یہ بھی وہی ہیں۔۔محمد اظہارالحق

لکھ لکھ کر قلم گھِس چُکے۔ رِم کے رِم کاغذ کے سیاہ ہو چکے۔ روشنائی اتنی خرچ ہو چکی کہ چہروں پر ملی جاتی تو جتنی تعداد کالے دلوں کی ہے، اتنے ہی سیاہ رُو میسر آ جاتے! ٹائپ کر کر کے انگلیوں کی پوریں دُکھنے لگیں۔ غالب نے کہا تھا: ع
انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا
زمانہ اتنا بدل چکا کہ اب انگلیاں لکھنے ہی سے نہیں، ٹائپ کرنے سے بھی فگار ہوتی ہیں۔ آئی پیڈ کی سکرین پر نظریں جماتے جماتے، آنکھیں تھک گئیں‘ کاندھے درد کرنے لگ گئے‘ مگر افسوس! اس ساری کاوش، اس تمام جدوجہد کا نتیجہ صفر ہے۔ منڈیوں کی رونق میں کوئی کمی نہیں واقع ہوئی۔ بولیاں لگ رہی ہیں۔ آوازیں دی جا رہی ہیں: تیس کروڑ… تیس کروڑ… تیس کروڑ۔ ایک آواز آتی ہے: چالیس کروڑ۔ نیلامی والا اب کہتا ہے: چالیس کروڑ… چالیس کروڑ… چالیس کروڑ! ایک اور ہاتھ فضا میں بلند ہوتا ہے: پچاس کروڑ۔ یہاں تک کہ معاملہ ستر کروڑ تک جاتا ہے۔ نیلامی والا ہتھوڑا مارتا ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ ستر کروڑ پر سودا طے ہو گیا!
یہ نیلامی میں بکنے والے، مکان نہیں‘ پینٹگز نہیں‘ فرنیچر نہیں‘ انسان ہیں۔ انسان بھی عام انسان نہیں، معززین ہیں۔ معززین بھی وہ جو ارب پتی اور کھرب پتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پینٹگز اور فرنیچر پر قیمت کا ٹیگ (چٹ) لگا ہوتا ہے‘ اور یہ ٹیگ ان فروختنی معززین پر نہیں لگایا جاتا؛ تاہم دیدۂ بینا کو ایسے ہر معزز کی قیمتِ فروخت نظر آ جاتی ہے۔ گاہک کی نظر تیز ہو تو بکاؤ مال کو دور سے پہچان لیتا ہے۔
اپوزیشن شور مچا رہی ہے کہ فلاں جو منتخب ہوا ہے، ستر کروڑ کی اسامی ہے۔ یہ کہ اس کے مقابلے میں تحریک کے جس عام ورکر کو ٹکٹ دیا گیا تھا، اسے بٹھا دیا گیا اور یہ کہ منتخب ہونے کے بعد، اس کے گلے میں مخصوص گلوبند ڈال کر، تحریک میں باقاعدہ شامل کر دیا گیا۔ اپوزیشن سے کوئی پوچھے کہ اس کاروباری سرگرمی میں کیا آپ حکومت سے پیچھے ہیں؟ ایک قدم بھی پیچھے نہیں! شانہ بہ شانہ چل رہے ہیں! وفاقی دارالحکومت میں اپوزیشن نے سینیٹ کی سیٹ پر جو کچھ کیا، کیا وہ اس سرگرمی سے مختلف تھا جو نیلام گھروں میں ہوتی ہے؟ اور جو لوگ حزب اقتدار کو واقعتاً ریاستِ مدینہ کا پیروکار سمجھ رہے ہیں ان کا بھی کیا ہی کہنا! چلیے ابتدا میں تو ہماری طرح کے بہت سے سادہ لوح ان کے دعووں کو سچ سمجھ رہے تھے‘ مگر اب تو بلی تھیلے سے باہر آ چکی! جو لوگ اب بھی صرف اپوزیشن پر نیلامی کا الزام لگا رہے ہیں‘ انہیں چاہیے کہ آنکھوں سے خوش گمانی کی پٹی اتاریں! کوئی کسی سے کم نہیں! اپوزیشن اور حکومت میں صرف نام کا فرق ہے۔ اہلِ سیاست ایک طبقہ ہیں۔ اس طبقے کی اخلاقیات، اسی قبیل کی ہیں جس قبیل کی اخلاقیات پوری قوم کی ہیں۔ یہ نیلام گھر جو سیاست کے میدان میں رات دن بولیوں اور ہتھوڑے کی آوازوں سے گونج رہے ہیں، کہاں نہیں ہیں! عام گلی محلوں میں نکل جائیے! کس پر اعتبار کریں گے؟ کیا آپ ریڑھی والے سے سبزی یا پھل لے کر اس قدر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ لفافے سے ایک ایک ٹماٹر یا ایک ایک سیب نکال کر اپنی تسلی نہیں کریں گے؟ کیا آپ اپنے خاکروب پر اعتبار کریں گے کہ وہ آپ کی بار بار تلقین کے بغیر ایک ایک کونہ خود ہی تسلی بخش طور پر صاف کر دے گا؟ ڈاکٹر ہے یا وکیل، تاجر ہے یا دفتری بابو، کس پر آنکھیں بند کر کے تکیہ کر سکتے ہیں؟ کل ایک دوست رو رہے تھے کہ خیرات کرنے کے لیے دیگ منگوائی تو چاول نیم بریاں اور گوشت کی کوالٹی تھرڈ کلاس! ریستوران میں قیمے کا سالن یا آملیٹ، خوف کے بغیر کھا سکتے ہیں؟ روٹی تک ڈھنگ کی نہیں ملتی۔ ربڑ کی ربڑ! چبائی ہی نہیں جاتی! استاد کلاس سے غیر حاضر! پرنسپل بے نیاز! سیکرٹری ایجوکیشن اگلی ترقی کے لیے کوشاں اور جو کچھ نیچے ہو رہا ہے اس سے بے خبر اور خبر مل بھی جائے تو
پھر اس چمن میں بُوم بسے یا ہما بسے!
ہاں اہل حکومت کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ ہے! اس حکومت نے کچھ وعدے کیے تھے جن کی بنیاد پر لوگوں نے انہیں ووٹ دیے تھے۔ وعدہ کیا تھا کہ ووٹوں کی خرید و فروخت سے گریز کریں گے۔ میرٹ کی پالیسی اپنائیں گے۔ مہنگائی ختم کریں گے۔ کابینہ مختصر رکھیں گے۔ موروثی اور خاندانی اقتدار کا خاتمہ کریں گے مگر شاید ہی کوئی وعدہ وفا ہوا ہو! نئے لیبل والی بوتل میں وہی دوا نکلی جو بیکار ہے۔ انگریز ایسے موقع پر کہتے ہیں: More of the same
اس حکومت کا رنگ ڈھنگ دیکھ کر وہ بادشاہ یاد آیا ہے جو رات کو گلیوں میں پھر رہا تھا کہ حالات کا جائزہ براہ راست لے۔ ایک دروازے کے نیچے سے روشنی باہر آ رہی تھی۔ کواڑ کی درز سے بادشاہ نے جھانک کر دیکھا تو اندر تین عورتیں کشیدہ کاری میں مصروف تھیں۔ ایک کہنے لگی: گیا! دوسری نے کہا: جانا ہی ہے، وہ جو نہیں ہے۔ تیسری نے کہا: وہ ہوتا تو جاتا ہی کیوں۔ یہ بھیدوں بھری گفتگو بادشاہ کے پلے کیا پڑنی تھی۔ یوں بھی قدرت اہل اقتدار کو کامن سینس سے محروم ہی رکھتی ہے۔ اسی لیے ہر بادشاہ کے تذکرے میں ایک دانا وزیر ہوتا ہے جو اسے عقل کی باتیں بتاتا ہے یا یہ کام شہزادی کے سپرد ہوتا ہے جو بادشاہ کی بیٹی ہوتی ہے۔ تینوں عورتوں کی اس پُر اسرار گفتگو سے بادشاہ نے ایک ہی نتیجہ نکالا کہ ہو نہ ہو، یہ کوئی سازش ہے جو اس کی بادشاہت کے خلاف تیار ہو رہی ہے اور گیا سے مراد یہی ہے کہ بادشاہ گیا! رات جوں توں جہاں پناہ نے کاٹی۔ صبح سویرے کارندوں کو حکم دیا کہ تینوں عورتوں کو حاضر کیا جائے! سُوت کاتنے اور کشیدہ کاری کرنے والی تینوں غریب عورتوں کو پکڑ کر لایا گیا! بادشاہ نے انہیں رات والی گفتگو یاد دلائی اور کڑک کر پوچھا کہ بتاؤ! میرے اقتدار کے خلاف کیوں سازش کر رہی تھیں! عورتیں پہلے حیران ہوئیں پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائیں! ایک بولی! یہ بھی وہی ہے! دوسری نے کہا: اس کے وہ جو نہیں! تیسری نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اُس کے بغیر بھی ہوتے ہیں! یہ مزید پُر اسرار گفتگو سن کر بادشاہ چکرا کر رہ گیا! اس سے پہلے کہ ظلِّ الٰہی تیورا کر گر پڑتے، وزیرِ با تدبیر نے انہیں سنبھالا اور ساتھ ہی عورتوں سے کہا کہ جہاں پناہ کو مزید پریشان نہ کرو اور بتاؤ کہ جو رات کو کہا اس سے کیا مراد تھی اور جو کچھ اب کہہ رہی ہو اس کا کیا مطلب ہے؟ عورتوں نے جواب دیا کہ رات کو ایک نے جب کہا کہ گیا تو مطلب یہ تھا کہ چراغ بجھنے کے قریب ہے۔ دوسری نے جب کہا ‘وہ جو نہیں ہے‘ تو مطلب یہ تھا کہ چراغ میں تیل جو نہیں! تیسری نے کہا کہ تیل ہوتا تو بھڑکتا ہی کیوں! اور یہ جو، اب ہم میں سے ایک نے کہا کہ یہ بھی وہی ہے تو اس کا مطلب تھا کہ یہ بادشاہ بھی بَیل ہی ہے! (دیہی کلچر میں بڑے جُثے والے احمق کو بیل کہہ کر پکارتے ہیں)۔ دوسری نے جب کہا کہ اس کے وہ جو نہیں تو مطلب تھا اس کے سینگ جو نہیں۔ تیسری نے کہا: ان کے بغیر بھی ہوتے ہیں یعنی کچھ بَیل سینگوں کے بغیر بھی ہوتے ہیں!
تو جناب! بنیادی حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی وہی ہیں!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply