خوشگوار ازدواجی زندگی۔۔محمد ذیشان بٹ

سنتے ہیں خوشی بھی زمانے میں کوئی چیز
ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں کدھر ہے کہاں ہے
جیسے فیصل مسجد کے بغیر اسلام آباد کا زکر ادھورا ہے اسی طرح میری ہر تحریر اشفاق صاحب کے زکر کے بغیرادھوری ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ عورت کو نہ امیر مرد پسند ہوتا ہے نہ غریب،اس کی پسند کا تعلق معا ش اور وسائل سے ہے ہی نہیں ۔ عورت کے اندر اپنا ایک جہان ہے ۔ اس کو صرف وہ مرد پسند ہے جو اس کی دل سے عزت کرے اور اس کی بات کو سنے اور اس کو اہمیت دے ۔ پھر وہ بڑی سے بڑی مشکلات کو بھی برداشت کرجاتی ہے ۔

ایک سوال یہ بھی کہ کیا خوشگوار ازدواجی زندگی ممکن ہے؟

tripako tours pakistan

ایک لطیفہ عرض کروں کہ ایک مولوی صاحب جنت کا نظارہ بیان کر رہے تھے ان کے سامع جٹ,پینڈو، دیہاتی تھے جو انتہائی دلچسپی سے سن رہے تھے۔ اچانک مولوی صاحب عرض کرتے ہیں تمھیں پتہ ہے کہ ستر حوروں کی ملکہ کون ہو گی ؟ جب سامعین نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو خود ہی گویا ہوئے کہ تمھاری بیوی ان حوروں کی ملکہ ہوگی ۔ وہاں سارا مجمع سرا پاء  احتجاج بن گیا۔ ایک بزرگ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ بھی کیا جنت ہوئی جہاں بیوی بھی ہوگی۔ دوسرا کہتا ہے مولوی صاحب اگلی دفعہ  صحیح  سے پڑھ کے آنا۔

دوسرا سوال یہ کہ ازدواجی زندگی میں اختلاف کیوں ہوتے ہیں ،پہلے   مردوں کی بات کرتے ہیں  ۔
1۔ عام طور پر مرد انصاف نہیں کرتے والدین کی بےجا طرف داری کرتے ہیں اس سے ماحول خراب ہوتا ہے ۔اس میں توازن ہونا چاہیے۔
2۔ مرد زمہ داری قبول نہیں کرتے، جیسے معاش کی ذمہ داری،اشیاء ضرورت کی دستیابی ، بچوں کی تربیت۔ کچھ کا خیال ہے کہ پیسے کما دیے ہیں باقی سب عورت کرے اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔
3۔ مردوں کی سب سے بڑی غلطی جس سے ازدواجی زندگی میں مسائل بڑھتے ہیں کہ عورت کی معمولی سی غلطی کو بھی سر عام بیان کریں گے خاص طور پر خاتون خانہ  کے گھر والوں کے سامنے جبکہ کبھی غلطی سے تعریف کرنی ہی ہو تو ایسی جگہ کا انتخاب کریں گے کہ جہاں فرشتوں کے بھی نہ ہونے کا گمان ہو بہترین تعلقات کے لیے اس کا الٹ ہونا چاہیے۔ تنقید برائے اصلاح ہو۔ اور درگزر والا معاملہ ہونا چاہیے

عورت
زیادہ تر شادی شدہ عورتیں جو نہ خوش ہوتی ہیں
1۔ ان میں بے صبری کا عنصر پایا جاتاہے اوربلا کی ضدی ہوتی ہیں۔
2۔ بات کرنے کا موقع محل نہیں دیکھتی، شوہر کے آتے ہی شکایات کا انبار لگا دیتی ہیں۔
3۔ دوسروں کے ساتھ اپنی زندگی کا موازنہ کرتی ہیں۔ اور حاصل نعمتوں کی بھی نا شکری ہی کرتی پائی جاتی ہیں
4۔ شوہر کی کوشش کو نہیں سراہتی ،

بہتر ازدواجی زندگی کی تجاویز
دنیا کی سب سے کامیاب شخصیت  خاتم النبیین حضرت محمدﷺ نے کامیاب ازدواجی زندگی کے لیےعملی نمونے دیے۔ اگر ہم ان کو اپنا لیں تو ایک کامیاب اور پُر سکون کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔
1۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مرد کے ایمان کو کامل قرار دیا ہے ۔جو گھر والوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے
2۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیویوں کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کرو
3۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو یہ نصیحت کی  ہے کہ گھر کے کاموں میں ان کی مدد کیا کریں
شیطان کو سب سے زیادہ پسند ہے میاں بیوی میں جھگڑا کروانا ۔ یہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگ جو ان میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں ان سے دور رہیں

خواتین کی ذمہ داریاں

خوش رہنے کے لے حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض بھی ہیں
اسلام کہتا ہے کہ اگر عورت فرماں بردار ہو، مال، اولاد اور عزت کی حفاظت کرنے والی ہو اور سب سے بڑھ کر خواتین مرد کی بالادستی کو تسلیم کریں۔ وہ دوسروں کی نسبت زیادہ خوش ہوں گی۔

آخر میں ایک بات امریکی تحقیقاتی ادارے کی تحقیق کی بھی اپنی بہنوں کی نذر کردوں ۔ میاں بیوی کے خراب تعلقات کا نقصان زیادہ خواتین کو ہوتا ہے۔ وہ مختلف سنگین بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ چاہیں تو اس تحقیق کو گوگل کر کے دیکھ لیں۔زندگی بہت خوبصورت ہے،اور میاں بیوی کے انمول رشتے کو جھگڑوں کی نذر کرنے کی بجائے اُسے جی کر زندگی کو مزید خوبصورت بنائیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *