عجلت پسند(قسط10)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

نویں     قسط کا آخری حصّہ
اب اس حمل کو دو ماہ ہونے کو آئے ہیں۔یہاں وہاڑی آتے ہیں تو رات ابو کے اصرار پر گھر پر ہی قیام کرتے تھے۔ بی نو کو اپنی امی کی جانب سے بھرپور سپورٹ ہے۔عام طور پر وہ جس وقت آتے ہیں تو یہ ابو کے سونے کا وقت ہو چکا ہوتاہے۔بی نو  نے کہہ دیا ہے کہ کوئی سرکاری مصروفیت ہو تو پہلے گھر پر کچھ دیر ابو کے پاس بیٹھ کر چلے جائیں اور رات کوڈیوٹی ختم کرکے اپنی مرضی سے واپس آجائیں۔اس سے ان کے  شکوک کے دروازے بند ہوجائیں گے ،کنیز تو آپ کی الفت میں سراپا انتظار ہوتی ہے۔

tripako tours pakistan
jacuzzi
jacuzzi
Vilayat Khan

اب چونکہ آمد میں قدرے باقاعدگی ہے سو اوپر گرم پانی کا بندوبست اچھا ہوگیا ہے کہ ٹیپو جی نے گیزر بدلوادیا تھا۔ ٹیپو جی کے بندے آئے فٹا فٹ گرم پانی کا انتظام کرگئے۔سعودی عرب والے پی وی سی پائپ ڈال گئے۔کمرے میں باتھ روم بھی جاکوزی باتھ بھی لگ گئی تھی۔ایک باتھ ٹب کا بھی علیحدہ سے بندوبست ہوگیا۔اس کی امی اسے چھیڑ رہی تھیں کہ کہیں ٹیپو جی شادی کے بعد گھر داماد ہی نہ بن جائیں۔ویسے بی نو کو حیرت ہوئی کہ انہیں اپنی بیٹی کا ٹیپو کے ساتھ بغیر کسی تعلق کے یہ جنسی تال میل برا نہیں لگتا۔انہیں خود بھی گھر میں آمدنی کی کشائش کی وجہ سے سجنے بننے کا شوق لگ گیا ہے۔صحت اچھی ہے یو ٹیوب چلانا سیکھ گئی ہیں تو ڈائیٹ، یوگا اور انڈین کرائم پٹرول کی ویڈیوز کی بہت چس آگئی ہے۔بی نو لاہور جاتی ہے تو ان کا بھی بیوٹی پارلر اپائنٹمنٹ ہوتا ہے۔۔ خوش لباسی سے اور بیوٹی پارلر کی وجہ سے عمر سے دس سال چھوٹی لگتی ہیں۔ بی نو نے امی کو کہا بھی کہ ٹیپو جی کو کہہ کر ایک مقدمہ کرلیتے ہیں کہ آپ کی تاریخ پیدائش کا اندراج غلط تھا۔ نیا سرٹیفیکٹ بنواکر دوبارہ ملازمت کرلیتے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ہاتھ کھل گیا تو بی نو کو ہری ہری سوجھتی ہے۔

دسویں قسط:
بی نو کی امی جی کی تجویز ہے کہ ٹوانہ جی کے سا تھ اک واری بی نوکینیڈا جاکر ظہیر اور ان سے بہانہ کرکے ان دونوں سے جان چھڑا کر واپس آجائے۔کینیڈا میں کیا رکھا ہے۔ٹیپو جیسا داماد ہو تو پاکستان کو بھی کینیڈا ہی سمجھو ۔ جب وہ واپس آئے گی تو بھائی کو وہ آہستہ سے سب کچھ  بتادیں گی ،کہ ظہیر کے معاملات کس قدر بگڑ چکے تھے۔بی نو کا کہنا ہے کہ اس بات کا دار و مدار ٹیپو کے آئندہ رویوں اور بچے کے بارے میں رد عمل  پر  ہوگا۔وہ اسے لمبی ریس کے گھوڑے نہیں لگتے۔

ان کے عشق میں گرفتار ہونا ایک بات ہے ان کے بارے میں بہت پُر امید ہونا سراسر نادانی ہوگا۔یہ ون ڈے میچ کے آخری اوورز ہیں سو بہتر ہے کہ انslog(شاٹس مارنے والے) اوورز میں اپنے شاٹس کھیل لے۔یہ اننگ ختم ہونے والی ہے۔ بی نو کو اپنی حقیقت پسندی پر بڑا مان ہے۔کسی نے پوچھا نہیں مگر عشق اور بھروسہ دو مختلف معاملات ہیں۔ فائٹر جیٹس کے دونوں پائلٹس کو ایک دوسرے سے عشق نہیں ہوتا مگر بھروسہ بہت ہوتا ہے۔

ٹیپو کا رات کا قیام ہو تو وصال اور غسل کے جڑواں مزے لوٹتے ہیں۔ دونوں ٹب میں ساتھ ہوں تو ٹیپو جی دیر تک بی-نو کو چومتے نہلاتے رہتے ہیں۔بی-نو کو اس لمس اور بلبلے اڑاتے خوشبو دار ولایتی جھاگ دار صابن والے ٹیپو جی کے ہاتھ  لگتے ہیں تو ایسا لگتا ہے بدن کوئی ستار ہے جس پر استاد ولایت حسین خان نے راگ میگھ ملہار چھیڑ دیا ہے۔

پچھلے چند دنوں سے ٹیپو جی کے کچھ آپریشن سندھ سے بارڈروالے علاقے صادق آباد،خان پور، راجن پور،جمال دین والی اور کوٹ مٹھن بھی چل رہے تھے۔
ایک رات آئے تو بہت دیر ہوچلی تھی۔پیغام بھی نہ تھا کہ آتے ہیں۔ بی نو اوپر ہی سو رہی تھی۔ فون سرہانے تھا۔دو تین گھنٹیاں بجیں تو آنکھ کھلی۔گیٹ کھولا تو گاڑی دیکھ حیرانی ہوئی چھوٹی سی اور پرانی تھی۔ کار سیدھی گیٹ کے اندر ہی لے آئے۔ رنگت بھی اڑی ہوئی تھی۔حلیہ بھی کچھ پریشان سا۔بی نو تو ڈر ہی گئی۔ فوراً ایک بریف کیس نکال کر بی-نو کے حوالے کردیا۔بہت ضد کی تو بتایا کہ سندھ کا مشہور ڈاکو رحمٰن ڈکیت بلوچستان کی طرف بھاگ رہا تھا، اُسے تقریباً انہوں نے گھیرے میں لے لیا تھا۔رات کی تاریکی میں فائرنگ کرتے ہوئے بریف کیس پیچھے پھینک کر بھا گ گیا۔ وہ جیپ میں اکیلے ہی تھے۔

Rehman Dekait
two pilots
suleman khalil masjid-Zarmilana Angur
johncena_display
embryo
hernia
madona
phajja
Malai-Kulfi
pregnancy strip

کہانی بی-نو کے حلق سے نیچے نہیں اتری۔ بریف کیس اس کے سامنے کھولا۔نوٹوں کی ترتیب سے لگا کہ کروڑ روپے کے قریب ہوں گے۔پرانے نوٹوں کے بنڈل۔امریکہ میں ایسی رقم کوCrime Proceedsکہتے ہیں یعنی جرم کی کمائی۔ بریف کیس پکٹرایا تو بی نونے اس بریف کیس کو بے اعتنائی سے ایک طرف کردیا۔رات کو لمحات وصل میں انہوں نے کہا کہ کچھ رقم تم رکھ لو۔

بی-نو نے موقع  غنیمت جانا۔ایک تو انہیں اخلاقاً یہ کہہ کر گندا کیا کہ”جانو دل نہیں مانتا کہ میں ڈکیت سے ہتھیائی ہوئی رقم کی طرف نگاہ بھی ڈالوں۔ہم بہت آسودہ حال نہیں، کمزور بھی ہیں جس کا آپ کو اندازہ بھی ہوگیا ہوگا۔ہمارا گیزر اور لائنیں بھی پرانی تھیں مگر ہم بُرے لوگ نہیں۔آپ کی محبت میرا سرمایہ ہے۔عورت صرف ایک دفعہ کسی کو دل دیتی ہے۔میں نے تو سب ہی کچھ آپ کو دے دیا۔سوچیں امی کو صرف اس وعدے پر کہ آپ نے پروموشن پر فوری شادی کا وعدہ کیا ہے۔ اپنے ہی گھر میں صرف آپ کے بول وچن کے سہارے بیوی بن کر رہتی ہوں۔آپ ہیں تو میرا سہاگ سلامت ہے۔ کوئی نماز ایسی نہیں کہ آپ کے لیے اپنے سے پہلے دعا نہ مانگی ہو کہ یا اللہ میرا سہاگ اور میرے بچے کا باپ سلامت رکھ۔اس کو پروموشن عطا کر۔آپ تو میری عبادت، میرا ایمان ہیں۔کچھ دینا ہے تو اپنے بچے کے لیے خود سے ایک طرف کردیں۔اب تک مرد کی سب سے بڑ ی آزمائش پیسہ سامنے نہیں آیا تو اس کو لگا اس کی شخصیت کو پرکھنے کے لیے یہ ایک پینلٹی اسٹروک ہے۔

یہ ٹیپو پر دوسرا بڑا ڈرون حملہ تھا۔مانو امریکہ میں سیٹلائیٹ نے کال مانیٹر کی۔بٹ گرام سے ڈرون اڑا اور سیدھا زرمی لانا(جنوبی وزیرستان) کے علاقے خان کوٹ کی سلیمان خلیل مسجد میں فجر پڑھنے جاتے مطلوبہ دہشت گرد کے اوپر سے میزائل مار کر پرخچے اڑادیے۔

پیٹ کے بچے کی بات کے انکشاف پر ہڑبڑا کر ٹھ بیٹھے۔برہنہ مرد جس بستر پر کچھ دیر پہلے ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن والا جان سینا بنا ہو وہ نظر نہ آنے والے Embryo کے انکشاف پر او۔ نو، او۔ نو چیخ کر بال نوچتا دکھائی دے۔کیسا عجیب لگتا ہے۔

پوچھنے لگے یہ کیسے ہوا ،تو بی نو نے بہت اطمینان سے کہا کہ ڈونگا گلی میں وہ ہرنیاکے آپریشن کے لیے تو نہیں گئے تھے۔حساس ذمہ دار ادارے کے اہم افسر کو اتنا تو علم ہونا چاہیے کہ جب عورت مرد کا جنسی اختلاط ہوتا ہے تو فجے کے پائے چولہے پر نہیں چڑھے ہوتے اورمٹکے سے قلفی نہیں نکلتی۔وہ کہنے لگے کاش وہ ان کے پروموشن تک رک جاتی۔

تب تک وہ  اپنی بیوی یمنی کو سمجھادیتے کہ اولاد کی خاطر وہ دوسری شادی کرکے اپنی ملازمت چھوڑ کر نئی بیوی سمیت کراچی شفٹ ہوجائیں گے۔اس کے ابو کا کاروبار سنبھال لیں گے۔ انبیا اور اولیا کی مثالیں دے کر سمجھالیتا یا بتا دیتا کہ سیدنا ابراہیم اور زکریا علیہ السلام بھی اولاد کے لیے بے تاب تھے وہ تو ایک گناہ گار انسان ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یمنی  کہتی کہ اپنے والدین کے سامنے مدعا رکھوں گی۔ اس کے والد ین سے یمنیٰ کو نہ ملانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ پختون ماں باپ اس بارے میں بہت ڈسٹرب ہوں گے اور اس کی شادی لازماً اپنی امی کی بھانجی سے کرادیں گے۔بی نو نے کمفرٹر بدن سے پرے کیا اوراس مرد برہنہ و پشیماں کی ننگی پشت پر کاندھے سے گال لگا کر دونوں ہاتھ سے کمر تھام کر کہنے لگی ٹیپو جی دل تو نہیں چاہتا کہ آپ کے سامنے زبان کھولوں مگر چند باتیں ضرور عرض کرنا چاہتی ہوں۔

ایک تو آپ اپنے بچے کے حوالے سے یہ بات سن لیں کہ بطور ماں میں اس کے وجود سے اس  وقت سے بھی پہلے سے  واقف تھی جب وہ Pregnancy Strip پر محض ایک سرخ لکیر کے طور پر نمودار ہوا تھا۔ مجھے اس کی آمد کی اطلاع آپ سے وصال کی اولین گھڑیوں میں مل گئی تھی۔ ان گھڑیوں میں پیار کے اس طوفان میں، اس برہنہ وحشت میں آپ مجھے مرد نہیں اپنے شوہر اور بچے کے باپ کے طور پر دکھائی دیے۔دوسرے دنیا کی ہر ماں اپنے بچے کو دنیا کے سب انسانوں سے نو مہینے پہلے سے جانتی ہے۔میرا خیال تھا کہ آپ میں یقیناً  وہ جرات ہوگی کہ مرد بن کر اپنے Seed کوOwn کریں گے۔سچ بتائیں کیا میں نے وہاں ڈونگا گلی میں ملن کی اولین گھڑیوں میں   آپ کو وارن نہیں کیا تھا۔آپ کو مڈونا(امریکی  دھماکہ گلوکار جس نے سن اسی کی  دہائی میں تہلکہ مچارکھا تھا) گا کر نہیں کہا تھا۔
. Like a virgin
touched for the very first time.
اس وقت کیوں نہ سوچا۔یاد ہے نا کرید کرید کر کیسے ظہیر کی نامردی کی باتیں پوچھی تھیں۔جب میں نے کہا کہ شاید کوئی Dysfunction ہے تو فٹافٹ نہ صرف مجھے پہلا لفظ Erectile جو یاد نہ تھا.وہ یاد بھی دلایا اور بے چارے کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری۔

میں نے پھر بھی کہا کہ احتیاط کرلیں تو یاد ہے نا کیسا مرد بن چھاتی پر ہاتھ  مار، مجھے بانہوں میں بھر کر کہا تھا شیشہ نہیں فولاد ہیں ہم پختونوں کی اولاد ہیں۔یہ بھی اترا کر کہا تھا
ڈر کس بات کا  ہے۔بچے کا؟تو یاد رکھو تم ماں نہیں بنوگی ،میں باپ بنوں گا۔بی نو بیگم خاکسار نے اپنی بیوی سے محبت کی۔جوانی کی بھول۔جس کا ہر طرح کا پچھتاوا ہے۔میری غیرت و حمیت دیکھو زیرو سیکس اور ایسے سڑئیل مزاج کے باوجود نبھارہا ہوں۔ تم میری آخری محبت ہو۔میرا ایمان میری جان ہو تم۔بچہ تو دور کی بات ہے اگر تمہاری دوسری ناک بھی نکل آئے تو میری محبت میں کوئی کمی نہیں آئے گی“۔

بی نو جھوٹ موٹ منہ  لپیٹ کر رونے لگی۔بہت دیر تک بات نہ کی۔ہاتھ  بڑھاتے تو جھٹک دیتی تھی۔
بہت پشیمان تھے۔ پیار کرنے کی کوشش کی مگر بی نو کی ایک ہی ضد کہ  وہ اعتراف کریں کہ ڈونگا گلی میں ملاقات کی پہلی رات وہ ایک کنواری کلی تھی۔بالآخر کہنے لگے
۔. I need my son from you.Don’t worry we will be soon husband and wife۔
اٹھ کر شاور لینے چلے گئے۔واپس آئے تو حواس کچھ مجتمع لگ رہے۔بی نو کو زبردستی بانہوں میں سمیٹا تو اس نے بات کوسنجیدہ اور معنی آفرین بنانے کے لیے وضاحت کی کہ اس نے جواباً  ان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ بچہ ماں کاہے۔آپ اس کی ولدیت مانیں نہ مانیں مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں اسے ماں اور باپ دونوں کا پیار دوں۔آپ نے خود ہی شادی کا کہا تھا۔پہلی ملاقات میں یاد ہے نا ، جس رات آپ ہمارے ہاں پہلی مرتبہ ٹھہرے تھے۔صبح ابو کو ساتھ لے کر علاج کے لیے ملتان لے گئے تھے۔آپ میں اپنا بچہ اون کرنے کی ہمت نہیں، نہ کریں۔آپ سے تو وہ گریڈ گیارہ کااسٹنٹ سب انسپکٹر آف پولیس زیادہ مرد ہے جس کے سامنے اگر میں آپ کے باپ ہونے کا اعتراف کربھی لوں تو وہ کہے گا۔چلو بھول ہوگئی۔ بچے کا کیا قصور۔ تمہارا ماں ہونا تو ہر حال میں ایک سب سے بڑی سچائی ہے۔

cricket bag

ایک دفعہ پھر اٹھے اور اس کے پیر چوم چوم کر بہت تسلیاں دیں۔ بورڈ ہوجانے دو۔ پروموشن کے بعد ہم شادی کرلیں گے۔خود ہی بریف کیس کھولا۔ بی-نو کا خیال تھا کہ ایک آدھ پیکٹ دیں گے مگر پانچ پیکٹ دیے۔تسلی دی دہ دن دور نہیں جب وہ موجودہ فیملی کی اجازت لے کر اس سے نکاح کرلیں گے۔بی-نو نے کہا شادی کا اس کی طرف سے ان پر کوئی دباؤ نہیں۔ وہ اس محبت کو جزو ایمان مانتی ہے۔

بی-نو کی اس تسلی سے بہت مطمئن نظر آئے۔کہنے لگے کہ بریف کیس وہ سنبھال کر رکھ لے تھوڑے بہت پیسے انہیں دے دے۔وہ اس لیے کہ رحمن ڈکیت سے مقابلے کی بات باہر آئے تو شاید وہ اپنے افسر کا منہ  بند کرنے کے لیے اس میں نئی کار یا جیپ انڈیل دیں۔اسے یقین دلایا کہ جیسے ہی بورڈ ہوا یا ان کاپروموشن نہ ہوا تو وہ بھی ایسی دو چار وارداتیں اور ڈال کر کینیڈا منتقل ہوجائیں گے اور دونوں وہیں شادی کرلیں گے۔میرے ایک دو سینئرز بھی ٹورنٹو میں بہت کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک کا تو متبادل توانائی کے پراجیکٹس کا بہت بڑا کام ہے۔ ہمارے بہت سے افسر یہاں مشرف دور میں نیب، پی آئی اے،کارپوریشنز میں اچھے عہدوں پر تھے۔پروموشن نہ ہوا تو لوٹا ہوا مال لے کر کینیڈا شفٹ ہوگئے۔ملک چھوڑ کر جانے والوں کو بڑے خس کم جہان پاک سمجھتے ہیں۔

بی-نو کو پتہ ہے کہ کار جیپ کی قیمت ان دنوں بیس سے تیس لاکھ روپے ہوگی۔اس کے باوجود ظالم نے بہت احتیاط سے آدھی کے قریب رقم نکال لی۔یہ پٹھان پیسے کے معاملے میں بہت سخت دل ہوتے ہیں۔پنجابیوں جیسا بڑا دل نہیں ہوتا۔ بی نو کا خیال ہے پنجابی واقعی بہت سادہ مزاج اور کشادہ دل لوگ ہیں۔ بی-نو نے اپنی رقم اس کرکٹروں والے کالے تھیلے میں منتقل کرلی جو ظہیر کے ساتھ اس دن سوزوکی کے بکسوں میں آیا تھا۔ ان کی رقم والے بریف کیس کا کمبی نیشن لاک دونوں نے برہنہ بستر میں ہی سیٹ کرلیا۔بی نو نے  جتایا کہ نمبر وہ اپنے پاس نوٹ کرلیں اسے نمبر یاد نہیں رہتے۔آپ کی امانت یہاں حفاظت سے موجود ہے جب جانا ہولے جائیں۔یہ پیٹ آپ کے بچے اور یہ گھر آپ کی رقم کا اسٹیٹ بینک ہے۔پوچھ رہے تھے کیا لگتا ہے کہ کیا ہے۔میں نے کہا مجھے تو اسی  لمحے پتہ چل گیا تھا کہ چھوٹا ٹیپو میرے پیٹ میں آگیا ہے۔ چلیں اب جان ہی گئے ہیں تو میری ناف پر ہونٹ رکھ کر اس کا نام بتادیں۔انہوں  نے اس کا نام اوزان بتایا تھا۔۔اوزان۔ آپ کو یاد ہے نا ترکش نام ہے اس کا مطلب ہوتا ہے داستان گو۔

جاتے ہوئے کہنے لگے وہ جب لاہور اپنی فیملی کے پاس جائیں گے تو بریف کیس لے جائیں گے بی-نو نے چھیڑا کہ بیگم کے لیے کچھ چاہیے تو وہ   کرکٹ بیگ سے نکال لیں۔سمجھ گئے کہ بی-نو نے جانچ لیا تھا کہ رقم کار کی قیمت سے زیادہ نکالی گئی ہے۔سن کر جھینپ گئے۔چلے گئے تو بی-نو نے بریف کیس کھول کر ہر گڈی میں سے دس دس نوٹ نکال لیے۔اسے نمبر واقعی یاد نہیں رہتے تھے مگر باتھ روم میں اس نے اپنے آئی لائنر سے ایک ٹشو پر رقم لکھ کر اپنے سینڈل کے ڈبے میں باہر وارڈ روب میں ڈال لی تھی۔اس کے بہت سے خاص کپڑے اب اوپر کے وارڈ روب میں ہوتے ہیں۔

اسے اس بریف کیس کھولنے کا نمبر یاد تھا۔اس نے ان سے تصدیق بھی کرلی تھی کہ رقم لے کر وہ سیدھے اس کی طرف آئے ہیں۔انہیں جتادیا کہ نمبر نوٹ کرلیں  اسے نمبر بالکل یاد نہیں رہتے۔ یہ نہ ہو کہ بعد میں نمبروں کی ترتیب بھول جائیں اور اتنا عمدہ باہر کا بریف کیس توڑنا پڑے۔

ایک رات ٹیپو جی کاپہلے پیغام تھا کہ برسات بہت ہے۔ ان کا کبیر والا میں آپریشن چل رہا ہے۔شایدنہ آپائیں اس کے باوجود گھنٹے بھر میں آگئے۔ابو امی کو بہت اچھا لگا۔ بی نو نے کوفتے بنائے تھے۔

رات کو جب ساتھ بستر میں تھے وہ اس کا پیٹ دیکھتے رہے۔ابھی چونکہ حمل کو پہلی سہ ماہی مکمل نہیں ہوئی ٹیپو جی بہت تفتیشی انداز میں اس کے گورے پیٹ پر ناف میں انگوٹھا جما کرBaby Bumpکھوجتے رہے  ۔اس تلاش میں مرد کے پدری تجسس اور تفاخر تخلیق سے زیادہ خفیہ ایجنسی کے شکی مزاج فریبی پھریرے لہراتے ہیں۔اس سے پہلے جب آئے تھے تو جاتے ہوئے بریف کیس ساتھ لے گئے۔کہہ رہے تھے سالے باسٹرڈ ڈکیت نے جھوٹ بولا تھا کہ پورا ایک کھوکھا ہے (کراچی کی زبان میں  کروڑ)بتارہے تھے لاہور جاکر رقم گنی توپچاس کی بجائے چالیس لاکھ نکلے۔افسر نے ساری رقم رکھ لی میرے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔اچھا ہوا یمنی کو رقم کا ذکر نہیں کیا ورنہ بہت خفت ہوتی۔

بی-نو نے پوچھا بریف کیس پھینکتے وقت اس ڈکیت نے لاک کا نمبر اور رقم بتائی تھی کیا؟ اپنے تبصرے کی نادانی پربہت سٹ پٹائے۔ بی نو نے چھیڑا آپ کو اس بدمعاش ڈکیت کا پیچھا کرنا تھا۔سندھ سے جارہا تھا۔ ممکن ہے اور بریف کیس ہات لگتے۔یہ تو نقصان ہوگیا۔سندھ سے پنجاب کے راستے بلوچستان جاتے میں کئی چیک پوسٹس آتی ہوں گی۔ہر جگہ نذرانہ دینا ہوتا ۔کہنے لگے سندھ کا معاملہ اور ہے وہاں اوپر سے فون ہوجاتا ہے آئی جی کو۔ علاقے کا ایس پی اس کو گارڈ آف آنر پیش کرنے اور سرحد کراس کرانے کے لیے باوردی درست موجود ہوتا ہے۔سندھ میں تو یہ لوگ وی  آئی پی ہیں بابا لوگ۔۔بی-نو نے مزید چرکا لگانے کے لیے کہا کہ اس کے ابو نے یہ رقم لاہور میں گھر خریدنے کے لیے چاچو کو دی ہے۔ان کے چھوٹے بھائی کے ای ایم ای کالونی لاہور میں گھر کا ساتھ والا پلاٹ خالی تھا۔ضرورت ہو تو اس کے پاس جہیز کے زیورات ہیں وہ بیچ لیں تاکہ خاتون اول کے منہ  میں بھی بڑے افسر کی طرح کچھ ڈالا جاسکے۔بہت شرمندہ ہوئے۔کہہ رہے تھے اگلی دفعہ بھاگ بھی رہا ہو تو وہ رحمن ڈکیت کو گولی ماردیں گے۔غدار اور جھوٹے کی سزا موت ہے۔

kate and pprince william
kate and pprince william

بی نو نے ٹوانہ جی سے اپنا خرچہ بندھوالیا ہے۔ پچاس ہزار روپیہ مہینہ۔مہینے میں تین چار دفعہ ان کے پاس جانا ہوتا ہے۔نکاح نامہ پاکستان کے حساب سے بھلے جعلی ہو مگر حضرت خود کو مجازی خدا مان کر وظیفہء زوجیت صوفیانہ لگاؤ سے ادا کرتے ہیں۔۔ بی نو کی امی نے بھی جان لیا ہے کہ ٹیپو والے تلوں میں بھی تیل نہیں۔کچھ فائدہ مل سکتا ہے تو لے لیں۔

محبت کی بات اور ہے بی نو آپ کو تینوں مردوں کے بارے میں آپ کو اپنا تجزیہ د ے سکتی ہے۔وہ تینوں مرد بشمول اپنے ابو کو یعنی چاروں کو برا سمجھتی ہے۔ٹیپو بھی ظہیر اور ٹوانہ کی طرح ایک فراڈ انسان ہیں۔پہلے اس کے ابو کی بات۔ اس کا خیال ہے عمر کے آخری حصے میں جسے سب بڑھاپا کہتے ہیں مرد کم زور اور عورت طاقتور ہوجاتی ہے۔ اس کے ابو نے بی نو کے مستقبل کی خاطر ہر جگہ سمجھوتا کیا۔ مردوں کی ایک غالب اکثریت کی اخلاقیات کا اسے نیا ادراک اور مشاہدہ ہواہے۔ روٹین کے مرد ایسے ہی ہوتے ہیں جب تک کوئی خاص آزمائش نہ آئے وہMorality کی پولی پولی ڈھولکی بجاتے رہتے ہیں۔اس کی نہ ان کے پاس کوئی ٹھوس بنیاد ہوتی ہے۔

نہ وہ سامنے لہرانے والی Wind fall Opportunity کو ٹھکرانے کی ہمت رکھتے ہیں۔کم از کم ظہیر اور اس کے ابو تو ایسے ہی ہیں۔ٹوانہ اور ٹیپو کی مار کہاں تک اور کتنی پیچیدہ ہے اس کا اسے اندازہ نہیں۔ ویسے وہ ان دونوں کو بھی اخلاقی حوالے سے بہت نچلے درجے کا مرد پاتی ہے۔

بی نو کی امی کی بات کریں تو انہوں نے اس کے لیے بہت سچائی اور Realistically حالات کے پیش نظر نہ صرف اسے زندگی کو انجوائے کرنے دیا اور ا اپنی بیٹی کی محرومیوں کی خاطر ایک بڑا اخلاقی سمجھوتہ یعنی اس کے اور ٹی پو کے تعلق کا تال میل اور بچہ اس وقت برداشت کیا جب انہیں لگا کہ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں۔ یہ نکتہ نگاہ سامنے رکھیں تو دونوں ماں بیٹی نے ٹوانہ ،ظہیر اور ٹیپو سے اپنے انداز میں انتقام لیا۔

ظہیر سے جب بی نو کی شادی ہوئی تو اسے لگا کہ باقی تینوں کزنز سلیمان شیراز اور جمیل کے مقابلے پر وہ Right Man At Right Time تھا۔وہ ان تین سے بہتر تھا۔ اس کی مایوس کن مردانگی اور بزدل کردار کے جوہر بعد میں کھلے۔

بی نو جب اپنے بارے میں عدالت لگاتی ہے تو اس کا فیصلہ ہوتا ہے کہ،سچ پوچھیں تو ایک اچھی شکل و صورت کے علاوہ اس کے پاس بھی کوئی ایسے خاصAssets نہیں۔نہ زندگی کو بدل دینے کا حوصلہ ہے نہ کوئی ایسی تعلیم یا ہنر کہ  جو اسے دوسروں سے ممتاز کرے۔ظہیر البتہ اسے اپنے سے ہر حساب سے کم دکھائی دیتا ہے۔ممکن ہے پنجاب کی کئی لوئر مڈل کلاس لڑکیاں پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے شادی کو اپنے درپیش حالات کو سامنے رکھ کر انہیں پرنس ولیم اور خود کو کیٹ مڈلٹن مانتی ہوں۔ ظہیر سے اس کی مایوسی بستر سے شروع ہوئی اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ رشتے کی مانوسیت اور بے لطفی کی دلدل میں جاپھنسی۔یہ اس وقت اپنے ہر اخلاقی بندھن سے آزاد ہوگئی جب وہ رقم لے کر وینکور دوڑ گیا۔
ٹوانہ کو بی نونے ظہیر کے جانے کے بعد دیکھا۔ وہ سچ پوچھیں تو اسےHuman Indexپر دونوں مردوں سے بھلے لگے۔کینیڈا میں جب اس نے انہیں بتایا کہ وہ باپ بننے جارہے ہیں تو وہ اسے بہت دیر پیار کرتے رہے۔ اسے  لو آف مائی لائف بھی کہا۔جیب سے فوراً تین ہزار ڈالر بھی نکال کر دیے۔تب اس کا پانچواں مہینہ تھا۔پہلے بچے پر پیٹ جلدی باہر نہیں آتا۔وہ بہت Relaxed ہیں۔ اسے کہہ رہے تھے کہ اگر چیف منسٹر نے ڈرایا نہ ہوتا تو وہ کبھی فرار نہ ہوتے۔محاسبے کے ادارے سفارش اور مال کی مدد سے سنبھالے جاسکتے ہیں۔پاکستان میں فیصلے بکتے ہیں۔ادارے میں افسر تین سال کے لیے ہوتا ہے۔اچھا عہدہ ہو تو صورت حال اور بھی غیر یقینی ہوتی ہے۔ہر افسر یہ سوچتا ہے کہ ایک دفعہ یہ عہدہ نوکری چلی گئی توکمائی کا یہ موقع پھر نہیں آنا۔

ہم پولیس والوں کے تعلقات بھی بہت ہوتے ہیں۔ہمارے بہت کم افسر محاسبے کی زد میں آئے جب کہ ہمارا ہر ایس ایچ او پچاس سے تین سو کروڑ کا مالک ہوتا ہے۔میں تمام برائی چھوڑ کر تمہارے ساتھ آرام سے رہ سکتا تھا۔ تم سے شادی کرکے پولیس اکیڈیمی یا یو این کی کسی پوسٹنگ پر نکل جاتا ورنہ انٹیلی جنس بیورو میں تو لگنا کچھ مشکل نہ تھا۔بس متعلقہ طاقتور حلقوں کو صرف اتناسمجھانا ہوتا کہ وہ نیب والوں کو دیگر ملزمان کی دولت کا سراغ لگانے میں مدد کریں۔انہیں Asset Recovery Coordination کے خفیہ شعبے کی ذمہ داری دے دی جائے۔

اب ٹیپو   کی بات۔ ۔ان سے بی نو کو عشق ہے۔وہ اس کے پہلے مرد ہیں۔

فیض یاد ہے نا کہتے تھے جن کی آنکھوں نے   بے سود عبادت کی ہے۔

ڈونگا گلی سے تو آخری ملاقات تک وہ ان کی نگاہوں کا ایک ایک رنگ، ہر لباس، ان کے لمس کا ہر ذائقہ، ان کی آغوش کی ہر خوشبو کو Recount کرسکتی ہے۔ اب وہ یہاں کینیڈا میں نہیں تو اس کے باوجود جب زونی کو وہ گلے لگاتی، یا سونگھتی تو اس میں بی نو کو ان کی خوشبو آتی ہے۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply