کائنات، اک بحرِ بیکراں(3،آخری قسط)۔۔محمد نصیر

اینڈرومیڈا کہکشاں 964ء میں مسلمان فلکیات دان عبدالرحمٰن الصوفی نے دریافت کی تھی۔ اِس کہکشاں کی نشان دہی الصوفی نے اپنی کتاب صورالکواکب میں ایک خلائی بادل کے طور پر کی۔ بعد ازاں 1613ء میں سائمن میسیئر نے اسے ٹیلی سکوپ سے دیکھا اور مزید تشریح کی۔ اس وجہ سے اس کہکشاں کو میسیئر 31 بھی کہتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ اینڈرومیڈا اور ہماری جادہء شِیر ایک دوسرے کی ثقلی کشش کی زد میں ہیں۔ اور یہ آکاش گنگا کے دامِ کشش میں گرفتار دو لاکھ پچاس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اس کے قریب ہوتی جارہی ہے۔ اور بہت جلد یہ باہم ٹکرا کر شِیروشَکر ہونے والی ہیں۔ گبھرانے کی ضرورت نہیں میں نے یہاں خلا کی زبان میں “بہت جلد” کہا ہے۔ ورنہ یہ عرصہ چار سے پانچ ارب سال بنتا ہے۔

وہاں سے آگے نکلتے ہوئے اب ہم اب ایسی دنیا میں ہیں جہاں آسمان میں ستارے نہیں بلکہ ان کی جسامت کی دکھائی دیتی چھوٹی چھوٹی ننھی مُنی کہکشائیں ہیں۔ یہ کہکشائیں مختلف شکلوں اور مختلف رنگوں کی ہیں۔ سرخ، نیلی، پیلی، مالٹائی، جامنی، کچھ زیادہ کچھ کم روشن۔ پانچ ملین نوری سال گزرنے کے بعد آکاش گنگا اپنی 53 ساتھی کہکشاؤں کے جھرمٹ میں دکھائی دیتی ہے۔ اسے لوکل کلسٹر کہتے ہیں۔

tripako tours pakistan

پانچ کروڑ نوری سال گزرنے کے بعد ہمیں کلسٹرز کا بہت بڑا گروپ دکھائی دیتا ہے جس کے اندر سو سے زائد کلسٹرز موجود ہیں۔ یہ وِرگو سوپر کلسٹر ہے۔ کچھ دور جانے کے بعد یہ سپر کلسٹر بھی ایک اکائی بن جاتا ہے اور اپنے جیسے سپر کلسٹروں میں گھرا پایا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی تو اس سے اربوں کھربوں گنا بڑے ہیں۔

سات کروڑ نوری سال کی دوری پر پہنچ کر میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے اپنی خلائی گاڑی میں لگی خصوصی دوربین کا رخ اپنی زمین کی طرف کیا تو وہاں رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر تھا۔

یہاں سے چونکہ زمین کا فاصلہ سات کروڑ نوری سال ہے اور ہم زمین کی سات کروڑ سال پرانی تصویر دیکھ رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں آج کی برقی روشنیاں، عمارتیں، گردوغبار نہیں بلکہ ہر طرف سر سبز خوبصورت جنگل، وسیع سمندر اور ان میں دوڑتے، پھرتے، اُڑتے، تیرتے ڈائنو سارز دکھائی دے رہے ہیں۔ جی ہاں۔ ڈائنوسارز جنہیں آپ ہالی ووڈ کی فلموں میں دیکھتے ہیں۔ ہم یہاں سے لائیو دیکھ رہے ہیں۔

پھر یہاں سے بھی آگے بڑھتے ہوئے ہم ایک ارب نوری سال کے فاصلے سے گزرتے ہیں۔ پھر دو ارب۔ پھر تین ارب۔

ساڑھے پینتالیس ارب نوری سال بعد جو منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔ انتہائی حیرت انگیز اور ناقابل بیان ہے۔ اب تک ہم جہاں سے گزرے، جتنا کچھ دیکھ کر آئے وہ سب کچھ اب ایک نقطے کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اور یہ نقطہ اربوں کھربوں نقطوں کے درمیان اپنی پہچان بھی محض ایک ہی صورت میں کروا رہا ہے کہ ہمارا تعلق وہاں سے ہے۔ ورنہ اس کی اس لامتناہی کائنات میں کوئی بھی حیثیت نہیں۔ یہ اوبزروایبل کائنات ہے جس کو ہم انسان اب تک جان سکے ہیں۔ سائنسدان اوبزروایبل کائنات کا سائز تقریباً ترانوے ارب نوری سال بتاتے ہیں۔ ایک اکیلے نوری سال میں 58.8 کھرب میل ہوتے ہیں۔ اب یہ حساب آپ خود لگائیں کہ 93 ارب نوری سال میں کتنے میل بنیں گے۔ واضح رہے کہ یہ قابل مشاہدہ کائنات اصل کائنات کے بے کنار سمندر میں ایک قطرے سے بھی کم جسامت کی ہے۔

میری آنکھیں ابھی اور بھی بہت کچھ دیکھ رہی ہیں۔ لیکن اس کے آگے بیان کرنے کی سائنس اجازت نہیں دیتی۔ کائنات کے بیکراں سمندر کی بے انت گہرائیوں میں ہمارا سفر جاری ہے۔

Avatar