عجلت پسند(قسط7)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

چھٹی قسط کا آخری حصہ

tripako tours pakistan

ابو امی جب ملتان کے لیے رخت سفر باندھنے کمرے میں تھے، ٹی پو کی جانب سے بی نو کو بتادیا گیا کہ وہ فون وغیرہ کے معاملے میں احتیاط کرے۔اب ان کا ملنا اچانک ہوگا۔اسکول کی ملازمت کا جو موجودہ سیٹ اپ ہے، وہ اس ملاقات میں بہت معاون ہوگا۔کبھی وہاڑی تو کبھی ملتان۔اب فوری طور پر اس میں کسی تبدیلی کی کوشش سے معاملات آؤٹ آف کنٹرول ہو جائیں گے۔ ۔ سو اس معاملے میں اسے چل (Chill) رہنا ہوگا ۔۔اسے کا جب ملتان آنے کا ارادہ ہو اس کی ترسیل کے لیے چار گھنٹے کے نوٹس پر مناسب کار بمع ڈرائیور اس کے حوالے ہوگی۔

مصنف کی نئی کتاب جہلم بک کارنر کے ہاں زیرترتیب و طبع

ساتویں قسط

امی ابو اور ٹیپو چلے گئے۔سارا دن وہ ایک عجب سے نشے میں سرشار رہی۔غسل کرتے میں کئی دفعہ خود  کو باتھ روم میں شاور کے سامنے قد آدم آئینے میں برہنہ دیکھ کر یہ سوچ کر وہ گاتی شرمائی  کہ ع
بہار آئی تو جیسے یک بار
لوٹ آئے ہیں  پھر عدم سے
وہ خواب سارے،شباب سارے
نکھر گئے ہیں، گلاب سارے
جو تیری  یادوں سے مشک بُو ہیں
جو تیرے عشّاق کا لہو ہیں

اسے لگا کہ اب اس بدن پر بھی بہار آنے کو ہے۔ٹیپو نے ملتان سے امی سے بات کرانے کے لیے فون کیا تو اس کی امی نے بی نو کی خیریت کم پوچھی اور ٹیپو کی تعریف زیادہ کی۔۔۔فون بند کرنے سے قبل ٹیپو   سے ا س نے انگریزی میں پوچھا ًمس می؟” وہاں سے”آف۔ کورس“ سن کر وہ تو نہال ہی ہوگئی۔آہستہ سے کہا ” کم اگین” وہ کہاں کے رکنے والے تھے

بینو

 

اسٹریپ لیس برا

پوچھ بیٹھے
”Same Time Same place”
اب”آف۔ کورس“ کہنے کی باری بی-نو کی تھی۔

امی ابو رات کو آگئے مگر ٹیپو ساتھ نہ تھے۔ ان کی واپسی البتہ دواؤں ،طمانیت اور شان سے ہوئی۔امی ابو توتعریف کرکے تھکتے نہ تھے۔ کہہ رہے تھے کہ ظہیر بھلے سے داماد سہی مگر پہلی دفعہ ایسا لگا کہ ٹیپو ہمارے بیٹے سہیل جیسا ہے۔ لگتا ہے اب وہ ہی گھر کا مرد اور بڑھاپے کا سہارا بن گیا ہے۔
بی نو نے یہ سن کر انشا اللہ کہا اور زیرِ  لب مسکرادی۔

سیدنا عیسیٰ پینٹنگ
سیدنا عیسیٰ پینٹنگ
میل گبسن

اپنے والدین کے ہمرا ہ ٹیپو کے نہ آنے سے بہت بے لطفی اور مایوسی ہوئی۔گھر کے مرد ایسے ہوتے ہیں کہ”مس۔ می“ پوچھ کر غائب ہوجائیں۔ابو نیند کی گولیاں کھاکر سوتے تھے۔امی کی نیند تو ہمیشہ سے ایسے تھی کہ ان کے بستر میں گھس کر  بلّے، کسی نوجوان بلّی کے پیچھے لڑیں انہیں پتہ نہ چلتا۔یوں بھی وہ اپنے گھٹنوں میں تکلیف کے باعث سیڑھیاں چڑھنے سے قاصر تھیں۔ ظہیر نے بھی کہا تھا کہ وہ اس ہفتے نہیں آئے گا۔ یہاں بڑا سرکاری کام ہے۔ یہ اشارہ تھا کہ سوال جواب کی گنجائش نہیں۔مطلع ہر طرف کھلا خوش گوار اور فضا شب وصال کے لیے ساز گار تھی۔ٹیپو آجاتے تو کچھ جسم  و جاں کے عذاب دُھلتے، کچھ وعدوں کی تجدید ہوتی۔سج دھج کر بیٹھی تھی۔ضویا ڈاہا کی کزن کی  منگنی تھی۔یہ تینوں  سکول کے دنوں کی ساتھی تھیں،بینو نے آری زری کے ایمبرائیڈری والا،ٹیل کلر (ہرے نیلے اور فیروزی کی آمیزش والا رنگ) کی بوٹ نیک کرتی اور شرارہ پہنا تھا۔یہ شرارہ سوٹ اس نے ٹیپو کے اس ٹی شرٹ کے رنگ کی تائید میں بنایا تھا جو انہوں نے اس دن پہنی تھی جب وہ لاہور گئے تھے۔قسم سے کیا جچ رہی تھی۔بی نو نے وہی رنگ کا شرارہ سوٹ منگنی پر پہنا۔۔ اس کی آرائش و زیبائش منگنی والی رات کی تقریب میں سب کو اچھی لگی تھی۔اسے پتہ تھا وہ واپس آئے گی تو امی ابو تقریباً نیند کے عالم میں ہوں گے۔وہ کچھ دیر ان کی نیند کا اطمینان کرکے اوپر مہمان والے کمرے میں چلی جائے گی۔۔فجر تک ٹی پو کے ساتھ ہی رہے گی ۔ بی نو کی کرتی کا ڈھلکتا  بوٹ نیک چند ایک پینڈو عورتوں کو خاصا بولڈ لگا۔
اس کے   عریاں شانے دیکھ کر ان میں چند ایک نے ذرا چہ مگوئیاں بھی کی تھیں۔ان میں سے بعض میں بحث بھی ہوئی کہ بی نو نیچے بَرا نہیں پہنی ۔ایک نے تو اس  سے پوچھ بھی لیا۔جس پر بی نو نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔در حقیقت وہ ایک قیمتی پیچھے زپ والی اسٹریپ لیس برا ٹکا کر اس پر کرتی پہن کر آئی تھی۔یہ سب تبصرے سن کر
ضویا نے بی نو کو بائیبل کی ایک مشہور لائن سنائی جو ان کے درمیان ایسی صورت حال جسے نظر انداز کرنے میں بہتری ہوتی تھی۔ اس کی تلخی کو ٹالنے کی خاطر استعمال کرتی تھیں ۔۔یہ لائن انہوں نے کسی فلم میں سنی تھی۔یہ بائیبل کے  مطابق سیدنا عیسیؑ نے ان لوگوں کی بخشش کے لیے کہی تھی جو انہیں مصلوب کرنے میں مصروف تھے کہ
لائن کچھ یوں تھی
Forgive them for they know not what they do
مگر ضویا نے کہا
Forgive them for they know not what they do n’t see

ٹیپو کو اس نے جی بھر کے پہلی دفعہ جیپ میں سوار ہوتے وقت دیکھا ۔جیپ کچھ اونچی تھی۔ظہیر تو لپک جھپک ندیدوں کی طرح اگلی سیٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ٹیپو نے چڑھتے وقت ہاتھ  بڑھایا تو وہ اسے تھام کر سوار ہوئی۔دونوں نے سوار ہوتے تک ایک دوسرے کو جی بھر کر دیکھا۔ایسا ہی سہارا انہوں نے اس کی امی ابو کو بھی دیا۔سو اسے Good Manners مانا جائے۔۔

اُجالا ہوا، دھوپ نکلی تو اس نے دیکھا کہ ٹیپو کی رنگت بے داغ اور اجلی ہے۔سر کے بال پیچھے کی طرف جیسے سیدنا عیسی کے پرانی تصویروں میں ہوتے ہیں۔ فلم پیشن آف کرائسٹ میں جیسے میل گبسن جیسے کے تھے۔اس نے اسی وقت طے کیا کہ اگر بات بڑھی تو وہ پہلی ملاقات پر ان کے بال کھول کر ان میں تا دیر انگلیاں پھیرے  گی۔ظہیر کے نہ بال ایسے تھے نہ اس کو بالوں میں انگلیاں گھمانے میں ہر وقت مزہ آتا تھا۔ٹیپو کے سینے پر ایک سلور لاکٹ میڈالیئن تھا۔
بات ٹیپو  کے امی ابو کے ساتھ نہ  آنے کی ہورہی تھی۔وہ شدت سے ان کی آمد کی منتظر تھی اسی لیے اس نے گھر واپس آن کر نہ میک اپ اتارا نہ لباس تبدیل کیا۔ٹیپو کے نہ آنے سے بہت بے لطفی اور مایوسی ہوئی۔تبدیلی لباس کے دوران گلہ بھی کیا کہ

ع جس کے لیے تھی سب آرائش ،اس نے تو ہمیں دیکھا بھی نہیں

ابو کی زبانی پتہ چلاکراچی میں میٹنگ تھی انہیں گاڑی پر بٹھا کر ہدایت دے کر وہ ایئرپورٹ نکل گئے۔ہفتہ بھر تک دونوں کی چھوٹی موٹی گفتگو ہوتی تھی۔ بی نو کی جانب سے ناراضگی اور ان کی جانب سے اظہار محبت کی یقین دہانی۔لگتا تھا وہ زیادہ ہی مصروف ہیں۔بی-نو کے دل میں اس شک نے بھی سر اٹھایا کہ ایسے ہینڈسم اور اثر و رسوخ والے مرد کی چاہنے والیاں اور بھی ہوں گی۔ایک تم ہی نہیں رسوا الفت میں میری تنہا ،والا معاملہ  تقریباً ہر  شہر ہی میں رہتا ہوگا۔

کئی دفعہ اس کے دل میں اس شک نے سر اٹھایا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک لذت ،ایک خواب ِ ازدواج کے گلاب گلستاں کی محبت میں اس نے ہجر و رسوائی کے ہزارہا کانٹوں سے یارانہ گانٹھ لیا ہے۔

اس نے کراچی سے آنے والے فون پر ان سے پوچھا بھی مگر ٹیپو نے ایک محبت بھری ڈانٹ پلادی  جس میں ڈونٹ بی سلی اسے بہت اچھا لگا ،انہوں نے جتایا کہ اس جیسی حسین اور دلربا عورت کے ہوتے ہوئے کوئی دوسری نہیں جچتی۔کہتے تھے تم میری آخری محبت ہو۔

پولیس وین
ایمبولینس
کارٹنز

صبر سے کام لے۔حالات کے موافق ہوتے ہی وہ دونوں اپنے گھر گرہستی کا بندوبست کر لیں گے۔ان کی بیگم بھی کراچی میں ہیں۔۔ناخوش ہیں،وہاں دیر اس لیے ہورہی ہے کہ ساس سسر کا شدید دباؤ ہے۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ ٹیپویہ دہشت گردی کے خاتمے والا   فضول کام چھوڑ کے ان کے ابو کی کراچی میں چِب بورڈ کی فیکٹری سنبھالیں۔چھوٹا بہنوئی بہت نقصان کررہا ہے۔ بیگم کی بس دو بہنیں ہیں۔سسر بوڑھے ہورہے ہیں صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔بھائی بھی کوئی نہیں۔

بی-نو کو اپنے دل میں ٹیپو کی جانب سے بے وفائی کا خیال آتے ہی بہت ندامت ہوئی۔ اس نے اپنے اندر کی عورت کو یہ کہہ کر سمجھا دیا کہ اس تعلق کو جو اس نے یقین کے اجالے میں بویا ہے اسے شک کے اندھیرے زنداں میں نہ دھکیلے۔

اس کے دل میں جب جب ٹیپو کی جانب سے شک کے سائے گہرے ہونے لگتے تو وہ سوچتی۔۔ اسے اُلجھن محسوس کرنے کی ضرورت نہییں۔سر ِدست اخفائے راز کا مکمل اہتمام تو موجود ہے۔زیادہ سے زیادہ اس تعلق میں کیا ہوگا یا تو وہ یہ فیصلہ کرلے گا کہ تاجر کی بیٹی مزید اس کی بیوی بن کے رہنے کے لائق نہیں اور بینو ہی اس کی نئی نسل کی مادر مہرباں ہے یا یہ کہ بی نو کو پتہ لگ جائے گا کہ حضرت نے عشق پُر فریب کا یہ جال Good Sex کے لیے رچایا تھا۔اس میں بھی کوئی خاص نقصان نہیں۔اس صورت میں ظہیر کو ان تعلقات کا علم ہوا تو وہ کہہ دے گی کہ وہ بھی تو لاہور میں عورتوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا تھا ۔ اس کے پاس توتصویری ثبوت ہیں۔ ٹیپو سے تعلقات کے انکشاف پربہت دھماچوکڑی نہیں ہوگی۔اس کا احتجاج اگر خواب گاہ تک محدود رہا تو وہ کہے گی کہ ٹیپو نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ جب کبھی ایسے تاریک ڈراؤنے بادل اس کے محبت کے روشن آسمان پر منڈلانے لگتے تو وہ یہ سوچ کر  اپنی تسکین و تسلیء ذات کے لیے حمایت علی شاعر کا وہ شعر پڑھ لیتی کہ ع
پھر میری آس بڑھا کر مجھے مایوس نہ کر
حاصل ِ غم کو میرے دل غمِ حاصل نہ بنا

بی-نو کی ظہیر سے پہلی ملاقات کو ہفتہ ہونے کو  آیا تھا۔ٹیپو کا ادھر وہاڑی آنا ہی نہ ہورہا تھا۔ عجب سی بے لطفی تھی۔نئے ذائقوں کی آشنائی تجدید ملاقات مانگتی تھی۔رات کو فون پر بات لازم ہوتی تھی۔۔۔ پہلے وہی کافی والا میسج۔یہ اس لیے کہ ان کے فون کا نمبر کبھی ایک نہ ہوتا تھا، پھر فون۔

بی نو کی ضد ہوتی کہ ٹیپو اس کا نام لے۔ کئی دفعہ، پیار سے دلار سے۔ظہیر اس کا نام نہیں لیتا۔نام کی جگہ”سنیے“ یا ”سر جی“کہتا تھا۔ یہ انداز بی نو کو بہت غیر رومانی لگتا تھا۔جیسے وہ ٹوانہ صاحب کو مخاطب کررہا ہو۔بات بھی اردو میں کرتا تھا۔ اس کے برعکس جب ٹیپو اپنے سینے کی گہرائیوں سے اٹھنے والی سانس کو سرگوشیوں میں بدل کر اس کا نام لیتے تو اسے لگتا کہ لندن شکاگو یا سڈنی میں کوئی کنسرٹ ہے جس میں جگجیت سنگھ نے اس کے نام کی غزل چھیڑ دی ہو۔

ایک دن اچانک ایک واقعہ ہوا۔۔گھر کے باہر ایک پولیس موبائیل آن کر رُکی۔۔ اس کا تو سانس ہی اس وقت رک گیا جب اس موبائیل کے پیچھے ایک ایمبولنس بھی سیدھی گھر کے اندر آگئی۔ اس ایمبولنس میں سے جب ظہیر بسلامت اور مسکراتا ہوا اترا تو بی نو کو قرار آیا۔ ایمبولنس کی پچھلی نشست پر کارٹنز رکھے تھے۔اسے حیرت ہوئی کہ آخر چکر کیا ہے۔دس کے قریب کارٹنز تھے۔ مضبوطی سے پیک۔ ان کے اوپر پیک دودھ اور گھی کے ڈبے بھی رکھے تھے۔جیسے دو تین مہینے کا راشن ہو۔

موبائیل ظہیر کو چھوڑ کر چلی گئی۔اس نے کہا وہ فون پر بتادے گا کہ کل کس وقت نکلنا ہے۔ ایمبولنس کا ڈرائیور بھی ان کے ساتھ ہی نکل لیا۔ان کے جانے کے بعد جب اطمینان ہوگیا کہ چار سو اندھیرا ہوگیا ہے۔ میاں بیوی نے دونوں دالان کی بتیاں گل کر کے یہ کارٹنز اتارے جن پر پنجاب پولیس کے تحفہ برائے سندھ پولیس کے اسٹکرز لگے تھے۔تین کارٹنز جن پر کونے میں بہت چھوٹا سا، ٹی۔زیڈ (ٹوانہ ظہیر)لکھا تھا ،وہ یہ اندر لے آئے باقی کارٹنز میں پتہ چلا پولیس کی پرانی وردیاں ٹوٹے پھوٹے ہیلمٹ اور آنسو گیس کی ناکارہ بندوقیں اور جوتے ہیں۔جنہیں ہفتہ بھر پہلے نیلام کردیا گیا تھا۔

ظہیر تب تک بتا چکا تھا کہ ان تین کارٹنز میں یہ ہی کوئی دس کروڑ پچاس لاکھ روپے کیش کی صورت میں موجود ہیں، جنہیں کراچی سے حوالہ ہنڈی کرنا ہے۔وہ اور حوالے والا ہارون ایک ساتھ ہی وینکور کینیڈا پرواز کر جائیں گے۔ یہ بکسے کل وہ لے کر کراچی نکل جائے گا۔ ایمبولنس اور پولیس موبائیل کا انتظام ڈی آئی جی محمود ٹوانہ صاحب نے اسی لیے کیا ہے۔
بی-نو کو اس ترسیل میں خطرے کی بُو آئی مگر اس کو اطمینان دلانے کے لیے جب ظہیر نے پانچ لاکھ کی ایک گڈی گلے لگا کر دی تو وہ کچھ دیر کوچُپ ہوگئی۔اس نے اپنے ابو سے اس معاملے میں رائے مانگی تو وہ بھی اس انتظام سے متفق نہ تھے۔ بتانے  لگے کہ سندھ میں ڈاکو بہت ہیں۔ راستے میں لوٹ مار ہوئی تو جان بھی جائے گی بدنامی بھی ہوگی۔مخبری بھی ہوسکتی ہے۔

سب اسی سوچ بچار میں تھے کہ یہ رقم کس طرح کراچی پہنچائی جائے تو ایسے میں بی-نو کو یاد آیا کہ اس کی اسکول کی ایک استانی کے بھائی کی بارات کل شام کو کراچی کے لیے روانہ ہورہی ہے۔ انصاریوں کی بارات ہے۔وہ پیچھے پڑی تھی کہ بی-نو بھی ساتھ چلے۔بس پھر کیا تھا یکایک اس کے دماغ میں ایک اسکیم بن گئی اس نے ظہیر کو قائل کیا کہ وہ دونوں بارات بس میں،رقم دو سوٹ کیس میں منتقل کرکے بارات کے سامان میں چھپا کر ساتھ لے جائیں گے اور باقی موبائیل اور ایمبولنس رفیق راہ۔

ٹوانہ صاحب کی جانب سے چونکہ اس موضوع پر فون پر بات کرنے کی ممانعت تھی لہذ ا ظہیر اس پروگرام میں تبدیلی پرانہیں اعتماد میں لینے کے لیے ایمبولنس لے کر اسی وقت لاہور چلاگیا اور صبح تک واپس بھی آگیا۔اس دوران ظہیر کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر بی-نو نے اسے بغیر بتائے بیس لاکھ روپے مزیدچھپالیے۔ٹرانسپورٹیشن چارجیز کے طور پر ۔۔

اگلی صبح جب وہ روانہ ہوئے تھے تو دولہاکے سامان میں وہ دو اٹیچی کیس بھی شامل تھے جن میں دس کروڑ پچیس لاکھ روپے نقد نوٹوں کی صورت میں موجود تھے۔ظہیر اور بی-نو خود باراتیوں والی بس میں۔ کچھ ایکسٹرا مہمان ایمبولنس اور موبائیل میں۔خاصا ہلا گلا رہا۔موبائیل اور ایمبولنس دیکھ کر راستے میں بھی بہت آسانی رہی۔بارات پارٹی کی ٹور بن گئی۔ کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ ان کو روکتا۔بارات والوں نے پولیس پارٹی کا خیال بھی بہت رکھا۔

کراچی پہنچ کر ایک بار پھر ظہیر ایمبولنس میں سوار ہارون بھائی فارن کرنسی ڈیلر کے گھر چلے گئے۔بی-نو سے یہ پروگرام طے ہوا کہ وہ رات کو اسے لینے ایمبولنس میں شادی ہال پر آجائیں گے۔دلہن کی رخصتی کے عین لمحات میں ظہیر آگئے اور وہ ان کے ساتھ ایر پورٹ کو روانہ ہوگئی۔

ظہیر کا دماغ چونکہ سر دست صرف اور صرف کینیڈا اور حوالہ رقم پر مرکوز تھا لہذا اسے علم نہ ہوا کہ اس کی  ازدواجی  زندگی میں کیا ٹیپو جی دہشت گردی کا کونسا سلیپر سیل کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس نے بی-نو کی تنہا واپسی کے مضمرات پر شاید اسی لیے زیادہ غور بھی نہیں کیا۔چھ گھنٹے بعد بی-نوکی بھی فلائیٹ تھی۔دم ِ رخصت روئی بھی بہت۔وعدہ لیا کہ کسی گوری سے شادی نہیں کرے گا۔ اسے بھی اپنے پاس جلد بلائے گا۔ائیر پورٹ جاتے ہوئے راستے میں ظہیر نے ایک عجب دھماکہ کیا۔
بی نو کو سمجھایا گیا کہ اس کے کینیڈا آنے کے لیے جو بھی ہدایت ہوں وہ ٹوانہ صاحب کے ذریعے موصول ہوں گی۔ممکن ہے نیشنلٹی کے لیے اسے ایک جھوٹا نکاح نامہ اپنی ٹوانہ صاحب سے شادی کا بنوانا پڑے۔اس موقع پر ثبوت کے لیے اس کی بطور دلہن،ٹوانہ صاحب، گواہ، اس کے ابو وکیل، تصاویر بھی بنانی پڑیں گی سو گھبرانا نہیں ہے۔ان کا کہا ماننا ہے ۔اس کے ابو کو یہ بات ظہیر نے سمجھادی ہے۔

وہ اس خیال سے بہت جُزبز ہوئی۔ ایمبولنس میں ہنگامے کا موقع  نہ تھا۔دبے لفظوں احتجاج پر ظہیر نے سمجھایا کہ میرے ساتھ فیملی ویزے میں دشواری بھی ہوسکتی ہے،بہت ٹائم بھی لگ سکتا ہے۔یہ کوئی ملتان سے وہاڑی بارات لے جانے کا معاملہ تھوڑی ہے۔ ٹوانہ صاحب نے اچھے دنوں میں کینیڈا کی شہریت لے لی تھی۔ کاغذات میں  اب وہ ان کی Conjugal partner کے طور پر کینیڈا آئے گی۔ اس وجہ سے تاخیر نہیں ہوگی۔لوگ تو بیویوں کو بہن اور بہنوں کو بیوی بنا کر یورپ لے جاتے ہیں۔جب بطور شوہر اسے اعتراض نہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ کاغذ پر کیا لکھا ہے۔ کینیڈا میں ٹوانہ صاحب کو کس کھانچے میں فٹ کرنا ہے یہ وہاں مل جل کر دیکھ لیں گے۔تمہارے پاس ہر مسئلے کا ہم سب سے بہتر حل ہوتا ہے ۔ظہیر نے انہی  کا پسندیدہ محاورہ استعمال کیا کہ
We’ll cross the bridge when we come to it
(ہم پل کا استعمال اس وقت کریں گے جب ہم اس تک جاپہنچیں۔) یہ مستقبل قریب کے اندیشوں کو پرے رکھنے کا موثر منترہ تھا۔

ظہیر پر بی نو بہت کو غصہ آیا کہ وہ یہ سب کچھ پہلے بتاتا تو اور بھی متبادل راستے سوچے جاسکتے تھے۔ اتنی بڑی رقم زمینی راستے سے دولہا کے سامان میں شامل کرکے بحفاظت کراچی پہنچانے کا گرینڈ آئیڈیا بھی تو اسی کا تھا۔ رقم کی ترسیل کا یہ فول پروف انتظام سن کے ٹوانہ صاحب بھی اچھل پڑے تھے۔ کہنے کو بھلے ڈی آئی جی ہوں مگرTactical Intelligence میں بی نو کو لگا وہ اس کے پاسنگ بھی نہیں۔

اصولاً تو بی-نو کو بارات کے ساتھ واپس آنا چاہیے تھا مگر چونکہ ظہیر کی فلائیٹ براستہ دوبئی اعلی الصبح تھی لہذا وہ اسے خدا حافظ کہنے ایئر پورٹ یہ کہہ کر آئی کہ وہ یہاں سے ہی سیدھی ہوائی جہاز سے لاہور چلی جائے گی، وہاں لاہور سے ابو کے ساتھ وہاڑی لوٹ جائے گی۔اس نے حساب لگالیا تھا کہ لندن میں ظہیر کا ٹرانزٹ بھی طویل دورانیے کاتھا۔ٹوانہ صاحب کا یہ کہنا تھا کہ ظہیر جب تک رقم وصول نہ کرلے کہیں سے فون نہیں کرنا۔ وینکور سے بھی نہ ان سے،نہ ہی ا پنے گھر والوں سے کسی سے کوئی رابطہ   کرنا۔ا ن کا ایک ڈاکٹر کزن خود ہی اس سے رابطہ کرے گا۔اس سے بھی زیادہ تفصیلات شیئر نہیں کرنی۔ہارون ایک ہفتے تک ہوٹل اور دیگر معاملات میں جس میں گھر ڈھونڈنا شامل ہے اس کی بھرپور مدد کرے گا۔

وہ اسے چند ایک کاروباری تفصیلات، بینک وغیرہ کے کام سے بھی آگاہ کرے گا۔رقم براستہ لندن ہوتی ہوئی آئے گی۔کالے دھن میں اور خود کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے Layering یعنی تہہ جمانے کی بہت اہمیت ہے۔ہارون والے تو ایسے ہیں کہ اسٹیٹ بینک کو صومالیہ منتقل  کردیں تو انہیں خبر نہ ہو۔ ہم دونوں کا بزنس بڑے ٹرکوں کے ذریعے پورٹ سے مال لانے اور لے جانے کا ہوگا۔ہم برابر کے پارٹنر ہوں گے۔۔وہ کوشش کریں گے کہ دو ماہ کے اندر خود بھی پہنچ جائیں۔جب ہر چیز سیف ہوگی تب ہی نارمل کمیونیکشن ممکن ہوگی  ۔وہ اس دوران اس کی فیملی کا مکمل خیال رکھیں گے۔

کراچی ائیر پورٹ

بی نونے اپنا پروگرام بارات روانگی کے وقت ہی ٹیپو کو بتادیا تھا۔ان دونوں کا منصوبہ تھا کہ وہ ڈونگا گلی کے ہل اسٹیشن پرایک ہفتہ گزاریں گے  جس کے لیے پہلے اسلام آباد جانا ہوگا۔وہ اسے لاہور سے پک کریں گے۔ بی نو نے حساب لگایا کہ یہ ایک ہفتہ ٹیپو کے ساتھ گزارنے کے لیے بالکل سیف ہے۔ وہ اپنی امی کو اسلام آباد سے فون کردے گی کہ   ظہیر ابھی کراچی میں ہی روپوش ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہی ہے۔جب وہ لاہور پہنچے گی توٹوانہ جی سے گاڑی منگوا کر خود ہی وہاڑی بھی پہنچ جائے گی۔ٹیپو کو اس کے بارے میں یا ظہیر کے بارے میں کوئی بات نہیں بتانی۔ابو کو خاص تاکید کردیں۔ممکن ہے ٹیپو وہاڑی میں ہوں تو گھر بھی آئیں۔گیزر ٹھیک کروالیں۔ کمرہ میں نے خود ہی آنے سے پہلے جھاڑ پونچھ دیا تھا۔

جب تک میں واپس وہاڑی نہ پہنچ جاؤں تب تک صبر اور ہمت سے کام لینا ہے۔

کراچی ائیر پورٹ لاؤنج

دشمن ہر کوئی سجن کوئی کوئی۔ بی نو کو اپنی اس پلاننگ پر بہت لطف اور مزا آیا۔ اس نے سوچا کہ محبت کو تعبیر ِ وصال مل جائے تو ،بے خوفی اور نو میسر آزادی،لطف کی کیسی رنگ برنگ آبشاریں بہانے لگتی ہے۔۔

کراچی ائیر پورٹ لاؤنج

کراچی ائیر پورٹ پر ہی اسے ٹیپو کا میسج آیا کہ لاہور وہ ائیر پورٹ پر خود موجود ہوں گے۔باہر آتے وقت البتہ بہت احتیاط کرنی ہوگی۔سب  سے زیادہ انٹیلی جینس اور خفیہ ادارے ائیرپورٹ پر سرگرم ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ لے تو وہ اہتمام کرے کہ  بیگ میں سے نکال کر عبایا پہن لے۔یہ اشارہ ہوگا کہ اس نے انہیں سپاٹ کرلیا ہے۔باہر آئے گی۔ سفید شلوار قمیص اور جامنی واسکٹ والا ڈرائیور جیپ کے سامنے کھڑا ہوا ہوگا۔یہ وہی سیاہ رنگ کی جیپ ہے جواس کے گھرانے کو پہلی دفعہ لاہور لے کر گھومی تھی۔۔ احتیاط صرف اتنی ہے کہ وہ پہلے جاکر جیپ میں  بیٹھ جائے گی۔وہ کچھ دور چل کر ڈرائیور کو اپنی چھوٹی جیپ دے دیں گے اور خود اس جیپ میں باقی ماندہ سفر ساتھ ساتھ طے کریں گے۔

 

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *