یہی سیاست ہے‘ یہی دھندا ہے۔۔رؤف کلاسرا

لوگ حیران ہیں کہ یہ پی ڈی ایم کے ساتھ کیا ہوا؟ کچھ دن پہلے تک جو الائنس حکومت کیلئے خطرہ بن گیا تھا اب اپنے survival کی جنگ لڑ رہا ہے۔ جس الائنس نے پوری حکومت کو یوسف رضا گیلانی کے الیکشن پر شکست دی اور عمران خان کو مجبور کر دیا کہ وہ اعتماد کا ووٹ دوبارہ لیں وہ اس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا‘ کسی نے نہیں سوچا تھا۔
سیاست اور سیاستدانوں کو اس طرح بدلتے آپ نے کم دیکھا ہوگا۔ اب وہی پیپلز پارٹی اور( ن) لیگ والے ‘جو ایک دوسرے سے کئی برسوں سے گلے لگ کر پیار محبت جتارہے تھے‘ دوبارہ ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے پر اتر آئے ہیں ‘ شاید آنے والے دنوں میں ایک دوسرے پر الزامات کی نئی لہر بھی نظر آئے۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی کوشش ہوگی کہ زرداری کو سب پر بھاری دکھایا جائے جو ہر حالات میں سیاست کا گُر جانتے ہیں ۔ زرداری نے ایک بلنڈر مارا تھا جو اَب نواز شریف نے مارا ہے لیکن زرداری نے اپنے اس بلنڈر سے بہت کچھ سیکھا جبکہ نواز شریف کی خوبی ہے کہ وہ اپنے کسی بلنڈر سے نہیں سیکھتے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ نیا بلنڈر مارتے ہیں۔ زرداری نے جب جذباتی ہو کر تقریر فرمائی تھی کہ وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے تو اس کے بعد وہ اٹھارہ ماہ تک دبئی بیٹھے رہے‘ جب تک جنرل راحیل شریف ریٹائر ہو کر گھر نہیں چلے گئے۔ اس دوران کئی وفد معافی تلافی کیلئے پنڈی بھی بھیجے گئے‘ تاہم نئے آرمی چیف کے آنے تک انہیں معافی نہ ملی۔ زرداری کو یقینا احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول گئے تھے اور اپنے ساتھ ساتھ پارٹی کا بھی نقصان کر گئے اور اس سے بڑھ کر بلاول کیلئے کاٹنے بو گئے۔اب زرداری صاحب کو سمجھ ہے کہ نواز شریف دیوار کو ٹکر مار کر خود کو زخمی کر بیٹھتے ہیں ۔ نواز شریف نے جب بھی کسی جنرل کو اہم عہدے پر لگایا چند ماہ بعد پھڈا ضرور ہوا اور اس پھڈے کی قیمت شریف خاندان بھی بھگتتا ہے اور پوری قوم بھی۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ سے لے کر جنرل کاکڑ‘ جنرل کرامت‘ اور آخر میں جنرل مشرف کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوئے ‘ یوں نو سال تک ملک مارشل لا کے زیر اثررہا۔ جب جنرل مشرف کو ڈسمس کرنے کا وقت تھا اُس وقت انہیں بیل آئوٹ کرانے کیلئے امریکہ پہنچ گئے تھے۔ جب اُس وقت جنرل مشرف کو برطرف نہیں کیا تو پھر چند ماہ بعد کرنے کا کیا تُک تھا اور وہ بھی جس انداز میں کیا اس سے جنرل مشرف کا ہی بھلا ہوا۔ اسی طرح جب ڈان لیکس کا ایشو سامنے آیا تو اس وقت وزیراعظم تھے لیکن سٹینڈ نہ لیا بلکہ فوجیوں پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنا دی جس نے ان کے وزیروں کی انکوائری کی اور ان سے وہی وزیر برطرف بھی کرائے۔ وہ موقع تھا کہ وہ ڈٹ جاتے تو آج اس حال میں نہ ہوتے جس کا بعد میں سامنا کیا۔دوستوں اور وزیروں کی قربانی دی لیکن پھر بھی انہیں پوچھنا پڑ گیا کہ ”مجھے کیوں نکالا؟‘‘
نواز شریف کو ایک اور موقع ملا تھا کہ وہ اپنے نعرے” ووٹ کو عزت دو‘‘ کو واقعی عزت دلوا سکتے تھے۔ جب عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر پارلیمنٹ میں قانون پاس کرائے اس وقت موقع تھا کہ وہ انکاری ہوجاتے اور پوری قوم کو یقین دلاتے کہ وہ جیل میں ہر ستم برداشت کر لیں گے لیکن ووٹ کو عزت دلوائیں گے‘ مگرہم نے دیکھا کہ جنہوں نے ”ووٹ کو عزت‘‘ دلوانی تھی وہ پارلیمنٹ میں قطار میں لگ کر توسیع کے قانون کے حق میں ووٹ ڈال رہے تھے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہورہا تھا کہ نواز شریف اس طرح کی ڈیل کر کے ذاتی فائدے اٹھا رہے تھے۔ بدلے میں جیل سے رہائی لی اور لندن جا پہنچے۔ اب بھی نواز شریف نے یہ لڑائی نہیں لڑنی تھی یا انہیں اصول یاد نہیں آنے تھے اگر مریم نواز کو لندن جانے کی اجازت مل جاتی۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی آرمی چیف اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ سے دو ملاقاتوں کے بعد شریف خاندان کو احساس ہوا کہ شاید مریم نواز کو اب باہر جانے کی اجازت نہیں ملے گی۔ اس دوران کئی ماہ تک مریم کا ٹویٹر اکاؤنٹ خاموش رہا۔ صحافیوں سے ملاقاتیں اور انٹرویوز بھی سب بند رہے۔نون لیگ کے ارکان بھی ٹی وی شوز میں اچھے بچے بن کر پیش ہوتے رہے۔ خواجہ آصف بھی قومی اسمبلی میں جوش و خروش سے تقریریں کرتے رہے کہ جو ہمیں پتہ ہے وہ آپ کو پتہ نہیں ہے اور الیکشن اس وقت ہوں گے جب ہم چاہیں گے۔ سلمان شہباز بھی لندن سے ”گیم چینجرز‘‘ کے ٹویٹ کر کے حکومت کا مذاق اڑاتا رہا۔
یہ طے ہے کہ مریم نواز کو لندن جانے دیا جاتا تو آج شاید پی ڈی ایم کا وجود نہ تھا۔ پی ڈی ایم اس انکار کے بعد ہی تخلیق ہوئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فورم کا سب سے بڑا فائدہ مریم نواز کو ہوا ہے کہ وہ اچانک ایک لیڈر کے طور پر ابھری ہیں۔ ان کی تقریروں نے سب کو ان کو سنجیدہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ ان کے خاندان پر لگے کرپشن کے الزامات اتنے سنگین ہیں کہ ان کے دھبے آسانی سے نہیں دھلیں گے لیکن کرپشن اور اخلاقیات یہاں کے ووٹرز کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں کرپٹ کو ہیرو اور لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال مریم نے اپنی جگہ مستقل بنا لی ہے اور اب وہ (ن) لیگ کے حامیوں کیلئے لیڈر ہیں چاہے یہ بات ہمیں پسندہے یا نہیں جبکہ نواز شریف کے حامی کہتے ہیں کہ نواز شریف کا پھڈا اس لیے سب سے ہوتا ہے کہ وہ ملک کو قانون اور قاعدے پر چلاتے ہیں۔ وہ سول معاملات میں مداخلت کو پسند نہیں کرتے‘ لہٰذا ان کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں لیکن نواز شریف اگرواقعی ملک میں انقلاب چاہتے تھے تو انہیں اپنا گھر صاف رکھنا چاہئے تھا۔ مال پانی اور پانچ براعظموں میں جائیدادوں کے ساتھ انقلاب نہیں لا سکتے تھے۔ اب بھی ان کے غصے اور ناراضی کی وجہ وہی ہے کہ انہیں لگتا ہے ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے‘ انہیں ایک دفعہ پھر بیوقوف بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مدتِ ملازمت میں توسیع کیلئے ووٹ دیا اور بدلے میں انہیں کچھ نہ ملا۔ دوسری پارٹی کہتی ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو لندن بھجوا دیا‘ عمران خان کو ناراض کیا پھر بھی ڈیل پوری کی‘ لیکن مریم باہر نہ جاسکیں۔
بہرحال اب وہی ہوا ہے کہ سب کو اپنا اپنا حصہ چاہئے تھا اس سیاسی الائنس میں سے۔ نون لیگ سمجھتی ہے کہ انہوں نے گیلانی کو سینیٹر بنوانے اور چیئرمین سینیٹ کیلئے ووٹ ڈالا‘ اب سینیٹ کا اپوزیشن لیڈر اعظم نذیر تارڑ کو بنائیں۔ پی پی پی کہتی ہے پہلے ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نون لیگ کا ہے اور اب سینیٹ میں اپوزیشن کا لیڈر یوسف گیلانی کو ہوناچاہئے۔ نوازشریف استعفا چاہتے ہیں‘ زرداری کہتے ہیں یہی کام بینظیر بھٹو نے 1985ء میں کیا تھا جب الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور آج تک پارٹی نہیں سنبھل سکی۔ زرداری نے ہی نوازشریف کو کہا تھا کہ2008ء کے الیکشن کا بائیکاٹ نہ کریں اور یوں خود نواز شریف کی اقتدار میں واپسی کی راہ کھولی جب اٹھارہویں ترمیم میں تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کی شرط ہٹا دی گئی۔ اب بھی نواز شریف سینیٹ الیکشن کا بائیکاٹ چاہتے تھے زرداری نے منع کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نواز لیگ نے پنجاب سے پانچ سینیٹرز بنوا لیے اور گیلانی کے الیکشن کی شکل میں حکومت کو جھٹکا بھی دیا۔
مسئلہ نواز شریف کا یہ ہے کہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو پارلیمنٹ کا رخ نہیں کرتے اور جب اقتدار سے باہر ہوں تو وہ چاہتے ہیں کہ جس پارلیمنٹ میں وہ نہیں وہ پارلیمنٹ ہی نہ رہے۔ سارا مسئلہ ذاتی اور سیاسی مفادات کا ہے۔ نواز شریف کامفاد اس میں ہے کہ پارلیمنٹ نہ رہے‘ زرداری صاحب کا مفاد ہے کہ پارلیمنٹ رہے جس سے انکے مفاد پورے ہوتے ہیں۔ یوں وہی کچھ ہونا تھا جو ہوا ہے۔ بہرحال فکر نہ کریں یہ دونوں بہت جلداپنے کسی اور مفاد پر پھر ساتھ ہوں گے۔ یہی سیاست ہے۔ یہی دھندا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply