کالیاں اِٹاں کالے روڑ۔۔محمد جمیل احمد

وہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک پرانے کھنڈر میں ایک ٹھوٹی چھت کے نیچے ٹاٹ پر لیٹ گیا ۔ اسکا دوست اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔۔
“ایسے جیسے تمہارے ماتھے پر حشرات بھنبھنا رہے ہوں”۔۔
“تم میرے لئے پانی لے آؤ گے جاکر؟؟؟”
“ہاں۔۔ میں جاتا ہوں”
وہ اپنے دوست کو جسکے ہاتھ میں ایک پرانی مٹی آلود پلاسٹک کی بوتل تھی، کھنڈر کے ٹوٹے دروازے سے پانی لیجانے کیلئے باہر جاتے دیکھ رہا تھا۔ اب وہ اکیلا اس کھنڈر میں 103 بخار کے ساتھ ٹاٹ پر لیٹا ہوا ٹوٹی چھت میں سے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔۔۔ یہ گرمیوں کے دن تھے۔”
“کالیاں اِٹاں کالے روڑ
مِینہ  برسا دے زور و زور”
بہنوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اونچی آواز میں نظم گاتا اسے اپنا بچپن آیا۔۔ وہ اپنی چاروں بہنوں کے درمیان، سب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سرکل بناکر گول گھومتے ہوئے آسمان میں بادلوں کی طرف دیکھ رہے تھے اور نظم کی صورت میں خواہش کررہے تھے تیز بارش کی۔۔۔
سنو بچو!
“تم سب گھر چلے جاؤ۔۔۔ تمہاری اماں بلا رہی ہے”
“اماں بلا رہی ہے مگر کیوں؟؟ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو ہم گھر سے آئے ہیں۔”
پھر وہ چاروں بہنوں کے آگے چلتا ہوا منہ میں بڑبڑاتا اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔ گھر کا منظر ویسا نہیں تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ گھر پر انکی ماں بیٹھی تھی جسے سانپ سونگھا ہوا تھا اور قریب عورتیں جن میں سے دو انکے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھیں۔
“تم سب بچے دوسرے کمرے میں آؤ اور میری بات سنو”۔
یہ آواز پاس کھڑی ایک لڑکی کی تھی جو انکے بغل والے گھر میں رہتی تھی۔۔
“تمہارے ابا نہیں رہے۔”
(اسکے والد ایک وڈیرے کے ساتھ گن مین کی ڈیوٹی کرتے تھے ، آٹھ ہزار ماہانہ کے عوض)
لڑکی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس سے مخاطب ہوئی۔۔
“تم بھائی ہو اپنی چاروں بہنوں کے، اور ابا کے بعد تم اپنی ماں اور اس گھر کا سہارا ہو۔ تم نے رونا بالکل نہیں ہے۔۔ تم نے اپنی ماں کو کہنا ہے کہ اماں رو مت ، میں ہوں ناں تمہارے پاس۔”
کھنڈر کی چھت سے بارش کے چند قطرے اسکے منہ پر گِرے۔۔ وہ ہمت کرکے جگہ بدلنے کے لئے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ چھت میں موجود بڑے سوراخ سے تھوڑا ہٹ کر دیوار کے ساتھ اس نے اپنی ٹاٹ بچھائی اور دوبارہ لیٹ گیا۔۔ اب اسے آسمان نظر نہیں آرہا تھا۔ اسکی آنکھوں کے سامنے چھت تھی پرانی بوسیدہ عمارت کی اور ان پر لگے مکڑی کے جالے، جہاں ایک بِھیڑ مکڑی کے جالے میں پھنس کر مرچکی تھی۔
والد کی وفات کے چھ سال بعد۔۔۔
“ماں! اب مجھے شہر چلے جانا چاہیے۔۔ اب تمہارا سلائی کا کام کچھ زیادہ نہیں رہا اور اب تم بوڑھی بھی ہوگئی ہو۔۔ دیکھو ماں، میں بھی تو اب بڑا ہوگیا ہوں، اب آخر میرے شہر جاکر کام کرنے میں کیا حرج ہے؟”
“نہیں۔۔ میرا دل نہیں مانتا تمہیں شہر بھیجوں۔ تم ادھر ہی کوئی کام دھندہ کرلو۔۔ بیشک تھوڑا کمالو لیکن یہیں پر رہو۔ تمہیں دور بھیجنے کا سوچ کر میرا دل بیٹھتا ہے”
“ماں۔۔۔ تم خوامخواہ جذباتی ہورہی ہو۔۔ اب کیا یہاں رہ کر میں چار بہنوں کی شادی کا جہیز بنا پاؤں گا ؟؟؟ اور پھر دوسرے اخراجات؟ ماں یہاں گاؤں میں کوئی خاص کام نہیں اور ہمارے پاس پیسے بھی تو نہیں ہیں کہ میں یہاں اپنا کام شروع کرسکوں۔”
“میرا دل نہیں مانتا تم دور جاؤ۔۔۔ تم ادھر ہی رہو۔ میرے پاس۔۔۔ خدا ہماری مدد کرے گا۔ بس میں چاہتی ہوں تم جو بھی کرو میری آنکھوں کے سامنے رہ کر کرو۔”
اس نے پانی کا گلاس زور سے زمین پر دے مارا اور اٹھ کر گھر سے باہر چلا گیا۔ اسکی چھوٹی بہن خاموشی سے اٹھی ، زمین پر پوچہ مارا اور گلاس اٹھا کر کچن میں رکھ دیا ۔ اور واپس اپنی جگہ پر جاکر کاغذوں کی مدد سے پھولوں کا گلدستہ بنانے میں دوبارہ مگن ہو گئی۔
شام کے بعد۔۔۔
“جگنو بیٹا۔۔۔ تمہارا بیگ تیار ہے۔ دیکھ لو اگر کوئی چیز اور چاہیے  تو بتادو۔۔۔ اور کچھ پیسے بیگ کے اندر موجود چھوٹے خانے میں رکھ دیے ہیں۔۔۔ تیاری مکمل ہے تمہاری۔۔”
“ہاں۔۔۔ صبح سات بجے لاری روانہ ہوتی ہے شہر کیلئے۔۔ اسی پر جاؤں گا۔”
“خدا تمہارے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ فیکڑی میں دل لگا کر محنت کرنا۔۔ اور ضروری بات اچھے دوستوں کی سنگت اختیار کرنا۔ شہر کی دنیا تیز ہوتی ہے۔ ہم گاؤں کے لوگ جو یہاں مٹی سے مٹی ہوئے رہتے ہیں ہمیں انکی رفتار سے چلنا مشکل لگتا ہے۔ وقت لگتا ہے سمجھنے میں کہ پہلو میں کھڑا انسان واللہ عالم فرشتہ ہوگا یا ابلیس۔”

آج شہر آنے کے چار سال بعد وہ کھنڈر میں ٹاٹ پر پڑا تھا۔ خالی جیب اور بدن نشے سے ٹوٹ رہا تھا۔ نشے کی لت اسے گھر سے آنے کے چند ماہ بعد لگی تھی۔ بارش کا پانی بہتا ہوا اسکی ٹاٹ کے قریب آچکا تھا۔ اسے آج ہی گاؤں سے کام کیلئے فیکڑی آئے ایک بندے نے بتایا۔۔
” تمہاری بڑی بہن نے پچھلے دنوں چند پیسوں کے عوض جسم بیچا اور یہ بات سارے گاؤں میں پھیل گئی ہے۔ تمہاری ماں کی تدفین کردی تھی۔ اللہ اسکی بخشش فرمائے۔ تدفین وغیرہ کا خرچہ مولوی صاحب کی بیگم نے دے دیا تھا۔”

tripako tours pakistan

103 بخار۔۔۔ کھنڈر میں ٹاٹ پر پڑا اسکا تپتا وجود۔۔۔ اسکے سینے میں شدید درد کا احساس۔ اس نے تھوڑی کوشش سے خود کو دیوار کے ساتھ ٹیک دی اور بیٹھ گیا۔۔۔ خون کی اُلٹی سے اسکے کپڑے خون آلود ہوگئے۔۔۔!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *