا ہے۔ اسی سے یہ بات سمجھنا بھی آسان ہوگا کہ مذہب اور مذہبی عقائد کے عقلی یا غیر عقلی ہونے کا کیا مطلب ہے یا مختلف لوگ اس سے کیا مراد لیتے ہیں۔
عام بول چال میں ہم عقل کا لفظ حیاتیاتی مفہوم میں ذہنی صحت کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے مطابق ہر انسان جو خود اپنے اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں اور چیزوں کے ساتھ تفہیم اور برتاو کا ایسا تعلق قائم کر سکے جو عام طور پر انسان کرتے ہیں، عاقل کہلاتا ہے اور اس بنیاد پر سماجی واخلاقی ذمہ داریوں کا مکلف مانا جاتا ہے۔ جو انسان اس قابل نہیں ہوتا، اسے پاگل یا فاتر العقل قرار دیا جاتا ہے۔ عقل کی یہ تعریف انفرادی سطح سے تعلق رکھتی ہے، کسی فرد کی عملی ذمہ داری کے تناظر میں ہوتی ہے اور قانون واخلاق سے متعلق سوالات میں کام آتی ہے۔ ظاہر ہے، اس مفہوم میں مذہب یا عقل کے باہمی تعلق کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
عقل کا ایک دوسرا مفہوم فلسفیانہ مباحث کے دائرے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں عقل سے مراد فکر واستدلال کے قوانین کے تحت حکم لگانے کی صلاحیت ہوتی ہے جس کی مدد سے انسانی شعور اپنی فعلیت یعنی اپنے کام کرنے کے انداز کا جائزہ لے کر فکر واستدلال کے قوانین بھی متعین کر سکتا ہے اور ان قوانین کی مدد سے اپنے معروضات مثلا بدیہیات فکر، جذبات واحساسات، اخلاقی داعیات، اور حسی ذرائع سے ملنے والے مشاہدات وتجربات پر کوئی حکم بھی لگا سکتا ہے اور اسی طرح معلوم چیزوں کی مدد سے غیر معلوم چیزوں کے متعلق قیاسات کر سکتا ہے۔ مذہب اور عقل کے باہمی تعلق کی تفہیم کا سوال بنیادی طور پر اس سطح پر بھی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ اس صلاحیت یا طرز فکر میں تمام انسان اور سارے انسانی معاشرے مشترک ہیں اور انسانی تاریخ میں مذہبی اعتقاد کی معنویت بھی انسانی شعور کے داعیات اور انسانی تجربے کے تناظر میں ہی واضح کی جاتی رہی ہے۔
البتہ عقل کا ایک تیسرا مفہوم ہے جو انسانی تاریخ میں تہذیبی فکر کے متخالف ارتقاء سے جدید دور میں سامنے آیا ہے اور یہاں عقل کا مفہوم متفق علیہ اور مشترک نہیں رہتا۔ اس اختلاف کا تعلق وجود کے تصور اور وجود کے بارے میں کوئی حکم لگانے یا کسی حکم کو قبول کرنے کے جائز معیارات سے ہے۔ اسلامی علمیات میں وجود، عالم شہود اور عالم غیب دونوں کو محیط ہے اور دونوں کا علم یا کم سے کم ان کے متعلق ایک تصور قائم کرنا، مختلف نوعیت کے ذرائع علم سے ممکن ہے۔ اس تصور وجود کے لحاظ سے اگر کوئی حکم یا قضیہ انسانی شعور کے مطالبات ومقتضیات سے ہم آہنگ ہے، یعنی شعور اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور فکر واستدلال کے قوانین اس کی نفی نہیں کرتے، بلکہ اس کی تائید کرتے ہیں تو اسے قبول کرنا عقلی ہے، چاہے اس کا تعلق عالم غیب سے ہو۔ اس کے مقابلے میں جدید مغربی فکر میں تدریجا جس تصور وجود کو تدریجا قبول کر لیا گیا ہے، اس میں عالم غیب ایک موہوم یا انسانی تفکر کے لیے ایک غیر متعلق چیز ہے اور اس کے حوالے سے وجود کے کسی بھی پہلو کی تفہیم، ظاہر ہے غیر عقلی قرار پاتی ہے ۔ اس مفہوم کے لحاظ سے مذہب اور عقل کے مابین ایک حقیقی اختلاف پایا جاتا ہے اور دراصل یہی دائرہ گفتگو یا مناقشے کا اصل دائرہ ہے۔ مذہبی عقائد وتعلیمات، مذہبی رسوم اور مذہبی اخلاقیات وقوانین سےمتعلق تمام اختلافات اسی بنیادی اختلاف کی فرع ہیں۔
عقل کے حوالے سے اصطلاح کا ایک اور اختلاف خود اسلامی علمیات کے تناظر میں عقیدہ وایمان پر گفتگو کرنے والوں کے مابین بھی دکھائی دیتا ہے۔ اسلامی روایت میں مذہبی عقائد یعنی وجود باری، توحید، رسالت اور بعث بعد الموت کو عقلی مانا جاتا ہے اور عقلی دلائل سے ان کے ’’اثبات’’ کی سعی کی جاتی ہے، تاہم اس ساری سعی وکاوش کا مقصد یہ بتانا نہیں ہوتا کہ اہل ایمان نے ان دلائل کی وجہ سے یا ان کا قائل ہونے کے بعد ان عقائد کو قبول کیا ہے یا یہ کہ اگر نبی کے ذریعے سے انسانوں کو یہ خبر نہ دی جاتی تو بھی وہ محض عقلی استدلال کے زور پر ان تک پہنچ سکتے تھے۔ اس صورت حال کو بعض اہل فکر یوں تعبیر کرتے ہیں کہ ایمان یا عقیدہ ایک غیر عقلی چیز ہے، جس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اسے انسانی عقل نے ازخود اور اپنے بل بوتے پر دریافت نہیں کیا اور نہ کر سکتی ہے۔ اسی طرز فکر کے تسلسل میں بعض اہل فکر ’’علم’’ کا اطلاق ان چیزوں پر کرتے ہیں جو معروف عقلی ذرائع سے انسان کی رسائی میں آئی ہوں، جبکہ ایمانیات مثلا خدا اور فرشتوں وغیرہ کے تصور کو علم کے بجائے صرف ’’خبر’’ قرار دیتے ہیں۔
یہ اگرچہ کافی حد تک اصطلاح کا فرق ہے، تاہم علم کلام کی کلاسیکی روایت کے تناظر میں غور وفکر کرنے والے حضرات کے لیے خلجان کا باعث بنتا ہے، کیونکہ اسلامی علمیات میں علم ایک جامع اصطلاح ہے جس میں غیبیات بھی شامل ہیں، چاہے ان تک رسائی کا ذریعہ صرف نبی کی دی ہوئی خبر ہو۔ اسی طرح نبی پر اعتماد کی نوعیت بھی اندھے اعتقاد یا توہم کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی بھی انسانی فطرت، انسانی عقل وشعور اور انسانی تجربے میں اپنی بنیادیں ہوتی ہیں جن کی طرف متوجہ کرنا، نبی پر ایمان کی دعوت دیتے ہوئے، خود قرآن مجید کے طرز استدلال کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔ اس نکتے کی تنقیح پر مزید بات ہو سکتی ہے کہ کیا ایمان کی دعوت دراصل نبی کی ذات پر اعتماد کرنے کی دعوت ہوتی ہے، جبکہ عقل وفطرت کے شواہد کی حیثیت مویدات کی ہوتی ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے، لیکن سردست اس تفصیل میں پڑے بغیر اصطلاح کے فرق کو سمجھ لینا ، باہمی تفہیم کے لیے، امید ہے کہ کافی ہوگا۔
عقل کا مفہوم کیا ہے اور کن معنوں میں عقل اور مذہب کے باہم موافق یا مخالف ہونے کا سوال زیربحث لایا جا سکتا ہے، یہ واضح ہونے کے بعد اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس سوال کا تاریخی تناظر کیا ہے اور خاص طور پر ہمارے یعنی مسلمان معاشروں کے لیے اس گفتگو کی اہمیت اور معنویت کیا ہے۔
ہمارے نقطہ نظر سے اس کی اہمیت دو پہلووں سے ہے: ایک نظری وفکری اور دوسرا عملی، انتظامی اور تدبیری۔ نظری پہلو کا تعلق تاریخ فکر سے ہے، یعنی اس پورے سیاق کو گہرائی میں جا کر سمجھنا جس میں مغربی فکر میں وجود کے اس تحدید شدہ تصور کو اختیار کیا گیا۔ اس کا عملی وتدبیری پہلو یہ ہے کہ مسلمان معاشروں میں اس نئے تصور وجود نے جو فکری تقسیم پیدا کی ہے، اس کو کیسے دیکھا جائے اور اس امکان کا جائزہ لیا جائے کہ آیا اس تقسیم کا قومی سطح پر تشتت اور افتراق ہی کے رخ پر آگے بڑھنا ناگزیر ہے یا اسے کوئی تعمیری صورت بھی دی جا سکتی ہے۔
پہلے، نظری پہلو کو دیکھیے:
عقل جدید جس تصور وجود پر مبنی ہے، وہ دراصل بہت سے تاریخی اسباب کے انسانی فکر پر مرتب کردہ اثرات اور ان اثرات کو ایک شعوری اور ارادی ججمنٹ کی شکل دینے کا نتیجہ ہے۔ ان میں سے اہم ترین سبب وہ انتہائی کامیاب کوششیں ہیں جو مغربی معاشروں میں حس وتجربہ سے تعلق رکھنے والے معاملات میں توہم پرستی اور مذہبی خوش اعتقادی کے خاتمے کے لیے کی گئیں۔ مذہبی خوش اعتقادی کی تہمیش (marginalization) میں اصلاح مذہب کی تحریک نے جبکہ واقعات ومظاہر کے فطری اسباب کو سمجھنے اور انھیں انسانی علم کے دائرے میں لانے میں سائنس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور یوں انسانی علم نے فطرت کی تفہیم اور اس کے ساتھ تعامل کو عقلی وتجربی بنیادوں پر استوار کرنے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ تاہم مغربی فکر میں تصور وجود کی تحدید یہاں تک نہیں رہی، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مطلقا عالم غیب کے وجود اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کےربط وتعلق کے عدم امکان کو بھی تصور وجود کا جزو لاینفک بنا لیا گیا۔ بظاہر سائنسی تحقیق، تجربیت اور فطرت کی تفہیم کے لیے اس کی ضرورت نہیں تھی اور ان دونوں کو ساتھ ساتھ قائم رکھا جا سکتا تھا، لیکن جدیدیت کا غالب رجحان اس کے خلاف ہے۔ یوں تاریخ فکر کے لحاظ سے گفتگو اور بحث ومناقشہ کا ایک اہم موضوع یہ سوال بنتا ہے کہ مغربی فکر میں تصور وجود کی اتنی انتہائی تحدید کے محرکات اور اسباب کیا ہیں اور یہ سفر کن فکری مراحل سے گزرتا ہوا اس نتیجے تک پہنچا ہے۔
اس حوالے سے اہم ترین نکتہ اس سوال کی تہہ میں جانا ہے کہ اونٹ کی مینگنی سے اونٹ کے وجود کا اور اس پر قیاس کرتے ہوئے کائنات کے وجود سے خدا کے وجود کا استدلال جو دور جدید سے پہلے سادہ اور فطری انسانی شعور کے لیے فیصلہ کن تھا، جدید شعور کے لیے وہ کیوں موثر نہیں ہے؟ عالم غیب سے متعلق جدید موقف کی توجیہ سادہ طور پر مذہبی جبر کے رد عمل کے طور پر کرنا تاریخی طور پر زیادہ درست نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کو اس کی ساری جہتوں کے ساتھ اور انسانی شعور کی پیچیدگیوں کو پوری طرح مد نظر رکھتے ہوئے ہی اس کی درست تفہیم ہو سکتی ہے۔ ان پیچیدگیوں کا کسی حد تک اندازہ اس کلامی موقف سے کیا جا سکتا ہے جو ایمان کو عقل اور عقلی فعلیت کے دائرے سے باہر قرار دینے پر اصرار کرتا ہے۔
اس بحث کی، عمل اور تدبیر کے حوالے سے اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس فرق کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جو مغربی معاشروں کے تاریخی سیاق اور مسلمان معاشروں کے تاریخی تناظر میں پایا جاتا ہے۔
مغربی فکر میں جدید تصور وجود اور اس پر مبنی تصور عقل کو ایک خاص تاریخی سیاق میں صدیوں تک جاری رہنے والی ایک عقلی سرگرمی کے نتیجے میں قبول کیا گیا ہے۔ اس سرگرمی کا محوری نکتہ ایک نئے تصور انسان کی تشکیل رہا ہے۔ جدید تصور وجود کی تشکیل بنیادی طور پر اس نئے تصور انسان کی تحدیدات اور ضروریات کے تحت ہوئی ہے اور جوں جوں تصور انسان کی تحدید ہوئی ہے، اس کے بالکل متوازی طور پر تصور وجود کی بھی تحدید ہوتی چلی گئی ہے۔ عقل جدید اس بات کو بہت اچھی طرح اور گہرائی کے ساتھ سمجھتی ہے کہ وجود کو عالم شہود تک محدود کر دینے کا موقف انسانی شعور کے لیے ایک بحرانی صورت حال پیدا کرنے کا موجب ہے، کیونکہ انسانی شعور کی بنیادی ترین طلب وجود فی نفسہ کے بامعنی ہونے کے تناظر میں انسانی زندگی کی معنویت کی تلاش ہے جو عالم غیب کو تصور وجود کا حصہ بنائے اور غیب وشہود کو باہم متعلق مانے بغیر ممکن نہیں۔ اس انتہائی مشکل سوال کا حل مغربی فکر میں یہ نکالا گیا ہے کہ مستند انسانی شعور کی ایک نئی تعریف وضع کر کے اب تک کی پوری انسانی تاریخ کے شعور پر جھوٹا اور مبنی بر توہم ہونے کا حکم لگا دیا جائے، یعنی یہ پوزیشن لے لی جائے کہ انسانی شعور میں کائناتی سطح پر معنی کی طلب ہی ایک جھوٹی اور مصنوعی طلب ہے۔ انسان جانوروں میں سے ایک جانور ہے جس کے لیے حیاتیاتی بقا اور فطرت پر تصرف حاصل کرنے کے جبلی داعیے کی تکمیل کے علاوہ اور کسی قسم کا کوئی معنی اپنے اندر حقیقت نہیں رکھتا۔ ہاں، کسی حادثے کے نتیجے میں انسان کو عقل مل گئی ہے جس کی مدد سے وہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں اپنی جبلی ضرورتوں کی تکمیل زیادہ بہتر اور منظم طریقے سے کر سکتا ہے۔ اخلاقیات کی ضرورت صرف تنظیم تعلقات کو مشترکہ طو رپر قابل قبول اساسات فراہم کرنے کے پہلو سے ہے۔ اس سے زائد ، زندگی میں کسی معنویت کی تلاش حماقتوں میں سے ایک حماقت ہے جس میں اب تک کا سارا انسانی شعور مبتلا رہا ہے۔ فرد کی حیثیت سے انسان اب بھی اس وہم سے کوئی رشتہ ناتا رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے، لیکن انسانی معاشرت کی اجتماعی تنظیم میں مذہبی اقدار کا کوئی راہ نما کردار تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

Facebook Comments

عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply