عجلت پسند(قسط8)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

ساتویں  قسط کا آخری حصّہ

tripako tours pakistan

کراچی ایر پورٹ پر ہی اسے ٹی پو کا میسج آیا کہ لاہور وہ ایر پورٹ پر اس کے سواگت کے لیے خود موجود ہوں گے۔باہر آتے وقت البتہ بہت احتیاط کرنی ہوگی۔سب سے زیادہ انٹیلی جینس اور خفیہ ادارے ایرپورٹ پر سرگرم ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ لے تو وہ یہ اہتمام کرے کہ بیگ میں سے نکال کر عبایا پہن لے۔یہ اشارہ ہوگا کہ اس نے انہیں سپاٹ کرلیا ہے۔باہر آئے گی۔ سفید شلوار قمیص اور جامنی واسکٹ والا ڈرائیور جیپ کے سامنے کھڑا ہوا ہوگا۔یہ وہی سیاہ رنگ کی جیپ ہے جواس کے گھرانے کو پہلی دفعہ لاہور لے کر گھومی تھی۔۔ احتیاط صرف اتنی ہے کہ وہ پہلے جاکر جیپ مین بیٹھ جائے گی۔وہ کچھ دور چل کر ڈرایؤر کو اپنی چھوٹی جیپ دے دیں گے اور خود اس جیپ میں باقی ماندہ سفر ساتھ ساتھ طے کریں گے۔

durupadi
nilgri mountains
toda and toda girl

قسط نمبر آٹھ
اس کے پاس اپنی لاہور اُڑان میں پورے چھ گھنٹے تھے۔ظہیر کے جانے کے بعد جب اس نے ٹیپو کو میسج کیا کہ وہ شادی ہال سے تو آگئے ہیں لیکن وہ ابھی دولہا پارٹی کے ساتھ گھر پر ہی ہے۔۔دلہن والوں کی مرضی ہے کہ انہوں نے جو ہوٹل میں ایک برائیڈل سوئیٹ بک کرایا ہے دولہا دلہن وہاں جاکر آرام کرلیں۔مالدار لوگ ہیں بڑا ناشتہ کراکے جوڑے کو دوپہر کی فلائیٹ سے سیدھا ملتان بھیجنا چاہتے ہیں۔
شرارتی ٹیپو نے پوچھا کہ میری دلہن اچھی لگ رہی ہے کہ کراچی والی؟

اس نے کہا آپ کو تو کراچی والیوں سے نفرت ہے مجھے ان سے تو نہ ملائیں۔اس نے بتایا کہ۔۔وہ کوئی دو بجے تک ائیرپورٹ پہنچے گی۔یہ وہاڑی کے لیے نکلنا چاہتے ہیں۔ممکن ہے فیصلہ یہ ہو کہ دولہا دلہن کل اپنے ولیمے پر اُڑان بھر کر  پہنچیں  ۔ ٹیپو کا میسج آیا نو پرابلم۔ لاہور وہ ائیر پورٹ پر خود موجود ہوں گے۔ ظہیر کے جانے کے بعد وہ تادیر لاؤنج میں بیٹھی اپنی فلائٹ کے انتظار میں اپنی آئندہ زندگی سے جڑی رشتوں کی دو چھبتی نوکیلی تکو نوں پر غور کرتی رہی۔

rubab jesasy log

بی نو کو لگا کہ ایک تکون ظہیر نے ٹوانہ جی سے مل کر بنائی ہے۔ اس تکون میں اسے ازدواجی بندھن کی رسی نے زبردستی اس کی  مرضی کے بر خلاف باندھ دیا ہے۔ سوچنے پر لگا کہ وہ منڈی میں فروخت کے لیے لائی گئی ایک پالی ہوئی گائے ہے جسے پہلے مالک منڈی میں لایا اوراب اسے مقامی خریدار قربانی کے لیے جیسے تیسے   سوزوکی پر  لاد کر اپنی منزل پر   لیے جارہا ہے۔ ایک ایسی گائے جسے نئے گھر اور نئے سلوک کی کوئی خبر نہیں۔ وہ اتنے بڑے فیصلے میں کسی بھی جگہ قابل مشورہ نہیں مانی گئی۔اس کے پلاننگ کے مجرم اس کے ابو اور ظہیر ہیں۔ظہیر کا کینیڈا جانا۔چوری چکاری بلکہ سرکاری مال کی ڈکیتی میں شامل ہونا،شادی پر شادی کرکے ایک فراڈ کے ذریعے حصولِ  شہریت کی خاطر ٹوانہ صاحب کیConjugal Partnerبنا کر اسے ان کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود اتنے خطرناک مشن پر بیرون ملک آنا ًفاناً روانہ ہوجانا۔ سب ہی گھناؤنے افعال تھے۔

اسے بہت شدت سے احساس ہوا کہ ظہیر کا یوں اسے ٹوانہ صاحب کے حوالے کرکے چلے جانے کا مطلب ہے اس تکون میں اس کی حیثیت محض ایک رکھیل کی ہے۔یہ کوئی Same-Sex Marriage ہے جس میں ظہیر ٹوانہ صاحب کی بیوی ہے۔اب یہ شادی کینیڈا ہجرت کی وجہ سے اپنا اسٹیٹس بدل کر Open Relationship میں بدل رہی ہے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے میاں کو اصرار ہو کہ اس کا نکاح اب بھی قائم ہے۔ یہ ایک Polyandry ہے۔مہابھارت میں سیتا کی طرح تقدیس کی علامت دوروپدی کے بھی پانچ پانڈوے شوہر تھے۔تامل ناڈو کے علاقے نیل گری ہلز میں جو ٹوڈا قبائل رہتے ہیں ان کی خواتین کے بھی ایک سے زائد شوہر ہوتے ہیں۔

بی نو کو ایک عجب احساس ِ کراہت و بے چارگی نے گھیر لیا کہ ظہیر اور اس کے ابو کی مرضی سے جو کچھ ہوا ہے وہ اس سیدھی سادی کزن میرج میں شامل نہ تھا۔ اس سے مشورے ہوتے تو وہ اسے سمجھاتی کہ میاں کینیڈا وغیرہ میں کچھ نہیں رکھا۔ہمارے تو بچے بھی نہیں کہ ہمیں فیوچر کی کوئی فکر ہو۔ابو امی نے بھی تو چین سکون سے زندگی گزار کا ریٹائرمنٹ لیا ہے۔ ظہیر اپنی ذمہ داریاں نبھا کر اپنے رینک کے حساب سے نوکری کرتا تو بھی وہ ٹھیک سے جی سکتے تھے۔

بی نو اگر موقع پرست اور خواہشات کی ماری لڑکی ہوتی تو اس کی دوست ضویا ڈاہا کے سب سے چھوٹے ماموں روحیل ڈاہا اس پر دل و جان سے عاشق تھے۔وہ اب صوبائی کابینہ میں وزیر تھے۔کئی دفعہ ضویا کے ذریعے اس کی رائے معلوم کی۔وہ ہمیشہ انکاری ہوئی۔ضویا نے کئی دفعہ کہا کہ ماموں کو لگتا ہے وہ انہیں سنی سنائی میڈیا کی باتوں کی روشنی میں براا ٓدمی سمجھتی ہے۔ان کی مرضی تھی کہ وہ بی نو کے والدین سے اپنے والدین کے ذریعے بات بڑھاتے۔۔لحاظ والے تھے۔ کبھی بی نو یا اس کے والدین پر شادی کے لیے دباؤ نہیں ڈالا بی نو نے ایک دفعہ ان کے اصرار پر ضویا کی موجودگی میں انہیں واضح دو ٹوک انداز میں منع کر دیا تو وہ بھی راستہ بدل گئے اور ان کی شادی لاہور کے کسی بڑے تاجر خاندان میں ہوگئی۔بی نو  نے ان کی بیگم رباب کو دیکھا تھا۔ وہ اس سے کسی طور کم نہ تھی۔بی نو کا اپنے بارے میں یہ سوچنا تھا Deep -downوہ ایک سادہ مزاج کی خوبصورت مگر مضبوط کردار کی لڑکی تھی جس نے طے کررکھا تھا کہ وہ اپنے والدین کو دکھ نہیں دے گی۔اس لیے اس نے ابو امی کے ہر فیصلے کو سر جھکا کر قبول کیا۔

اس نے شکر ادا کیا کہ آزمائش اور انتشار کی اس عظیم گھڑی میں اس کی زندگی میں ایک محفوظ اور قابل قبول طریقے سے ٹیپو آگئے۔اس نے بہتے ہوئے طوفانی دریا کا رخ ایک ایسے میدان کی طرف موڑ دیا جہاں آبادی کو نقصان پہنچنے کا کم سے کم خطرہ تھا۔

ٹوانہ صاحب اور ظہیر کی مدد سے یکایک تمام مروجہ بندھن توڑ کراس کی زندگی میں داخل ہونے والے اس ازدواجی تیز طوفانی ریلے کے راستے میں یہ ایک اخلاقی شگاف ہی وہ اصل وجہ تھی کہ بچت ہوگئی۔ کردار اور شرط وفا داری کا جو ایک بحران اسے خود کو ٹیپو کے حوالے کرنے سے پیدا ہوسکتا تھا وہ نہیں ہوا۔اس نے ٹیپو کے ساتھ شمالی علاقہ جات کے ساتھ چند ایام بتانے کا، زندگی سے خوشیوں کے چند دن چرانے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ اسے پہلی مثلث والی ڈکیتی سے مقابلتاً کم بگاڑ اور تخریب کاری کی واردات لگا۔اس نے سوچا ٹیپو سے اس کی وابستگی محض ایک فرد کی برائی ہے جب کہ ٹوانہ ظہیر گٹھ جوڑ اور کینیڈا روانگی میں وفا داری ، سرکاری ملازمت کے رہنما اصولوں ،ازدواجی تقدیس کے تمام ضابطے جھوٹ اور دغابازی کی  نذر ہوگئے تھے۔

اپنی اس بے وفائی کا جب اس نے بارات  کی بس میں ظہیر پر نگاہ ڈالتے ہوئے اور ایمبولنس میں اس کے کہنے کے مطابق ٹوانہ صاحب کے احکامات ماننے   اور اپنے ابو کی اس تمام منصوبے میں شراکت اور منظوری کا  سوچا تو اسے ایک قابل تسلی و تسکین مضبوط جواز ہاتھ  آگیا۔

ایسے میں اسے پروین شاکر کا وہ قطعہ یاد آگیا جو اس نے کالج میں اپنی کسی پروفیسر سے سنا تھا۔یہ استاد پروین شاکر کی جامعہ کراچی میں ہم جماعت تھیں۔پروین شاکر نے یہ قطعہ جامعہ کے مشاعرے میں پڑھا تھاکہ ع
دکھ اٹھائے ہیں بہت، ہم جو حصاروں میں رہے
زخم تنہائی کوئی آکے ہمارے بھرتا
جل چکے شعلہء تنہائی میں برسوں کب سے
مشعل ِ برگ حنا اب کوئی روشن کرتا

یوں تو الفت آغاز کا کوئی لمحہ نہیں ہوتا۔ ازدواجی بے اطمینانی اور حسن کی بے قدری کے شدید احساس کے کمپوسٹ(مٹی اور پتوں چھلکوں سے تیار شدہ آرگینک کھاد) میں بس کسی جان لیوا عاشق کی توجہ کا بیج لطف و آرائش کے مون سون میں پڑجائے تو گل ہائے صد رنگ بمع خارزار بے اندیشہ اُگ آتے ہیں۔

compost

تقدیر کے ان فیصلوں سے اس نے بغاوت کی اس لمحے ٹھانی جب بی نو نے پہلی دفعہ ضویا ڈاہا کی مہندی والی رات ٹیپو کے اچانک گھر آنے پر انہیں دیکھا۔وہ ایسا ہی مرد تھا جو اس کے خوابوں میں بستا تھا۔سماجی پابندیوں کی بات اور تھی۔ظہیر چھوڑ باقی تین کزن سلیمان،شیراز اور جمیل تو ظہیر سے بھی ہر طور پیچھے تھے۔روحیل ڈاہا کے ہاں مال و منال کی کثرت تھی ،سچ یہ ہے کہ وہ ٹیپو کے اسٹائل اور طاقت میں پاسنگ بھی نہ تھے۔

eject
arab and camel
careem cake

جب جہاز میں بورڈنگ کا اعلان ہوا، عین اس وقت اس نے سوچا کہ اب تعلقات کی یہ نئی تکون اس نے اپنی مرضی سے ٹیپو کے ساتھ بنائی ہے۔اسے پیار کی ریشمی ڈوری سے خود باندھا ہے۔ فکر کاہے کی۔کینیڈا کو پلان۔بی مانا جائے۔وہ اس دوران کوشش کرے گی کہ ٹیپو کو مجبور کرکے جلدی سے نکاح پڑھ لے۔ رخصتی بھلے سے ان کے پروموشن کے بعد ہو۔اس دوران وہ ہلکے ہلکے دوسری شادی کی یہ مٹکی اپنی بیگم کے سر پر پھوڑ دیں تاکہ Damage Control
کے لیے مناسب وقت مل جائے۔وہ ان کو اپنے جال میں ٹریپ کرنے کے لیے کوشش کرے گی کہ اس ہفتہء ہنی مون میں ماں بن جائے۔بچہ بلیک میلنگ کا بہت بڑا ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔وہ ذمہ دار ہیں۔بات کے پھیلاؤ اور متعلقہ ذمہ دار حساس حلقوں میں شکایت سے ڈریں گے۔ان کے ادارے  میں جونئیر افسران میں مس کنڈکٹ اوربے راہ روی کی شکایت پر بہت سخت ایکشن ہوتا ہے۔

نشست پر براجمان ہوتے ہی اس نے سوچا بچہ پیدا کرنا اس کا ارمان ہے۔وہ ہر قیمت  پر ماں بننا چاہتی ہے۔ وہ ٹیپو کو پوجتی ہے۔جو کچھ ہورہا ہے یا ہونے جارہا ہے اس میں اس کی رضا اور شعوری فیصلہ شامل ہے۔وہ اس راستے پر عمل درآمد کے لیے صرف زبانی چارہ جوئی سے کام لے گی۔ممکن ہے مان جائیں۔
ٹیپو اس معاملے میں اگر لیت و لعل سے کام لیں گے تو وہ خاموشی سے ٹوانہ صاحب کی Conjugal Partner بن کر انہی کے ساتھ کینیڈا کا راستہ لے گی۔ ظہیر کو بچے کی ولدیت جاننے کی ضد ہوگی تو ولدیت کا ذمہ لینے کے لیے ٹوانہ صاحب موجود ہیں۔شادی میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ ٹیپو، ظہیر اور وہ اس تکون میں بی نو کی نگاہ ہروقت Eject Button پر رہتی تھی۔فائٹر جیٹ کو بچانا نا ممکن ہو تو پائلٹ کو اس فیصلے  کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ جہاز کو برباد ہونے دے اور خود کو محفوظ طریقے سے جہاز سے باہر گرالے۔وہ اور ٹیپو دونوں ہی شادی شدہ اور اپنے اپنے گھروں میں سوائے جنسی آسودگی کے دیگر معاملات میں خوش تھے۔ اس لیے الٹے قدم جانا آسان تھا۔۔

خروج کے اس واضح عسکری منصوبے کی وجہ سے اسے اس عشق عاشقی میں بڑی چس آرہی تھی۔

ٹوانہ صاحب، وہ اور ظہیر والی تکون کا معاملہ اس کے برعکس ذرا ٹیڑھا تھا۔بی نو کو ایک بہت بڑے سوال نے تنگ کررکھا تھا۔ وہ یہ کہ کینیڈا کی شہریت کے لیے اگر یہ سب قربانی دینا لازم ہے تو وہاں اس مقامی قوانین کے تناظر میں ظہیر کا اس کی زندگی میں کیا مقام ہوگا؟۔

bungee jump
zayn malik and gigi hadid
ronaldo
view finder

بی نو کو فکر یہ تھی کہ کہیں یہ نہ ہو کہ مال مفت جان کر ٹوانہ صاحب اس پر اپنا ازدواجی تسلط پکا پکا جمالیں اورظہیر کی حالت اس بدو کی ہو جس نے ریت کے طوفان میں اونٹ کو گردن خیمے کے اندر رکھنے کی اجازت دی تھی اور جب طوفان نے شدت پکڑی تو اونٹ خیمے کے اندر اور بدو باہر بیٹھا تھا۔ ٹوانہ صاحب اسے کچھ خاص پسند نہ تھے۔سستی بیکری کے پرانے گلابی کریم کیک جیسے۔پکے پولیس والے۔شادی کے بعد میاں بیوی ظہیر اور بی نو کو انہوں نے لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں کھانے پر بلایا تھا۔ بی نو نے انہیں وہیں دیکھا تھا۔ظہیر نے کہا شادی پر بھی آئے تھے۔میرے لیے تو پتا سمان(باپ جیسے ) ہیں۔ٹوانہ صاحب پکے پولیس والے لگتے تھے۔۔خرانٹ،اپنی مونچھوں کی محبت میں مبتلا۔ہر دم ان کو مروڑ کر اپنی مردانگی کے احساس کو تقویت دیتے ہوئے۔ایسالگتا ان کی والدہ نے دوران حمل یا تو روح افزا بہت گھٹکایا ہے یا اسٹرابیری کے باغ اپنیPerverted Appetite(مختلف اشیا کھانے کی وہ شدید طلب جو حمل کے دنوں میں اکثر خواتین کو لاحق ہوتی ہے) بغیر ڈکار لیے ہڑپ کرلیے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ٹوانہ صاحب کی رنگت سفید سے گلابی زیادہ نظر آتی تھی۔رویے میں بہت مہذب تھے۔اسے بھابھی کہہ کر خود اس کی پلیٹ میں کئی دفعہ کھانا ڈالا۔بی نو کو کانٹے چھری سے کھانے کی عادت نہ تھی۔انہوں نے تاڑ کر کہاہاتھ  سے کھائیں۔آپ کون سی بکنگھم پیلس کی دعوت میں آئی ہیں۔انہوں نے اس کی جھینپ مٹانے کے لیے بتایا کہ ایک بہت سجل وزیر اعظم کی نک چڑھی بیگم نے جب فرنچ صدر کی دعوت میں ہاتھ  سے سلاد میں سے کھیرا نکال کر دیگر سرکاری   مہمانوں سے پہلے سرکاری بینکویٹ میں کھانا شروع کیا تو ان کےBad Manners کا بہت چرچا ہوا تھا۔یہاں ملتان میں مَیں اور ظہیر تو دفتر میں تین چمچے چینی ڈال کر جب چائے کی سڑکی مارکر پیتے ہیں تو آئی جی صاحب کے لاہور کے دفتر میں زلزلے کے جھٹکے لگتے ہیں ۔بی نو کو لگا وہ اگر اچھے انسان نہیں تو خاص برے آدمی بھی  نہیں۔بہت Easy Going سے ہیں۔

جہاز میں یہ باتیں یاد آتی رہیں۔ وہ اپنے فون سے کھیلتی رہی، پتہ ہی نہ چلا کون مرد خاموشی سے اس کے ساتھ والی نشست پر براجمان ہوگیا ہے۔ ۔ یہ سب مگر کیوں؟

بی نو کی بے وفائی کا سبب جاننا ہو تو وہ نکات یاد رکھیں کہ ظہیر سے جسمانی تعلقات کی ناآسودگی نے انیس برس کی بی-نو میں محرومی کا ایک ہلاکت آمیز زہر گھولنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے اسی زہر میں تریاق ڈھونڈ لیا۔ اس Antidote یعنی تریاق نے شادی کے چوتھے برس بھی پہلی رات سے پیے گئے زہر کے اثرات کو تیزی سے ریورس کرنا شروع کردیا۔ا اپنے دماغ اور دل کی مضبوط رسی گوندھ کر اس نے ذائقے بھرے تجربات اور آؤٹ آف بکس زندگی جینے کیBungee Jumping
شروع کردی۔ دل اور دماغ کی مشترکہ ڈیوٹی لگادی کہ وہ اس کے مفادات کی نگرانی کرے۔اب خیر سے اسے وہ تمام ذائقے دستیاب ہوں گے جو ظہیر کی رفاقت میں نہیں مل پائے۔ اس نے طے کرلیا کہ وہ دن آگئے ہیں کہ طبیعات کی اصطلاح میں اس برق رفتار شعوری مسافت کیQuantum Leapکے جھونٹے لے۔لاؤنج میں وہ مسکراکر گھومتے ہوئے کشمیری گجریوں کا گیت ع

منے دی موج وچ ہنسنا کھیڈنا
(من کی موج تو ہنسنا کھیلنا ہے)
دل کی رکھنا کمے کنے
(دل کو اپنے کام میں مگن رکھنا ہے
مہنا پر کسے نو مندا نہیں بولنا
(ہم نے کسی کی عیب جوئی بھی نہیں کرنی)
اب چاند کی چاندنی دیواروں پر پھیل گئی ہے)
بھی گنگنایا تھا

ash,kajol,rani

جہاز میں اس کی نشست بھی اچھی تھی۔خاصا لیگ روم تھا۔ایمرجینسی ایگزٹ کے بالکل ساتھ کھڑکی والی۔ ساتھ آن کر بیٹھنے والا کوئی ٹی وی ایکٹر تھا۔اپنا نام ضوریز خان بتایا۔ جس پر بی نو  نے چھیڑا کہ دنیا میں ہر ہینڈسم، سیلیبرٹی، بے وفا ،وگ پہننے والے ادھیڑ عمر مرد کے نام کے آخر میں خان کیوں آتا ہے۔جس پر وہ کچھ دیر سناٹے میں رہا۔کہنے لگا نہیں بعض کے ساتھ زین ملک اور کریسٹیانو رونالڈو بھی آتا ہے۔ اس پر بی نو نے آنکھیں گول گھماکر کہا میں نے مردوں کی بات کی ہے دیوتاؤں کی نہیں۔یہ ادا دیکھ کر ضوریز خان کچھ ایسے فدا ہوئے کہ جھٹ سے اپنا کارڈ نکال کر تھمایا۔اسے دانہ بھی ڈالا کہ اُ س کا اپنا پروڈکشن ہاؤس ہے۔ایک ڈرامے کے اسکرپٹ کے لیے وہ لاہور کے کسی مشہور مصنف سے معاملات طے کرنے جارہا ہے۔جب اس نے بی نو کی طرف بہت پسندیدہ نگاہوں سے پلک جھپکے بغیر انگلیوں سے ویو فائنڈر بنایا تو اسے بہت الجھن ہوئی۔ٹی پو جی کی بات اور تھی مگر یہ مردوا تو اس کی زندگی کا پہلا اجنبی تھا جو زیادہ ہی اوکھا ہورہا تھا۔ قبل اس کے کہ بی نو اسے جھڑکتی اس نے کہا وہ کیمرے کی آنکھ سے اسکرین کے لیے اس کے چہرے کی قبولیت کا جائزہ لے رہا تھا۔
دیکھ رہا تھا کہ وہ کتنی Photo-genic ہے

اس نے بلا تامل اس کا غصہ فرو کرنے کے لیے پیشکش داغ دی کہ بی نو چاہے تو اسے ہیئروئن کاسٹ کیا جاسکتا ہے۔اس نئے اسکرپٹ میں  ہیروئن کا کردار بہت جاندار ہے ٹوٹل Women Empowermentکا۔اشفاق احمد کی کہانی ہے گوما۔ان۔ ہالینڈ مگر اس کا اسکرین پلے وہ ایک ایسے کہانی کار سے لکھوارہا ہے جو اسکرین پر آگ لگانا جانتا ہے۔بی نو جس نے یہ کہانی ان کی کتاب’زاویہ‘میں پڑھ رکھی تھی جب اس کے بارے میں ایک دو سوال کیے تو اداکار صاحب کچھ نابلد لگے مگر اس نے سوچا کہ بس اتنا ٹریلر کافی ہے۔

بی-نو نے یہ جاننے کہ لیے کہ اسے دوسرے مرد کیسے دیکھتے سوچتے اور محسوس کرتے ہیں چھیڑ خانی کے طور پر کہہ دیا کہ وہ اپنے آپ کو معمولی شکل صورت کی لڑکی مانتی ہے خود کو قطعی طور پر ہیروئن مٹیریل نہیں سمجھتی جس پر اس نے کہا یہ ایشوریا رائے اور کاجول، رانی مکرجی بھی عام زندگی میں بہت عام شکل و صورت کی ہیں۔وہ تو ان کی نسبت قدرتی حسن سے مالا مال، گل تازہ کی مانند، ایک پیکر معصومیت ہے۔ اس کا، چہرہ تو ہر آن سو رنگ بدلتا ہے۔کیمرہ یہ ہی سب کچھ تو کھوج رہا ہوتا ہے۔یہ ہی ایکٹنگ کاOomph Factor
ہے۔وہ بس حوصلہ کرے۔اس نے بی نو کو یقین دلایا کہ اس میں صرف اس بات کی کمی ہے کہ وہ اپنے حسن اور صلاحیتوں سے آگاہ نہیں۔یہ سب بی نو کو بہت بھلا لگا۔

اسے لگا ٹیپو بھی تو کہا کرتے تھے نا کہ تم کبھی خود کو میری آنکھوں سے چھپ کردیکھو۔ جب بی-نو نے کہا ” آر۔ یو۔ریلی۔سیریس ” تو حضرت کہنے لگے یہ سب باتیں اسٹوڈیو میں ہورہی ہوتیں تو وہ اس کے ابھی کئی اسکرین شاٹ لے  کر اسے قائل کردیتا۔اس نے پاکستان کی چار پانچ مشہور ٹی وی سیریل والیوں کے نام لیے کہ ان میں سے ایک کو بھی اگر آپ ناشتے کے وقت دیکھ لیں تو سارا سال توبہ کرکے نفلی روزے رکھیں۔اللہ ماری بغیر استری کا کفن لگتی ہیں۔ان میں سے کوئی وہ نہیں  جو اسکرین یا میڈیا میں دکھائی دیتی ہے۔ان پر منوں میک اپ لدا ہوتا ہے۔ لباس سے لے کر اٹھنا بیٹھنا سب ایک ٹیم ورک اور ہدایت کے تحت ہوتا ہے۔ان کو ایک فرد واحد کی بجائے
Finished Productماننا دانشمندی ہوگی۔

حضرت رفاقت کے لیے بہت بے تاب تھے۔لاہور میں قیام کا پوچھ رہے تھے۔بی-نو کو بڑی  الجھن ہوئی۔کسی مرد سے یوں سر ِ راہ بے تکلف ہونے کا پہلا موقع تھا۔اس وجہ سے اس نے اپنا نام بھی غلط یعنی نینا عباسی بتایا۔نمبر مانگنے پر کہا۔ ان کا نمبر کارڈ پر موجود ہے۔وہ کال کرلے گی۔شاید کھانے پر مزید گفتگو ہو۔ بھلے سے معروف ومصروف اداکار تھے مگر بی-نو کو پیشکش کی کہ ان کے لیے لنچ، ناشتہ، رات کا کھانا، لیٹ نائٹ ڈرائیو کا کوئی ایشو نہیں۔ مزید دانہ یہ کہہ کر ڈالا کہ اداکاری میں نام ہوگا تو شہرت کی یہ کنجی ماڈلنگ   کے دولت کے دروازے کھول دے گی۔بتانے  لگے  کہ ان کے پچھلے ڈرامے کی ہیروئین نے بسکٹ اور دھلائی پاؤڈر کے اشتہارات سے ہی رواں سیزن میں تین کروڑ روپیہ کمایا۔بی-نو چونکہ دس کروڑ روپے اپنے ہاتھ سے ایک بکس سے دوسرے بکس میں منتقل کرچکی تھی اس لیے اسے تین کروڑ کچھ زیادہ نہ لگے۔اس نے سوچاوہ ٹیپو کو ضرور بتائے گی کہ ایک تم ہی نہیں تنہا، الفت میں میری رسوا۔ اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *