تاجروں کی حمایت میں۔۔محمد اظہار الحق

تاجر برادری نے ایک بار پھر قوم کے دل جیت لیے ہیں۔
اللہ اللہ۔ افراتفری اور نفسا نفسی کے اس دور میں ‘ مادہ پرستی کے اس چیختے ‘ چنگھاڑتے‘ بھنبھوڑتے زمانے میں‘ ایسے بے غرض افراد ‘ ایسے دھُن کے پکے لوگ! ایسا پُر عزم طبقہ !
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی!
اقبال نے کہا تھا۔ یقیں محکم ‘ عمل پیہم ! قائد اعظم کی تلقین تھی اتحاد اور ایمان ! پوری قوم میں سے کوئی تو ہے جو اقبال اور قائد کے ان زریں اصولوں پر عمل کر رہا ہے! خدا خوش رکھے تاجر برادری کو ! سب غافل ہیں اور یہ خوش بخت سب کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں !
اپنے ٹارگٹ کو یہ برادری کبھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی! ٹارگٹ کیا ہے ؟ پیسہ کمانا! زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا ! اس ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لیے یہ یکسو ہیں۔ یقین ان کا محکم ہے! عمل ان کا پیہم ہے ! اس کے لیے وہ متحد ہیں ! اسی پر ان کا فیتھ ہے! سبحان اللہ! سبحان اللہ ! یونیٹی ! فیتھ اینڈ ڈسپلن ! اتحاد‘ ایمان اور تنظیم ! اللہ اکبر ! جیسے ہی حکومت نے کہا کہ چھ بجے کاروبار بند کرنا ہو گا ‘ تاجر سیسہ پلائی دیوار بن گئے! اُٹھ کھڑے ہوئے ! احتجاج کیا!حکومت کا یہ حکم ان کے ٹارگٹ کے راستے میں رکاوٹ بنے گا! پیسہ کمانے کے نصب العین میں مزاحم ہو گا ! ناقابلِ برداشت! سر بکف ہو کر نکلیں گے! ہر دیوار کو گرا دیں گے ! پیسہ ! پیسہ اور پیسہ ! یقیں محکم ! عمل پیہم ! منافع ! منافع!اور منافع ! اتحاد ! ایمان ! تنظیم !
صراطِ مستقیم سے ہٹانے کی بہت کوششیں گزشتہ حکومتوں نے بھی کیں ! موجودہ حکومت بھی شوق پورا کر لے ! کیا کہا حکومت نے ؟ کہ ترقی یافتہ ملکوں میں بازار پانچ بجے بند ہو جاتے ہیں اور صبح نو بجے کھل جاتے ہیں ! توبہ کیجیے ! توبہ ! ہمیں کفار کے ملکوں کا تتبع کرنے کا کہا جا رہا ہے ! استغفار! استغفار! ہم تاجر تو دیگیں تقسیم کرتے ہیں‘ حج اور عمرے کرتے ہیں! با جماعت نمازیں ادا کرتے ہیں ! ہم اور کفار کی پیروی ؟ ناممکن ! نا ممکن! ہم دکانیں چھ بجے نہیں بند کریں گے ! کورونا یا نو کورونا ! کورونا تو اب آیا ہے سال ڈیڑھ سال ہوا ! یہ حکومتیں اس سے بھی پہلے سے ہمارے پیچھے لگی ہیں۔ کہتی ہیں بازار سرِشام بند کیجئے اور صبح جلد کھو لئے! اس سے توانائی کی بچت ہو گی ! بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ! توانائی کی بچت ہو گی تو ملک کا فائدہ ہو گا نا ! ارے بھائی! ہم تاجروں کا فائدہ تو نہیں ہو گا! خود سوچو! پیسہ کمانے کا ‘ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کا ٹارگٹ متاثر ہوا تو یقیں محکم ‘ عمل پیہم کا اصول تو ٹوٹ گیا نا!
میں تاجر برادری کے اس عزمِ صمیم کی داد دیتا ہوں! میں امریکہ سے لے کر نیوزی لینڈ تک ‘ ناروے سے لے کر اٹلی تک‘ کوریا سے لے کر سنگا پور تک‘ ہانگ کانگ سے لے کر ملا ئیشیا تک بازار گھوما ہوں۔ ہر جگہ تاجروں سے بات کی ہے۔ تمام دکانداروں سے بحث کی ہے۔انہیں قائل کرنے کی کوشش بھی کی کہ میرے ملک کے تاجروں کا اصول اپناؤ۔ دن کے بارہ ایک بجے دکانیں‘ سٹور کھولو۔ رات کو بارہ بجے تک بازار کھلے رکھو۔ واہ! کیا منظر ہوتا ہے رات کو! ایک ایک دکان میں دس دس ٹیوب لائٹیں‘ پانچ پانچ فانوس‘ بازار بقعۂ نور! جگمگ جگمگ روشنیاں! نور میں نہائے سٹور ! آ کر پاکستان کے بازار دیکھو تو سہی! رات کو ہمارے تاجر دن بنا دیتے ہیں! مگر افسوس! ان تاجروں پر کوئی اثر نہ ہوا! جواب میں ایک ہی رٹ لگا ئے رکھی کہ حکومت کے جاری کردہ قوانین پر عمل کریں گے! کہ ملک کا لاء سپریم ہے ! کہ اپنا ملک ہے !کہ اپنی حکومت ہے ! کہ تعاون کریں گے۔ سر شام بازار بند کریں گے‘ صبح جلد کھولیں گے۔ حد یہ ہوئی کہ ان تاجروں نے میرے ملک کے تاجروں کی شان میں نازیبا کلمات کہہ ڈالے ! کسی نے خود غرض کہا! کسی نے لالچی ! کوئی بولا تمہارے ملک کی تاجر برادری کو حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے کیونکہ اسی میں سب کا فائدہ ہے! میں یہ فضول باتیں سنتا رہا۔ مگر متاثر نہ ہوا کیونکہ میرے ملک کے تاجر ‘ زیادہ عقل مند‘ زیادہ مخلص اور زیادہ دیانت دار ہیں !
میرا یہ بھی پختہ یقین ہے کہ ان ملکوں کے بیوقوف تاجروں کو میرے ملک میں آکر ‘ یہاں کی تاجر برادری سے کاروبار کے سنہری اصول سیکھنے چاہئیں ! ٹارگٹ پیسہ کمانا ہے تو پھر رَج کر کمائیں۔ کم از کم چھ ضابطے ایسے ہیں جو میرے ملک کی تاجر برادری ‘ ان ممالک کے تاجروں کو سکھا سکتی ہے۔ ان ضابطوں کو آپ ٹیکنیکس بھی کہہ سکتے ہیں۔ مگر جو کچھ بھی کہیں‘ کوئی سا نام دے دیں‘ اصول کہیں یا ضوابط‘ ہیں یہ سب سنہری ! پہلا اصول یہ ہے کہ صرف دکان کے ایریا پر قناعت نہیں کرنی! فٹ پاتھ اور سامنے والی ساری جگہ اپنے استعمال میں لانی ہے۔اگر دکان کے سامنے سرکاری زمین وافر ہے تو ریڑھی والوں سے کرایہ لے کر وہاں دو تین ریڑھیوں کو کاروبار میں لگا دیں۔ بلکہ ہو سکے تو سامنے جو پکی سڑک ہے ‘ اس کا بھی کچھ حصہ قابو کر لیں! کچھ لوگ یاوہ گوئی کریں کے کہ یہ تجاوزات ناجائز ہیں‘ ان کی باتوں پر کان دھرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ آوازِ سگاں کم نہ کند رزق گدا را! دوسرا اصول یہ ہے کہ ٹیکس دینے سے بچئے۔ اس محکمے سے کوئی اہلکار آئے تو اسے کرپٹ کرنے کی پوری کوشش کی جائے۔ ٹیکس دینے کے بجائے مخصوص حلقوں کو چندے دیجئے کیونکہ یہ حلقے جو چندے وصول کرتے ہیں آپ کے قدرتی ہم نوا ہیں ! یہ ہمیشہ آپ ہی کے موقف کی حمایت کریں گے خواہ یہ حمایت خاموش ہی کیوں نہ ہو ! تیسرا زریں اصول ہے کہ گاہک کو الجھائے رکھیں‘ سچ نہ بولیں۔شے میں نقص ہے تو ہر گز نہ بتائیے! گاہک کی مطلوبہ شے آپ کے پاس نہیں تو اسے نہ بتائیے بلکہ کوئی اور شے ‘اپنی پسند کی‘ دکھائیے اور اصرار کیجیے کہ یہ زیادہ بہتر ہے۔ گاہک کو کنفیوز کیجئے۔ یہاں تک کہ وہ آپ کی باتیں ماننے پر مجبور ہو جائے۔ چہارم یہ کہ ریفنڈپالیسی نہ رکھئے۔ بڑے سے بورڈ پر یہ عبارت کہ ” خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا‘‘لکھ کر لگا دیجئے تا کہ کوئی احمق آپ کو شے واپس کر کے ریفنڈ نہ مانگتا پھرے ! پانچواں سنہری اصول یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کا ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے مذہب کو ضرور استعمال میں لائیے۔ بے شک دکان کا نام کسی مقدس ہستی کے نام پر رکھیں مگر کاروباری معاملات میں وہی کرتے رہئیجس حرکت سے منع کیا گیا ہے۔ یاد رکھئے مذہب کے نام پر پاکستانی صارف کا استحصال دنیا کا سہل ترین کام ہے۔ اس دُکھتی رگ سے ضرور فائدہ اٹھائیے۔ چھٹا اور آخری اصول ہے اپنی برادری کی ہر جائز ناجائز بات پر حمایت کرنا۔ کسی تاجر نے کوئی جرم کیا ہے اور قانون اسے اپنے دائر ے میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو اپنے مجرم بھائی کا پورا پورا ساتھ دیجئے۔ ہڑتال کیجئے۔ جلوس نکالئے! اور ہاں! یاد رکھئے علم آپ کا سب سے بڑا دشمن ہے اس لیے کتابوں کا بزنس کبھی نہ کیجئے۔ جو تھوڑے سے تاجر کتابوں کے اس ملک میں رہ گئے ہیں انہیں اپنی برادری سے خارج کرکے کوشش کیجئے کہ ان کی جگہ ٹائروں‘ یا ہارڈ ویئر‘ یا چکن کڑاہی والے تاجر آجائیں !

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply