تلاشِ گمشدہ۔۔عنبر عابر

وقت بدل گیا تھا اور فنِ اداکاری اپنے عروج پر تھا۔ڈرامہ و فلم انڈسٹری سے منسلک کالجز دھڑا دھڑ اداکار پیدا کر رہے تھے اور روز بروز نئی فلموں، نئے ڈراموں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا ۔تفریح کے مواقع بڑھ گئے تھے اور فنونِ لطیفہ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔
لطیف احساسات کی اس چکا چوند کے پیچھے تیرگیاں اس خاموشی سے پنپ رہی تھیں کہ آنے والی سیاہ راتیں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں۔
میں بھی ایک اداکار تھا اور سالہا سال سے اس شعبے میں اپنے فن کے جوہر دکھا رہا تھا۔میرا اکثر وقت اداکاروں کے بیچ گزرتا یا اداکاری کے نت نئے رموز سے واقفیت حاصل کرنے میں۔کبھی کسی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہوں تو کبھی کسی ٹی وی شو میں مصنوعی قہقہے بکھیر رہا ہوں، کبھی طالبعلموں کو فن اداکاری کی باریکیوں سے روشناس کر وارہا ہوں تو کبھی اشتہار میں کسی پراڈکٹ کو مفید باور کروانے کیلئے چہرے پر تسلی و اطمینان کے تاثرات سجا رہا ہوں۔میرے ایام اسی ملمع سازی میں گزر رہے تھے کہ ایک دن مجھ پر ایک خوفناک انکشاف ہوا اور میرا دل دہل گیا۔

یہ احساس میرے لئے روح فرسا تھا کہ میں اصل اور نقل کی تمیز کھونے لگا تھا۔سچے رویے جھوٹے لگنے لگے تھے اور چہرے پر سجے جھوٹے تاثرات سچے دکھائی دینے لگے تھے۔اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ مجھے اپنے رویے اور اپنی شخصیت پر جو اعتماد تھا وہ بھی ڈانواں ڈول ہونے لگا تھا۔کب میں ہوں اور کب میں نہیں ہوں، میں یہ فرق کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔
پھر ایک دن میں اپنے کام سے لوٹ کر گھر آیا تو میری چھوٹی بیٹی فلم کا وہ منظر دیکھ رہی تھی جس میں مَیں ایک باپ کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی فرضی بیٹی سے آئی لو یو کہتا ہوں۔
اپنی بیٹی اور فلم کا یہ منظر دیکھتے ہوئے میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑنے لگی، جس کے بارے میں مجھے شک ہو رہا تھا کہ اصلی نہیں ہے۔
میں اپنی بیٹی کے قریب گیا اور اسے اپنی بانہوں میں لے کر بولا۔
“آئی لو یو”
بیٹی چونک کر میری طرف دیکھنے لگی۔وہ چند لحظے مجھے گھورتی رہی پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی۔”ڈیڈی آپ جھوٹ بول رہے ہیں”
مجھے ایک دھچکا سا لگا۔۔
اگلے دن شہر کی دیواروں پر میری تصویر لگے پوسٹرز چسپاں تھے جن پر میں نے اپنے ہاتھوں سے لکھا تھا۔
“تلاش گمشدہ”

tripako tours pakistan

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *