• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سندھ یونی ورسٹی کے سندھی ڈیپارٹ سے انگلش ڈیپارٹ تک۔۔۔ نعیم الدین جمالی

سندھ یونی ورسٹی کے سندھی ڈیپارٹ سے انگلش ڈیپارٹ تک۔۔۔ نعیم الدین جمالی

ہم بڑے جذباتی واقع ہوئے ہیں. جلد بازی میں کبھی اچھے کام بھی کرجاتے ہیں، اچھے کام کبھی ہمارے جذبات کی وجہ سے زور زبردستی ہوبھی جائیں تو ہم بعد میں ان کی پیروی نہیں کرتے۔کچھ دن بڑے شد ومد سے ان کے متعلق بڑا شوشا ہوتا ہے بعد میں وہ قصہ پارینہ ہوجاتا ہے.صرف حال میں واقع ہونے والے تانیا خاصخیلی کے واقعے کو ہی دیکھ لیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے کس طرح اس اندوہناک واقعے کو ہائی لائٹ کیا گیا، ملزم گرفتار بھی ہوئے، لیکن بعد میں تانیا خاصخیلی کے والدین جان بچانے کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ اس طرح بے شمار واقعات سے ہماری جذباتیت کا بخوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔
کچھ دن قبل سندھ یونی ورسٹی کےانگلش ڈیپارٹ کی دو طالبات نے ایک درخواست ہائر ایجوکیشن کمیشن، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ اور بلاول ہاوس کو بھیجی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ:
“انگلش ڈیپارٹ کے کچھ اساتذہ انہیں جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے بلیک میل کررہے ہیں، کبھی نمبرز کی زیادتی کا لالچ دےکر اپنی شیطانی عادت کی پیروی کرتے ہیں تو کبھی فیل کرنے کی دھمکی دے کر سیکس کا مطالبہ کرتے ہیں۔
درخواست میں لکھا ہے کہ ہم نے اپنی شکایت ہر جگہ پہنچائی ہے، میسجز اور ثبوت بھی دکھائے ہیں لیکن کہیں سے داد رسی نہیں ہورہی ہے، اب ٹیچرز نے ہماری سپروائزی کرنے سے بھی انکار کردیا ہے.
اور لکھا ہے کہ:
“چودہ اگست کو گرلز ہاسٹل کے ڈائریکٹر نے یوم آزادی کی تقریب منانے کے لیے طالبات کو اپنے گھر بلایا، وہاں نشے میں دھت اساتذہ نے طالبات سے خیر اخلاقی حرکتیں کی، طالبات مجبور تھیں، جو اساتذہ نے کہا وہ ہم نے کیا، لیکن بعد میں ہم نے اس کی شکایت بھی ہر جگہ کی لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی۔صرف لفظی تسلیاں دی گئیں، کوئی انکوائری کا کاروائی نہیں ہوئی،
سندھ یونیورسٹی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ، اس سے قبل بھی نائلہ رند جیسی ذہین طالبہ نےان درندوں سے تنگ آکر خودکشی کر لی تھی ، خودکشی کے بعد بہت سی طالبات نے یہ اظہار کیا تھا کہ ہمیں بھی جنسی زیادتی کے لیے ہراساں کیا جاتا ہے، نائلہ رند کے قتل کے واقعے کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہائی لائٹ کیا گیا بعد میں اس پر ایکشن بھی لیا گیا انکوائریاں ہوئیں لیکن انصاف نہ ہوسکا۔اب پھر انگلش ڈیپارٹ میں یہ واقعہ رونما ہوا ہے ، اور گرلز ہاسٹل کی بہت سی طالبات کو اب بھی ہراساں کیا جاتا رہاہے۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ اب ہمارے تعلیمی ادارے اس کام کے لیے رہ گئے؟ایسے گندے کردار والوں کو اب بھی روحانی والد کہا جاسکتا ہے؟
میں تو ان دو طالبات کی ہمت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے جرأت کرکے یہ انتہائی اہم قدم اٹھا یا ہے، اپنی بہنوں کی عزتوں کو بچانے کے خاطر اپنا مستقبل قربان کردیا ہے۔اگر اب بھی طالبات کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو پھر معصوم بچیوں کو والدین کس دل سے اداروں میں تعلیم کے لیے بھیجیں گے!!!
اب صبح یہ خبر بھی ملی ہے کہ دونوں طالبات اپنے بیان سے مکر چکی ہیں ، لازمی سی بات ہے انہیں اپنی جان پیاری ہے، طاقت ور لوگوں کی دھمکیاں وہ کہاں برداشت کرسکتی ہیں ۔
خدا نہ کرے ایسا ہو!!! ورنہ سندھ یونیورسٹی میں ہماری ہزاروں بہنوں کی زندگی داؤ پر لگ سکتی ہے۔
اب بھی اگر سندھ یونیورسٹی سے کالی بھیڑوں کا صفایا نہ کیا گیا تو یاد رکھیں اب بھی کتنی نائلائیں خودکشی کی تیاری میں ہوں گی .پنکھوں سے لٹکتی لاشیں ہمیں ملتی رہیں گی۔۔۔

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *