عجلت پسند(قسط9)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

آٹھویں   قسط کا آخری حصّہ

tripako tours pakistan

حضرت رفاقت کے لیے بہت بے تاب تھے۔لاہور میں قیام کا پوچھ رہے تھے۔بی-نو کو بڑی الجھن ہوئی۔کسی مرد سے یوں سر راہ بے تکلف ہونے کا پہلا موقع تھا۔اس وجہ سے اس نے اپنا نام بھی غلط یعنی نینا عباسی بتایا۔نمبر مانگنے پر کہا۔ ان کا نمبر کارڈ پر موجود ہے۔وہ کال کرلے گی۔شاید کھانے پر مزید گفتگو ہو۔ بھلے سے معروف ومصروف اداکار تھے مگر بی-نو کو پیشکش کی کہ ان کے لیے لنچ، ناشتہ، رات کا کھانا، لیٹ نائٹ ڈرائیو کا کوئی ایشو نہیں۔ مزید دانہ یہ کہہ کر ڈالا کہ اداکاری میں نام ہوگا تو شہرت کی یہ کنجی ماڈلنگ س کے دولت کے دروازے کھول دے گی۔بتانے لگے کہ ان کے پچھلے ڈرامے کی ہیروئین نے بسکٹ اور دھلائی پاؤڈر کے اشتہارات سے ہی رواں سیزن میں تین کروڑ روپیہ کمایا۔بی-نو چونکہ دس کروڑ روپے اپنے ہاتھ سے ایک بکس سے دوسرے بکس میں منتقل کرچکی تھی اس لیے اسے تین کروڑ کچھ زیادہ نہ لگے۔اس نے سوچاوہ ٹیپو کو ضرور بتائے گی کہ ایک تم ہی نہیں تنہا، الفت میں میری رسوا۔ اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں۔

Lahore-Airport-
range rover
donga gali
donga gali
donga gali

قسط نمبر9
ایئرپورٹ پر ٹیپو اس کے سواگت کے لیے موجود تھے۔مگر احتیاط و اجتناب کے ساتھ۔
اس نے انہیں دیکھا تو وفور ِ مسرت سے اس کا دل چاہا کہ چیخ  کر ان سے لپٹ جائے۔ ہدایت کے عین مطابق انہیں دیکھ کر بی نو نے بڑے اہتمام سے بیگ میں سے عبایا نکال کر پہن لیا۔یہ اشارہ تھا کہ اس نے انہیں دیکھ لیا ہے۔ جب اس کا سوٹ کیس کنویر بیلٹ پر آگیا تو وہ اسے ٹرالی پر رکھ کر باہر آ گئی۔

ٹیپو اس کے آگے پیچھے ہوکر اس پر نظر رکھ کے چل رہے تھے۔ طے شدہ ہدایات کے بموجب سفید شلوار قمیص اور جامنی واسکٹ والا ڈرائیور جیپ کے سامنے ہی کھڑا تھا۔یہ وہی سیاہ رنگ کی جیپ تھی جو بی نو کے گھرانے کو پہلی دفعہ ظہیر سمیت لاہور میں لے کر گھومی تھی۔ ایک کمال احتیاط سے آزمودہ کار بیگمات کے اسٹائل میں بی نو ایک رکھ رکھاؤ سے جیپ میں  بیٹھ گئی۔کچھ دور چل کر ڈرائیور نے ایک ویران مقام پر جیپ روکی تو اس کے پیچھے ایک چھوٹی جیپ آن کر رک گئی، یوں ٹیپونے اپنی والی جیپ اس ڈرائیور کو دے دی اور اس کے والی جیپ کے اسٹیرنگ پر آن کر بیٹھ گئے اور بی نو اگلی نشست پر ۔

طے یوں ہوا کہ اسلام آباد سے وہ سیدھے ایبٹ آباد کے علاقے ڈونگا گلی چلے جائیں گے وہاں کسی دوست کا بنگلہ ہے،نتھیا گلی بھوربن، مری وہ اسے خود ہی لے جاکر دکھادے گا مگر قیام ڈونگا گلی میں ہی رہے گا۔

راستے میں رک کر ناشتہ کیا اور پانچ گھنٹے میں وہ اسلام آباد پہنچ گئے۔وہاں سے آگے ڈونگا گلی کا راستہ بہت حسین تھا۔ مناظر فطرت کی ہماہمی میں ایک پچھتاوا بی نو کے دل میں بس گیا اس کو لگا اس نے ظہیر سے شادی کرکے غلطی کی۔اس کے لیے بہترین رشتہ ضویا کے چھوٹے ماموں اور سیاست کار و عہدے دار روحیل ڈاہا کا تھا۔وہ اس دنیا ئے عیش و عشرت کی باسی تھی نہ کہ پولیس لائن ملتان سے جڑے سرکاری  سکول کی استانی والی زندگی اس کا مقدر تھی۔

بینو کو ناچنے گانے کا شوق تھا۔ آواز میں تربوز جیسا رسیلا پن تھا گو سُر کا بہت گیان نہ تھا،لَے سنبھال لیتی تھی۔ٹیپو بھی کوئی مدن موہن یا انو ملک تو تھے نہیں۔بس لطف و کرم کے سلسلے تھے۔رفاقت کے کئی باب بہ یک وقت کھلے ہوئے تھے۔ٹیپو کہنے لگے کہ وہ راستے میں میوزک اس لیے نہیں بجا رہے کہ وہ ان کے کاندھے پر سر رکھ کر گنگناتی رہے۔

تین گھنٹے  تک   ڈونگا گلی میں وہ اپنے مہمان خانے پہنچ گئے۔برف باری کی وجہ سے اس مقام پر سیاح کم تھے۔جو تھے وہ بہت خاص قسم کے آسودہ حال۔ایک صاحب جو ایک خاتون کا ہاتھ تھامے انہیں اپنے مہمان خانے کے قریب سے گزرتے دکھائی دیے ان پر ٹیپو  کو ایک شبہ ہوا کہ انہیں کہیں دیکھا ہے ،مگر چونکہ جیپ کو پارک کرنے میں دھیان تھا اور اس دوران وہ عورت مرد بھی کہیں دوسری طرف نکل گئے، لہذا بات آئی گئی سی ہوگئی۔بی نو کے ساتھ لمحات وصل میں ان کا خیال تک نہ آیا۔

بنگلہ بہت پُر تعش تھا۔ سجاوٹ ،عملہ سب ہی لاجواب۔راستے میں ایک آدھ مرتبہ اسے کچھ دیر کو نیند کا جھونکا بھی آیا۔ ٹیپو نے بتایا کہ اس موسم میں اس طرف لوگ کم ہی آتے ہیں۔اس نے پوچھ لیا کہ اس کے سب دوستوں کے گھر اتنے اچھے اور مہمانوں کے لیے اس قدر کشادہ دل کیوں ہیں تو وہ کہنے لگا مالدار ٓدمیوں کو طاقتور افسران کو پالنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔یہ جن سیاست دان کا بنگلہ ہے۔ان کی سیاست میں آمد ٹیپو کی وجہ سے ممکن ہوئی۔یہ وہی خاندان ہے جن کا لاہور میں بھی بنگلہ اور جیپ ہے۔

dhoop jesay dupata
golden duppata

کاروبار، سیاست ،مال سب ہی ایک جگہ جمع ہورہے ہیں۔اربن سرداری سسٹم۔سو ہر وقت کے احسان مند ہیں۔ یہ تو بہت چھوٹا فیور ہے۔ اس نے پوچھا کہ نام کیا ہے تو کہنے لگے اس وقت صوبائی وزیر ہیں۔بینو کو ڈر لگا کہ کہیں یہ روحیل ڈاہا  تو نہیں مگر کریدنے پر معلوم ہوا ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔

بینو کو لگا کہ کک اوروہاں موجود کئیر ٹیکر کو ان کی آمد کا وقت شاید پہلے سے معلوم تھا۔ جلدی سے کھانا لگا اور کھانا کھاکر وہ جب بستر میں گھسے تو اسے پہلی  دفعہ مرد کے سمندر جیسے سینے کی خوشبو اور تحفظ کا احساس ہوا۔ٹیپو نے اس کی کمر سہلانا شروع کی تو رات بھرکی جاگی بی نو پل بھر میں سو گئی۔

چار بجے سہ پہر کو اٹھی تو حضرت مزے سے کمرے کی ٹیریس سے لگی ریلنگ پر پیر جمائے سگریٹ انگلی میں دبائے جام لگا رہے تھے مگر جام میں ٹی بیگ دیکھ کر اسے حیرت ہوئی۔معلوم ہوا کہ اس کا نام Hot Toddy ہے۔وہسکی یا رم میں شہد، برانڈی،گرم پانی، لیموں اور چائے ڈال کر پیو تو سرور قریب اور سردی دور چلی جاتی ہے۔ٹیپو کے کہنے پر اس نے ان کی گود میں بیٹھ گلے میں بانہیں ڈال ایک دو گھونٹ جام کے بھی لیے اور سگریٹ بھی پیا۔

سرِ شام دونوں نہا دھو کر سیر کو نکل گئے۔رخصت ہوتے ہوئے سورج کی ہلکی سی دھوپ پھیلی تھی۔۔
دلہن کے زرتاج دوپٹے جیسی۔چند جوڑے اور بھی گھومنے نکلے تھے۔سب ہی تصویریں کھینچ رہے تھے۔ایک جوڑے کو دیکھ کر ٹیپو جز بز ہوئے۔اس کا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے دوسری طرف نکل گئے۔ایسا لگا جیسے چھپ رہے ہوں۔جتنی جلدی انہوں نے بی نو کو گھسیٹ کر ایک طرف کھینچا وہ ڈر ہی گئی کہ سانپ تو نہیں۔ ٹیپو نے بتایا کہ سانپ بچھو سردی میں  سطح زمین پر نہیں ہوتے، وہ اس موسم میں hibernate کررہے ہوتے ہیں۔اس نے مزید کچھ نہیں پوچھا اور انہوں نے بھی نہیں بتایا گو اسے لگا کہ جن مناظر کی وہ تصویر لے رہے تھے شاید اس کے فریم میں یہ دونوں بھی آگئے، خاص طور پر اس لمحے جب وہ ان کی گود میں  کاندھے پر سر رکھے لیٹی تھی فوٹو لینے والا جوڑا ان سے اونچائی پر  اوردوسری طرف تھا۔اسے اپنی طرف سے کوئی خطرہ نہ تھا لہذا وہ چپ رہی اور ٹیپو کی تو ساری دلداریاں تھیں ہی دہشت گردوں کے ساتھِ سو یہ سوچنا کہ ان سے کوئی چھیڑ خانی کرسکتا ہے۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔۔اتفاق کی بات یہ بھی ہوئی کہ یہی جوڑا انہیں ایوبیہ میں بھی چیئر لفٹ کے پاس بھی دکھائی دیا۔ ٹیپو نے اسے ایوبیہ، نتھیا گلی، بھوربھن،مری،ایبٹ آباد سب ہی جگہوں کی سیر کرائی۔ ڈونگا گلی میں پائپ لائن ٹریک اور مُشکپوری ٹاپ اسے بہت اچھے لگے۔

کینیڈا میں وہ سوچتی ہے تو بی-نو کو یہ چھ دن سات راتیں اپنی زندگی کا سب سے بہترین عرصہ لگتا ہے۔یہ بھی خیال آتا ہے کہ ہر لڑکی اسی لیے اپنے بہترین دنوں کے خواب اپنی شادی کے ایام سے جوڑ لیتی ہے۔جب کہ جینے کے مواقع ہر وقت ملتے ہیں۔بی نو نے اپنی بے باکی کے سو جواز ڈھونڈ لیے۔۔

ان ہی جگہوں پر وہ جسم و جاں کے نئے رشتوں سے آشنا ہوئی۔ٹیپو نے اسے بہت پیار سے برتا۔۔

تیسری یا چوتھی رات جب ان کی وحشت وصال نے کچھ دم پکڑا تو بی نو  نے پوچھ لیا کہ اتنا اودھم مچاتے ہیں۔ خان بادشاہ،میرے سلمان خان،میرے شاہ رخ خان، احتیاط نہیں کرتے ،میں ماں بن گئی تو کیا ہوگا۔ جام اس کے ہونٹوں سے لگا کر، چھاتی پر ہات مار اسے بانہوں میں بھر کر کہنے لگے ”شیشہ نہیں فولاد ہیں، ہم پختونوں کی اولاد ہیں“۔۔ انداز گرفت میں خاصی اتراہٹ اور ہوس کا غلبہ تھا۔یہ بھی ادراک تھا کہ اب زیرِ  تسلط آنے والی عورت کنواری ہے، تعلیم یافتہ، خوش پوش اور کسی دوسرے سے چرائی ہوئی ٹرافی ہے۔اسی لیے فرمانے لگے” چھوری تجھے ڈر کس بات کا ہے۔بچے کا؟تو یاد رکھو تم ماں نہیں بنوگی میں باپ بنوں گا۔بی نو بیگم خاکسار نے اپنی بیوی سے بھی دل سے محبت کی۔جوانی کی بھول۔۔جس کا ہر طرح کا پچھتاوا ہے۔میری غیرت و حمیت دیکھو زیرو سیکس اور ایسے سڑیل مزاج کے باوجود نبھارہا ہوں۔ تم میری آخری محبت ہو۔میرا ایمان،میری جان ہو تم۔بچہ تو دور کی بات ہے اگر تمہاری دوسری ناک بھی نکل آئے تو میری محبت میں کوئی کمی نہیں آئے گی“۔

ان دونوں کا بیٹا زونی اسی عرصہء لطف و غیبت جوڈونگا گلی میں گزرا وہیں بی نوکے پیٹ میں آیا۔ پیدا کینیڈا میں ہوا۔اس نے ظہیر کو بتادیا کہ شادی کی رات وہ بطور دلہن ٹوانہ صاحب کے پاس رہی تھی۔

وہ یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جس کی تصدیق کی ہمت ظہیر کے پاس نہیں ۔ وہ چاہے بھی تو اس کی لاکھ کھوج رکھتے ہوئے بھی اس بات کو اپنے باس محمود ٹوانہ ڈی آئی جی سے جنہیں وہ کینیڈا میں بھی ڈی آئی جی صاحب ہی کے سرکاری عہدے کے حوالے سے ریفر کرتا ہے۔ ان سے اس بارے میں کچھ پوچھ گچھ نہیں کرسکتا۔ لگے ہاتھوں اس نے ظہیر پر یہ بھی جھوٹ باندھ دیا کہ وہ ہرہفتے ان کے خفیہ ٹھکانوں پر لاہور میں ان کے پاس ہوتی تھی ،سو میاں بیوی والے معاملات تقریباً ایسی ہر رات کا قصہ ہیں۔

اس معاملے میں مزید گفتگو تعلقات میں دونوں طرف تلخی اور رسوائی کا باعث ہوگی۔اس نے جان لیا ہے کہ اس رشتے میں اب وہ ظہیر پر مکمل طور پر حاوی ہے۔
ویسے تو دھیمے مزاج کا ہے مگر جانے کیوں اس دن تھوڑا اتھرّا (پنجابی اودھم مچانا)ہوگیا۔
عدالت لگا کر بیٹھ گیا کہ یہ بچہ کہاں سے آیا کس کا ہے۔بی نو نے بہت سکون سے جواب دیا
دو مردوں کے حوالے کرکے اپنے باس کی بدکاریوں میں معاونت کے لیے کینیڈا بھاگ آنے سے پہلے کیوں نہیں پوچھا، کہ میرا مرد کون ہے۔ٹوانہ جی کو نکاح کی اجازت کس نے دی۔اس لپک جھپک میں اس نے پوچھ لیا کہ کیا وہ اتنی بری تھی کہ وہ اپنی سب سے سندر کزن کو اس طرح ہیرا منڈی کے دلال کی طرح اس دو کوڑی کی زندگی کے لیے سونپ کر بھاگ لیتا۔اس موقع پر وہ پہلی دفعہ رویا بھی۔ لگا کہ اندر سے ریزہ ریزہ ہوگیا ہے۔پیر بھی چومے۔بی نو جانتی ہے غیرت کی لکیر اگر کوئی مرد ایک دفعہ پھلانگ لے تو باقی سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ مانو جیسے دیس کا بٹوارہ ہوگیا۔۔حمیت اور بے غیرتی کے دو دیس بن گئے ،نئی راجدھانی اور نئی لائن آف کنٹرول بن گئی۔اب واپس جاکر پیچھے چھوڑا ہوا ترکہ واپس لانا ناممکن ہے۔

اسی نوحہ خوانی میں اس نے ظہیر کو بتادیا کہ،ٹوانہ صاحب نے ظہیر سے طلاق کی سند عدالت سے بنوالی تھی۔ اس لیے زونی کی ولدیت میں ظہیر کا نام ہے۔ یہ ان کی مہربانی ہے کہ وہ بی نو جیسی دلربا عورت کو اپنی بیوی ہوتے ہوئے بھی تمہارے ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ظہیر کو شک ہوا کہ اس کی نامردی کا علم اس کے باس کو بھی ہوچکا ہے جس پر اس نے شدید احتجاج کیا تو بی نو نے اسی قاتلانہ Chill کا مظاہرہ کرکے جواب دیا کہ اگر تم کو بستر میں کنواری عورت کو برتنا نہیں آتا ،تو اتنا تو معلوم ہوگا کہ تمہارے باس ڈکیت ڈی آئی جی ٹوانہ کی تو ہر رات کسی نہ کسی عورت کے ساتھ گزرتی تھی۔وہ جو تمہارے ساتھ عورتوں کی تصاویر ہیں اس کا میں کیا مطلب نکالوں۔؟مجھ میں تمہارے لیے کوئی دل چسپی نہ تھی یا وہ عورتیں تم بطور سرکاری کنجر لاتے لے جاتے تھے۔ظہیر اسے تھپڑ مارنے کے لیے کھڑاہوا تو بی نو نے  کہا بیٹھ جاؤ، ورنہ کینیڈا میں باقی زندگی جیل میں گزرے گی۔یہ وہاڑی نہیں کہ زنانی کوٹ کے مرد بنو۔ظہیر کو ایسا لگا کہ کسی نے اس کے غصے اور جرات کے سلگتے انگاروں پر برف کا پانی ڈال دیا ہے۔

ظہیر نے چند دن بعد ایک آدھ دفعہ مذاق میں کہا بھی کہ بیٹا بھلے ٹوانہ جی کا سہی مگر عادات اور شکل و صورت بالکل ٹیپو صاحب جیسی ہیں۔ اس پر بی نو  نے کہا خود تو یہاں بھی لاہور والیوں کی طرح گوریوں کے ساتھ گل چھرے اڑاتا تھا اور مجھے اپنے بڑے افسروں کے حوالے کرکے دوڑ گیا۔ زونی آپ جیسا ہے کہ ٹوانہ جی جیسا کہ ٹیپو جیسا ۔ مجھے اس کی چنتا نہیں مگر کان کھول کر  پہلی اور  آخری دفعہ سن لو ،زونی صرف میرا بیٹا ہے۔اسے میں نے صرف تمہیں سوچ کرConceive کیا اور اپنا خون پلا کر پیدا کیا ہے، تم کو یا ٹوانہ کو کوئی اعتراض ہے تو مجھے چھوڑدو۔

یہ سب سن کر ظہیر برگ لرزاں بن گیا۔زونی کا قد اپنے باپ جیسا دراز، بدن مضبوط،توجہ بھر پور  ہے ویسی ہی خود اعتمادی اور ایک مردانہ لاتعلقی ہے۔ماں کا دیوانہ ہے۔ٹوانہ جی اور ظہیر کو زیادہ لفٹ نہیں دیتا۔ دنیا میں کوئی کچھ بھی کہے بی نو کو پتہ ہے کہ ٹیپو  سے جنسی تعلق کی پہلی رات ہی وہ ماں بنی تھی۔

آئیں کینیڈا کا درمیان میں آنے والا ذکر چھوڑ واپس ایبٹ آبادکی ڈونگا گلی چلیں۔

ڈونگا گلی کا ذکر تھا جہاں بی-نو کے نمبر پر دو تین دفعہ فون بھی آئے چونکہ ٹیپو کی ہدایت تھی کہ فون نہیں سننا لہذا وہ گھنٹی بجتے ہی سائلنٹ پر کردیتی تھی۔ایک پیغام بھی تھا پلیز کال ظہیر باس۔اس نے اسے بھی اگنور کیا۔

ظہیر سے اس کا رابطہ وہاڑی پہنچ کر ہوا۔ اس کے فون کے بعد ابو کے فون پر ٹوانہ صاحب کا فون آیا۔جس رات بہت برسات اور سردی تھی ٹیپو وہاڑی آئے۔ بی-نو نے گھر والوں کو بتادیا تھا کہ وہ آرہے ہیں۔ابو کی ضد تھی کہ وہ انہی  کے پاس ٹھہریں۔امی کو مادرانہ چھٹی حس کے تحت البتہ اندازہ ہوگیا تھا کہ کراچی سے واپسی پر جو یہ ایک چھوٹا سا ہفتے دس دن کا عرصہ ء غیبت ہے۔ یہ بی-نو نے یقیناً ٹیپو کے ساتھ گزارا ہے۔ وہ شاید اس کی ٹائمنگ پر حیران ہو کر اپنی صاحبزادی کو دل ہی دل میں داد بھی دیتی ہوں کہ ظہیر کے جاتے ہی بغیر وقت ضائع کیے وہ کتنی جلدی ٹیپو سے جڑی ہے۔

Lahore ka parlor

بی نو کی والدہ معاملہ فہم عورت ہیں۔ بیٹی کی اپنے میاں سے بے وفائی کی تفصیلات سے آگاہی کی بنیاد پر جان گئیں تھیں کہ ظہیر بھلے اپنا سگا بھتیجا ہی سہی مگر بیٹی کے معاملے میں بن تیل کا تِل نکلا تھا۔عورت کب تک صبر کرے۔پیٹ روٹی مگر دل بھی تو پیار مانگتا ہے۔بی-نو نے محفوظ راستہ چنا ہے۔مرد بھی اچھا ہے۔ بچے وچے کا چکر چلا تو سب کچھ سنبھل جائے گا۔اب ہم اس قصے کو سمیٹ لیں تو مناسب رہے گا۔بی-نو ایک دو دفعہ ابو اور ٹیپو کے   ساتھ لاہور بھی گئی۔ٹھہری بھی ان کے پرانے والے ٹھکانے پر ہی۔ابو کو نیند کی گولی کی خوراک بڑھا کر سلادیا اور خود ٹیپو کے پاس سوئی۔

لاہور کی پے در پے آوک جاوک میں بی-نو اور اس کے ابو کی ملاقات ٹوانہ جی سے ہوئی۔ٹوانہ جی نے یہ طریقہ کار اختیار کیا ہے کہ اسے براہ راست کوئی ہدایات دینے کی بجائے اس کے والد کے ذریعے تمام معاملات کو سرانجام دیتے ہیں۔اس کو انگریزی میں وہPath of Least Frictionکہتے ہیں۔(کم از کم مخاصمت کی شاہراہ)
ابو ہی کی ہدایت پر وہ ٹوانہ جی کے ایک افسر بکار خاص کے ساتھ نادرہ دفتر اور پاسپورٹ آفس بھی گئی۔ظہیر سے اپنی طلاق کی سند، ایک نیا جعلی نکاح نامہ اور اسی کی روشنی میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوالیا۔

بی نو کا ٹوانہ جی سے نکاح کسی بنگلے پر ہوا۔ تصویروں کی خاطر اسے باقاعدہ دلہن بننا پڑا۔

سہاگ رات چونکہ طے شدہ منصوبے کے تحت ٹیپو کے مقدر میں تھی، لہذٹوانہ صاحب کے اکاؤنٹ میں وہ ایک بہترین سے پارلر میں  نئی نویلی دلہن کے طور پر سجی۔ہار پھول سب ہی کچھ ہوا۔ گواہ میں ابو اور ٹوانہ کے جاننے والے دو سپاہی تھے۔ٹوانہ صاحب کمرے میں کچھ دیر رہے۔ہاتھ  ضرور تھاما، کافی دیر تک چوما بھی ۔بی نو نے  سوچا ان بوسوں سے سوائے لپ اسٹک کے اس کا نقصان کچھ نہیں۔، ظہیر کے باس تھے۔اتنا تو اس سازش میں ان کا حق بنتا تھا۔

ڈرامے باز بی نو  نے بانہوں میں سمٹ کر پوچھا۔ٹوانہ جی آپ کو تو قانون پڑھایا بھی جاتا ہے اور آپ کی روزی روٹی بھی قانون کی پاس داری سے آتی ہے۔ایک دفعہ اس نے اپنے اللہ والے لاکٹ پر ان کا باہر چھلکتے آدھے سے زیادہ عریاں سینے پر ہاتھ  رکھواکر کر پوچھا، بس اتنا بتادیں۔میں بیوی کس کی ہوں۔۔؟اس میل ملاپ سے جو بچہ ہوگا اسے میں بن باپ کا وجود مانوں۔آپ ٹیسٹ کرالیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا میری کوکھ اس وقت بچے کی نعمت سے محروم ہے۔
کہنے لگے” رب کی قسم لی ہے تو بھروسہ رکھو ، بی نو بیگم یہاں  یا کینیڈا۔ تم بھی میری ہو، تمہارے بچے بھی میرے نام سے موسوم ہوں گے۔

سلامی میں دس لاکھ نقد اور ہیرے کی ایک انگوٹھی بھی دی۔جب زیادہ جذباتی ہونے لگے تو بی-نو  نے بس بس کہہ کر
Not in day time. Not so soon
Let me come to terms with this strange relationship…
My nikah is fake but groom is horny and real
ٹوانہ صاحب کو جملہ بہت اچھا لگا تو مزید چوم کر پانچ ہزار روپے انعام برائے خوش گفتاری یہ کہہ کر دیے کہ جس طرح پانچ نمبر صفائی کے ویسے یہ پانچ ہزار My nikah is fake but groom is horny and real. والے جملے کے ،جس کا مطلب یہ تھا کہ نکاح بھلے سے جعلی سہی مگر دولہا میاں اصلی اور شہوت کے زیرِ  اثر ہیں۔ بی نوجب ان کی آغوش سے علیحدہ ہوئی تو انہوں نے یقین دلانے کے لیے وضاحت کی کہ کینیڈا کی شہریت کے لیے یہ سب ہونا لازم تھا۔ظہیر کو میں نے بتادیا تھا کینیڈ ا میں شہریت دینے سے پہلے خفیہ تحقیقات بہت ہوتی ہیں۔زیادہ تر رات کو وہ لوگ چیک کرنے آتے ہیں کہ جعلی پیپر میرج ہے کہ اصل میں میاں بیوی والا رشتہ ہے۔سو بی نو کو میرے پاس میرے کمرے میں رہنا ہوگا۔اس نے کہا تھا مجھے، سر آپ پر پورا وشواش ہے۔کینیڈا میں ایک دفعہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

bino ka ghar-Vancour

بی نو  نے کہا  کینیڈا میں وہاں کا قانون چلے گا۔پاکستان میں پاکستان کا۔سو صاحب ہاتھ نہ لگائیے، پاس نہیں آئیے، کیجیے نظارہ دور دور سے“۔ وہ کھل کھلا کر ہنس پڑے اور کہنے لگے ہم اکیڈیمی میں ایک شعر پڑھا کرتے تھے کہ ع
سب حسن تمہارا بے قیمت، گر داد نہ ہم سے پاؤ گی
تمہیں راہ پر اک دن آنا ہے، تم راہ پر ایک دن آؤگی
بی نو شعر سن کر فوراً ان کے گلے لگی اور آہستہ سے کہا
”صاحب آپ کے پولیس مقابلے سے نہیں آپ کے پیار سے ڈر لگتا ہے“۔
ٹوانہ صاحب نے بھی تماش بینوں کے انداز میں اللہ مار ڈالا کہا اور اسے پانچ ہزار کا دوسرا نوٹ یہ کہہ کر دیا کہ جاؤ ورنہ تمہاری خوش گفتاری اور جملے بازی کی نذر ہوکر میری ڈی آئی جی والی پتلون بھی بک جائے گی۔

بی-نو نے اپنے ابو کو تو ٹوانہ صاحب والی گاڑی میں یہ کہہ کر واپس وہاڑی بھیج دیا کہ ٹوانہ صاحب کے ساتھ صبح کینیڈا کے لیے کپڑے لینے ہیں۔ وہاں بہت سردی ہوتی ہے۔وہ رخصت ہوئے تو خود ٹیپو کے ساتھ اسی بنگلے پر شب عروسی گزار کر اگلی صبح وہاڑی واپس لوٹ گئی۔

ظہیر نے اس اثنا میں وہاں وینکور میں گھر لے لیا۔تصویروں میں اچھا لگا۔ بی-نو کی مرضی تھی کہ وہ بتادے کہ وہ ٹوانہ صاحب کے ساتھ شادی کے نتیجے میں حاملہ ہوچلی ہے۔اس کی امی نے مگر اسے سختی سے روک دیا۔ظہیر کینیڈامیں تھا۔ اس سے یہ بعید نہ تھا کہ وہ یہ سن کر اتنی بڑی رقم سمیت کہیں اور سرک لیتا۔ مرد کا کیا بھروسا۔وہاں عورتوں کی کیا کمی۔ کوئی سکھنی، گوری کالی، چینی اتنی رقم اور ایسا شریف النفس مرد دیکھ کر کب انکار کرتی۔ بی نو اور اس کی امی کو ظہیر۔ ٹوانہ اعلیٰ  سطحی میثاق مفاہمت کا اندازہ نہ تھا جس کی روشنی میں ٹوانہ جی نے بی نو کو بطور بیوی برتنے کا معاہدہ کرلیا تھا۔

بی نو نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وینکور پلان پر عمل درآمد اس کی ہدایات کے عین موجب جاری ہے اس نے ٹوانہ سے نکاح کی دو تصاویر یہ لکھ کر ای میل سے بھیج دی تھیں کہ ع
تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں
جان بہت شرمندہ ہیں
اللہ مار ڈالا

anti ballastic missile

کم حرفی ظہیر نے اس کے جواب میں صرف اتنا لکھا تھا۔تصویر کو سچ مان لیں تو میڈیا کی خبر سب سے بڑا سچ ہوگی۔ یوں بھی وہ اسے کہتا رہتا تھا کہ خبر وہ نہیں جو دکھائی جارہی ہے۔ خبر وہ ہے جو چھپائی جارہی ہے

بی نو کی مرضی تھی کہ وہ ٹوانہ صاحب کے سر مڑھ کر ان کے بچے کی ماں بننے کی خبر ظہیر کو بتادے۔ حالات کا یہ جبر بھی خوب ہے کہ تینوں مردوں کو جو اس کے بدن پر تسلط کے دعوے دار ہیں انہیں اس کے ماں بننے کی کوئی خبر نہیں۔۔امی نے اسے سمجھایا کہ جب بچے کی ولدیت کا سوال ظہیر کے باس اور اس کے
Conjugal Partner
کے حوالے سے سامنے آئے گا تو اس کی پوزیشن قانوناً زیادہ مستحکم ہوگی۔ ظہیر بزدل آدمی ہے
Bloody Wimp
بی نو کو حیرت ہوئی کہ کمزور نامرد دلال قسم کے مرد کے لیے اس کی والدہ نے انگریزی کی یہ اصطلاح کہاں سے اُچکی ہے۔ پتہ چلا ہندوستان کی کسی ویب سیریز میں استعمال ہوئی تھی۔وہ کہہ رہی تھیں کہ اس میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ ظہیر ایسا کرے تو ایسی صورت میں وہ قانوناً ٹوانہ صاحب کو قابو کرسکتی ہے۔ کینیڈا تو یوں بھی اس کی آمد ان کی منکوحہ کی حیثیت سے ہوئی ہے۔ اس کے پاس اس حوالے سے تصویری ثبوت اور دستاویزات بھی ہیں۔ وہ اب لاہور جاکر ٹیپو کی مدد سے فارن آفس سے ان اسناد کی تصدیق کرالے گی۔کام پکا۔دونوں مرد بین البراعظمی بی-نو میزائل کی زد پر۔۔

پیشہ ورانہ مصروفیت کے بہانے ہر دوسری تیسر ی رات شام ٹیپو جی وہاڑی بی نو کے گھر آجاتے ہیں۔ عوام کی اکثریت اور عورتیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ بی نو کا سوچنا ہے کہ سب کو ایک مضبوط چرواہا ہانکنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ٹیپو ایک مضبوط مرد ہیں۔کہیں کوئی چہ مگوئیاں ہوتی بھی ہوں تو انہوں نے کون سا یہاں وہاڑی میں رہنا ہے۔ ٹیپو اور بی-نو دونوں ہی سحر خیز ہیں۔امی کو اس نے بتادیا ہے سو انہیں ٹیپو۔بی نو تعلقات کا بخوبی علم ہے۔ مان لیں کہ ان کی پہلی ہمدردی یقیناً اپنی بیٹی سے ہے داماد اور بھتیجے ظہیر سے نہیں۔
بنتے بگڑتے رشتوں کی اس دھما چوکڑی میں انہیں علم ہے کہ بیٹی کا شب زفاف سے ہی تا دم روانگی وظیفہ ء زوجیت ادا کرنے سے قاصر اصلی شوہر ظہیر چپ چاپ چوروں کی طرح کینیڈا جاکر پناہ گزین ہوگیا ہے۔ ان کی صاحبزادی کو کینیڈا کی جنت میں آباد کرنے والے ڈی آئی جی صاحب سے نکاح پر نکاح کی اجازت ان کے اپنے شوہر اور داماد گھر کے دونوں مردوں نے باہمی رضامندی سے بی نو کو شریک مشورہ کیے بغیر دی ہے۔

jaccuzi

ان تین مردوں میں ان کی بی-نو لیلیٰ ء مہجور بنی نالہ غمی کشد (آہ  و بکا کرنا) کرتی پھرتی ہے۔عورت یوں بھی عورت کا دکھ سمجھتی ہے۔ماں ہو تو اس کے جرائم پر بھی پردہ ڈال کر اسے دکھ مان کر ہمدردی کرتی ہے۔ وہ اس تکون پر یوں بھی راضی ہیں کہ بی نو کاٹیپوسے نکاح ہوجائے۔بی نو انکے بچے کی ماں بننے   والی ہے اس کا انہیں بخوبی علم ہے۔یہ نہ ہوا تواس خاندان کا یہاں قیام چند ماہ کی بات ہے۔ان ہی سب وجوہات سے انہیں بیٹی کی ملاقات شبینہ پر کوئی اعتراض نہیں۔

اب اس حمل کو دو ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ ٹپیو  یہاں وہاڑی آتے ہیں، تو رات ابو کے اصرار پر گھر پر ہی قیام کرتے تھے۔ بی نو کو اپنی امی کی جانب سے بھرپور سپورٹ ہے۔عام طور پر وہ جس وقت آتے ہیں تو یہ ابو کے سونے کا وقت ہو چکا ہوتاہے۔بی نو نے  کہہ دیا ہے کہ کوئی سرکاری مصروفیت ہو بھی تو پہلے گھر پر کچھ دیر ابو کے پاس بیٹھ کر چلے جائیں اور رات کوڈیوٹی ختم کرکے اپنی مرضی سے واپس آجائیں۔اس سے ان کے  شکوک کے دروازے بند ہوجائیں گے کنیز انارکلی تو آپ کی الفت میں سراپا انتظار ہوتی ہے۔

اب چونکہ آمد میں قدرے باقاعدگی ہو چلی ہے سو اوپر کی منزل جہاں مہمانوں کا کمرہ ہے وہاں گرم پانی کا بندوبست اچھا ہوگیا ہے کہ ٹیپو جی نے گیزر بدلوادیا تھا۔ ٹیپو جی کے بندے آئے فٹا فٹ گرم پانی کا انتظام کرگئے۔سعودی عرب والے پی وی سی پائپ ڈال گئے۔کمرے میں باتھ روم  میں  جاکوزی باتھ بھی لگ گئی تھی۔ایک باتھ ٹب کا بھی علیحدہ سے بندوبست ہوگیا۔اس کی امی اسے چھیڑ رہی تھیں کہ کہیں ٹیپو جی شادی کے بعد گھر داماد ہی نہ بن جائیں۔ویسے بی نو کو حیرت ہوئی کہ انہیں اپنی بیٹی کا ٹیپو کے ساتھ بغیر کسی تعلق کے یہ جنسی تال میل بُرا نہیں لگتا۔انہیں خود بھی گھر میں آمدنی کی کشائش کی وجہ سے سجنے بننے کا شوق لگ گیا ہے۔صحت اچھی ہے۔ یو ٹیوب چلانا سیکھ گئی ہیں تو ڈائیٹ، یوگا اور انڈین کرائم پٹرول کی ویڈیوز کی بہت چس آگئی ہے۔بی نو لاہور جاتی ہے تو امی جی کا بھی بیوٹی پارلر اپائنٹمنٹ ہوتا ہے۔۔ خوش لباسی سے اور بیوٹی پارلر کی تو جہ سے عمر سے دس سال چھوٹی لگتی ہیں۔ بی نو نے امی کو کہا بھی کہ ٹیپو جی کو کہہ کر ایک مقدمہ کرلیتے ہیں کہ آپ کی تاریخ پیدائش کا اندراج غلط تھا۔ نیا سرٹیفیکٹ بنواکر دوبارہ ملازمت کرلیتے
ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ہاتھ کھل گیا تو بی نو کو ہری ہری سوجھتی ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *